لمحۂ خیر کیلئے لمحہ ٔ فکریہ
Dec 29, 2020

کہنے کو تو وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے سیاسی سفر کے دوران اپنے حریف و حلیف سیاست دانوں کے بارے میں کیا کیا توصیفی اور تنقیدی الفاظ استعمال نہیں کئے۔ ایک وقت میں میاں نوازشریف کو وہ حقیقی محافظِ جمہوریت قرار دیتے رہے۔ اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ان کیلئے دادو تحسین کے ڈونگرے برساتے رہے اور اس سے پہلے جب وہ سیاست میں نہیں تھے‘ شوکت خانم ہسپتال کے سنگ بنیاد کے موقع پر ان کیلئے عملاً ریشہ خطمی ہوتے رہے۔ پھر ایک وقت تھا کہ عمران خان صاحب لندن جا کر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو گھسیٹ کر ملک واپس لانے اور ان کیخلاف لندن کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کرتے رہے۔ پھر ایک وقت تھا کہ عمران خان صاحب‘ شیخ رشید احمد‘ فواد چودھری اور غلام سرور خان ٹی وی ٹاک شوز میں ایک دوسرے کو سوکنوں کی طرح طعنے دیتے اور باہم الجھتے پائے جاتے تھے۔ پھر سیاسی منظرنامہ کچھ اور ہوا تو میاں نوازشریف کا نام ہی عمران خان صاحب کیلئے گالی بن گیا اور اب تصورات میں بسا ہوا کوئی گھٹیا ترین انسان انہیں نوازشریف نظر آتا ہے۔ پھر اسی سفاک سیاست نے وہ منظر بھی دیکھا کہ بلوچستان حکومت کو گرانے اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کو منتخب کرانے کیلئے ایک دوسرے کی گھسیٹا گھسیٹی کا منظر بنانے والے تحریک انصاف‘ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے قائدین ایک ہی تسبیح میں پروئے دانے بن گئے۔ شیخ رشید‘ فواد چودھری اور غلام سرور خان وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے معتبر ارکان کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ 

اسی سیاسی منظر نامے کے درمیان ایک وقت ایسا بھی تھا کہ زرداری صاحب نے مسلم لیگ (ق) کو قاتل لیگ کا خطاب دیا اور پھر اقتدار میں آکر اسی قاتل لیگ کو وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا اور چودھری پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم کے ٹائٹل سے نواز دیا۔ اسی منظرنامے کے دوسرے پارٹ میں عمران خان صاحب نے چودھری برادران کو پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو قرار دیا اور پھر اقتدار میں آنے کیلئے انہیں انہی ڈاکوئوں کی بیساکھیاں استعمال کرنا پڑیں اور چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کی سپیکر شپ پلیٹ میں رکھ کر دینا پڑی جبکہ اب عمران خان صاحب اپنے کسی انٹرویو میں چودھری برادران کے حوالے سے اپنی ماضی کی سوچ کے بارے میں کوئی تلخ و ترشیدہ سوال سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ 

اب حکومتی مصاحبین کی جانب سے گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی اور اس موقع پر پیپلزپارٹی کے زیراہتمام منعقد ہونیوالے پبلک جلسے میں پی ڈی ایم کے قائدین کی شمولیت پر کیا کیا بھبتیاں نہیں کسی جا رہیں اور انہیں انکے ماضی کے حوالے سے کیا کچھ نہیں یاد کرایا جارہا۔ مگر یہی تو ہماری ظالم سیاست کا چال چلن ہے کہ آج کے حریف کل کے حلیف بنے بیٹھے نظر آتے ہیں اور کل کے حریف آج کے حلیف بن کر ایک دوسرے کی بلائیں لیتے‘ گاڑھی دوستی کا منظرنامہ بناتے ہیں…؎

اک ہمی ہیں جو بہک جاتے ہیں توبہ کی طرف 
ورنہ رندوں میں برا چال چلن کس کا ہے 

ارے کوئی کیا جانے کہ آج کے حلیفوں کی کل آپس میں کیا سرپھٹول ہونی ہے۔ اگر ہمارا یہی سیاسی کلچر قائم و برقرار رہنا ہے تو پھر…؎

ناروا کہیئے‘ نارسا کہیئے
کہیئے کہیئے‘ مجھے برا کہیئے 

پھر جناب! آپ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنیوں تک کیوں لے جاتے ہو اور عوام کیلئے کچھ نہ کرنے کے یہ بہانے کیوں بناتے ہو کہ ہمیں تو ہمارے عہدِ اقتدار میں کچھ کرنے ہی نہیں دیا گیا۔ حضور! یہ سلطانیٔ جمہور کو سلطان کی مار دینے کے سب ڈھکوسلے ہیں اس لئے جناب!…؎

نہ ہم سمجھے‘ نہ آپ آئے کہیں سے 
پسینہ پونچھیئے اپنی جبیں سے 

یہ تو ہم راندۂ درگاہ عوام ہی کا مسئلہ ہے اس لئے…؎

آجا رَل رویئے سجنا 
کلّیاں بہہ کے منہ کیہہ کجنا
کل نوں بُھک نے متھے وجنا 
آج تے بہہ کے رَل کے کھا

توجناب! آج اسی رَلت کی ضرورت ہے‘ دکھوں کے پہاڑ پاٹنے اور بوجھ بانٹنے کیلئے ایک دوسرے کے سہارے اور باہم تال میل کی ضرورت ہے‘ قومی اور ذاتی معاملات کے ہر فیلڈ میں معاملہ فہمی‘ شائستگی‘ رواداری اور افہام و تفہیم کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے۔ آپ ایک دوسرے کو کھوجتے‘ کریدتے‘ نوچتے‘ دھکیلتے رہو گے تو اپنے ہاتھوں راندۂ درگاہ بنائے گئے عوام ہی کے ہاتھ قعرِمذلت میں جاگرو گے۔ 

بھئی وقت گزرتے کوئی دیر تو نہیں لگتی۔ ماضی بعید اور قریب کے سارے مناظر آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ہماری سیاست کا یہی چلن برقرار رہا تو حضور! اقتدار کی بوٹی میں بہت کشش ہے جس کیلئے نہ چاہتے ہوئے بھی دل للچا جاتا ہے اور آپ باہمی چھینا جھپٹی میں اگلوں کیلئے ایسے مواقع بھی نکال رہے ہوں تو آپکے سوال ہی آپ کے جواب بن جائیں گے۔ ابھی 21ویں صدی کے 21ویں سال کا پہلا سورج طلوع ہونے میں تین دن کا ہی وقفہ رہ گیا ہے اس لئے موجودہ سال کے آخری لمحات میں یہ عزم باندھ کر قومی سیاست میں باہمی کدورتوں‘ اپنی پیدا کردہ کثافتوں اور منافرتوں کو کھنگال کر دل سے نکالنے کی کوشش کیجئے کہ…؎

راستہ نہیں ملتا 
منجمد اندھیرا ہے
پھر بھی باوقار انسان
اس یقیں پہ زندہ ہے
برف کے پگھلنے میں
پَو پَھٹنے کا وقفہ ہے
اس کے بعد سورج کو 
کون روک سکتا ہے 

آپ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ہونیوالے اکٹھ میں ماضی کے حریفوں اور آج کے حلیفوں کو ان کا ماضی یاد کرانے کے بجائے اسے مستقبل کی افہام و تفہیم والی شائستگی کی سیاست کی ضمانت بنالیں تو اگلے سال کے سورج کی کرنیں آپ کی سیاست کے گدلے پن کو دھو کر تابناک بنا دیں گی۔ اب کوئی لمحۂ موجود لمحۂ خیر بھی بن جانا چاہیے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com