گورننس کا چیلنج اور عوام کا اضطراب
Oct 08, 2019

بے شک ہمیں اندرونی اور بیرونی طور پر بہت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے اور ہر چیلنج سے عہدہ براء ہونا حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بیرونی چیلنجوں میں آج سب سے بڑا چیلنج کشمیر پر بھارت کا پیدا کردہ بحران اور اسی تناظر میں جنونی بھارتی حکمرانوں اور ان کی عسکری قیادتوں کی جانب سے پاکستان کو اس کی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے دی جانے والی سنگین نوعیت کی دھمکیاں ہیں جنہیں کنٹرول لائین پر اور وادیٔ کشمیر میں عملی جامہ بھی پہنایا جا رہا ہے۔ بے شک حکومت بالخصوص وزیر اعظم عمران خاں اس بحران سے پامردی اور استقامت کے ساتھ عہدہ براء ہو رہے ہیں جنہوں نے یو این جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر عالمی قیادتوں کے روبرو کشمیر ہڑپ کرنے اور پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کے بھارتی عزائم بے نقاب کئے اور ساتھ ہی انہیں یہ باور بھی کرا دیا کہ اگر بھارتی ہٹ دھرمی کا ازالہ نہ کیا گیا ، کشمیریوں کو استصواب کا حق نہ دیا گیا، وہاں سے ظالمانہ کرفیو نہ ہٹایا گیا اور پاکستان پر چڑھائی کرنے کی جنونی منصوبہ بندی پر بھارتی ہاتھ نہ روکے گئے تو دو ایٹمی ممالک کے باہم ٹکرانے سے اس خطے اور پورے کرۂ ارض کی جو تباہی ہو گی ، آپ اس کی ذمہ داری سے خود کو نہیں بچا پائیں گے۔ بے شک وزیر اعظم نے عالمی قیادتوں کے ساتھ ساتھ اسلاموفوبیا کے حوالے سے مسلم دنیا کو بھی جھنجوڑا اور موسمی تبدیلیوں سے خطے پر پڑنے والے منفی اثرات سے بھی عالمی قیادتوں کو آگاہ کیا چنانچہ ان کی ہمہ جہت تقریر پاکستان کی اپنے اصولی کشمیر کاز اور مسلم دنیا کے حوالے سے مغربی دنیا کی قیادتوں کے مجہول پراپیگنڈ ے کے مسکت جواب پر منطبق ہوئی اور وزیراعظم نے اپنے ملک میں ہی نہیں ، اقوام عالم میں بھی داد و تحسین کے برستے ڈونگرے سمیٹے۔ اب کشمیر اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے عمران خاں کی جانب سے عالمی اور مسلم قیادتوں پر ڈالی گئی ذمہ داری کو متعلقہ قیادتوں نے ہی نبھانا ہے۔ عساکر پاکستان بہرصورت بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور اس کے بارے میں کسی کو غلط فہمی بھی نہیں ہونی چاہئے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ڈنکے کی چوٹ پر باور کرا چکے ہیں کہ ہم پر بھارتی جارحیت اور اس کے جارحانہ عزائم کا مکمل توڑ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور اس معاملہ میں اسے 27 ۔ فروری جیسا جواب ہی ملے گا۔

دفاع وطن کی ذمہ داری تو یقیناً عساکر پاکستان نے اٹھائی ہوئی ہے جن کی پیشہ ورانہ استعداد و صلاحیت کی پوری دنیا قائل ہے۔ اس لیے ہمیں بھارت کے دئیے گئے اس چیلنج پر کوئی فکر مندی نہیں ہونی چاہئے۔ ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور اس وطن عزیز کا دفاعی حصار توڑنا یا اس میں نقب لگانا ہم سے سات گنا زیادہ اسلحہ اور جنگی ساز و سامان رکھنے والے ہمارے دشمن بھارت کے لیے عملاً ممکن نہیں اور اس حوالے سے قوم بھی مطمئن ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کی ہزیمتوں کا اہتمام ہو چکا ہے جس کے جنونی عزائم کے آگے اقوام عالم کی جانب سے بند نہیں باندھا جائے گا تو اس کا خمیازہ پاکستان اور بھارت سمیت اس خطے کے ممالک ہی کیا پوری دنیا بھگتے گی مگر ہمیں آج اندرون ملک جس بڑے چیلنج اور سنگین بحران کا سامنا ہے وہ غربت، مہنگائی، روٹی روزگار کے حوالے سے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے اضطراب اور بے چینی کا ہے جس سے عہدہ براء ہونے کے فوری اور موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس اضطراب کی ایک جھلک پچھلے دنوں پنجاب حکومت کے پرائس ٹاسک کمیشن کے سربراہ محمد اکرم چودھری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں دکھائی جو ڈھکے چھپے نہیں بلکہ واشگاف الفاظ میں اپنی پارٹی کی حکومت اور قیادت کو باور کرا رہے تھے کہ عوام اپنے روزمرہ کے مسائل بالخصوص مہنگائی اور بے روزگاری پر سابق حکمرانوں کو ان کے ادوار حکومت میں ہاتھ اٹھا کر بددعائیں دیتے تھے مگر ہمیں عوام جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔ وہ اشیائے صرف کے نرخوں کی گرانی پر کنٹرول رکھنے کے معاملہ میں اپنی بے بسی کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ نہ جانے وزیر اعظم تک ان کی داد فریاد پہنچی ہے یا نہیں مگر انہوں نے عوام کے جذبات کی خوب ترجمانی کر دی ہے۔

کچھ ایسا ہی ماحول گزشتہ ہفتے حکمران پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بنا ہوا نظر آیا جہاں حکومتی پارٹی کے ایک رکن عوامی مسائل کے حل کے معاملہ میں اپنی بے بسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ ہم عوام کو جواب دینے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کچھ ایسی ہی بے بسی کا اظہار وفاقی کابینہ کے ایک رکن نے بھی کیا جس کا وزیر اعظم نے عمران خاں نے سخت نوٹس لیا اور انہیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جب سابق حکمران لوٹ مار کر رہے تھے تو اس وقت تو آپ ایسا کوئی احتجاج نہیں کرتے تھے۔ وزیر اعظم کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بہرحال عوام کی شکایات کے ازالہ کے لیے کوئی اقدام نہ اٹھانے والی بیوروکریسی کے معاملات کا ضرور نوٹس لینا پڑا جنہیں انہوں نے باور کرایا کہ سرکاری افسران کے پاس عوام کی جانب سے جو بھی درخواست آتی ہے، اس پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی جس کا اثر حکومتی گورننس پر پڑ رہا ہے۔ اس معاملہ میں وزیر اعظم عمران خاں نے بیورو کریسی کو عوام کی شکایات کے ازالہ کی سختی سے ہدایت بھی کی اور اس کا ایک طریق کار بھی وضع کر کے د ے دیا مگر جو بیورو کریسی اپنے کچھ ساتھیوں کے خلاف نیب کی کارروائیوں سے خوفزدہ ہو کر بیٹھی ہے اور احتساب کے خوف سے لوگوں کے جائز کام کرنے سے بھی کنی کترا رہی ہے نتیجتاً سارے ترقیاتی کام اور منصوبے ٹھپ پڑے ہیں جس پر عوام اکرم چودھری کے بیان کردہ حقائق کے عین مطابق حکومت کو جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔ وہ بیوروکریسی اپنے تحفظات کے ازالہ کے بغیر وزیر اعظم کے احکامات کو بھلا کیوں خاطر میں لائے گی۔ ان پر تو اپنے ساتھی بیوروکریٹس کی گردنوں پر پھندا پڑتے دیکھ کر ہی لرزا طاری ہو جاتا ہے سو ان حالات میں اچھی گورننس کا تاثر کیسے پختہ ہو سکتا ہے۔

بیورو کریسی ہی نہیں، عوام کے مختلف طبقات کو بھی نیب اور ایف بی آر کے سخت اور ان کے بقول ناروا اقدامات پر تحفظات ہیں جس پر ان کی حکومتی سرکل میں کوئی شنوائی اور کوئی ازالہ ہونے کے آثار بھی نظر نہیں آتے تو ان کی مایوسیاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ تاجروں کے وفد کی آرمی چیف سے ملاقات کا یہی پس منظر تھا کہ انہیں داد فریاد کے لیے یہی فورم زیادہ موثر نظر آیا۔ آپ دیکھ لیجئے، آرمی چیف سے ملاقات کے بعد ان کی وزیراعظم اور چیئرمین نیب سے بھی ملاقات ہو گئی۔ وزیراعظم نے انہیں ٹیکسوں کی ادائیگی کی مد میں سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کر دیا اور چیئرمین نیب نے بے لاگ احتساب کے دعوے کرتے کرتے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں اپنی بے بسی کا عندیہ دینے والا یہ اعلان بھی کر دیا کہ اب ہمارا کوئی افسر کسی تاجر کو کال نہیں کرے گا اور نیب ٹیکس مقدمات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔ حضور والا اب ذرا دل بڑا کر کے قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ نیب نے اب کارروائی کس کیخلاف کرنی ہے اور ان کے بلاامتیاز احتساب کے دعوئوں کو اب کس کھاتے میں ڈالا جائے۔ یہی وہ عوامی احساسات اور اضطرابات کی کہانیاں ہیں جو ملک کے اندر حکومتی گورننس کے حوالے سے بہت بڑے اندرونی چیلنج اور بحران کی عکاسی کر رہی ہیں۔ حضور! عوام کو عملی اقدامات کے ذریعے مطمئن کیجئے اور ہر خرابی و برائی کا ملبہ رفتگان پر ڈالنے کی حکومتی پالیسی سے اب رجوع کر لیجئے تاکہ آئندہ عوامی طبقات میں سے کسی اور کو بھی داد و فریاد کے لیے آرمی چیف کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ سسٹم کو مستحکم اور محفوظ کرنا تو بہرحال قومی سیاسی قائدین کی ذمہ داری ہے چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اس سے باہر۔ آپ گورننس کا درپیش چیلنج قبول کیجئے اور راندۂ درگاہ عوام کی داد سمیٹیئے کہ اس داد کی آپ کو آج زیاد ہ ضرورت ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com