وزیراعظم کی باکمال خوداعتمادی
Dec 18, 2020

وزیراعظم عمران خان کا اپنی حکمرانی کے حوالے سے پراعتماد ہونا تو یقیناً قابل رشک ہے۔ وہ تسلسل کے ساتھ اپنے مخالفین کو جوتے کی نوک پر رکھتے اور ٹھوکر مارتے ہوئے انہیں باور کرارہے ہیں کہ آپ چاہے الٹا لٹک جائیں‘ میں آپ کو این آر او ہرگز نہیں دوں گا۔ اس طرح بے چارہ این آر او ہر دو فریقین کے مابین فٹ بال بن گیا ہے۔ وزیراعظم اسے اپنے مخالفین کو چپیڑ مارنے کیلئے انکی جانب اچھالتے ہیں تو اپوزیشن یہ کہتے ہوئے اسے ٹھوکر مار کر وزیراعظم کی جانب لڑکھا دیتی ہے کہ ہم نے آپ سے بھلا کب این آر او مانگا ہے۔ وزیراعظم پھر انہیں باور کراتے ہیں کہ میں اپنی حکومت کی قربانی دے دوں گا مگر کسی چور ڈاکو کو چھوڑوں گا نہ انہیں این آر او دوں گا۔ بھئی این آر او کسی کو سہولت دینے کا نام ہے تو یہ تو موجودہ دور حکمرانی میں اپنے‘ بیگانے‘ دوست دشمن کافی لوگ حاصل کرچکے ہیں تاہم اگر این آر او کسی ایسی چڑیا کا نام ہے جس کے قید رہنے پر ہی آپ کی سیاست کا دارومدار ہے اور اسکے آپ کے ہاتھ سے نکل کر اڑ جانے پر آپکی سیاست کے بھی اڑ جانے کا خدشہ ہے تو بھلے اسے پنجرے میں سنبھالے رکھیئے مگر سیاست میں لچک نہیں ہوگی تو وہ کسی سخت دبائو پر ٹوٹ کر آپ کیلئے بیکار چیز بن جائیگی۔ بعینہ جمہوریت کی گاڑی نے دو پہیئوں پر توازن برقرار رکھ کر ہی چلنا ہے۔ اپنے اعتماد کے زور پر اس گاڑی کو ایک پہیئے پر چلا کر آپ کوئی جادوگری ہی کر سکتے ہیں یا کوئی معجزہ آپ کے شامل حال ہو سکتا ہے۔ دوسری کسی صورت میں اگر یہ گاڑی جمہوریت کی ہے تو اسے دونوں پہیئوں کے ساتھ ہی ٹریک پر رکھا جا سکتا ہے۔ 

شاید محترم وزیراعظم کے ذہن میں جمہوری حکمرانی کے علاوہ بھی حکمرانی کے تصورات جلوہ نما ہیں جس کا مختلف مواقع پر انکی زبان سے اظہار ہوتا بھی رہتا ہے۔ وہ سعودی عرب اور چین کے سسٹم میں زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں اور ریاست مدینہ والا نظام تو انکے تصورات میں بسا ہوا ہے مگر فی الوقت ملک کو اس سسٹم کے تابع ہی رہنا ہے جو ہمارے رائج الوقت آئین میں موجود ہے۔ یہ سسٹم وفاقی پارلیمانی جمہوری ہے جس میں یقیناً خامیاں بھی موجود ہیں اور اس سسٹم میں سلطانیٔ جمہور کی بنیاد جمہور کو راندۂ درگاہ بنائے رکھنا بھی اس سسٹم کے لوازمات کا حصہ بن چکا ہے اس لئے میں خود اس حوالے سے اس سسٹم کا ناقد ہوں اور اصلاح احوال کیلئے فکرمند رہتا ہوں مگر اصلاح احوال مروجہ آئین و قانون کی روشنی میں ہی ممکن ہے ورنہ تو اصلاح احوال کا ہر قدم ماورائے آئین اقدام کے کھاتے میں ہی جائیگا جس کا نتیجہ ہم سانحۂ سقوط ڈھاکہ سمیت اس وطن عزیز کے حصے میں آنیوالی متعدد ہزیمتوں کی صورت میں ملک کی تاریخ کے 34 سال پر محیط ماورائے آئین حکمرانیوں کے ہاتھوں بھگت چکے ہیں۔ 

سسٹم چاہے کوئی بھی ہو‘ اگر وہ مروجہ آئین و قانون کے مطابق تشکیل پائے گا تو مستند ٹھہرے گا جس میں اصلاح کی گنجائش بھی آئین و قانون کے تابع ہی موجود ہوتی ہے اس لئے آپ اپنی دانست میں جمہوری نظام سے بہتر کوئی نظام لانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اس نظام کا ڈھانچہ آئین کے مطابق تشکیل دینا ہوگا یعنی آئین کو اس نظام کی مناسبت سے ازسرنو وضع کرنا ہوگا مگر اس کیلئے طویل پراسس درکار ہے۔ پہلے انتخابات آئین ساز اسمبلی کے کرائے جائیں گے اور پھر وہ اسمبلی کا جمہوری ڈھانچہ تبدیل یا نیا آئین تشکیل دے پائے گی۔ موجودہ پارلیمنٹ کے ذریعے تو پورا نظام تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہ آئین کی متعدد دفعات یا کسی شق میں تو ترمیم کر سکتی ہے اور وہ بھی دوتہائی اکثریت کے ساتھ جیسا کہ 18ویں‘ 19ویں ترامیم منظور کرکے آئین کا حصہ بنائی گئیں مگر آپ چاہیں کہ اسی پارلیمنٹ کے ذریعے ملک کے پارلیمانی جمہوری نظام کو صدارتی جمہوری نظام‘ متناسب نمائندگی والے جمہوری نظام یا خالصتاً اشرافیہ والے بادشاہانہ نظام میں تبدیل کردیا جائے تو ایسا کسی ماورائے آئین اقدام کے تحت ہی ہو سکتا ہے۔ 

ابھی وزیراعظم نے اپنے اعتماد کے سہارے ہی وفاقی کابینہ سے سینٹ کے انتخابات مقررہ میعاد سے ایک ماہ قبل اور شوآف ہینڈز کے ذریعے کرانے کی منظوری لی ہے اور یہ بھی طے کرالیا ہے کہ شو آف ہینڈ کے طریقۂ انتخاب کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائیگا اور ایک ماہ قبل انتخابات کے انعقاد کیلئے پاکستان الیکشن کمیشن سے کہا جائیگا مگر سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن نے ان معاملات میں آئین کے تقاضوں یعنی متعلقہ آئینی شقوں کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ دینا ہوگا جس کی پہلے بھی اعلیٰ عدلیہ میں نظیریں موجود ہیں۔ آئین کی دفعہ 224 کی ذیلی دفعہ تین آپ کو ارکان سینٹ کی آئینی میعاد پوری ہونے کے ایک ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کی اجازت دیتی ہے اس لئے آپ گیارہ فروری سے گیارہ مارچ کے دوران کسی بھی وقت سینٹ کی خالی ہونیوالی آدھی نشستوں کا انتخاب کرانے کے مجاز ہونگے اور اس آئینی تقاضے سے یقیناً اپوزیشن بھی آگاہ ہوگی اس لئے اسے ایک ماہ قبل انتخاب سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو سکتی تاہم شو آف ہینڈز کا طریقۂ انتخاب رائج کرنے کیلئے آپ کو سپریم کورٹ کی بجائے آئینی ترمیم کیلئے پارلیمنٹ میں جانا ہوگا کیونکہ آئین کی دفعہ 226 کے تحت وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے انتخاب کے سوا دوسرا ہر انتخاب خفیہ رائے دہی کے طریق کار کے تحت ہونا ہے۔ اگر آپ شو آف ہینڈز کے ذریعے انتخاب کا انعقاد چاہتے ہیں اور بے شک اس طریق انتخاب کی ہارس ٹریڈنگ والے کلچر کو لگام ڈالنے کیلئے ضرورت بھی ہے تو بھی اس کیلئے آپ کو آئین کی متعلقہ دفعہ میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ کے ذریعے ترمیم منظور کرانا ہوگی جیسا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے پراسس میں دفعہ 226 میں ترمیم کرکے وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ کا شوآف ہینڈز کے ذریعے انتخاب کا طریق کار وضع کیا گیا ہے۔ آپ یہ معاملہ سپریم کورٹ لے کر جائیں گے تو وہ بھی آپ کو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں ہی لے جانے کا کہے گی جیسا کہ مسلح افواج کے سربراہان کی آئینی میعاد میں توسیع کیلئے سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ 

تو جناب! کیا بہتر نہیں کہ آپ اس پارلیمنٹ پر اعتماد کریں جہاں عوام نے آپ کو حکمرانی اور آپ کی مخالف جماعتوں کو اپوزیشن کے کردار کا مینڈیٹ دے کر بھجوایا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بہتر خود پر عوام کا اعتماد بحال کرانا ہے جو آپ کی پراعتمادی کے نتیجہ میں پھلنے پھولنے والے مہنگائی کے عفریت کے رگڑے کھاتے عملاً زندہ درگور ہوچکے ہیں۔آپ ان راندۂ درگاہ عوام کو غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری میں عملی ریلیف دیکر مطمئن کر دیں تو آپ بے شک پوری خوداعتمادی کے ساتھ اپوزیشن کو رگڑے لگاتے رہیں ورنہ محض خوداعتمادی کی بنیاد پر تو اپنی مرضی سے کوئی سسٹم یا کوئی آئین و قانون وضع اور لاگونہیں کیا جا سکتا۔ کسی ماورائے آئین اقدام کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com