کرونا پر تصدیق کی متقاضی کچھ کہانیاں
Jun 26, 2020

سب سے پہلے تو اپنے گزشتہ کالم کے حوالے سے ایک ضروری وضاحت۔ میں نے جسٹس اقبال حمیدالرحمن صاحب کے استعفیٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے سہواً یہ لکھ دیا کہ انہوں نے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہوتے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس پر میرے احباب جسٹس (ر) حسنات احمد خان‘ معروف قانون دان محمد اظہر صدیق اور پیشۂ انصاف و وکالت سے متعلق بعض دوسری شخصیات نے میری اس سہو کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ جسٹس اقبال حمیدالرحمن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ یقیناً ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر اسکی وضاحت ضروری ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس اقبال حمیدالرحمن کیخلاف درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے اس وقت کے سیکرٹری نے دائر کی تھی جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے انتظامی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرریاں کیں۔ اس درخواست پر جس وقت سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی کا آغاز کیا اس وقت جسٹس اقبال حمیدالرحمن کی سپریم کورٹ کے جج کے منصب پر تعیناتی ہوچکی تھی تاہم ان کیخلاف دائر ریفرنس کا تعلق انکے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے منصب کے ساتھ تھا جس کا میں اپنے مورخہ 25؍ اکتوبر 2016ء کے کالم میں مفصل تذکرہ کرچکا ہوں۔ میں نے بات جسٹس حمیدالرحمن کی عزت و وقار کے حوالے سے کی تھی کہ انہوں نے اپنے اُجلے دامن پر کوئی ایک چھینٹا بھی نہ پڑنے دینے کی خاطر اپنے خلاف دائر ہونیوالے ریفرنس کے بے بنیاد ہونے کے باوجود اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ ہمارے معاشرے میں ایسی شفاف شخصیات خال خال ہی ملتی ہیں۔


آج دراصل مجھے ایک صوبائی وزیر سید صمصام بخاری کی سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ہونیوالی آڈیو ٹیلی فونک کال پر بات کرنی ہے جس میں وزیر موصوف غالباً اوکاڑہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈی ایچ او کے ساتھ تلخ ترش لہجے میں جھگڑا کررہے ہیں کہ انہوں نے میرے ایک عزیز دوست کی نعش اسکے ورثاء کو دینے کی بجائے اپنے پاس کیوں رکھی ہوئی ہے جبکہ وہ کرونا کا مریض بھی نہیں تھا۔ اس ٹیلی فونک کال میں وزیر موصوف کے دھمکی آمیز لہجے اور الفاظ کی تو میں قطعاً حمایت نہیں کرتا اور اب لاہور ہائیکورٹ نے بھی اس معاملہ کا نوٹس لے لیا ہے تاہم وزیر موصوف نے جس معاملہ کی نشاندہی کی وہ آجکل دوسرے بے شمار کرونا کیسز کے حوالے سے بھی زبانِ زدعام ہے اور ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں یا مشتبہ مریضوں کے ساتھ جس پراسرار انداز میں ڈیل کیا جارہا ہے‘ اسکے بارے میں کئی سچی جھوٹی کہانیاں سوشل میڈیا پر وافر مقدار میں زیرگردش ہیں اس لئے اس معاملہ کی وضاحت تو بہرصورت ہونی چاہیے۔


اس حوالے سے ایک بڑی کہانی یہ چل رہی ہے کہ ہسپتال میں انتقال کر جانے والے کرونا کے کسی بھی مریض کے لواحقین کو میت دیکھنے‘ غسل دینے‘ اسکی نماز جنازہ میں شریک ہونے اور خود اسکی تدفین کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر کسی میت کے لواحقین اسکی حوالگی پر اصرار کرتے ہیں تو ان سے لاکھوں میں بھاری معاوضہ لے کر میت انکے حوالے کردی جاتی ہے۔ بصورت دیگر انہیں لاش کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جاتا۔ کرونا مریض کی لاش کی حوالگی کیلئے خطیر رقم وصول کرنے کی گواہی تو مجھے اپنے داماد سے بھی مل گئی جس کے ایک قریبی عزیز کا ایک ہسپتال میں کرونا کے مرض میں انتقال ہوا تو اسکے بقول‘ ہسپتال کی انتظامیہ نے فوت ہونیوالے شخص کی لاش اسکے ورثاء کی منت سماجت کے بعد ان سے 16 لاکھ روپے وصول کرکے انکے حوالے کی جبکہ وہ ہسپتال میں اسکے ٹیسٹوں اور علاج معالجہ کے بھی تقریباً اتنے ہی اخراجات اٹھا چکے تھے۔


اس میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کرونا مریض کے انتقال پر اسکی نعش کے ذریعے کرونا مرض کے پھیلنے کے خدشہ کے تحت نعش کے غسل‘ کفنانے‘ نماز جنازہ پڑھنے اور دفنانے کا بندوبست ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کسی سرکاری ایجنسی کے زیراہتمام خود ہی کیا جاتا ہے تو پھر کسی نعش کو لاکھوں روپے وصول کرکے اسکے ورثاء کے حوالے کرتے وقت کیا اس نعش کے ذریعے کرونا کے نہ پھیلنے کا بھی بندوبست کرلیا جاتا ہے اور وہ کیا بندوست ہوتا ہے جبکہ لاش کے ورثاء اسکے غسل سے تدفین کی رسومات تک سارے انتظامات خود ہی کرتے ہیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مد میں وصول کی جانیوالی رقوم کس کھاتے پر چڑھتی ہیں اور کس کے زیراستعمال آتی ہیں۔ اس حوالے سے کچھ کہانیاں یہ بھی چل رہی ہیں کہ ہسپتال سمیت جہاں بھی کرونا کے کسی مریض کی ہلاکت ہوتی ہے اسے فی لاش ایک لاکھ روپے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے فنڈ سے وصول ہو جاتے ہیں اس لئے ہسپتالوں میں کرونا کے مرض سے زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں رجسٹرڈ پر چڑھائی جارہی ہیں۔ ان میں سرکاری اور پرائیویٹ سب ہسپتال شامل ہیں۔ یقیناً یہ کہانیاں غیرمصدقہ ہیں جن کے اندر سے بعض اور کہانیاں بھی جنم لے رہی ہیں جو شرف انسانیت کی تذلیل کی عکاسی کرتی ہیں اس لئے اس معاملہ کی بہرصورت اعلیٰ سطح پر وضاحت آنی چاہیے کہ کسی کرونا مریض کی لاش کی حوالگی کیلئے اسکے ورثاء سے معاوضہ لیا جارہا ہے یا نہیں اور اگر لیا جارہا ہے تو کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت۔ اسی طرح کرونا کے مریضوں کے عوض ڈبلیو ایچ او سے کوئی گرانٹ مل رہی ہے تو اسکی بھی وضاحت ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کے دلوں میں کرونا مریضوں کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے حوالے سے جو تحفظات ہیں‘ ان کا ازالہ ہوسکے۔


کرونا کے پھیلتے مرض سے تو میرے سمیت یقیناً کسی کو انکار نہیں اور اسی طرح اس کا پھیلائو روکنے کیلئے ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ احتیاطی اقدامات پر مکمل عملدرآمد بھی ضروری ہے جن میں ماسک کے پہننے کی پابندی توہمہ وقت ہونی چاہیے۔ کرونا نے انسانی آبادیوں اور دنیا کی معیشتوں میں جو تباہ کاریاں کی ہیں اس کا اندازہ تو گزشتہ روز جاری ہونیوالی آئی ایم ایف کی رپورٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم میری تشویش کرونا مریضوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ اور کرونا مریضوں کی لاشوں کی بے حرمتی کے حوالے سے پھیلتی کہانیوں پر ہے۔ اگر ڈبلیو ایچ او نے مستند ڈاکٹروں کی ریسرچ کی بنیاد پر اپنی یہ رپورٹ بھی جاری کردی ہوئی ہے کہ کرونا مریض کی لاش سے کرونا پھیلنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ لاش سانس لیتی ہے نہ اسکی ناک بہتی ہے کہ اسکے جسم کے اندر موجود کرونا باہر آئے اس لئے کرونا مریض کی لاش کی مذہبی عقائد کے مطابق تدفین کی رسومات ادا کی جاسکتی ہیں۔ پھر ہمارے پاس کرونا مریض کی لاش اسکے ورثاء کے حوالے نہ کرنے یا بھاری معاوضہ لے کر حوالے کرنے کا کیا جواز ہے۔ صمصام بخاری کی لیک ہونیوالی ٹیلی فونک کال بھی اسی معاملہ کی تصدیق کی متقاضی ہے۔ انہوں نے متعلقہ ڈاکٹروں کو دھمکی تو یقیناً اپنے جاگیردارانہ کلچر کے مطابق دی مگر کرونا مریض کی لاش اسکے ورثاء کے حوالے نہ کرنے اور پراسرار انداز میں دفنانے کے حوالے سے جو کہانیاں چل رہی ہیں‘ جناب اس بارے میں تو لوگوں کے ذہن صاف کریں ورنہ ہمارے معاشرے کے خالصتاً کاروباری ہونے پر مہر تصدیق ہی ثبت ہوگی۔

٭…٭…٭
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com