اتھّل پتھّل کااہتمام
May 08, 2020

آثار یقیناً کچھ اچھے نظر نہیں آ رہے۔ ایک طرف کرونا دنیا کو لپیٹنے کی جلدی میں نظر آ رہا ہے اور دوسری طرف اس فکر سے بے نیازکچھ جنونی ممالک کی قیادتیں اپنے توسیع پسندانہ مقاصد و عزائم کی بنیاد پر اپنے ہاتھوں دنیا کی تباہی کا اہتمام کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ابھی امریکہ اور چین کے مابین محاذ آرائی نما یہ بحث بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے کہ ان میں سے کس نے کرونا وائرس کس مقصد کے تحت ایجادکیا اور پھیلایا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تھوپ رہے ہیں اور ان ممالک کے حامی یا خیر خواہ اپنے اپنے ممدوح کے حق میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر دلائل پیش کر رہے ہیں۔ بعض عالمی تھنک ٹینکس چین اور امریکہ کی اس محاذ آرائی کو تیسری عالمی جنگ سے تعبیر کررہے ہیں جو ان کی دانست میں کرونا وائرس کے ذریعے حیاتیاتی حملے کی صورت میں شروع ہو چکی ہے۔ اب صرف یہ تعین ہونا باقی ہے کہ یہ حیاتیاتی حملہ امریکہ اور چین میں سے کس نے کیا ہے۔ اس کا انجام کیا ہونا ہے ، اس کا اندازہ امریکہ کی اس تازہ کارروائی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس کے تحت اس نے چین سے کشیدگی کے پیش نظر گوام میں اپنے فضائی اڈے ایندرسن ائر فورس بیس پر اپنے بمبار طیارے اور ائرفورس کے سینکڑوں اہلکار دوبارہ تعینات کر دئیے ہیں۔ ان ازسرنو تعینات ہونے والے اہلکاروں میں امریکی 54 بی لانسرز طیارے اور نائینتھ بم سکواڈرن کے 200 کے قریب ہوا باز شامل ہیں جو چین پر ایٹمی حملے کے لئے بس ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ اس حوالے سے امریکی ائرفورس کے ساتویں بم ونگ کمانڈر کرنل ایڈسو مانگل نے گزشتہ روز پرجوش انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو اپنے تئیں باور کرایا کہ ہم لوگ گوام میں واپسی پر بہت پرجوش ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے بمبار فورس کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔ مگر حضور کیا خیال ہے ، کیا چین ان امریکی عزائم سے باخبر نہیں ہو گا۔ اس نے بھی تو یقیناً اپنے دفاع کی بھرپور تیاری کر رکھی ہو گی۔ پھر آپ انجام خود ہی سوچ لیں کہ ان دو بڑی ایٹمی طاقتوں کے باہمی ٹکرائو سے اس کرۂ ارض پر کیا حشر نشر ہو گا۔ ہم تو ویسے ہی ان کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے ہیں اس لئے ممکنہ طور پر پہلا ’’حشر‘‘ تو ہمیں ہی بھگتنا پڑے گا۔


اور ہم تو ویسے بھی توپ کے دہانے کے آگے بیٹھے ہیں کیونکہ ہمارے دشمن بھارت کی جنونی مودی سرکار اپنی جنونیت کے عملی اظہار کے لئے امریکہ سے بھی زیادہ جلدی میں نظر آتی ہے۔ اس کی سفاکیت کے آگے کرونا وائرس کی ممکنہ تباہ کاریوں کی فکر بھی بند نہیں باندھ سکی چنانچہ اس نے عساکر پاکستان کو اپنے ملک میںکرونا وائرس کا پھیلائو روکنے کی کارروائیوں اور امدادی کاموں میں مصروف دیکھ کر اپنی گندی سوچ کے تابع پاکستان پر چڑھ دوڑنے کی منصوبے بندی کر لی ہے۔ اس لئے موقع نکالنے کی بھی مودی سرکار خود ہی کوشش کر رہی ہے۔ دنیا تو کرونا وائرس سے بچائو کی فکر میںغلطاں ہے اور اس وائرس کے نتیجہ میںبھوک اور بے روزگاری کے عفریت جس طرح منہ کھولے نظر آ رہے ہیں، متاثرہ ممالک کی قیادتیںاور عالمی ادارے لوگوںکو اس سے بچانے کی حکمت عملیوں کے تانے بانے بن رہے ہیں مگر مودی سرکار نے ان نازک لمحات کو بھی پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے اور گزشتہ دس ماہ سے لاک ڈائون میں پڑے مظلوم کشمیری عوام کا عرصۂ حیات مزید تنگ کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ اس کی یہ ساری شرارت پاکستان پر چڑھائی کا موقع نکالنے کی گندی سوچ پر ہی مبنی ہے اور اس کے اخذ کردہ نتیجے کے عین مطابق کشمیری مجاہدین نے زچ ہو کر ہندواڑہ میں بھارتی فوجیوں کے خلاف مزاحمت مزید تیز کر دی جس میں بھارتی فوجیوںکا جہنم واصل ہونا بھی نوشتۂ دیوار تھا اور پاکستان پر ملبہ ڈالنے کی یہی تو بھارتی حکمتِ عملی ہے جس کے تحت اب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور آرمی چیف ایم ایم نروا نے یکسو ہو کر پاکستان کے خلاف اپنے سرجیکل سٹرائیک اور بالاکوٹ حملے کے دعوے سے بھی بڑھ چڑھ کر گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔


انہی گیدڑ بھبکیوںکو عملی قالب میں ڈھالنے کا متقاضی بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے میںآسمان سرپر اٹھا چکا ہے اور ’’بدلہ بدلہ‘‘ کے نعرے لگا کر اپنی ’’سینا‘‘ کو انگیخت کر رہا ہے۔

تو جناب! آپ کے گزشتہ سال کے بالا کوٹ والے ڈرامے پر اگلے ہی روز آپ کا ’’مکو ٹھپنے‘‘ والی عساکر پاکستان اب چوڑیاں پہن کر تو نہیں بیٹھی ہوئیں۔ وہ بے شک کرونا وائرس سے عوام کے بچائو کے چیلنج سے بھی عہدہ برا ہو رہی ہیں اور حکومت اور عوام کا امدادی کاموں میں ہاتھ بٹا رہی ہیں مگر کیا خیال ہے۔ وہ دفاع وطن کے تقاضوں سے بھلا غافل ہوںگی؟ آپ گردن نکالیںگے تو وہیں پر آپ کی گردن ناپ لی جائے گی۔ اپنی گزشتہ سال -27 فروری والی ہزیمت سامنے رکھیئے مہاراج ۔ اور شائد اس بار آپ کی ہزیمت کی داستان لکھنے والا بھی آپ کے ساتھ ہی ملیامیٹ ہو جائے۔


مگر آپ کو تو جنونیت میں دنیا کی بقاء کی بھی کوئی فکر لاحق نہیں۔ ذرا سوچئے تو سہی کہ دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت میں مڈبھیڑ ہو گی تو اس دھرتی پر حشر کا کیا سماں پیدا ہو گا۔ ایک طرف امریکہ چین پر ایٹمی چڑھائی کا بندوبست کئے بیٹھا ہے اور دوسری جانب بھارت اپنے جنون کی آگ بھڑکائے چلا جا رہا ہے۔ تو کیا تصور کر لیا جائے کہ انسانوں ہی کے ہاتھوں اس کرۂ ارض کو روئی کے گالوں کی طرح دھنک کر اڑانے کاقدرت کی طرف سے بندوبست کر دیاگیا ہے۔ اگر ہم سرکش انسانوں کے دلوں میںانسانی لاشوں کے انبار لگانے والے کرونا وائرس نے بھی خوف کی تریڑیاں پیدا نہیں کیں اور ہم اپنی اپنی جاہ و حشمت کی دھاک بٹھانے کی فکر میںہی غلطاں ہیں تو جناب! خالقِ کائنات کی بھی تو اپنی منشاء اور منصوبہ بندی ہے جس میں سرکش انسانوں کے لئے دراز رسی کھینچے جانے کی اب نوبت آیا ہی چاہتی ہے۔ خدا کی امان میںآ جائو۔ اس سے پہلے کہ آپ کے پاس کوئی چارہ ، کوئی یارا نہ رہے اور یہ دھرتی اتھل پتھل ہو جائے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com