’’بُل فائٹنگ ‘‘ کی منظر کشی
Oct 14, 2019

جناب عزائم تو دونوں جانب کے ٹھیک نظر نہیں آ رہے۔ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے کا انداز بھی جارحانہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے براہ راست مخاطب ہوتے ہیں۔ ’’آپ کو اسلام آباد کی طرف جانے ہی نہیں دیا جائے گا۔‘‘ لب و لہجہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ ریاستی طاقت کے آگے بھلا آپ کی کیا حیثیت ہے۔ دوسری جانب سے اس سے بھی زیادہ تلخ جواب آتا ہے۔ ’’ارے آپ بھلا ہمیں کیا روکیں گے، آپ تو اپنے گھر سے بھی نہیں نکل پائیں گے۔‘‘ یہ سیدھی سیدھی بُل فائٹنگ کی منظر کشی ہے جس میں تماشائی بھی رگڑے جاتے ہیں۔ -27 اکتوبر کی ڈیڈ لائین قریب آتے آتے کئی دھاڑتے چنگھاڑتے مناظر بنائے ، دکھائے جا رہے ہیں۔ ڈنڈہ بردار فورس تیار ہونے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں جس کی ریہرسل کے مناظر بھی سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اونٹ برداروں کا ایک قافلہ تو سکھر سے اسلام آباد روانہ بھی ہو چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بھی یہی شنید ہے کہ وہ سندھ حکومت کے تحفظ میں سندھ کے کسی علاقے سے ہی اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے جن کے حفاظتی دستے میں لامحالہ سینکڑوں نہیں تو بیسیوںمسلح افراد ضرور شامل ہوں گے۔ اور اب تو تنہا پرواز کے لیے ڈٹ جانے والے مولانا صاحب کو واضح طور پر دوسری اپوزیشن جماعتوں کی کمک حاصل ہوتی بھی نظر آ رہی ہے۔ سندھ سے بلاول بھٹو زرداری گرج برس رہے ہیں، پنجاب میں میاں نواز شریف کے خط کی تاثیر سامنے آنے لگی ہے جہاں لاہور سے جے یو آئی کی ہمراہی میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور خیبر پی کے میں اسفند یار ولی حضرت مولانا کے پلڑے میں وزن ڈال کر دھما چوکڑی کے ارادے باندھ رہے ہیں۔ اگر حکومتی وزراء اور ترجمانوں کے بیانات و اعلانات کا جائزہ لیا جائے تو -27 اکتوبر کو سیدھا سیدھا تصادم نظر آ رہا ہے۔ بھئی ایسا ہو گیا تو نقصان کس کا ہو گا، یہ ذرا سوچ رکھئے۔ اصل میں تو اس ساری دھما چوکڑی میں جمہوریت ہی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ پھر اس کو بچانے کی ذمہ داری کس نے نبھانی ہے؟

ذرا اگست 2014ء میں شروع ہونے والے حکومت مخالف لانگ مارچ اور اس کے بعد 126 دن کے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر دھرنے کا موجودہ اعلان کردہ آزادی مارچ اور دھرنے کے ساتھ موازنہ کیجئے۔ اس کا سارا اہتمام بھی جمہوریت کا ’’مکّو ٹھپنے‘‘ والا ہی نظر آ رہا تھا۔ اگر اس وقت کی حکومت بھی حکومت مخالف احتجاج کو روکنے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پی کے جیسی حکمت عملی طے کر لیتی تو نکونک ہوتی‘ دھکے ٹھیڈے کھاتی بے چاری جمہوریت شائد دو دن میں ہی منہ کے بل آ گرتی مگر حکومت نے ڈھیل دینے کی تدبیر اختیار کر لی۔ پارلیمنٹ ہائوس کے باہر جارحانہ دھرنوں کا آغاز ہوا تو حکومت نے پارلیمنٹ ہائوس کا مشترکہ اجلاس بلا لیا اور پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو گئی۔ اس تدبیر میں پیغام یہ تھا کہ پارلیمان پر شب خون مارنا ہے تو پارلیمنٹ کے اندر ہماری لاشوں سے گزر کر جانا ہو گا۔ اس تدبیر کے تحت پارلیمنٹ کے باہر دھرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی جو کنٹینروں اور رونق میلوں کے ساتھ حکومت کے طبلے بجاتے اودھم مچاتے نظر آتے مگر ریاستی طاقت کا ان کی جانب رخ تک نہ کرنے دیا گیا۔ اس دھرنے کے دوران ایسی ایسی ہوشربا داستانیں اور مناظر ملکی ، غیر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھنے، سننے کو ملتے رہے کہ جمہوریت شرمسار ہوتی اور آئین و قانون کی حکمرانی لاچار ہوتی نظر آئی مگر اس پالیسی کے ذریعے ڈھیٹ بن کر جمہوریت کو بچا لیا گیا۔ اگر اس وقت ریاستی طاقت کو مدمقابل لانے کی حماقت سرزد ہو جاتی تو دھرنے والوں تک آج جمہوریت کا پھل کبھی نہ پہنچ پاتا۔

تو جناب! جمہوریت کا پھل کھاتے رہنے کے لیے آپ کو بھی کوئی ایسی ہی ’’نیویں نیویں‘‘ ہو کر رہنے کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ آپ کو اپنے دھرنے کی فیوض و برکات جمہوریت کے تسلسل کی صورت میں سمیٹنے کا موقع ملا ہے تو اس تسلسل میں اب کوئی رخنہ بھی آنے دیجئے ورنہ اقتدار کی بوٹی جن ہاتھوں میں جائے گی وہ جمہوریت کے کسی نام لیوا کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیں گے۔ آپ کے لیے مولانا صاحب اور ان کے حلیفوں کے آزادی مارچ اور دھرنے کی نوبت ہی نہ آنے دینے کی ایک ٹھوس حکمت عملی والا راستہ بھی موجود ہے۔ وہ راستہ اختیار کر لیں تو جمہوریت کے لیے ’’ستّے خیراں‘‘۔ اور یہ راستہ تو آپ کو اپنے منشور اور ایجنڈے کی بنیاد پر اپنے اقتدار کے آغاز ہی میں اختیار کر لینا چاہئے تھا۔ یہ راستہ ہے سلطانیٔ جمہور کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچانے والا جس میں آپ فیل ہو کر ہی بالخصوص مولانا فضل الرحمان کے لیے دھماچوکڑی والا راستہ نکالنے کا باعث بنے ہیں۔

جناب اس حقیقت کو صدق دل کے ساتھ محسوس اور تسلیم کریں کہ آپ کی اقتصادی، مالیاتی پالیسیوں نے غریب طبقات کو تو راندۂ درگاہ کیا سو کیا ہے، ہر کاروباری طبقے بشمول تاجروں، سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور کسانوں کو بھی اپنے مستقبل کے تحفظ کی فکر میں غلطاں کر دیا ہے۔ عام آدمی کے لیے تو روزگار کے راستے بھی مسدود ہو گئے ہیں اور مہنگائی نے انہیں سر اٹھا کر سوچ بچار کرنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا جبکہ دوسرے طبقات بھی بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور آپ کے سابق چیئرمین ٹاسک فورس اکرم چودھری کے بقول جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔ آپ کوئی ایسا راستہ نکال لیجئے کہ اس منفی سوچ اور بعضوں کے بقول آسیب کے سائے سے ملک و قوم کو نجات مل جائے مگر آپ کے وزیر مشیر تو آج بھی مشکل اقتصادی حالات کے مزید دو سال تک برقرار رہنے کے زندہ درگور عوام کو کچوکے لگائے جا رہے ہیں۔ آپ فی الوقت عوام کے روٹی ، روزگار، غربت مہنگائی کے گھمبیر تر ہوتے مسائل سے عبوری طور پر انہیں نجات دلا کرمولانا کے آزادی مارچ کے ممکنہ نتائج والے خواب چکنا چور کر سکتے ہیں۔ ورنہ جناب ! مارچ کو غیر موثر بنانا مقصود ہے تو آپ بھی وہی راستہ اختیار کریں جو آپ کے دھرنے کے معاملہ میں اختیار کیا گیا تھا۔ اتھل پتھل کرنا تو بہت آسان ہے مگر اس کا خمیازہ صرف آپ ہی نہیں پورا ملک اور پوری قوم بھگتے گی۔ آپ کے کریڈٹ میں تو ماضی جیسی جمہوری کٹھن جدوجہد کا کہیں شائبہ بھی نظر نہیں آتا اس لیے جو ہے اس پر درگزر کیجئے اور اسے برقرار رکھنے کا جتن کئے رکھئے، آپ طاقت کے استعمال کا راستہ کھولیں گے تو جبہ و دستار اور گریبانوں کے ڈھیر لگنے سے جسدِ جمہوریت میں تنفس کا سلسلہ برقرار نہیں رہ پائے گا، حضور ایسی کوئی نوبت لانے سے گریز کریں جو تہیۂ طوفان کئے بیٹھے عوام کو فی الواقعی خونین انقلاب کی راہ دکھا دے۔ آپ نے آسودہ رہنا ہے تو سلطانیٔ جمہور میں جمہور کی آسودگی کا بندوبست کر دیجئے۔ پھر کوئی دھرنا، کوئی مارچ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com