مجید نظامی کی تیسری برسی اور کیفیت قلبی
Jul 26, 2017

امام صحافت مجید نظامی مرحوم کی تیسری برسی کے موقع پر آج ارض وطن کا سیاسی منظر نامہ دیکھ کر کچھ زیادہ ہی تفکر و مایوسی کا احساس ہونے لگا ہے۔ وہ شریف خاندان کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ایک مشفق ناقد نظر آتے تھے۔ میرے ساتھ بھی متعدد مواقع پر انہوں نے شریف خاندان بالخصوص میاں محمد شریف کے ساتھ اپنے تعلقات کا تذکرہ کیا اور میاں نوازشریف کی بھارت کے ساتھ دوستی کے حوالے سے اختیار کی گئی حکومتی پالیسیوں پر رنجیدہ بھی نظر آئے۔ انہوں نے کرب کے ساتھ شریف فیملی سے اپنی ایک ملاقات کا تذکرہ کیا جو میاں نوازشریف کے پہلی بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد ہوئی تھی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد میاں نوازشریف اپنے والد مرحوم میاں محمد شریف، اہلیہ بیگم کلثوم نواز اور بھائی میاں شہبازشریف کے ہمراہ مشاورت کی غرض سے محترم مجید نظامی کے پاس ان کی اقامت گاہ پر آئے۔ امور حکومت پر ان سے تبادلہ خیال کیا اور اچھی حکمرانی کے لئے ان سے رائے مانگی تو محترم مجید نظامی نے انہیں ایک ہی مشورہ دیا کہ جب تک آپ اقتدار میں ہیں، اپنے کاروبار سے الگ ہو جائیں اور ساری توجہ ملک اور عوام کی خدمت پر مرکوز رکھیں۔ محترم مجید نظامی نے اس ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے تاسف کا اظہار کیا اور بتایا کہ میاں نوازشریف نے ان کا یہ مشورہ درخور اعتناء نہ سمجھا اور ان کے اقتدار کے دوران ان کا کاروبار مزید وسیع ہو گیا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میاں نوازشریف نے اپنے اقتدار کی منزل کے آغاز ہی میں اپنے مشفق ناقد محترم مجید نظامی کے صائب مشورے کو پلے باندھا ہوتا تو آج پانامہ کیس کے حوالے سے انہیں اور ان کے خاندان کو اپنے دور اقتدار میں بھی جو سبکی اٹھانا پڑ رہی ہے یقیناً اس کی نوبت نہ آتی۔ ویسے تو حضرت علیؓ کا یہ قول پوری قوم کو اپنے پلے باندھنا چاہئے کہ تاجر کو کبھی اپنا حکمران نہ بنائو کیونکہ تاجر کی نگاہ ہمیشہ اپنے کاروبار اور فائدے پر ہوتی ہے۔ محترم مجید نظامی نے بھی یقیناً حضرت علیؓ کے اس قول کے حوالے سے ہی میاں نوازشریف کو اپنے اقتدار کے دوران تجارت اور کاروبار سے خود کو دور رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ میاں نوازشریف نے اس کے باوصف اپنے اقتدار کو اپنے اور اپنے خاندان کے کاروبار کی وسعت کے لئے بطور سیڑھی استعمال کیا تو آج وہ پانامہ کیس کی شکل میں اس کا ہی خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ 

محترم مجید نظامی میں یہ وصف بدرجہ اتم موجود تھا کہ وہ ملک کے اندر یا باہر موجود ملک کے دشمنوں کو ببانگ دہل للکارا کرتے تھے۔ نظریہ پاکستان کے صحیح معنوں میں اور سچے محافظ تھے جو پاکستان اور نظریہ پاکستان کے لئے جانبدارانہ صحافت کا لیبل لگوانا اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔ جرنیلی آمروں کو اس بنیاد پر للکارتے رہے کہ وہ قائداعظم کی جمہوری جدوجہد کے ذریعے تشکیل پانے والے ملک خداداد میں جمہوریت کا مردہ خراب کر کے ماورائے آئین اقدام کے تحت اقتدار پر براجمان ہوتے تھے۔ انہوں نے ایوب خان کے مد مقابل بانی پاکستان قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کا سیاسی قد کاٹھ سربلند رکھنے کے لئے اپنے ادارے کو وقف کر دیا اور محترمہ فاطمہ جناح کو ’’مادر ملت‘‘ کے خطاب سے نواز کر صدارتی انتخاب میں ڈنکے کی چوٹ پر مادر ملت کی حمائت پر ڈٹ گئے۔ ایوب کے جانشین جرنیلی آمر یحیٰی خان کے ملک توڑنے کے جرم کو مجید نظامی زندگی بھرملک دشمنی والے سنگین جرم سے تعبیر کرتے رہے اور اسی ناطے سے یحیٰی خاں کے بخئے ادھیڑتے رہے۔ ان کی جانب سے ضیاء الحق کی جرنیلی آمریت کی مزاحمت تو ضرب المثل بن چکی ہے۔ انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ جب تک کشمیر بھارتی تسلط سے آزاد نہیں ہو جاتا وہ بھارت نہیں جائیں گے۔ ضیاء الحق نے انہیں اپنے دورے پر بھارت لے جانے کی کوشش کی تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ وہ بھارتی ٹینک پر ہی بیٹھ کر وہاں جا سکتے ہیں ۔ نوائے وقت کو دیا گیا ضیاء الحق کی زندگی کا آخری انٹرویو تو اس حوالے سے یادگار ہے کہ اس میں محترم مجید نظامی ضیاء الحق کی خواہش پر شریک ہوئے تاہم انٹرویو کے دوران خاموش بیٹھے رہے۔ بالآخر ضیاء الحق نے خود انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تسیں وی تے کچھ پچھو‘‘ اس پر مرحوم مجید نظامی نے ان سے پنجابی زبان میں ہی بے لاگ استفسار کیا کہ ’’ساڈی جان کدوں چھڈو گے‘‘ یہ انٹرویو 14 اگست 1988ء کو لیا گیا اور اس کے چار دن بعد ائرکریش میں ضیاء الحق کے اقتدار کے ساتھ ان کی زندگی کا بھی خاتمہ ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی مرحوم مجید نظامی کے استفسار کا بھی جواب مل گیا۔

مشرف کی جرنیلی آمریت مرحوم مجید نظامی نے اپنے ادارے کے مالی نقصانات کے ساتھ بھگتی۔ ملک کے ایٹمی ہیرو ڈاکٹر اے کیو خان کو امریکی ایماء پر رسوا کرکے مشرف نے نظربند کیا تو مجید نظامی نے روزانہ کی بنیاد پر نوائے وقت میں ایک اشتہار کے ذریعے ان کی رہائی اور مشرف حکومت کی بھد اڑانے کی مہم کا آغاز کیا۔ یہ مہم ڈاکٹر اے کیو خان کی رہائی تک جاری رہی اور اس پورے عرصے کے دوران نوائے وقت گروپ کے سرکاری اشتہارات بند رہے۔ مشرف نے ایک بار قومی اخبارات کے ایڈیٹروں کو مدعو کیا اور اپنے اقتدار میں آنے کا پس منظر بیان کرنے لگے۔ مجید نظامی نے ان سے تلخ سوال کیا تو مشرف نے انہیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جن حالات میں میں نے اقتدار سنبھالا ہے اگر میری جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے۔ محترم مجید نظامی نے انہیں برجستہ جواب دیا کہ میں آپ کی جگہ پر کیوں ہوتا اور آپ بھی اس جگہ پر کیوں ہیں۔ اصل خرابی ہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی اپنی جگہ چھوڑ کر دوسرے کی جگہ پر براجمان ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

شریف فیملی کے ساتھ خاندانی مراسم ہونے کے باوجود محترم مجید نظامی میاں نواز شریف کی بھارت نواز پالیسیوں کے ہمیشہ سخت ناقد رہے اور نوائے وقت کے اداریوں کے ذریعے انہیں سیدھی راہ پر چلنے کی تلقین کرتے رہے۔ میاں نواز شریف نے 13 اگست 2011ء کو بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی حامی سیفما تنظیم کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مسئلہ کشمیر پر اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کی تجویز پیش کی اور جوش جذبات میں یہ تک کہہ گئے کہ جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں، ہم بھی اسی رب کی پوجا کرتے ہیں۔ محترم مجید نظامی ان کی اس تقریر پر سخت برانگیختہ ہوئے اور اگلے روز کی ایڈیٹوریل میٹنگ میں مجھے تلقین کی کہ آج اداریئے میں نواز شریف کی سخت گوشمالی کرنی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی نواز شریف کی تقریر کے حوالے سے وہ تمام نکات بھی مجھے ڈکٹیٹ کرا دیئے جن کی بنیاد پر زور دار اور جاندار اداریہ تحریر کرنا مقصود تھا۔ نوائے وقت کا یہ اداریہ 15 اگست 2011ء کو شائع ہوا جو نواز شریف کی بھارت نواز پالیسیوں کا مسکت جواب تھا۔ مرحوم مجید نظامی پاکستان دشمنی پر مبنی بھارتی پالیسیوں کو ڈنکے کی چوٹ پر چیلنج کیا کرتے تھے اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کے اصل ترجمان تھے۔
بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کو وہ ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط کیا کرتے تھے اور اس ناطے سے وہ کالاباغ ڈیم کے بھی وکیل تھے۔ انہوں نے نوائے وقت کے پلیٹ فارم پر کالاباغ ڈیم کے لئے قومی ریفرنڈم کا اہتمام کرکے پوری قوم کی رائے کے ساتھ حکمرانوں کو جھنجھوڑا، اس ریفرنڈم میں خیبر پی کے اور سندھ کے عوام سمیت پورے ملک سے 99.95 فیصد شہریوں نے کالاباغ ڈیم کے حق میں ووٹ دیا۔ مرحوم مجید نظامی کالاباغ ڈیم کو بھارتی آبی جارحیت کا توڑ سمجھتے تھے اور اس ناطے وہ عمر بھر کالاباغ ڈیم کی وکالت کرتے رہے۔ چنانچہ نوائے وقت گروپ آج بھی کالاباغ ڈیم کا وکیل ہے۔
آج مجھے ایک واقعہ شدت سے یاد آرہا ہے۔ پنجاب بار کونسل کا ایک نمائندہ وفد بھارت کے دورے پر جارہا تھا۔ بار کونسل کے اس وقت کے وائس چیئرمین ایم رمضان چودھری نے میرے سمیت چار پانچ صحافی دوستوں کو بھی اس وفد میں شامل کرلیا۔ چنانچہ میرے پاسپورٹ پر بھی بھارتی ویزہ لگ گیا تاہم میں نے اس دورے کے لئے جناب مجید نظامی سے اجازت لینا ضروری سمجھا۔ میں نے بھارتی ویزہ لگے اپنے پاسپورٹ کے ساتھ محترم مجید نظامی سے ملاقات کی اور کہا کہ میرا یہ دورہ آپ کی اجازت کے ساتھ ہی مشروط ہے۔ انہوں نے خشمگیں نگاہوں کے ساتھ مجھے دیکھا اور پھر مخاطب ہوئے: ’’آپ کو معلوم ہے کہ میں آج تک بھارت نہیں گیا، آپ اگر بھارت جائیں گے تو وہاں نوائے وقت کے ترجمان ہی سمجھے جائیں گے، اس لئے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اس سے نوائے وقت کے تشخص پر کیا اثر پڑے گا۔‘‘ پھر کچھ دیر توقف کے بعد انہوں نے پُراعتماد لہجے میں مجھے مخاطب ہوتے کہا کہ انشاء اللہ کشمیر بہت جلد آزاد ہونے والا ہے، اس کے بعد آپ میرے ساتھ بھارت جائیں گے۔ میں نے ان کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا۔ میرے پاسپورٹ پر بھارتی ویزہ موجود ہے مگر محترم مجید نظامی کی کمٹمنٹ کو پلے باندھ کر میں بھی آج تک بھارت نہیں گیا۔ آج مرحوم مجید نظامی کی تیسری برسی پر قومی عظمت و عزیمت کے حوالے سے ان سے منسوب واقعات یادوں کے دریچوں پر اُمڈے پڑے نظر آرہے ہیں۔ میں اپنے 9 ماہ کے معصوم پوتے صائم شہباز کے اچانک انتقال کے صدمے سے ابھی تک خود کو باہر نہیں نکال پایا۔ اس کیفیت میں آج محترم مجید نظامی کی تیسری برسی نے زندگی کی بے ثباتی کا احساس مزید اجاگر کردیا ہے، گویا 

موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com