سابق حکمرانوں کی ’’خرابیاں‘‘
Jul 28, 2020

نئے پاکستان کی خالق پی ٹی آئی نے اپنے اقتدار کے گزرے ہوئے دو سال کے دوران پہلے سو دن والے منشور کو عملی جامہ پہنایا ہے یا نہیں‘ اسکے بارے میں تو بعد میں بحث ہوتی رہے گی کہ ابھی نئے پاکستان کے اقتدار کو ’’جمعہ جمعہ آٹھ دن‘‘ ہی تو ہوئے ہیں البتہ ان دو سالوں کے دوران پی ٹی آئی کے قائدین اور ہر سطح کے عہدیداروں نے پی ٹی آئی دور میں در آنیوالی ہر خرابی کا ملبہ سابق حکمرانوں پر ڈالنے اور اسے انکے ’’کرتوتوں‘‘ کا شاخسانہ قرار دینے میں مشاقی ضرور حاصل کرلی ہے۔ اس مشاقی نے پی ٹی آئی قائدین کو بھارتی جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت انصاف میں ہونیوالی پاکستان کی ’’ہزیمت‘‘ کا ملبہ بھی سابق حکومت پر ڈالنے کی راہ دکھا دی چنانچہ جب اپوزیشن اور ملکی استحکام کیلئے فکرمند دانشوروں کے حلقوں کی جانب سے کلبھوشن کو باربار قونصلر رسائی دینے کی حکومتی پیشکش اور اس تناظر میں حکومت کی جانب سے دو ماہ قبل جاری کئے گئے آرڈیننس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا تقاضا کیا گیا تو انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری اور پھر انکی پیروی میں متعدد دوسرے وزراء نے بھی ٹھک سے بیانات داغ دیئے کہ سابق حکومت نے کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرکے غلطی کی۔ انکے بقول پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں نہیں جانا چاہیے تھا کیونکہ اب ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ میں پھنس گئے ہیں۔ اور تو اور ’’جمعہ جمعہ آٹھ دن‘‘ کے اقتدار میں تیسری بار وزیر قانون بننے والے دانشور قانون دان بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنی وزارت کا حلف اٹھاتے ہی اسمبلی کے فلور پر قونصلر رسائی سے متعلق جاری کردہ آرڈیننس کا دھواں دار دفاع کرتے ہوئے اسے حکومت کا بڑا کارنامہ قرار دیا کہ اس آرڈ ننس کے ذریعے ہم نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر عملدرآمد کا یقین دلا کر پاکستان پر پابندیاں لگوانے کی بھارتی سازش ناکام بنا دی ہے۔ پھر دھڑلے سے یہ بھی باور کرادیا کہ کسی آرڈی ننس کیلئے اپوزیشن سے مشاورت کرنا یا اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنا قطعاً ضروری نہیں۔ ہم نے اس آرڈی ننس کے ذریعے دنیا کو مطمئن کر دیا ہے جبکہ ہمیں اس معاملہ میں سابقہ حکومت نے ہی پھنسایا ہے۔

حضور۔ ایسی تاویلات اگر محض سیاست برائے سیاست کیلئے پیش کی جارہی ہیں تو پھر نئے پاکستان کی حکمت کا کوئی جواب نہیں ورنہ اس منطق کو کون قبول کریگا کہ پاکستان کو کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالتِ انصاف میں نہیں لے جانا چاہیے تھا۔ ارے صاحب! عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی سزائے موت کیخلاف اپیل پاکستان نے دائر کی تھی یا بھارت نے؟ آپ کے استدلال کے مطابق تو پاکستان کو اس بھارتی اپیل میں عالمی عدالت انصاف کے روبرو اپنے کیس اور فیصلہ کا دفاع کرنے کیلئے بھی نہیں جانا چاہیے تھا جبکہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے روبرو کلبھوشن اور اسکے سرپرست بھارت کیخلاف اپنے کیس کا دفاع کرکے ہی اسے بھارتی دہشت گرد تسلیم کرایا اور اسے بھارت کے حوالے کرنے کی نوبت نہ آئی۔ اگر ہم عالمی عدالتِ انصاف میں اپنے کیس کا دفاع نہ کرتے تو عدالت یکطرفہ بھارتی مؤقف سن کر اسکے حق میں یکطرفہ فیصلہ صادر کردیتی اور بھارت کو اقوام عالم میں ہمارے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کا خوب موقع ملتا۔

پھر سابق حکومت نے بھارتی اپیل کیخلاف پاکستان کے دفاع کیلئے عالمی عدالت انصاف میں جا کر یہی خرابی پیدا کی ہو  گی کہ اس نے اسی وقت کلبھوشن کو عدالت کے ذریعے بھارت کے حوالے کیوں نہ ہونے دیا۔ نہ آج کلبھوشن ہماری تحویل میں ہوتا اور نہ ہی ہمیں باربار اسے قونصلر رسائی دینے کا تردد کرنا پڑتا۔ آخر پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان پر حملہ آور ہونے والے بھارتی جہازوں کے گرفتار کئے گئے پائلٹ ابھی نندن کو بھی تو اگلے ہی روز بھارت کے حوالے کرکے اس معاملہ کو طول اختیار کرنے سے ’’دانشمندی‘‘ کے ساتھ روک دیا تھا۔ سو کلبھوشن کے معاملہ میں بھی نہ ’’مدعا‘‘ ہوتا نہ ہمیں آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا۔ ’’خس کم جہاں پاک‘‘۔ ہمیں تو اب سابقہ حکومت کا گند ہی اٹھانا اور صاف کرنا پڑ رہا ہے۔

اب فروغ نسیم صاحب کی منطق پر کیا کہا جائے کہ انہوں نے تو قونصلر رسائی کا باقاعدہ آرڈیننس جاری کراکے بھارت کا منہ بند کر دیا ہے اور اقوام عالم کو یقین دلادیا ہے کہ ہم نے تو اپنی سرزمین پر دشمن کا ننگی دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلانے والے سفاک مجرم کلبھوشن کو باربار قونصلر رسائی دیکر اور پھر اسے اور بھارت دونوں کو انکی منشاء کے مطابق قونصلر رسائی کی پیشکش کرکے عالمی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے کوئی نیا عذر سامنے لانے کی گنجائش ہی ختم کر دی ہے۔ اب آپ اس سے ہرگز یہ تاثر نہ لیں کہ ہم نے عالمی دبائو سے بچنے کیلئے بھارت کے ساتھ فدویانہ طرز عمل اختیار کرلیا ہے۔

مگر جناب! عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ حرف بحرف پڑھ کر ذرا مضطرب قوم کو یہ تو بتا دیجئے کہ اس فیصلہ میں کہاں لکھا گیا ہے کہ جب تک کلبھوشن اور بھارت مکمل مطمئن نہیں ہو جائیں انہیں قونصلر رسائی دی جاتی رہے۔ عدالت نے پاکستان کو قونصلر رسائی دینے کا کہا اور پاکستان نے اس فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے فیصلہ کے ایک ہفتے بعد ہی کلبھوشن کیلئے قونصلر رسائی کا اہتمام کر دیا۔ اس فیصلے کی منشاء باربار قونصلر رسائی دینا تو ہرگز نہیں۔ ہم عدالت میں کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کے ثبوت فراہم کردیں تو پھر عدالت کے پاس ہم پر عالمی پابندیاں لگوانے کی گنجائش کہاں نکل سکتی ہے اور لگے ہاتھوں قوم کو ذرا یہ بھی بتا دیجئے کہ عالمی عدالت انصاف نے اپنے کسی فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں کیا کسی ملک پر کبھی عالمی پابندی لگوائی ہے؟ آپ کی یہ منطق تو ’’آبیل مجھے مار‘‘ والی ہے۔ آپ اپنے دشمن بھارت کو آسان راستہ دکھا رہے ہیں کہ ہم پر عالمی پابندیاں لگوانے کیلئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرو۔ اور کیا خیال ہے جناب! ہم کلبھوشن کو بار بار قونصلر رسائی دیکر بھارت کو مطمئن کرلیں گے؟ بھارت تو ویسے ہی ہم پر عالمی پابندیاں لگوانے کی سازشوں میں مصروف ر ہتا ہے۔ وہ آپ کے جاری کردہ آرڈی ننس کی بنیاد پر ان سازشوں سے ٹل تو نہیں جائیگا۔ آپکے کرنے کا کام تو اہل پاکستان کے سفاک قاتل کلبھوشن کو کیفرکردار کو پہنچانے کا ہے تاکہ اس سوراخ سے اس جیسے دوسرے سفاکوں کو ہمارے بے گناہ لوگوں کو ڈسنے کا موقع نہ مل سکے۔

جہاں تک آپ کے اقتدار کے ابتدائی100دن والے منشور کو عملی جامہ پہنانے کا معاملہ ہے‘ وہ آپ کے اقتدار کے گزرے ہوئے 2 سال میں پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا تو اس 100 دن کے منشور کی خاطر آپ کا اگلے دس سال تک کا اقتدار بھی ناکافی ہوگا اس لئے میں قوم سے دست بستہ اپیل کروں گا کہ وہ پی ٹی آئی کو کم از کم اگلے 10سال کیلئے تو ضرور قبول کئے رکھے اور اسکے مخالف سازشی عناصر کو پھٹکار دے تاکہ یہ اپنے کسی ایک وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں تو سرخرو ہوسکے۔ اس عرصے میں اگر کسی نے اپنے اچھے مستقبل کا سوچا تو انکے دلوں میں پیدا ہونیوالا یہ ’’خناس‘‘ بھی سابق حکمرانوں کی ہی غلطی سمجھی جائیگی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com