تکریم و تقدیسِ انسانیت کا استعارہ.... عاصمہ جہانگیر
Feb 13, 2018

اتوار کے روز اپنے سمدھی یٰسین چغتائی ایڈووکیٹ کے بھائی کے چہلم میں شرکت کیلئے رائے ونڈ میں تھا چنانچہ وہاں موجودگی تک ٹی وی اور سوشل میڈیا سے دور رہا، چہلم کے بعد سائلنٹ پر لگائے اپنے موبائل فون پر آئے پیغامات دیکھے تو اپنے گرائیں سید منظور علی گیلانی ایڈووکیٹ کے بھجوائے پیغام پر نگاہ جم گئی۔ پیغام میں درج تھا ”عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے بنیادی انسانی حقوق، عورتوں، مزدوروں، کسانوں، وکلائ، طلبہ، پسے ہوئے طبقات، جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے بے مثال جدوجہد کی، ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی“۔ میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ ایسے پیغامات تو بالعموم تعزیتی پیغامات ہوتے ہیں، ہمارے شاہ جی کو یہ پیغام بھجوانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، دل کو بے چینی سی لگ گئی۔ میں نے یٰسین چغتائی صاحب کو بھی یہ پیغام دکھایا اور پوچھا کہ اس پیغام کا کیا مقصد ہو سکتا ہے جبکہ اس پیغام میں عاصمہ کی زندگی کے حوالے سے کوئی اطلاع بھی موجود نہیں تھی۔ اسی شش و پنج میں گیلانی صاحب کو کال ملائی اور استفسار کیا کہ عاصمہ جہانگیر خیریت سے تو ہیں نا! پیر جی نے پہلے تو میری لاعلمی پر حیرت کا اظہار کیا تاہم جب میں نے انہیں اپنی رائے ونڈ موجودگی کا بتایا تو انہوں نے انتہائی افسردہ لہجے میں مجھے عاصمہ جہانگیر کے اچانک انتقال کی تمام تفصیلات بتا دیں۔ دل چاہا کہ دھاڑیں مار کر روﺅں مگر پہلے سے ایک افسردہ تقریب میں شریک ہونے کے باعث ضبط کا بندھن ٹوٹنے سے بچائے رکھا مگر یادوں کے ایسے انبار لگے کہ رائے ونڈ سے لاہور واپسی تک کا سفر بھی بوجھل نظر آنے لگا۔

میری عاصمہ جہانگیر کے ساتھ نیازمندی کا سلسلہ ان کے والد ملک غلام جیلانی کی وساطت سے 80ءکی دہائی کے آغاز میں شروع ہوا تھا۔ 1977ءمیں تحریک استقلال کے ترجمان روزنامہ ”آزاد“ سے بطور سٹاف رپورٹر وابستگی ہوئی اور اعلیٰ عدلیہ کی کوریج میری بیٹ کا حصہ بنی۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے روبرو نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل کی سماعت کا آغاز ہو چکا تھا۔ بیگم نصرت بھٹو اور مس بے نظیر بھٹو ہر تاریخ سماعت پر کمرہ¿ عدالت میں موجود ہوتیں اور وقفے کے دوران ہائیکورٹ بار کے خواتین وکلاءکے لئے مخصوص کمرے میں آ جاتیں۔ اس کمرے میں کبھی کبھار عاصمہ جہانگیر بھی بھٹو فیملی کے ساتھ شریک گفتگو ہو جاتیں۔ ملک غلام جیلانی تحریک استقلال میں شامل تھے چنانچہ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران تحریک استقلال کے دیگر رہنماﺅں کی طرح ان سے بھی رابطہ رہنے لگا اور پھر گلبرگ ان کے گھر آنا جانا شروع ہو گیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لاءمسلط کیا تو ملک غلام جیلانی تن تنہا پاکستان کا جھنڈا تھامے ضیائی مارشل لاءکے خلاف احتجاج کے لئے مال روڈ پر آ گئے۔ ایسے ہی انفرادی احتجاج کے ذریعہ وہ یحییٰ خان کے مارشل لاءکو بھی چیلنج کیا کرتے تھے جس کی پاداش میں وہ جیل میں گئے تو انہوں نے اپنی کمسن صاحبزادی عاصمہ جیلانی کے نام پر ایک آئینی درخواست عدالت عظمیٰ میں داخل کرائی جس میں یحییٰ خان کی جرنیلی آمریت باطل قرار دینے کی استدعا کی گئی۔ شومئی قسمت اس کیس کا فیصلہ یحییٰ خان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد جاری ہوا اور فاضل عدالت نے یحییٰ خان کو غاصب قرار دیدیا۔ عاصمہ جیلانی کا نام پہلی بار اس کیس کے حوالے سے منظر عام پر آیا۔ اعلیٰ عدلیہ میں آج بھی جرنیلی آمروں کے خلاف دائر مقدمات میں اسی کیس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ پھر عاصمہ جہانگیر ضیاءکے مارشل لاءکے خلاف 1981ءمیں میاں محمود علی قصوری کی اقامت گاہ پر تشکیل پانے والے اپوزیشن اتحاد ایم آر ڈی کی سرگرمیوں میں شمولیت کی بنیاد پر اجاگر ہونا شروع ہوئیں، اسی وقت خواتین کا ایک فورم ویمن ایکشن فورم (ویف) بھی انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم ہوا جس میں نواب مظہر علی خاں کی اہلیہ طاہرہ مظہر علی خاں، مسعود کھدرپوش کی صاحبزادی شیریں مسعود اور عاصمہ جہانگیر اولین صفوں میں نظر آتیں۔ ان دنوں جرنیلی آمریت کے خلاف ہر تحریک اور ہر آواز لاہور ہائیکورٹ بار کے پلیٹ فارم سے اٹھا کرتی تھی چنانچہ وکلاءکا پروفیشنل گروپ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کا عملاً ترجمان بن گیا۔ اس گروپ کے مقابل کوئی دوسرا گروپ نہ ٹھہر سکا چنانچہ 1977ءسے 2000ءتک بار کی سیاست پر اس گروپ کا راج رہا۔ عاصمہ جہانگیر نے بھی خود کو اس گروپ کا حصہ بنایا اور ہائیکورٹ بار کے پلیٹ فارم پر جرنیلی آمریت کے خلاف منعقد ہونے والے وکلاءکنونشنوں میں سرگرمی کے ساتھ شریک ہونے لگیں۔ آل پاکستان وکلاءکنونشن میں علی احمد کرد کے بعد عاصمہ جہانگیر کو سب سے زیادہ داد ملتی۔ ان کنونشنوں کے بعد جرنیلی آمریت کو چیلنج کرنے کیلئے وکلاءہائیکورٹ بار ہی کی زیرقیادت احتجاج کے لئے مال روڈ پر آ جاتے اور اکثر ان کی پولیس لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلوں کے ذریعے دھنائی ہو جاتی۔ ویمن ایکشن فورم بھی ان کے احتجاجی مظاہروں کا حصہ بن جاتا چنانچہ عاصمہ جہانگیر وکلاءبرادری کے علاوہ ”ویف“ کی بھی نمائندگی کرتیں۔ ایسے ہی ایک احتجاجی مظاہرے پر ضیاءالحق کے پالتو لوگوں نے ہلہ بول دیا چنانچہ ہائیکورٹ سے ریگل چوک تک ہلہ بولنے والوں اور پولیس نے باہم مل کر مظاہرین کا حشر کر دیا۔ اس مظاہرے میں خواتین کو بچاتے ہوئے حبیب جالب اور سید حیدر فاروق مودودی بھی پولیس تشدد کا نشانہ بنے۔ سب سے زیادہ تشدد بیگم مہناز رفیع اور عاصمہ جہانگیر سمیت ویمن ایکشن فورم کی عہدیدار خواتین پر ہوا۔ عاصمہ جہانگیر کی قائدانہ صلاحیتیں ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران اجاگر ہوئیں جو اپنے گھر ایم آر ڈی کے قائدین کی مہمان داری میں اپنے والد ملک غلام جیلانی کی معاون بنی بھی نظر آتیں۔ ایسی ہی ایک تقریب میں نواب اکبر بگٹی بھی موجود تھے جو خود بھی تحریک استقلال میں شامل تھے۔ وہ عاصمہ جہانگیر کی طرف سے کی جانے والی آﺅ بھگت سے بہت متاثر ہوئے اور ان میں موجود قائدانہ صلاحیتوں کا بھی دل کھول کر اعتراف کیا۔ ان کی یہی صلاحیتیں تھیں جو انہیں وکلاءکی سیاست میں بھی نمایاں مقام پر لے آئیں۔ پروفیشنل گروپ کے قائد حامد خان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو وکلاءکی سیاست میں ان کی غیرجانبدارانہ حیثیت پر حرف آنے لگا جس سے اس گروپ میں بھی کمزوری در آئی اور پھر ان کے مقابل آنے والے لطیف کھوسہ گروپ اور عاصمہ جہانگیر نے اپنا الگ گروپ قائم کر لیا۔ اس کے باوجود پروفیشنل گروپ میں دراڑ نہ ڈالی جا سکی۔ ججز بحالی تحریک میں عاصمہ جہانگیر اپنی انفرادی حیثیت میں اجاگر ہونا شروع ہوئیں اور پھر پروفیشنل گروپ کے مقابل وکلاءکا گروپ ان کے نام کے ساتھ منسوب ہو گیا جس نے لاہور بار، ہائیکورٹ بار اور سپریم کورٹ بار میں انتخابی معرکے مارنا شروع کر دیئے اور پھر وہ خود بھی احمد اویس کے مقابل سپریم کورٹ بار کے صدر کے منصب پر منتخب ہو گئیں۔ آج وکلاءکی سیاست پر اس گروپ کا طوطی بولتا ہے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے بجائے اپنی غیرجانبدارانہ حیثیت برقرار رکھی اور ہمیشہ جمہوریت کی سربلندی اور آئین و قانون کی حکمرانی کا علم اٹھائے رکھا۔ ضیاءسے مشرف تک کی جرنیلی آمریت کے خلاف ان کی جدوجہد ایک تاریخ کا درجہ رکھتی ہے جبکہ انہوں نے حکمرانوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی اور آمرانہ اقدامات پر بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی سول منتخب حکومتوں کو بھی نہ بخشا اور خالص جمہوریت کی بے باک ترجمان بنی رہیں۔

وہ کئی حوالوں سے متنازعہ بھی بنیں مگر جمہوریت کی عملداری کے لئے ان کی بے لاگ اور بے لوث جدوجہد پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ انہوں نے خود کو پسے ہوئے، محروم طبقات کی وکالت کے لئے وقف کر رکھا تھا اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان تشکیل دیا۔ مجھے انسانی حقوق کی جدوجہد میں ان کا بے لوث تعاون کبھی نہیں بھول پائے گا۔ میں نے سبزہ زار ویلفیئر سوسائٹی کے صدر کی حیثیت سے اس علاقے میں لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کے ایما پر قائم سلاٹر ہاﺅس اور کیٹل مارکیٹ کی شہر سے باہر منتقلی کے لئے 1994ءمیں رٹ درخواست دائر کی جس کا تقریباً ڈیڑھ سو پیشیوں کے بعد 2006ءمیں فیصلہ صادر ہوا۔ اس کیس کے دوران ایک مضبوط مافیا میرے خلاف سرگرم عمل رہا جس کے دباﺅ پر کئی بار ہمیں عدالت عالیہ میں بھی حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایک بار جسٹس چودھری اعجاز احمد (مرحوم) نے ان ریمارکس کے ساتھ میری درخواست کی سماعت سے معذرت کر لی کہ سعید آسی کے ساتھ میری ذاتی دوستی ہے اس لئے اس کیس کی سماعت میرے لئے مناسب نہیں۔ بیگم عاصمہ جہانگیر بھی اس وقت کمرہ¿ عدالت میں موجود تھیں جنہوں نے انسانی حقوق کے لئے جدوجہد پر میری حوصلہ افزائی کی۔ اس کیس کے حوالے سے جب مافیا عملاً میری جان کے درپے ہوا تو لاہور بچاﺅ تحریک کی سربراہ عمرانہ ٹوانہ، بیگم عاصمہ جہانگیر، رافع عالم ایڈووکیٹ اور دوسری این جی اوز کے عہدیداران عملاً میرے لئے ڈھال بن گئے اور میڈیا پر آواز اٹھانا شروع کر دی جس سے میرے کاز کو بہت تقویت حاصل ہوئی۔ جب یہ کیس لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید کی عدالت میں منتقل ہوا تو عاصمہ جہانگیر نے یہ بے لاگ تبصرہ کر کے میری کامیابی کی نوید سنائی کہ اب آپ کو کسی وکیل کی معاونت کی بھی ضرورت نہیں ہے، جج صاحب انسانی حقوق کی جدوجہد کی پاسداری کریں گے۔ یقیناً ایسا ہی ہوا۔ بے شک اس کیس میں قانونی معاونت کیلئے بیرسٹر کامران شیخ، راجہ عبدالرحمان اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بے لوث میرا ساتھ نبھایا اور کیس کے اخراجات بھی خود ہی اٹھاتے رہے جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے سلاٹر ہاﺅس اور کیٹل مارکیٹ شاہ پور کانجراں میں منتقل کرنے کا حتمی حکم صادر کرنے کے بعد اپنے فیصلہ پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی کیٹل مارکیٹ کے شہر کے اندر بشمول سبزہ زار سکیم میں مختلف سپاٹ بنانے کی مقامی انتظامیہ کی سازش ناکام بنا دی۔ انسانی حقوق کی عملداری کے ایسے یادگار مواقع پر عاصمہ جہانگیر بے ساختہ یاد آتی ہیں جو تکریم و تقدیس انسانیت کا استعارہ بن چکی ہیں۔

ع.... خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
٭٭٭٭٭
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com