دہشتگردی کی اصل تشریح اور حکمرانوں کی منشاء
Nov 01, 2019

انسداد دہشت گردی ایکٹ حکمرانوں کے لئے امرت دھارا بنا رہا ہے۔ کسی سیاسی مخالف کو ’’کینڈے‘‘ میں رکھنا ہو یا مزہ چکھانا ہو تو اس کی کسی تقریر کو بنیاد بنا کر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی کسی شق کے تحت اس کے خلاف دہشت گردی کے جرم کا مقدمہ درج کرا دیا جاتا ہے۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے سیاسی مخالف چودھری ظہور الٰہی سے انتقام لینے کے لئے ان کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ درج کرا دیا تھا۔ غالباً اس وقت انسداد دہشت گردی ایکٹ موجود نہیں تھا ورنہ چودھری ظہور الٰہی خوفناک دہشت گرد بھی قرار پاتے۔ یہ ایکٹ ضیاء الحق کی جرنیلی آمریت کے دوران معرضِ عمل میں آیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو سمیت طیارہ ہائی جیکنگ کے ملزمان انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہی گردن زدنی ٹھہرائے گئے تھے۔ اس قانون کا مقصد بنیادی طور پر اپنے مخالفین پر اپنے اقتدار کی دھاک بٹھانا اور کسی کو پر مارنے کی بھی اجازت نہ دینا تھا اور جرنیلی آمروں نے یہ قانون اسی مقصد کے تحت استعمال کیا جس میں اپنی سہولت کے تحت وقتاً فوقتاً ترامیم بھی کی جاتی رہیں۔ جرنیلی آمر پرویز مشرف نے تو اہل صحافت کو بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ’’دھر رگڑا‘‘ دینے کی پالیسی طے کر لی اور اس ایکٹ میں ایک نئی شق شامل کر کے حکومت مخالف تحریر و تقریر کو دہشت گردی کے ارتکاب والا جرم بنا دیا۔ صحافی تنظیموں نے اس پر سخت احتجاج کیا جس کے باعث کسی صحافی کے خلاف متذکرہ شق کے تحت مقدمہ کے اندراج سے تو گریز کیا گیا مگر یہ شق بدستور ایکٹ میں شامل رہی۔ صرف یہی نہیں، ملکی ، قومی اور ریاستی مفادات کی بھی غلط توجیح کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کا رگڑا دیا جاتا رہا ہے۔ کسی پر یہ الزام اور تہمت لگانا تو بہت ہی آسان ہے کہ اس کا فلاں اقدام ملکی سلامتی کے تقاضوں اور قومی مفادات کے منافی ہے۔ ایسی تہمت کے تحت کسی کو ملک دشمن قرار دینا بھی بہت آسان ہوتا ہے چنانچہ ہماری سیاسی تاریخ ایسے ’’ملک دشمنوں‘‘ سے بھری پڑی ہے۔ آئین کی دفعہ 19 کے تحت شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے جو پریس کی آزادی پر بھی منطبق ہوتی ہے تاہم اسے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے تحفظ ، دفاع پاکستان ، بیرونی ریاستوں کے ساتھ تعلقات، شائستگی اور اخلاقیات اور عدالتی تقدس و احترام کے تابع کیا گیا ہے اور اسی سے حکمران طبقات اپنی من مرضی کی تشریح کر کے میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنے کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح حکمران طبقات کو بعض دوسرے مروجہ قوانین کو بھی موم کی ناک بنا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی سہولت مل جاتی ہے۔ کسی قانون کو وضح کرنے کی نہ جانے قانون سازوں کی کیا منشاء ہوتی ہے مگر کسی قانون کو اپنی منشاء کے مطابق استعمال کرنا حکمران طبقات کا خاصہ ہے۔ بے شک سپریم کورٹ آئین اور قانون کی کسی شق کی تشریح کرنے کا مجاز فورم ہے مگر اس کے لئے کوئی عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرے گا تو ہی فاضل عدالت اپنی یہ ذمہ داری نبھائے گی۔ بالعموم لوگ ایسے معاملات سے یا تو نابلد ہوتے ہیں یا کسی قانون کی تشریح کے لئے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ چنانچہ قانون کی اصل منشاء سے ہٹ کر کسی قانون کو بروئے کار لانے کی بے شمار نظیریں ہماری قانونی کتب میں مل سکتی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے غلط اور ناجائز استعمال کی مثالیں موجود ہوں گی۔

آج تو پیمرا ایکٹ میں بھی ایسے ایسے نادر اور اچھوتے تجربات کئے جا رہے ہیں کہ ایسے قوانین وضع کرنے والوں کی سوچ پر ہنسی آتی ہے۔ پچھلے دنوں پیمرا کے جاری کردہ ایک آرڈر کا بہت چرچا ہوا جس کے تحت ٹی وی اینکروں پر بعض اچھوتی پابندیاں عائد کی گئیں اور میڈیا مالکان کو اس آرڈر کی تعمیل کا پابند کیا گیا۔ اس پر حکومت کی اپنی صفوں میں سے اضطراب کی لہریں اُمڈتی ہوئی نظر آئیں اور قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر کے علاوہ وفاقی وزراء چودھری فواد حسین اور ڈاکٹر شیریں مزاری تک نے پیمرا کا متعلقہ آرڈر نکالنے والوں کی عقل پر ماتم کیا۔ شنید ہے کہ وفاقی کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیر اعظم عمران خاں کے روبرو ان وزراء کی خوب شکایت لگائی۔ حضور! اگر آئین و قانون کی متعلقہ شقوں کی اصل منشاء کے مطابق آئین و قانون کی عملداری کے اقدامات اٹھائے جائیں تو ’’گھر جا کے شکایت لاواں گی‘‘ کے کسی منظر نامہ کی نوبت ہی نہ آئے۔ پھر شرف انسانیت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور انسانوں کی توقیر بھی کوئی معنی رکھتی ہے۔ آپ بازو کو الٹا گھما کر کان کو پکڑنے کی کوشش کریں گے تو یہ منظر آپ کے لئے ٹھٹھہ مذاق کی نوبت لا سکتا ہے۔ اس لئے کسی بھی قانون کو اس کی روح کے مطابق استعمال کریں اور جہاں قانون کا مفہوم سمجھ میں نہ پڑ رہا ہو تو اس کی تشریح کے لئے مجاز فورم سپریم کورٹ سے رجوع کرنے میں ہرگز شرم محسوس نہ کریں۔

ایسا ہی ایک معاملہ سپریم کورٹ کو دہشت گردی کی تعریف کا درپیش آیا جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بنچ نے گزشتہ روز مفصل فیصلہ صادر کیا ہے اور دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ ذاتی دشمنی یا عناد کے سبب کسی کی جان لینا ، گھر جلا دینا، بھتہ خوری اور ذاتی عناد پر مذہبی منافرت پھیلانا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا البتہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنا ، منصوبے کے تحت مذہبی فرقہ واریت پھیلانا اور کاروباری برادری ، عوام ، سوشل سیکٹر اور صحافیوں پر حملے کرنا صریحاً دہشت گردی ہے۔

فاضل چیف جسٹس کے تحریر کردہ ساٹھ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جن جرائم کو دہشت گردی کے جرم سے باہر نکالا گیا ہے ان سب کو انسداد دہشت گردی ایکٹ میں دہشت گردی والا جرم ہی گردانا گیا ہے اس لئے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان جرائم کے مرتکب کتنے افراد اب تک دہشت گردی کے سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرا کر ’’کیفر کردار‘‘ کو پہنچائے جا چکے ہوں گے اور کتنے مجرمان کیفر کردار کو پہنچائے جانے کے منتظر ہوں گے۔

آج اس معاملہ پر بات کرنے کی اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ اب بھی فضا اختلاف رائے کے اظہار کو روکنے اور سیاسی مخالفین کو کسی نہ کسی طرح کیفر کردار کو پہنچانے کے اقدامات اٹھانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جس کے لئے انسداد دہشت گردی ایکٹ ہمیشہ امرت دھارا کا کردار ادا کرتا ہے۔ اب سپریم کورٹ کی جانب سے دہشت گردی کے جرم کی تشریح کے بعد ممکن ہے ’’امرت دھارے ‘‘ کا استعمال کچھ دیر کے لئے مؤخر ہو جائے مگر خدا لگتی کہئیے ۔ تکریم انسانیت کی پاسداری کرنے والے کسی معاشرے میں کسی کو عبرت کا نشان بنانے کے لئے بازو الٹا گھما کر کان پکڑنے کی ایکسرسائز کرنے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے۔ کیا ہم سیدھے سبھائو انسانوں والے کام نہیں کر سکتے؟۔ بھئی کسی کو دوش نہ دو، اپنے معاملات ہی ٹھیک کر لو تو شرف انسانیت والے معاشرے کی وہ تصویر بن جائے گی جس کا عوام کو اب تک محض لالی پاپ دیا جا رہا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com