چھپن چھپائی کا سفاکانہ کھیل
Nov 15, 2019

محسوس یہی ہو رہا ہے کہ نواز شریف کے معاملہ میں متعلقین آپس میں چھپن چھپائی کا کھیل کھیل رہے ہیں مگر یا د رکھئے کہ اس کھیل کے نتیجہ میں نواز شریف کی جان چلی گئی تو یہ تہمت ہمیشہ کے لئے ایک منتخب حکومت کے گلے پڑ جائے گی۔ بھٹو مرحوم کے عدالتی قتل کا داغ تو ایک جرنیلی آمر پر لگا تھا جنہوں نے یہ کہہ کر جنرل ضیاء الحق کو رحم کی اپیل بھجوانے سے انکار کر دیا تھا کہ اس سے بہتر ہے میں ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ہاتھوں قتل ہو کر تاریخ میں امر ہو جائوں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل اسی تناظر میں آج بھی ضرب المثل بن کر گونج رہا ہے۔ اگر اب ایسی تہمت ایک منتخب حکومت کے سر لگ گئی تو کیا جرنیلی اورکیا سول حکمرانی، سب کچھ ہی بے اعتبارہ ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خاں کے حکومتی حلیف مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے اسی فکر مندی کی بنیاد پر انہیں باور کرایا ہے کہ وہ اپنے ماتھے پر ایسا ٹیکہ نہ لگنے دیں جسے دھونا مشکل ہو جائے، وہ ان ہاتھوں میں نہ کھیلیں جو انہیں تباہ کر دیں اس لئے نواز شریف کے ملک سے باہر جانے کے حوالے سے جو طوفان کھڑا ہوا ہے ، وزیر اعظم کو اسے قابو کرنا ہو گا اور۔ اندازہ لگائیے کہ یہ بات وہ آدمی کر رہا ہے جس نے نواز شریف کے ساتھ مخالفانہ سیاست میں کسی سمجھوتے کی سوچ اپنے دل میں پیدا ہی نہیں ہونے دی اور چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے کی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی پیشکش ٹھکرا کر اقتدار کے کھیل میں عمران خاں کا دم بھرا۔آج وہ اسی نواز شریف کی خرابیٔ صحت کی بنیاد پر اپنی حلیف حکومتی پارٹی کی قیادت کو باور کرا رہے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کچھ لوگ مینگنیاں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حضور۔ نواز شریف کی فیملی اور پارٹی تو نواز شریف کی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، آپ کے پروانوں کے بقول سیاست کر رہی ہو گی مگر آپ کے حکومتی حلیف بھی نواز شریف کی صحت پر فکرمند ہیں تو تھوڑا سا اپنی انا سے باہر نکل کر بھی سوچ لیں۔ آپ کے پارٹی رکن معروف قانون دان سید علی ظفر آپ کو جھنجوڑ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سات ارب روپے کا بانڈ بھر کر چار ہفتے کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا کابینہ کمیٹی کا فیصلہ قانون کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتا، اگر یہ عدلیہ میں چیلنج ہوا تو اس کے مسترد ہونے کا قوی امکان ہے اور پھر اپنی حلیف ایم کیو ایم کے سینیٹر محمد علی سیف کی بھی سن لیجئے، وہ آپ کو باور کرا رہے ہیں کہ یہ فیصلہ قانونی نہیں، سیاسی ہے جسے کوئی منطقی دماغ قبول نہیں کر رہا۔ معروف قانون دان عابد حسن منٹو کی بھی یہی رائے ہے کہ حکومت کا یہ سارا عمل سیاسی ہے اور کیا آپ نے اپنے شروع دن کے ساتھی اور قانون دان حلقوں کی معتبر شخصیت حامد خاں کی اس بات پر غور کیا ہے کہ کسی مجرم کو اس کی خرابیٔ صحت کی بنیاد پر علاج کے لئے ملک سے باہر بھجوانے کی شرائط بہرصورت نرم ہونی چاہئیں۔ صرف یہی نہیں فوجداری قوانین کے ماہر حلقے تو فتویٰ دینے کے انداز میں یہ مؤقف سامنے لا رہے ہیں کہ انڈیمنٹی بانڈز کی فوجداری قانون میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ایسے بانڈ سول مقدمات میں بھرے جاتے ہیں جبکہ نواز شریف تو سراسر فوجداری قانون کی ذیل میں آنے والے جرم میں سزا یافتہ ہوئے ہیں۔

خدا لگتی کہئے، کمانڈو صدر پرویز مشرف سے کون سے بانڈز بھروا کر انہیں علاج معالجہ کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ وہ قانون اور عدلیہ کو چکمہ دے کر ابھی تک ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ اسی مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کابینہ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے نواز شریف کی ملک سے باہر جانے کی مشروط اجازت کا فیصلہ سناتے ہوئے میڈیا کے روبرو ازخود یہ وضاحت کر دی کہ ان سے مشرف کے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ پھر انہوں نے یہ بھی ازخود وضاحت کرنا ضروری سمجھا کر مجرم اور ملزم میں فرق ہوتا ہے جن پر قانون کا یکساں اطلاق نہیں ہو سکتا۔ مشرف کو تو ملک سے باہر جاتے وقت تک کسی کیس میں سزا نہیں ہوئی تھی۔ حضور والا۔ آپ کے اس استدلال کو نوازشریف ہی کے ایک سابق کیس میں کہاں پر منطق کیا جائے۔ جب مشرف آمریت میں وہ ان کا طیارہ اغوا کرنے کے کیس میں عمرقید کی سزا پا چکے تھے مگر انہیں سزا یافتہ ہونے کے باوجود بغیر کسی قسم کا بانڈ بھروائے جیل سے نکالا گیا اور ان کے خاندان سمیت انہیں ایک طیارے میں ڈال کر سعودی عرب بھجوایا گیا۔ آج تو معاملہ اور بھی سنگین ہے۔ خود وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈاکٹروں کی رپورٹوں کی بنیاد پر کہہ چکے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ نوازشریف کی صحت اتنی زیادہ خراب ہے اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ہمیں تو نوازشریف کی نیت پر کوئی شبہ نہیں، وہ علاج معالجہ کیلئے ملک سے باہر جانے کے بعد یقینا واپس آئیں گے۔ پھر جناب انہیں ملک سے باہر جانے کیلئے سات ارب روپے کا بانڈ بھرنے کی شرط لگانا انسانی ہمدردی کا اظہار ہے یا خالص سیاست ہے؟

کہنے کو تو کہا جا سکتا ہے کہ نوازشریف کی جان بچانے کیلئے سات ارب روپے کی کیا وقعت ہے‘ وہ سیاست کو خیرباد کہیں‘ بانڈ بھریں اور علاج کرانے لندن روانہ ہو جائیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ حکمرانوں کی جانب سے سیاست بھی یہی کی جا رہی ہے کہ کسی کی موت و حیات کے اس کھیل میں ان کا شملہ اونچا ہی رہے۔ پھر اِدھر سیاست ہوگی تو اُدھر سیاست کیوں نہیں ہوگی۔ اگر بھٹو نے جرنیلی آمر کو معافی نامہ لکھ کر دینے کے بجائے تاریخ میں امر ہونے کا راستہ اختیار کیا تھا تو نوازشریف نے بھی بانڈ بھرنے سے انکار کرکے آج یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ ظاہرہے وہ بانڈ نہیں بھریں گے تو ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے اور اسی کشمکش میں جان سے گزر جائیں گے تو حضور والا ذرا ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ اس کا ملبہ کس پر گرے گا۔ یہی ملبہ گرنے سے خود کو بچانے کیلئے تو عدلیہ اور نیب نے بھی یہ کہہ کر گیند حکومت کی جانب واپس اچھال دی ہے کہ کسی کا نام ای سی ایل سے نکالنا وفاقی حکومات کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اور اس کھیل میں اصل مشکل حکومت ہی کو درپیش ہے جس نے اپنی انا پر کوئی زد نہ پڑنے دینے کی خاطر نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالے بغیر انہیں سات ارب روپے کے بانڈز کے عوض چار ہفتے کیلئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی۔ اس فیصلے کے پیچھے یقینا یہی فلسفہ کارفرما ہوگا کہ نوازشریف بانڈ بھرنے سے انکار کریں گے اور دوبارہ عدلیہ سے رجوع کرنے کا راستہ اختیار کریں گے، جو نوازشریف کی جانب سے اختیار کر بھی لیا گیا ہے تو عدالت سے انہیں ریلیف ملنے کی صورت میں حکومت‘ انہیں ملک سے باہر بھجوانے کے معاملے سے بری الذمہ ہو جائے گی۔

حضور اس سفاکانہ سیاست سے رجوع کرکے درگزر کے اس راستے پر آجائیں جو آپ کے حلیف چودھری شجاعت حسین آپ کو دکھا اور سجھا رہے ہیں۔ نوازشریف اپنی موجودہ خرابیٔ صحت پر فوری طورپر ملک سے باہر نہیں جا پائیں گے تو جان سے گزرنے کی صورت میں بھٹو ہی کی طرح تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔ پھر کیا منتخب سول حکمرانی یہ ملبہ اٹھانے کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اس بارے میں اپنے وزیرخارجہ اور وزیرداخلہ سے ضرور مشاورت کر لیجئے۔ کہیں تدبیریں الٹی ہی نہ پڑ جائیں۔ اب ’’الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا‘‘ والی حکمت عملی کارگر نہیں ہو پائے گی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com