مسلم دنیا اور اقوام متحد ہ کی افادیت کا سوال
Oct 01, 2019

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خاں نے بلاشک و شبہ عالمی میلہ لُوٹا ہے اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ اسلامو فوبیا کو بھی فوکس کر کے اقوام متحدہ کی طرح مسلم دنیا کو بھی امتحان میں ڈالا ہے۔ ہمیں انہی دو موضوعات پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خاں نے بجاطور پر اقوام متحدہ اور اسکے رکن ممالک کی قیادتوں کو باور کرایا کہ بھارت کی مودی سرکار نے جو درحقیقت دہشت گرد بھارتی تنظیم آر ایس ایس کی نمائندہ اور ترجمان حکومت ہے، مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ انسانوں کو مسلسل محصور رکھ کر اور انہیں اقوام متحدہ کے ودیعت کردہ حق خودارادیت سے محروم کر کے ان پر جن مظالم کی انتہاء کی ہے وہ خود اقوام متحد ہ کی حیثیت و افادیت کا امتحان ہے کیونکہ اس کا تو وجود ہی ریاستوں کے انسانوں پر ایسے مظالم کے تدارک کیلئے قائم ہوا ہے۔ اگر بھارت اپنی جنونیت میں پاکستان کی سالمیت کو بھی چیلنج کر رہا ہے تو اس سے سات گنا زیادہ جنگی برتری رکھنے والے اس ملک کیخلاف اپنے دفاع کیلئے پاکستان کے پاس اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی بروئے کار لانے کے سوا اور کیا چارۂ کار رہے گا۔ پھر آپ خود ہی اندازہ لگالیںکہ دو ایٹمی ممالک کے مابین روایتی جنگ کا آغاز ہو گا تو اسکے نقصانات کہاں کہاں تک جائیں گے۔

یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ ہے جس کی بنیاد پر وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی اہمیت و افادیت کا سوال اٹھایا ہے۔ اگر وہ ایٹمی جنگ کی نوبت لانے والے بھارت کے جنونی ہاتھ روکنے میں کوئی کردار ادا نہ کر پایا تو 24 اکتوبر 1945ء کو جس مقصد کے تحت اس عالمی ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا وہ فوت ہو جائیگا اور پھر اس کا انجام بھی لیگ آف نیشنز جیسا ہو گا جو اپنے رکن ممالک میں شروع ہونے والی دو عالمی جنگیں رکوانے میں یکسر ناکام رہی تھی۔

ویسے تو اس عالمی ادارے کا امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال پوری رعونت کے ساتھ پھلکا اڑا دیا ہے جب ان کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کیلئے امریکی سفارتخانہ کھولنے کے اقدام کیخلاف دنیا بھر میں خوفناک ردعمل سامنے آیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ٹرمپ کے اس اقدام کیخلاف مسلم دنیا سمیت 138 سے زائد ارکان کی پیش کردہ قرار دار منظور کر کے ٹرمپ سے یہ فیصلہ واپس لینے کا تقاضہ کیا تو ٹرمپ نے جنرل اسمبلی کی اس قراردار کو جوتے کی نوک پر رکھا اور اس نمائندہ عالمی ادارے کی گرانٹ بند کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔ ٹرمپ کی اس فرعونیت کا اقوام متحدہ کچھ نہیں بگاڑ پائی تو اس کے چارٹر کی کیا افادیت برقرار رہ گئی ہے جس کے تحت اسکے رکن ممالک نے دو عالمی جنگوں سے انسانیت کو پہنچنے والے نقصانات سے بچنے کیلئے آئندہ ایسی نوبت نہ آنے دینے کا عہد کیا تھا۔

آج بھارت مقبوضہ کشمیر پر جن ننگ انسانیت جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے اور جس رعونت کے ساتھ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، وہ درحقیقت پہلی دونوں عظیم جنگوں میں ہونے والی انسانیت کی تباہی جیسی بلکہ اس سے بھی زیادہ خوفناک تباہی کا اہتمام کر رہا ہے۔ اگر اقوام متحدہ ان بھارتی عزائم کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکی تو پھر لامحالہ یہ ادارہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا اور اس کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھے گا۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرانے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے میں کوئی موثر کردار ادا کرتا ہے یا ٹرمپ جیسی دھمکی کی طرح مودی کی کسی دھمکی پر بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ غالب امکان اس معاملہ میں اقوام متحدہ کے قطعی طور پر غیر موثر ہونے کا ہی نظر آتا ہے کیونکہ ٹرمپ ہی مودی کو تھپکی دینے والا ہے اور دونوں نے مل کر اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح بھی استعمال کر لی ہے اور اس کیخلاف مشترکہ طور پر لڑنے کا عہد بھی کر لیا ہے۔ عمران خان نے یہ سارا پس منظر بیان کر کے درحقیقت مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اسکے حقوق کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے مسلم دنیا کو اپنے تحفظ و دفاع کے لیے خود ہی منظم اور فعال ہونا پڑے گا۔

اسلامو فوبیا بھی ہنود و یہود گٹھ جوڑ کی ہی ایک سازش ہے جس کے تحت انہیں مسلم دنیا کے چہرے پر دہشت گردی کی کالک ملنے کی سہولت مل رہی ہے اور مسلم دنیا اپنے باہمی تنازعات اور فروعی مسائل میں الجھ کر ہنود و یہود کی اس سازش کا خود ہی شکار ہو رہی ہے۔ اگر ہنود و یہود گٹھ جوڑ مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے برسرپیکار کئے رکھتا ہے جیسا کہ آج سعودی عرب ، یمن اور ایران کا معاملہ بنا ہوا ہے جس کے باعث دوسرے ممالک بھی آزمائش میں پڑے ہیں کہ ان میں سے کس کا ساتھ دیں اور کس کا ساتھ نہ دیں اور اسی طرح امریکہ بھارت کی سرپرستی کر کے پاکستان کی سالمیت کیخلاف اسکے حوصلے بڑھائے رکھتا ہے اور اسلامی دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر پاکستان پر چڑھائی کر دی جاتی ہے تو ہندو و یہود گٹھ جوڑ کو مسلم دنیا سے خلاصی پانے میں آسانی ہو جائے گی۔ پھر جناب ! کیا یہ مسلم ممالک کے اپنے سوچنے کا مقام نہیں کہ وہ خود کو بے وجہ کے باہمی تنازعات اور فروعی مسائل سے باہر نکال کر اقوام متحدہ کی طرز کا کوئی متحدہ مسلم فورم قائم کر لیں اور اپنے ہر معاملہ کا اسی فورم پر تصفیہ کرنے کا عہد کر لیں، پھر دیکھیں ہنود و یہود کے مقابل اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کیسے احیا ہوتا ہے۔ عمران خاں کا اسلامو فوبیا کو فوکس کرنے کا مقصد یہی تھا کہ مسلم دنیا اپنے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے پوری فعالیت کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائے۔ پھر دیکھیں کہ ہندوئوں کی نمائندہ بھارتی مودی سرکار کشمیر پر کیسے اپنا تسلط برقرار رکھتی ہے اور ا سرائیل کیسے فلسطین کا قبضہ نہیں چھوڑتا۔ مسلم دنیا کی سوا ارب سے زائد کی آبادی ایک کاز کے ساتھ متحد و یکسو ہو جائے تو کسی طاغوتی قوت کو اپنے وسائل کی لوٹ مار کی بھی جرأت نہیں ہو سکتی۔ اس کیلئے پاکستان، ترکی اور ملائیشیا کی قیادتوں نے دین اسلام کیخلاف غیر مسلم قوتوں کی سازشوں کے توڑ کیلئے جس فعال باہمی کردار پر اتفاق کیا ہے اسے عملی قالب میں ڈھال کر امتِ واحدہ کو بلاشبہ پوری دنیا پر غالب ہونے والی قوت بنایا جا سکتا ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کو آپ ماضی جیسی گفتند ، نشتند ، برخاستند والا اجلاس ہی سمجھیں، اس سے مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی راستہ نکلے گا ، نہ فلسطینی اور روہنگیا مسلمانوں پر آئے روز کی کمبختیاں ختم ہوں گی اور نہ ہی ہمارے لیے علاقائی امن و سلامتی کی کوئی گنجائش پیدا ہو گی۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر عمران خاں ، رجب طیب اردوان اور مہاتیر محمد کے ادا شدہ کلمات کو ایک باقاعدہ تحریک کی شکل دے کر اتحاد امت کی بنیاد رکھ دی جائے۔ قدرت آپ کا مقدر خود ہی سنوار دے گی۔ اس تناظر میں مجھے ایک بھارتی مسلمان شاعر ہاشم فیروز آبادی کی نظم شدت سے یاد آ رہی ہے۔ اس کو حرز جاں بنائیے اور طاغوتی قوتوں کے مقابل اتحاد امت کی ضمانت لیجئے، اس نظم کے کچھ اشعار پیش خدمت ہیں۔

دیوبندی، شیعہ سنی، بریلوی میں بٹ گئے
اپنے اپنے مقصدوں سے اسی لئے ہٹ گئے

اپنی اپنی مسجدوں میں اپنے اپنے پیر ہیں
ترکشوں میں زنگ کھائے سارے ٹوٹے تیر ہیں

سینکڑوں خدا ہیں جن کے، ایک جگہ کھڑے ہیں
ایک خدا والے سارے بکھرے ہوئے پڑے ہیں

فوج پہ ہزاروں کی، 72 کبھی بھاری تھے
دشمنوں کے چہروں پہ تمہارے خوف طاری تھے

تم نے کبھی ساحلوں پر کشتیاں جلائی تھیں
تم نے اپنے بازوئوں کی تلواریں بنائی تھیں

دشمنوں کو کس نے جنگِ بدر میں پچھاڑا تھا
کون تھا وہ جس نے درِ خیبر کو اکھاڑا تھا

وہ تمہی تھے، یہ تمہیں بتانے آج آیا ہوں
سوئے ہوئے شیروں کو جگانے آج آیا ہوں۔

کاش، اے کاش، آج یہ شیر جاگ اٹھیں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com