اے کشتۂ ستم تیری غیرت کو کیا
Sep 24, 2019

محسوس یہی ہو رہا ہے کہ ہمارے ساتھ ’’سائیاں کدھرے تے ودھائیاں کدھرے‘‘ کی مثال کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ ہم کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف پوری دنیا میں دُہائی دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ہیومن رائٹس کونسل، یورپی پارلیمنٹ، برطانوی پارلیمنٹ، واشنگٹن، بیجنگ ، ماسکو اور برادر عرب ممالک کے ساتھ ساتھ او آئی سی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دوسرے علاقائی اور عالمی نمائندہ فورم کے دروازوں پر دستک د ے چکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خاں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دنیا بھر میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ روابط اور انہیں کشمیریوں کے ساتھ بھارتی مظالم سے آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جو اب میں بھی ہماری ان کوششوں پر بہت حوصلہ افزاء پیش رفت نظر آئی ہے مگر لگتا ہے یہ سب محض زبانی جمع خرچ ہے۔ عملاً بھارتی ہاتھ روکنے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کرنے والی کوئی پیش رفت ہماری مسلم برادری کی جانب سے بھی ہوتی نظر نہیں آ رہی ۔ صرف دو ممالک کھل کر ہمارے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں ، ایک ہمارا بے لوث یار چین ہے اور دوسرا اپنی خودداری کا بھرم ٹوٹنے نہ دینے والا، رجب طیب اردوان کا ترکی ہے۔ ہم اپنے پلڑے میں زیادہ سے زیادہ اور کسی کو شامل کر پائیں گے تو وہ ایران ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم اس کی سلامتی سے متعلق اس کے مفادات کو کسی قسم کی ٹھیس نہ پہنچائیں یا پھر ہم بڑی چھلانگ ماریں گے تو ولادی میر پیوٹن کے روس کو اپنا ہمنوا بنا پائیں گے جو امریکہ اور افغانیوں کا ڈسا ہوا ہے چنانچہ اس پس منظر میں اسے اپنا بے لوث ہمنوا بنانے کے لیے ہمیں امریکہ اور طالبان کے ساتھ اپنا فاصلہ ظاہر کرنا پڑے گا۔ اس کے سوا ہم نظر گھمائیں تو ہمیں دنیا بھر میں اپنے لیے سوائے منافقت اور دہرے پن کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ کشمیر پر بار بار ثالثی کی پیشکش کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ نے تو ہیوسٹن میں اپنی منافقت اور دہرے پن کا جلوہ دکھا بھی دیا ہے۔ وہ مودی قصاب کی باہوں میں باہیں ڈال کر ہیوسٹن کے این آر جی سٹیڈیم میں داخل ہوئے جس کے باہر کشمیریوں پاکستانیوں اور سکھوں سمیت ہزاروں افراد مودی قصاب کے خلاف ریلی نکال کر فلک شگاف احتجاجی نعرے لگا رہے تھے اور مودی سے کشمیر سے واپس جائو کے تقاضے کرتے ہوئے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ ٹرمپ کے کانوں تک بھی یقیناً ان مودی مخالف نعروں کی آواز نے رسائی حاصل کی ہو گی مگر وہ ادائے بے نیازی کے ساتھ مودی کا ہاتھ تھامے سٹیڈیم میں قائم ڈائس تک پہنچے اور اپنا اور مودی کا ہاتھ فضا میں لہراتے ہوئے بھارت اور ہندوئوں کے ساتھ گہری دوستی کا اظہار و اعلان کر کے یہ باور کرانا ضروری سمجھا کہ اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ امریکہ اور بھارت کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ اسی تناظر میں مودی نے بھی اپنے خطاب میں ٹرمپ کو یہ کہہ کر اُچکل دی کہ نائین الیون اور ممبئی حملوں میں ملوث اسلامی دہشت گرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں جن کی سرکوبی کے لیے مشترکہ کاوشیں کی جائیں گی۔

ارے بھائی صاحب! ٹرمپ، مودی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے تھے تو کشمیر پر بار بار ثالثی کی پیشکش کرنے والے ٹرمپ کیا مودی کو این آر جی سٹیڈیم کے باہر پیدا ہونے والی مودی مخالف فضا پر انہیں باور نہیں کرا سکتے تھے کہ ان کے لیے دنیا بھر میں مخالفت و مزاحمت کی لہر مقبوضہ کشمیر میں جاری ان کی ہٹ دھرمی کے باعث پیدا ہوئی ہے اس لیے وہ آج یہاں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ان کی ثالثی قبول کرنے کا اعلان کر کے جائیں۔ ٹرمپ کے اپنے بقول انہوں نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش خود مودی کی درخواست پر کی تھی مگر ان کے اخلاص کو کیا نام دیں کہ انہوں نے مودی کے کندھے سے کندھا ملا کر ہیوسٹن کے سٹیڈیم میں داخل ہوتے وقت اشاروں کنایوں میں بھی مودی کے ساتھ کشمیر ایشو پر بات کرنا مناسب نہ سمجھی اور نہ ہی سٹیڈیم میں مودی کے ساتھ اپنی یاری کے بے پایاں اظہار کے وقت سٹیڈیم کے باہر موجود کشمیریوں ، پاکستانیوں اور بھارتی سکھوں کے جذبات کی ترجمانی کرنا مناسب سمجھا ، حتیٰ کہ ان کی زبان کشمیر کا لفظ ادا کرنا بھی بھول گئی۔ اگر ان کی زبان سے کچھ نکلا تو وہ امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کو مضبوط بنانے اور بھارت کے ساتھ دستی نبھانے کا نکلا۔ پھر ہم کس برتے پر ان کی ثالثی کی پیشکش پر امید کے چراغ جلائے رکھیں۔ بھئی انہوں نے تو اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی بھارتی ہندو کے ساتھ اپنی یاری کے اظہار میں کسی بخیلی سے کام نہیں لیا تھا اور یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا تھا کہ وہ صدر منتخب ہو گئے تو ان کی بھارت اور ہندو کے ساتھ دوستی مزید مستحکم ہو گی۔ ہم اس ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر پر یا اپنے مفادات کے حوالے سے کسی بھارت مخالف فیصلے کی توقع باندھے بیٹھے ہیں جو ہنود و یہود گٹھ جوڑ میں عملاً رابطے کے پل اور معاون و سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ’’اے کشتۂ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا۔‘‘

وہ تو ہندو کے لیے یک جان دو قالب ہیں مگر ہمارے ساتھ ہمارے اپنوں نے کیا کیا ہے اور خود ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا ہے؟

’’جے بولے تے مار دین گے، نہ بولے تے مر جاواں گے‘‘بات کہنے کی نہیں ، بات ہے رسوائی کی۔ وزیر اعظم صاحب کو نیو یارک جاتے ہوئے راستے میں برادر سعودی عرب سے ڈھیروں پروٹوکول مل گیا۔ باہمی مفادات میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھائے رکھنے کا عہد بھی ہو گیا اور پھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کمالِ مروت و محبت میں اپنا خصوصی طیارہ بھی نیویارک روانگی کے لیے وزیر اعظم پاکستان کے یہ کہہ کر حوالے کر دیا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اس لیے ہم آپ کو کمرشل پرواز پر نیویارک کے لیے کیسے روانہ ہونے دے سکتے ہیں مگر وزیر اعظم کی جانب سے سعودی شاہی میزبانوں کو کشمیر ایشو پر مکمل اور مفصل بریف کرنے اور بھارتی مظالم سے مدلل انداز میں آگاہ کرنے کے باوجود ان کی جانب سے اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کی حمایت کرنے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آواز اٹھانے کے بارے میں ایک لفظ بھی ادا نہ ہو پایا۔ جناب ذرا سوچئے تو سہی کہ ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے اور ہم خود اپنے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جنیواء میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا اجلاس شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے اور -27 ستمبر تک جاری رہنا ہے جس روز وزیر اعظم پاکستان عمران خاں نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرنا ہے۔ اجلاس کے پہلے ہی روز بہت حوصلہ افزاء خبر آئی کہ ہیومن رائٹس کونسل کے 60 میں سے 58 رکن ممالک نے جن میں برادر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ یک زبان ہو کر کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کی ہے۔ اجلاس سے ایک روز قبل دنیا کے اس نمائندہ فورم کی چیئرپرسن دوٹوک الفاظ میں مودی سرکار سے کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈائون ختم کرنے اور کشمیری عوام پر عائد پابندیاں اور ان پر جاری بھارتی فوجوں کے مظالم ختم کرنے کا تقاضہ کر چکی تھیں، ہمارے لیے یہ بہترین موقع تھا کہ اس نمائندہ فورم پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیدا ہونے والی مثبت فضا سے فائدہ اٹھائیں اور کشمیر پر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو روبہ عمل لانے کے لیے ایک قرارداد پیش کر کے منظور کرا لیں جس کے لیے -19 ستمبر کی ڈیڈ لائین مقرر تھی۔ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خود یو این ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں شریک تھے مگر نہ جانے کس نے ان کے ہاتھ باندھ دئیے کہ وہ اس فورم پر کشمیر کے لیے قرارداد تک پیش نہ کر سکے۔ اسی حوالے سے آج حامد میر نے بھی اپنے کالم میں تذکرہ کیا ہے کہ اب ہمارے پاس راستہ جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خاں کے محض برجوش خطاب کا رہ گیا ہے۔ وہ اس فورم پر اپنے پیشرئوں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی طرح کشمیر پر پرجوش خطاب کریں گے۔ بھارت کو مغموم اور دنیا کو حیران کریں گے مگر مسئلہ کشمیر کا حل یقینی بنانے والی کوئی قرارداد جنرل اسمبلی میں موجود ہی نہیں ہو گی چنانچہ ہمارے لیے پھر ’’کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے‘‘ والی صورتحال بن جائے گی۔ حضور ذرا سوچئے کہ ہم خود بھی اپنے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ ’’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔‘‘ بس پرجوش خطاب کرتے جائیے، دنیا کو آگاہ کرتے اور باور کراتے جائیے اور جب عملی پیش رفت کا معاملہ آ ئے تو نتیجہ صفر۔ بے شک کسی فورم پر کوئی پھولوں کے ہار لے کر ہمارا استقبال کرنے نہیں کھڑا ہوا مگر جو ہمارا بے لوث دم بھر رہے ہیں، کم از کم انہیں تو مایوس نہ کیجئے۔ انہیں تو اپنے ساتھ جوڑے رکھئے اور سب سے بڑھ کر اپنے معاملات کی اصلاح کے لیے تعمیری تنقید کے دروازے بند نہ کیجئے ورنہ تعفن ایسا پیدا ہو گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com