کرتار پور راہداری والی سرشاری
Nov 05, 2019

کہنے کو تو ہم کرتار پور راہداری کو پاکستان بھارت سازگار تعلقات کے لئے اہم پیش رفت قرار دے سکتے ہیں۔ بھارتی سکھ کمیونٹی کے لئے تو اس راہداری کا کھلنا سرشاری کا مقام ہے، ایک بھارتی فنکار، کھلاڑی اور مودی مخالف سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے کرتار پور راہداری کھلوانے کے لئے اکیلے ہی ہماری حکومتی سیاسی اور عسکری قیادتوں سے اتنا بڑا کارنامہ سرانجام د لا دیا۔ مگر بھائی صاحب اس راہداری کے معاملہ میں آگے کی جتنی بھی پیش رفت ہے وہ ہمارے حکومتی اکابرین کے ذہن رسا ہی کا کارنامہ ہے اور یہ کارنامہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان ہجرت کرنے والے بھارتی مسلمانوں کے سفاکانہ قتل عام اور ان کی عفت مآب خواتین کو ہزاروں کی تعداد میں اغواء کر کے ان کی عزتیں تار تار کرنے اور انہیں مذہب تبدیل کرا کے اپنے گھروں کی زینت بنانے والی ساری تلخیاں فراموش کر کے اور اس سے بھی بڑھ کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف مودی سرکار کی اعلانیہ اور ننگی سازشیں دیکھتے ہوئے بھی سرانجام دیا گیا ہے۔ ابھی آج ہی میڈیا پر اس بھارتی سازش کے چرچے ہوئے ہیں جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بعد آزاد کشمیر کے تین اضلاع اور گلگت بلتستان کے تین علاقوں کو بھی بھارتی نقشے میں بھارت کا حصہ قرار دے دیا ہے۔

اگر بھارت دیدہ دلیری کی انتہاء کو پہنچتے ہوئے مظفر آباد، میر پور، پونچھ اور گلگت وزارت ، چلاس اور پاکستان کے قبائلی علاقے کو بھی مقبوضہ وادی سے الگ کئے گئے لداخ میں شامل کر رہا ہے جس کے لیے وہ یقیناً آگے چل کر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا تو جناب ہمیں اپنی سلامتی اور خودمختاری کی فکر کرنی چاہئے یا اس نازک موقع کرتار پور راہداری کے ذریعے سکھوں ہی نہیں ، ہندوئوں سمیت ہر مذہب کے بھارتی باشندوں کو بلا روک ٹوک پاکستان آنے کی کھلی چھوٹ دے کر مودی سرکاری کی منشاء کے مطابق آزاد کشمیر اور ملک کے قبائلی علاقے بھی پلیٹ میں رکھ کر اس کے حوالے کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ کرتار پور راہداری کھولنے کا جو معاہدہ پاکستان اور بھارت کے مابین گزشتہ ماہ 24 اکتوبر کو طے پایا اس میں روزانہ کی بنیاد پر پانچ ہزار یاتریوں کے پاکستان میں داخل ہونے کے لیے ویزہ کی شرط تو ختم کر دی گئی مگر ہر یاتری کے لیے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ہمراہ لانا لازمی قرار دیا گیا اور بھارت کو بھی پابند کیا گیا کہ وہ پاکستان آنے والے یاتریوں کی فہرست دس روز قبل پاکستان کو فراہم کرے گا تاکہ ان یاتریوں کی ضروری جانچ پڑتال ہو سکے۔ اسی طرح ہر یاتری کی انٹری فیس 20 ڈالر مقرر کی گئی اور اسی حوالے سے اس مد میں پاکستان کا ریونیو بڑھانے اور اس راہداری کے ذریعے سیاحت و تجارت کو فروغ دینے کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالا گیا۔

اس حکمت و تدبر کو کیا کہا جائے کہ کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ تو صرف سکھوں کو ان کے روحانی پیشوا باباگوروناناک کے گردوارہ کی زیارت کے لیے آنے کی سہولت فراہم کرنے کی خاطر کیا گیا مگر راہداری کھولنے کے معاہدے میں سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی اس راہداری کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی اور اب بھارت کے لیے سر شاری کا اگلا قدم اٹھاتے ہوئے یاتریوں کی 20 ڈالر کی انٹری فیس بھی ختم کر دی گئی ہے، ان کے لیے پاسپورٹ ساتھ لانے کی شرط بھی واپس لے لی گئی ہے اور تصدیقی مراحل والی دس روز قبل یاتریوں کی فہرست فراہم کرنے کی شرط سے بھی رجوع کر لیا گیا ہے۔ یہ اعلان کسی اور نے نہیں ، ہمارے وزیر اعظم عمران خاں نے خود اسی گلگت میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا جسے مودی سرکار بھارتی نقشے میں شامل کرکے اس پر اپنا حق جتا رہی ہے۔ ابھی 9 نومبر کو کرتار پور راہداری کے افتتاح کی تقریب میں نہ جانے اور کون کون سے سرشاری والے مناظر دکھائے جائیں گے۔

جناب یہ سرشاری تو ہمیں لے ڈوبے گی ، آپ ذرا تصور کیجئے کہ جو بھارت پہلے ہی یہاں اپنا دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلا کر سی پیک سمیت ہمارے ہر قومی ترقیاتی منصوبے کو دہشت گردی کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی سفاکانہ منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا اور پھر دہشت گردی کا ملبہ بھی ہم پر ڈالے جا رہا ہے وہ اب کرتار پور راہداری والی کھلی چھوٹ ملنے کے بعد ہماری سرزمین پر دہشت گردی کے کیا کیا گل نہیں کھلائے گا کیونکہ اب تو ویزہ فری اور پاسپورٹ فری انٹری کی سہولت اور وہ بھی ’’مفتو مفت‘‘ ملنے کے بعد اس کے لیے یاتریوں کے بھیس میں اپنے سفاک دہشت گرد اور جاسوس پاکستان میں داخل کرنے کی مکمل سہولت موجود ہے۔ کیا ہم مودی سرکار سے یہ توقع رکھیں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ا یسی ہی خیرسگالی کا مظاہرہ کرے گا اور ہماری سلامتی و خودمختاری کا پورا پورا احترام کرے گا۔ جناب یہ وہ سانپ ہے جسے جتنا مرضی دودھ پلاتے رہو، اس نے ڈسنے کی علت سے باز نہیں آنا۔ پھر ذرا قوم کو بھی سمجھا دیجئے کہ دشمن کے لیے ایسی سرشاری والا اصل ایجنڈہ کیا ہے۔ یہاں ایک طبقہ امرتا پریتم کی حسرتوں کو اجاگر کرنے والی ’’واہگے والی لکیر‘‘ مٹانے کے درپے رہا ہے جسے ہندو بنیئے کے خلاف چلائی گئی تحریک پاکستان اور پھر اس تحریک کی بنیاد پر ’’مہا بھارت‘‘ کی کوکھ سے نکال کر تشکیل دی گئی مملکت خداداد پاکستان سے خدا واسطے کا بیر ہے اور اس کے لیے وہ اپنے خبثِ باطن کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ آج اگر بھولپن میں یا کسی منصوبے کے تحت کرتارپور راہداری سے ہر نوع کے بھارتی باشندوں کو بلا پاسپورٹ ، بغیر ویزہ اوربلا روک ٹوک پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت مل رہی ہے تو اس سے کہیں واہگے والی لکیر مٹانے کا پاکستان دشمنوں کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کی کوئی تدبیر تو نہیں نکالی جا رہی؟ پاکستان آنے والے جن مہاجروں کے خون سے یہ لکیر سینچی گئی ہے ذرا ان کے سامنے ایسی کسی سازش کا اشارہ بھی کر کے دیکھئے۔ آپ کو بخوبی سمجھ آ جائے گی کہ اپنے عزیزوں، پیاروں کی جانوں اور عصمتوں کی قربانیاں د ے کر مسلمانوں کے لیے الگ خطے کا بانیان پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے والوں کے دل میں اس ملک خداداد کی کتنی قدر ہے اور وہ اس کی حفاظت کا کیا جذبہ اور کیسا عزم رکھتے ہیں۔ مجھے ایک تقریب کبھی نہیں بھولتی جو پاکستان بھارت سازگار تعلقات کی کوششوں کے حوالے سے لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ اس میں ایک لبرل مقرر نے واہگے کی لکیر مٹانے کی ترغیب دی تو سٹیج پر موجود سابق جج لاہور ہائیکورٹ ملک سعید حسن عملاً دھاڑتے ہوئے ان پر برس پڑے اور باور کرایا کہ آپ میرے سامنے یہ بات کر رہے ہیں جس نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں سمیت اپنے پورے خاندان کی اس لکیر کی خاطر قربانی دی ہوئی ہے۔ ان کی اس دھاڑ کے بعد تقریب کے منتظمین کو مجبوراً تقریب سمیٹنا پڑی۔ یقینا ایسی تلخیاں آج بھی تشکیل پاکستان میں اپنی جانوں اور عصمتوں کی قربانیاں د ینے والے خاندانوں کی نئی نسل تک میں موجود ہیں اس لیے انہیں بھولے سے بھی چھیڑنے کا رسک مت لیجئے اور ’’پاکستان کوئی سَوکھا بنیا ‘‘ کے زیر عنوان لکھی گئی ہمارے پنجابی شاعر ظہور حسین ظہور کی نظم کا مطالعہ کر لیجئے۔ مکار دشمن کے ساتھ سرشاری کی سوچ پر آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com