تاریخ کا پہیہ ذرا الٹا گھما لیں
Jul 16, 2017

اگر تو وزیراعظم نے حاجی غلام احمد بلور کی اس بات کو پلے باندھ لیا ہے کہ میاں نوازشریف نیازی نہیں جو ہتھیار ڈال دیں اور اگر وزیراعظم صاحب کو دانیال عزیز‘ طلال چودھری وغیرہ وغیرہ کی رطب اللسانی بڑھکوں نے استعفیٰ دیئے بغیر ڈٹے رہنے کا ”صائب“ راستہ دکھایا ہے تو پھر وہ دن شاید قریب آ رہے ہیں جب انہیں پانچ چھ سال قبل ادا کیا گیا اپنا یہ فقرہ دہرانا پڑے گا کہ اقتدار کے دوران یہ نعرے انہیں بہت حوصلہ دیا کرتے تھے کہ ”قدم بڑھا¶ نوازشریف‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں“ مگر 12 اکتوبر کے ”کُو“ کے بعد جب انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سارا میدان خالی پڑا تھا۔ ہماری سیاست تو ایسی بے وفائیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے‘ پھر نہ جانے آپ کس برتے پر ہوا دینے والے پتوں پر ہی تکیہ کئے بیٹھے ہیں۔ اگر حضور کی شیر بننے کی سوچ خانہ ساز ہے تو ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ شیخ رشید کو تو اب محض چار چھ ہفتے کا معاملہ نظر آ رہا ہے جبکہ نوشتہ¿ دیوار اب کمزور بینائی والوں کو بھی اٹکھیلیوں کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

ہماری تو دلی خواہش ہے کہ عوام کے بھاری مینڈیٹ سے اقتدار میں آنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اسمبلیاں اپنی پانچ سال کی آئینی میعاد پوری کریں اور اس سسٹم کو گزند تک نہ پہنچے مگر بات وہی ”جنوں“ کے آثار اور دیوانہ بنا دینے والے لوگوں کی ہے جن کے حوالے سے میں ان سطور میں کافی عرصے سے اپنے تفکرات کا اظہار کر رہا ہوں۔ میرا مطمع¿ نظر تو کسی نہ کسی طور آئی کو ٹالنے کا ہے مگر محسوس یہی ہوتا ہے کہ ”دیوانہ“ بنا دینے والے لوگ محترم میاں صاحب کو شیر بنا کر ہی چھوڑیں گے جس کے بعد وہ پھر یہی شکوہ کرتے نظر آئیں گے کہ ”میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ”ہم تمہارے ساتھ ہیں“ والوں میں سے کوئی ایک بھی میرے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔
پانچ جولائی 1977ءسے اب تک کی سیاسی تاریخ میری آنکھوں کے سامنے ہے اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میاں نوازشریف کو اپنی سیاست میں ابھی تک پیپلز پارٹی والے ایسے جیالے دستیاب نہیں ہو پائے جو اپنے قائد کے ساتھ نظریاتی اور جذباتی وابستگی کے عملی مظاہرے کے لئے خود سوزی کے مراحل بھی طے کر گئے تھے‘ میاں صاحب کے متوالوں نے تو آج تک جرنیلی آمریت میں لگنے والے کوڑوں کا مزہ بھی نہیں چکھا۔ خواجہ سعد رفیق جیسے متوالوں نے بھی بس بھٹو کی سول آمریت کی مار اپنے خاندان کے حوالے سے دیکھی ہوئی ہے۔ باقی رطب اللسانوں کا تو معاملہ ہی کچھ اور ہے اور اس کا تجربہ خود میاں نوازشریف سے زیادہ اور کسے ہو سکتا ہے۔ مجھے تو 1993ءکا وہ وقت بھی بخوبی یاد ہے جب میاں نوازشریف کا صدر غلام اسحاق خاں کے ساتھ ”سلسلہ¿ جنبانی“ شروع ہوا۔ میاں منظور احمد وٹو اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی کی حیثیت سے پنجاب اسمبلی کا ایک پارلیمانی وفد لے کر چین گئے ہوئے تھے اور پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے مجھے بھی انہوں نے اپنے وفد کا حصہ بنا لیا تھا۔ انہیں شاید قومی سیاست میں پکنے والی کھچڑی کا اندر کھاتے کچھ علم ہو چکا تھا جس کا نانجنگ میں چین کے روحانی پیشوا ڈاکٹر سن یات سن کی آخری آرامگاہ پر حاضری کے موقع پر ان کی باڈی لینگوئج سے کچھ اندازہ ہوا۔ اس کا تذکرہ میں اپنی کتاب ”آگے موڑ جدائی کا تھا“ میں بھی کر چکا ہوں۔ ہماری چین سے واپسی سے ایک روز قبل پاکستانی سفارتخانہ کے ذریعہ ہمیں علم ہوا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف ”بم“ کو لات مار چکے ہیں چنانچہ غلام اسحاق کو آئین کی دفعہ -2-58 بی کو ان کی حکومت اور اسمبلی کو گھر بھجوانے کے لئے بروئے کار لانے کا موقع بھی مل چکا ہے۔ اس وقت تک صرف قومی اسمبلی ٹوٹی تھی اور صوبائی اسمبلیاں برقرار تھیں۔ اگلے روز ہم بیجنگ سے لاہور واپس آئے تو میاں منظور وٹو کا شاہراہ قائداعظم پر واقع سپیکر ہا¶س جوڑ توڑ والی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ پنجاب اسمبلی میں اس وقت مسلم لیگ (ن) کی دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت تھی۔ غلام حیدر وائیں وزیراعلیٰ پنجاب تھے مگر مسلم لیگی ارکان اسمبلی کے یکایک پینترا بدلنے کے مناظر دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ میاں منظور وٹو نے غلام حیدر وائیں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا تو محاورتاً نہیں‘ عملاً پلک جھپکتے ہی انہیں عددی اکثریت حاصل ہو گئی۔ اس وقت میاں نوازشریف کے متوالوں کا میاں منظور احمد وٹو کے سپیکر ہا¶س میں لگنے والا جمگھٹا آج کی ڈٹ جانے والی قیادت کے لئے بھی ایک سبق ہے۔ میاں نوازشریف کے دو ساتھیوں کی اس وقت کی استقامت کا میں آج بھی قائل ہوں۔ ان میں ایک چودھری پرویز الٰہی تھے جو اس وقت پنجاب حکومت میں سینئر صوبائی وزیر تھے۔ وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے ایک روز قبل میاں منظور وٹو چودھری پرویز الٰہی کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے سپیکر ہا¶س سے ملحقہ ان کی سرکاری اقامت گاہ پر آئے۔ میں بھی میاں منظور وٹو کے ہمراہ تھا۔ چودھری پرویز الٰہی نے انہیں اپنے گھر خوش آمدید ضرور کہا مگر یہ کہہ کر ان کا ساتھ دینے سے یکسر انکار کر دیا کہ ان کے آزمائش کے وقت میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ اکتوبر 99ءکے ”کُو“ کے بعد میاں صاحب سے کیوں الگ ہوئے یہ ایک اور داستان ہے جس کا تذکرہ پھر کبھی ہو جائے گا۔ میں ان کی 1993ءوالی استقامت کا تو گواہ ہوں۔ اسی طرح میاں صاحب کے متوالے منشاءاللہ بٹ تحریک عدم اعتماد میں غلام حیدر وائیں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے حالانکہ وہ میاں منظور احمد وٹو کے دورہ¿ چین کے دوران ان کے ہمراہ تھے۔ وہ شروع سے آج تک میاں صاحب کے نیک نام متوالے کے طور پر جانے جاتے ہیں اور میں ان کی استقامت پر انہیں سلیوٹ کرتا ہوں۔ باقی صورت حال تو بس اللہ اللہ ہی تھی۔ وائیں صاحب کے خلاف اڑھائی سو کے ہا¶س میں تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو ظالم تاریخ کے ریکارڈ پر آج بھی یہ بات موجود ہے کہ غالب اکثریت والے اس ہا¶س میں میاں نوازشریف کا دم بھرنے والے صرف 48 ارکان رہ گئے تھے جو وائیں صاحب کے ساتھ کھڑے تھے‘ باقی سب میاں منظور وٹو کی سیاست کے اسیر ہو گئے جو تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد خود وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے اور سپیکر کی نشست پر انہوں نے سعید احمد منہیس کو منتخب کرایا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے وہ سارے مناظر آج بھی میری آنکھوں کے آگے گھوم رہے ہیں۔ وائیں صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے اگلے روز میں اور سید انور قدوائی صاحب ان سے ملنے مسلم لیگ ہا¶س گئے تو وہ اپنے آفس کے صوفے پر دراز تھے اور مسلم لیگی عہدے داروں اور ارکان میں سے صرف ادریس جانباز ان کے پاس موجود تھے۔ باقی رہے نام اللہ کا۔

میں نے وفاداری بشرط استواری کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے جیالوں کا تذکرہ کیا ہے جن کی استقامت کا میں نے ضیاءآمریت کی جانب سے منعقد کرائے گئے 1979ءکے بلدیاتی انتخابات کے دوران مشاہدہ کیا تھا۔ ان انتخابات میں سیاسی کارکنوں کا انتخاب لڑنا شجر ممنوعہ تھا مگر ییپلز پارٹی کے جیالے ”عوام دوست“ کے لیبل کے ساتھ انتخابی میدان میں اتر آئے اور لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن میں اکثریت حاصل کر لی۔ ضیاءالحق نے لاہور کے لارڈ میئر کے لئے اپنی ارائیں برادری کے میاں شجاع الرحمن کو نامزد کیا اور انہیں کامیاب کرانے کے لئے ریاستی انتظامی مشینری کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کر لیا۔ اس وقت ساندہ سے پیپلز پارٹی کے جیالے ملک جہانگیر عوام دوست بن کر کونسلر منتخب ہوئے جن کے ساتھ اکثر میری نشستیں رہا کرتی تھیں چنانچہ ان پر استعمال ہونے والے ضیاءآمریت کے ہر ہتھکنڈے سے مجھے بھی آگاہی ہوتی رہی۔ میاں شجاع الرحمان جتنی ”محنت شاقہ“ سے لارڈ میئر منتخب ہوئے وہ بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود تلخ حقائق کا حصہ بن چکا ہے۔ یعنی کچھ نہ کچھ جیالے بھی بہرحال ٹوٹ گئے تھے۔

ایسے ہی تلخ حقائق مشرف آمریت کے دوران بھی دیکھنے کو ملے۔ مسلم لیگ (ن) کے متوالوں کا تذکرہ تو میں پہلے ہی کر چکا ہوں۔ کچھ مشاہدات کا جیالوں کی پیپلز پارٹی کی صفوں میں بھی مشرف آمریت کے دوران نظارہ ہو گیا تھا۔ جب آفتاب شیر پا¶‘ را¶ سکندر اقبال‘ مخدوم فیصل صالح حیات نے مل کر پیپلز پارٹی پیٹریاٹ تشکیل دے ڈالی تھی۔ را¶ سکندر اقبال کے نزدیک مشرف کی صرف یہ خوبی تھی کہ وہ ان کے کلاس فیلو تھے اس لئے ان کے سامنے انکار ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔ آج مولانا فضل الرحمن اور غلام احمد بلور میاں صاحب کو ڈٹ جانے کے بلند بانگ مشورے دے رہے ہیں تو ان کے سیاسی الٹ پھیر سے کون واقف نہیں ہے۔ گویا

ہر عہد کے یزید کے ساتھی رہے ہیں ہم
اور نام بھی ادب سے لیا ہے حسین کا

بہرحال میاں نوازشریف کو اپنے سیاسی مستقبل کا خود ہی فیصلہ کرنا ہے۔ اگر آج وہ ”یاروں“ کی اُچکل پر کوئی ایسی مہم جوئی کر لیتے ہیں جس سے گریز کا انہیں ان کے برادر خورد میاں شہباز شریف اور چودھری نثار علی خاں مشورہ دے رہے ہیں تو حضور والا پھر سوچ لیجئے کیونکہ بم کو لات مارنے کے بعد ”ہم تمہارے ساتھ ہیں“ والا دلفریب نعرہ ذہنی اذیت کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ آپ تاریخ کا پہیہ ذرا الٹا گھما کر دیکھ لیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com