آگے آپ کی مرضی ہے
Feb 11, 2020

یہ الگ بحث ہے کہ ہمارے ملک میں اغواء برائے قتل اور معصوم بچیوں کے ساتھ ریپ جیسے گھنائونے جرائم کیوں بڑھ رہے مگر ان جرائم کے سدباب کیلئے کسی ایک مجرم کو بھی سرعام پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر اسے عبرت کی مثال بنا دیا جائے تو ایسی ذہنیت والے دیگر ملزمان کے دلوں میں ضرور خوف کی تریڑیاں پیدا ہوں گی۔ اگر خالق کائنات نے اپنے پیارے نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے گئے صحیفۂ آسمانی قرآن مجید میں سراحت کے ساتھ زنا بالجبر کے جرم کو حدود اللہ میں شمار کرتے ہوئے اسکی سزا سنگساری متعین فرمائی تو بلاشبہ اس عبرتناک سزا کا مقصد انسانی اسلامی معاشرے کو ایسے گھنائونے جرائم سے پاک کرنا تھا مگر ہمیں تو بس سیاست سے سروکار ہے۔ وزیر اعظم عمران خاں اپنے اقتدار کے آغاز سے اب تک اس مملکت کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کاعزم باندھتے آ رہے ہیں مگر انکی اپنی مالی، اقتصادی ، قانونی معاملات کی ٹیمیں ایسے مشورے دیتی اور ایسے اقدامات اٹھاتی نظر آتی ہیں کہ ریاست مدینہ کا تصور اپنے معنی ہی کھو دیتا ہے۔


بے شک ریاست مدینہ کی بنیاد سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی فلاحی معاشرہ کی تشکیل اور احکام خداوندی کی تعمیل کیلئے کتابِ ہدایت قرآن مجید میں وضع کئے گئے قوانین ربّانی کی روشنی میں رکھی تھی جبکہ دین اسلام ماضی کی تمام خرافات ، سماجی برائیوں اور اخلاق باختگیوں کو ملیامیٹ کر کے غالب ہوا تھا۔ اگر آج عمران خاں ریاست مدینہ کے اسی تصور کی بنیاد پر مملکت خدا داد کو خالصتاً اسلامی فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز سماجی، معاشرتی اور اخلاقی برائیوں کے تدارک کیلئے احکام خداوندی کی روشنی میں سخت اقدامات اٹھا کر کرنا ہو گا۔ مگر بدقسمتی سے حکومتی ٹیم اس معاشرے کو اسلامی فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھالنے کے تصور سے ہی بدلتی ہے اور اصلاح احوال کی کسی مثبت سوچ پر مروجہ قوانین‘ عدالتی فیصلوں اور مغربی کلچر کے حوالے دے کر وہ طوفان اٹھایا جاتا ہے کہ ریاست مدینہ کا تصور کسی کو نے کھدرے میں دبکا بیٹھا بھی شرمندہ نظر آتا ہے۔


معصوم بچیوں سے زیادتی اور قتل کے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی بحث قصور کی زینب کے قتل کیس سے شروع ہوئی تھی اور اس وقت موم بتیوں والی روشن خیال این جی اوز کی خواتین بھی ایسے مجرمان کو سرعام پھانسی کی وکالت کرتی رہیں جبکہ جنرل ضیاء الحق کے کٹر مخالفین بھی اس معاملہ میں ضیاء الحق کی فوجی حکومت میں پپو کے قاتل کوکیمپ جیل کے باہر سرعام پھانسی پر لٹکانے والی عبرت ناک سزا کا حوالہ دے کر زینب اور دوسری بچیوں کے قاتل کیلئے اسی سزا کا تقاضہ کرتے رہے۔ مگر آج ایک حکومتی وزیر مملکت علی محمد کی جانب سے ایسے گھنائونے جرائم کے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی جو اکثریت رائے سے منظور بھی ہو گئی تو کئی ’’روشن خیال‘‘ حکومتی وزیر مشیر بھی خم ٹھونک کر اس سزا کی مخالفت پر اتر آئے ۔ کیا فواد چودھری اور کیا فروغ نسیم، سب اس فکر میں غلطاں نظر آئے کہ سزا کا یہ تصور تو غیر انسانی سزا والا ہے۔ ایک صاحب سپریم کورٹ کاایک دیرینہ فیصلہ بھی ڈھونڈ لائے جس میں سرعام پھانسی کی سزا کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔ بعض محبان کو ہیگ کنونشن بھی یاد آ گیا جس پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں اور اس کی بنیاد پر سرعام پھانسی تو کجا ، سزائے موت کی بھی گنجائش نہیں رکھی گئی ، تو بھائی صاحب، ہم نے انسانی آزادیوں کے نام پر فروغ پانے والے مغربی کلچرکو اس کی تمام خرافات سمیت ہی اپنانا ہے اور گھنائونے جرائم کی متعینہ انہی کی سزائوں کی وکالت کرنی ہے تو وزیر اعظم کے ساتھ ایک فکری نشست کر کے انہیں قائل کر لیں کہ وہ ریاست مدینہ کی بات نہ کیا کریں۔ اگر کئی قباحتوں والے مروجہ قوانین کا دامن ہی تھامے رکھنا ہے تو پھر اصلاح احوال کے تصور کو بھی انگڑائی نہیں لینے دینی چاہئے۔ مروجہ قوانین میں تو یقیناً کسی مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی گنجائش نہیں ہے اور سپریم کورٹ نے مروجہ متعلقہ قانون کی بنیاد پر ہی سرعام پھانسی غیر قانونی قرار دی مگر حضور والا! مروجہ قوانین میں تبدیلی کے بغیر آپ اصلاح احوال کی جانب کیسے قدم اٹھا سکتے ہیں اور قانون پارلیمنٹ کے منتخب ایوانوں نے ہی تبدیل یا ختم کرنا ہوتا ہے اور اسکی جگہ نیا قانون وضع کرنا بھی پارلیمان کے دست قدرت میں ہے اس لئے آپ کو تو قومی اسمبلی میں منظور ہونیوالی وزیر مملکت کی قرارداد پر باضابطہ قانون سازی کر کے اس کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہئے چہ جائیکہ آپ اس معاملہ میں پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کے اپنے تئیں روشن خیال لیڈران اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے نظر آئیں، اس حوالے سے تو پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان اور حکومتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں جو معصوم بچیوں سے زیادتی اوران کے قتل میں ملوث مجرمان کے لئے سرعام پھانسی کی تجویز کردہ سزا کو غیر انسانی سزا ٹھہرا رہی ہیں جبکہ یہ گھنائونا جرم بذات خود غیرانسانی ہے۔ اور پھر حدود اللہ کے زمرے میں آنے والے جرائم کی کتاب ہدایت میں متعینہ سزائوں کو غیرانسانی قرار دے کر ہم بھلا کیونکر ریاست مدینہ کے تصور کی وکالت کرسکتے ہیں۔ اگر ان سزائوں کی منشا معاشرے میں سماجی اور اخلاقی برائیوں کا تدارک ہے تو انکی مخالفت کرنا مشیت ایزدی کی منشاء کی مخالفت کرنا ہے جبکہ مسلمہ حقیقت یہی ہے کہ سخت سزائوں کے ذریعے مجرمانہ ذہنیت والے لوگوں میں خوف کی فضا پیدا کرکے اور کسی مجرم کو عبرت کا نشان بنا کر ہی معاشرے کو قبیح جرائم سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں حدود اللہ کے زمرے میں آنے والے جرائم کی وہی سزا دی جاتی ہے جو حدود اللہ میں متعین ہے۔ چنانچہ وہاں مجرمان کے جرم کی مناسبت سے سر قلم ہوتے ہیں اور قطع یدین ہوتی ہے تو اس سے طاری ہونے والا خوف ایسی ذہنیت والے دوسرے افراد کو ایسے جرائم کی جانب قدم اٹھانے سے یقینا باز رکھتا ہے۔


ابھی گزشتہ برس ہی ایران میں ایک خاتون سے زیادتی اور اسکے قتل میں ملوث پانچ ملزمان کو چوک میں لا کر سرعام پھانسی پر لٹکایا گیا جو یقینا اس ذہنیت والے دیگر افراد کیلئے عبرت کا باعث بنا۔ اس کی ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر زیرگردش ہے اور اسکی مثال دیکر سرعام پھانسی کی سزا معاشرے کو اخلاقی برائیوں اور گھنائونے جرائم سے پاک کرنے کیلئے وہ حلقے بھی ضروری گردان رہے ہیں جنہیں حدود اللہ کے زمرے میں آنے والے جرائم کی سزائے موت بھی غیرانسانی سزا نظر آتی ہے۔ تو جناب ہم نے فی الواقع اصلاح احوال کرنی ہے اور ریاست مدینہ کے تصور کو عملی قالب میں ڈھالنا ہے تو پھر ہمیں دوعملی سے باہر نکلنا ہوگا۔ جب باضابطہ قانون سازی کرکے معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کی سزا سرعام پھانسی کی متعین کر دی جائے گی تو عدالتوں کے فیصلے بھی اس قانون کی روشنی میں ہی آئیں گے۔ آپ دل بڑا کریں اور حدود اللہ کی سزائوں کے متقاضی جرائم سے معاشرے کو پاک کرنے کیلئے وہی سزائیں قانوناً متعین کر دیں جو خالق کائنات خداوند کریم کی منشاء ہے۔ کفر اور اسلام میں یہی تو ایک امتیاز ہے جو ہر صورت آپ کے کریڈٹ میں آنا چاہئے، آگے آپ کی مرضی۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

٭…٭…٭
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com