گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج اور ڈرائونے خواب
Nov 17, 2020

گلگت بلتستان کے چوبیس میں سے تئیس حلقوں میں برفباری کے موسم میں ہونیوالے انتخابات درحقیقت وہاں کے عوام کی جانب سے اپنے حقوق سے آگاہی کا اظہار اور اقوام متحدہ کے ودیعت کردہ حق خودارادیت کے حصول کی ریہرسل تھی۔ انتخابی نتیجہ تو نوشتۂ دیوار تھا کہ اب تک وہاں کے ہر انتخاب میں کامیابی وفاق میں برسراقتدار پارٹی کے حصہ میں ہی آتی رہی ہے‘ اور جب وزیراعظم گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے دوران وہاں جا کر ایک پبلک جلسے میں حکومتی وسائل کے زور پر اس علاقے کیلئے ترقیاتی منصوبوں کا اور پھر اسے صوبہ کا درجہ دینے کا اعلان کریں اور اسی طرح وفاقی وزراء پوری انتخابی مہم کے دوران وہاں قطار اندر قطار موجود ہوں اور جتنے ووٹ‘ اس سے سوگنا زیادہ نوٹ کی ترغیبات دے رہے ہوں تو وہاں کے ووٹر بلاول بھٹو زرداری کی اس بات میں تو نہیں آسکتے تھے کہ نوٹ ان سے لیں اور ووٹ ہمیں دیں۔ ہاں اس انتخاب میں اتنا ضرور ہوا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن)کی لیڈر مریم نواز کی قومی انتخابی سیاست کیلئے ریہرسل ہو گئی ہے۔ مجموعی 33 نشستوں کے اس ایوان میں اگلا مرحلہ اسمبلی کے اندر خواتین کی چھ‘ اقلیتوں کی دو اور کسانوں کی ایک مخصوص نشست کے انتخاب کا طے ہونا ہے چنانچہ وفاقی حکمران پی ٹی آئی کی 9 جنرل نشستوں پر کامیابی اگلے انتخابی مرحلے میں اسے آسانی کے ساتھ سنگل مجارٹی پارٹی کی حیثیت دلا دیگی سو وفاق اور دو صوبوں کے بعد گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی آئی کی حکمرانی کے ڈنکے بجنا اسکے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ مگر میرا تجسس گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی حیثیت کے حوالے سے مزید بڑھ گیا ہے۔ 

جب پیپلزپارٹی نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں گلگت بلتستان کو انتظامی بنیادوں پر صوبے کا درجہ دیا تو اس وقت سے اب تک میں اپنی اس عاجزانہ رائے کا ہی اظہار کررہا ہوں کہ اس علاقے کو جو عملاً ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے‘ چاہے انتظامی بنیادوں پر ہی سہی‘ صوبے کا سٹیٹس دیکر ہم نے کشمیر کیس پر اپنے اصولی دیرینہ موقف کو جھٹکا لگایا ہے۔ بے شک ہماری دانست میں بھی‘ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت بھی اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق بھی ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا ہے جس کے بغیر پاکستان کی تکمیل نامکمل ہے اور اس تناظر میں کشمیریوں کی قربانیوں سے لبریز جدوجہد بھی ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ ہی کا مقصدِ اول رکھتی ہے مگر یہ معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں طے ہونا ہے جن کے تحت کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت کو کشمیر میں استصواب کے اہتمام کا کہا گیا تھا۔ ہم نے اس وقت سے ہی یہ اصولی موقف اختیار کیا کہ کشمیریوں کو استصواب کا حق دیکر مسئلہ کشمیر مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ یہ کشمیریوں پر ہی منحصر ہوگا کہ وہ استصواب میں پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بھارت کو چونکہ یقین ہے کہ استصواب کا نتیجہ اس کیخلاف ہی آئیگا اس لئے اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو روندتے ہوئے کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی اختیار کرلی اور پھر اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت کے ساتھ باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔ اسکے برعکس کشمیریوں نے تو بھارت کے ساتھ اپنا الحاق کبھی قبول ہی نہیں کیا چنانچہ انہوں نے بھارتی فوجوں کے اپنے علاقے میں تسلط کے ساتھ ہی آزادی کی جدوجہد شروع کردی جو انہوں نے لاکھوں پیاروں کی جانوں کی قربانیاں دیتے اور اپنے مستقبل کو دائو پر لگاتے ہوئے گزشتہ 72 سال سے اب تک جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہیں بھارتی حکمرانوں کی کوئی ترغیب‘ تحریص اور خوف دام میں نہیں لاسکا اور اس تحریک میں کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا جذبہ اب انکی تیسری نسل میں منتقل ہوچکا ہے جو اپنے آباء و اقرباء سے بھی زیادہ جوش اور مستعدی کے ساتھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک اپنی آواز پہنچانے اور بھارتی توسیع پسندانہ عزائم و مظالم کو اقوام عالم کے سامنے بے نقاب کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انکی جدوجہد کی کامیابی درحقیقت کشمیر ایشو پر ہمارے اصولی موقف کے ساتھ ہی منسلک ہے مگر ہم نے گلگت بلتستان کو صوبے کا سٹیٹس دیکر اپنے اصولی موقف پر خود ہی ہتھوڑا چلا دیا ہے اور کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کی بھارتی ہٹ دھرمی کو جواز فراہم کر دیا ہے۔ مودی سرکار نے اسی سے شہ پا کر گزشتہ سال پانچ اگست کو اپنے زیرقبضہ ریاست جموں و کشمیر کا خصوصی آئینی سٹیٹس بھی ختم کر دیا اور اسکے حصے بخرے کرکے بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنا دیا۔ اگر اب اس سے عالمی سطح پر کشمیر میں استصواب کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا تقاضا ہوتا ہے تو اسکے پاس اپنی ہٹ دھرمی کا یہ گھڑاگھڑایا جواز موجودہوتا ہے کہ پاکستان نے بھی تو کشمیر کے علاقے اپنی ریاست کا حصہ بنائے ہیں۔ اسکے توسیع پسندانہ عزائم تو بھارت کے زیر تسلط کشمیر سے نکل کر اب پاکستان سے ملحقہ آزاد جموں و کشمیر اور شمالی علاقہ جات بشمول گلگت بلتستان تک تسلط جمانے کی بدنیتی تک جاپہنچے ہیں جس کی خاطر وہ پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی بھی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے اور ہم ہیں کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا سٹیٹس دیکر بھارتی ہٹ دھرمی پر ہی مہرتصدیق ثبت کررہے ہیں۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ وفاقی حکمران اور انکے ہمنوا دانشوروں کے حلقے اس فاش اور سنگین غلطی کو تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں۔ 

گزشتہ روز واچ ٹی وی چینل کے لائیو ٹاک شو میں میری اس ایشو پر طارق پیرزادہ اور سلمان عابدصاحب کے ساتھ سنجیدہ بحث بھی ہوئی جو ایسی غلطیاں بھی عمران خان کی کامیابیوں کے زمرے میں شامل کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ سلمان عابد صاحب بالاصرار اس خلط مبحث میں پڑے رہے کہ ہم نے مودی سرکار کے گزشتہ سال پانچ اگست کے اقدام کو کائونٹر بھی تو کرنا تھا چنانچہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کرکے عمران خان نے بھارتی اقدام کا ہی بھرپور جواب دیا ہے۔ ارے بھائی صاحب‘ کمال کرتے ہیں آپ! بھارت نے یواین قراردادوں کو روند کر مقبوضہ کشمیر کو اپنی ریاست میں ضم کر دیا تو ہم نے اسکے جواب میں کشمیر کے متنازعہ علاقہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیکر حساب برابر کر دیا؟ جی بھارت یہی تو چاہتا ہے کہ آپ اسکے دام میں آئیں۔ یہ تو سیدھا سیدھا اُدھر کا کشمیر اُدھر اور اِدھر کا کشمیر اِدھر والا فارمولا ہے۔ اس بحث کے دوران طارق پیرزادہ صاحب نے بائونسر مارنے کی کوشش کی کہ عمران خان نے تو ابھی گلگت بلتستان کو صوبے کا سٹیٹس دینے کا محض اعلان کیا ہے‘ ابھی بنایا تو نہیں۔ تو بھائی صاحب! گلگت بلتستان آپ کا بنایا گیا صوبہ نہیں ہے تو گزشتہ روز انتخابات کس صوبائی اسمبلی کے ہوئے ہیں۔ آپ کان کو گھما کر حقائق تبدیل تو نہیں کر سکتے۔ بھلے کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہمارا ہے۔ مگر آپ بھارت ہی کی چال چلیں گے تو آدھا چھوڑ‘ سارے سے بھی جائینگے۔ خدارا! خرد کا دامن تھامئیے اور کشمیریوں کی 72 سالہ جدوجہد کو بٹہ نہ لگائیے۔ عصر کے وقت روزہ توڑ کر اپنا ثواب خراب نہ کیجئے۔ کشمیری عوام ہم سے بدگمان ہوئے تو ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا سہانا خواب ہمارے لئے ڈرائونا خواب بن جائیگا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com