آج کا پانچ جولائی اور خجل خواری کا شوق
Jul 05, 2017

انہیں تو آج پانچ جولائی کے چالیس سال قبل والے شب خونی سانحہ سے سبق حاصل کرکے جمہوریت کے محافظ کا مضبوط کردار ادا کرتا نظر آناچاہئے تھا مگر محسوس یہی ہوتا ہے کہ انہوں نے تو اپنے ساتھ بیتے ہوئے 12 اکتوبر کے سانحہ سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور میری دانست میں جان بوجھ کر براہ راست عدلیہ اور بالواسطہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب اس جارحانہ انداز میں گرد اڑائی جارہی ہے کہ ”میرے عزیز ہم وطنو“ کی فضا ہموار ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ میرا آج بھی یہی گمان ہے کہ جب تک جمہوریت سے وابستہ تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین پانچ جولائی اور 12 اکتوبر والے شب خونی سانحات کو اپنا مشترکہ درد سمجھ کر مشترکہ طور پر یوم سیاہ کے طور پر نہیں منائیں گے، اس وقت تک ”میرے عزیز ہم وطنو“ کو کسی نہ کسی مفاد پرست سیاستدان کا کندھا میسر آتا ہی رہے گا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے سیاستدانوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے اس کندھے کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پہنچ سے دور لے جانے کی خاطر ہی میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا تھا مگر وہ تو ابھی تک اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے جوش سے ہی خود کو باہر نہیں نکال پائے۔ سینیٹر اسحاق ڈار کے کلاس فیلو میرے سینئر کالم نگار دوست کو میرے ایک گزشتہ کالم پر نہ جانے کیسے محسوس ہوگیاکہ میں اپنی ”انٹ شنٹ“ رائے زنی کے ذریعے ”میرے عزیزہم وطنو“ والوں کی وکالت کررہا ہوں جبکہ میں نے حکمران پارٹی کی اپنی صفوں میں سے ”میرے عزیز ہم وطنو“ کے لئے استوار کی جانے والی فضا کا تذکرہ کرکے درحقیقت انہیں ان کی مہم جوئی کے ممکنہ انجام سے خبردار کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر میرے کالم نگار دوست نے میری اس سوچ کی بھد اڑانے کی کوشش کی اور یہ گھسی پٹی دلیل کھینچ لائے کہ آج بھلا ملک فوجی حکمرانی والے کسی ماورائے آئین اقدام کا متحمل ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول جمہوریت کو دُور دُور تک ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں اور میری قبیل کے کالم نگار شاید اپنی خواہشات کی بنیاد پر اس خطرے کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ تو جناب! یہ گزشتہ تین روز سے اس خطرے کاڈھول کون پیٹ رہا ہے۔ میرے یہ عزیز دوست اپنے کلاس فیلو اسحاق ڈار صاحب کا گزشتہ روز جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد کا لب و لہجہ ہی ملاحظہ فرما لیں اور پھر خواجہ سعد رفیق صاحب اگر مسلسل دو روز تک ”ہم گرے تو عمران خان صاحب آپ کو بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا“ کی وارننگ دیتے رہے ہیں تو میرے عزیز دوست ان سے ہی پوچھ لیں کہ انہیں اپنی حکومت کے گرنے کا خطرہ کہاں سے محسوس ہوا ہے۔ میں پھر اس فضا پر یہی شعرمنطبق کروں گا کہ

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

معاملہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کی تفتیش کا ہے جس کے طریق کار کو حکمران خاندان کے ہر فرد کی پیشی کے موقع پر متنازعہ بنانے کے لئے حکمران پارٹی کے ہر چھوٹے بڑے فرد کی جانب سے اتنی گرد اچھالی جارہی ہے کہ انصاف کی عملداری کی نوبت ہی نہ آنے پائے۔ آپ تصور کرلیجئے کہ ایسی گرد اڑانے کی ابتدا کرنے والے نہال ہاشمی حکمران مسلم لیگ (ن) سے اپنے اخراج کے باوجود سینیٹر کا منصب برقرار رکھے ہوئے ہیں جو آئین کی دفعہ -63(1)اے اور اس کی دوسری شقوں کی دانستہ طور پر نفی کرنے کے مترادف ہے تو میرے محترم کالم نگار دوست خود ہی قیافہ لگائیں کہ ”میرے عزیز ہم وطنو“ کو حقیقی دعوت کون دے رہا ہے۔
میں نے ”میرے عزیز ہم وطنو“ کے لئے سیاستدانوں کے کندھے کا میثاق جمہوریت کے حوالے سے تذکرہ کیا تو میں عمران خان کے اب تک کے سیاسی طرز عمل کی بنیاد پر خلوص نیت سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ ”میرے عزیزہم وطنو“ کو عمران خان کا کندھا ہی سہولت فراہم کرے گا۔ وہ اگر گند اچھالنے، عامیانہ زبان استعمال کرنے اور اپنے کارکنوں کو کال دے کر سڑکوں پر لانے والی طرز سیاست اختیار کئے ہوئے ہیں تو یقینا اس کا مخصوص پس منظر موجود ہے۔ اگر اس سیاست کے مقابل جمہوریت سے وابستہ دوسری جماعتوں بالخصوص حکمران مسلم لیگ (ن) کا مطمع نظر ”میرے عزیز ہم وطنو“ کے لئے راستہ مسدود کرنے کا ہو تو وہ ایسی طرز سیاست سے بہرصورت گریز کریں گے جس سے عمرانی طرز سیاست کو مزید اچھل کود کرنے کا موقع مل سکتا ہو۔ مگر حکمران پارٹی توخود ”دمادم مست قلندر“ کے راستے پر چل کر ”اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں“ کی مثال بن گئی ہے۔ گزشتہ روز جس جارحانہ انداز میں ڈاکٹر کرمانی پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مقابل مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو باہر نکلنے کی کال دینے کا رعونت بھرا پیغام دے رہے تھے، اس کے عملی قالب میں ڈھلنے کی صورت میں کیا ممکن ہوسکتا ہے اور کیا ممکن نہیں ہوسکتا، شاید اندھوں کو بھی نہ دیکھ پانے کے باوجود یہ سب کچھ محسوس ہوجائے۔ اور خدا خیر کرے، آج پانچ جولائی کو پیپلز پارٹی کے یوم سیاہ والے دن محترمہ مریم نواز کی جے آئی ٹی کے روبرو پیشی ہے۔ خواجہ سعد رفیق اس پیشی کوشرعی تقاضوں کے منافی قرار دے چکے ہیں اور حکمران پارٹی کے قریبی ذرائع بڑے وثوق کے ساتھ مہربانوں تک یہ خبریں پہنچا رہے ہیں کہ پارٹی قیادت نے آج اپنے کارکنوں کوجارحانہ طرز سیاست اور طرز تخاطب اختیار کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس طرز سیاست اور طرز تخاطب کی جھلکیاں پہلے ہی خواجہ سعد رفیق، ڈاکٹر آصف کرمانی، رانا ثناءاللہ اور دوسرے مسلم لیگی عمائدین کے لب و لہجے سے دکھائی جاچکی ہیں اور آج ماشاءاللہ حسین نواز نے بھی باریش ہونے کے بعد جے آئی ٹی تفتیش پر پھبتیاں کستے ہوئے ”جنوں کے آثار“ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خدا کرے کہ میاں نواز شریف کی جے

آئی ٹی میں پیشی کی طرح آج محترمہ مریم نواز کی پیشی والا دن بھی قومی سیاست میں امن و آشتی سے گزر جائے ورنہ ”میرے عزیزہم وطنو“ کا راستہ روکنا بھلا میرے آپ کے بس کی بات تھوڑی ہے۔ اگر نیت ” ہم نہیں توکوئی بھی نہیں“ والی ہے تو یہ مثال صرف سیاستدانوں پر ہی لاگو ہو پائے گی اور اس کے بعد جو ہوں گے، انہیں نکالنے کے لئے پھر انہی ”ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں“ والوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر اگلے دس بارہ سال تک سڑکوں پر خجل خوار ہونا اور اس خجل خواری کے دوران قید، کوڑے، پھانسیاں بھی بھگتنا پڑیں گی۔ آپ کو ایسی خجل خواری کا ہی شوق ہے تو میں آپ کے اس شوق میں مخل ہونے والاکون ہوتا ہوں، ”چڑھ جا بیٹا سولی پہ، رام بھلی کرے گا“۔
٭٭٭٭٭
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com