’’ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں‘‘
Jun 17, 2017

یہ تو اچھا ہوا کہ وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی کے روبرو اپنی پیشی کے موقع پر اپنے پارٹی کارکنوں کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد آنے سے روک دیا ورنہ حکمران مسلم لیگ (ن) کے مخصوص افراد کی طرف سے جاری لعنت ملامت والی جوشیلی بیان بازی اور اس کے ردعمل میں عمران خاں کی جانب سے اپنے کارکنوں کو جاری کی گئی ہدایات اور پھر خود جے آئی ٹی کی طرف سے اختیار کئے گئے انکوائری کے طریقہ کار سے ’’بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کئے ہوئے‘‘ والی کیفیت بنی نظر آ رہی تھی۔ اگر انکوائری کے طریقہ کار کے پیچھے ایسی ہی فضا بنانے والی کوئی سازش کارفرما تھی تو تحمل کا راستہ اختیار کرکے ہی ایسی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے جیسا کہ میاں نواز شریف نے بالاخر یہ راستہ اختیار کیا اور اپنے ورکرز کو دعا پر لگا دیا۔ ورنہ ان کی اپنی حکمرانی میں اسلام آباد میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونا اور تصادم کی فضا ہموار ہونا ان کی گورننس کے لئے ہی سوالیہ نشان بنتا اور میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ممکنہ تصادم کے جس منطقی انجام کا خدشہ ظاہر کیا تھا، وہ رونما ہو کے رہتا کیونکہ ایسے انجام کے منصوبہ سازوں کو تو تلخی، کشیدگی اور مارا ماری والے اس ماحول کی ہی ضرورت ہوتی ہے جو خود حکمران پارٹی کے مخصوص افراد کی جانب سے پیدا کیا جا رہا تھا۔

میرا آج بھی یہی گمان ہے کہ نہال ہاشمی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر مسلم لیگ (ن) سے اخراج کے باوجود سینٹ کی رکنیت برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس پارٹی کے سربراہ کی طرف سے آئین کی دفعہ 63۔ اے کے تحت حاصل اپنے اختیارات کو بروئے کار لا کر ان کی سینٹ کی رکنیت ختم کرانے کے لئے چیف الیکشن کمشنر سے اب تک رجوع نہیں کیا گیا تو نہال ہاشمی کی زبان سے ’’کہنا بیٹی کو، سنانا بہو کو‘‘ کے انداز میں جے آئی ٹی کے لئے اگلنے والے شعلے ان کے اپنے ذہن رسا کی پیداوار نہیں تھے بلکہ خانہ ساز تھے۔ پھر اس کے ردعمل میں جو کچھ ہوا اور کشیدہ ماحول میں بھڑکائی جانے والی آگ پورے سسٹم کو دامن گیر ہوتی نظر آئی تو ’’میرے عزیز ہموطنو‘‘ کے لئے یہ سہولت خانہ ساز منصوبہ بندی کی بدولت ہی پیدا ہوئی تھی، اگر نہال ہاشمی کے بعد حکمران پارٹی کی صفوں میں سے دانیال عزیز، طلال چودھری، رانا ثناء اللہ وغیرہ وغیرہ انہی کے لب و لہجے میں زبان سے شعلے اگلتے لٹھ لے کر جے آئی ٹی کے پیچھے نہ پڑتے تو اس گرمیٔ مزاج کے سارے قصوروار تنہا نہال ہاشمی ٹھہرتے مگر ادھر تو کیفیت ’’تمام شہر ہے، دو چار دس کی بات نہیں‘‘ والی بنی نظر آ رہی تھی۔ تو جناب! آپ حلوہ کھانے والوں کو خود ہی حلوہ بنا کر دے رہے ہوں تو کس کافر کا ہاتھ اسے کھانے سے رکے گا۔

گزشتہ کالموں میں میرا یہی تجسس رہا ہے کہ آپ اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کا اہتمام کرنے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں۔ اگر آپ کی ’’ادائوں‘‘ سے ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کے لئے فضا ہموار ہو گی تو وہ تو پہلے ہی ایسے مواقع کی تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ’’محبت‘‘ میں ’’جنوں‘‘ کے آثار بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں۔ پھر آپ دیوانہ بنانے والے لوگوں کے زمرے میں تو خود کو شامل نہ کریں۔ خدا کا شکر کہ میاں نواز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر انہی کی مناسب حکمت عملی سے ’’آئی‘‘ ٹل گئی ورنہ ان کی پیشی سے پہلے پہلے جو گرما گرمی نظر آ رہی تھی اگر وہ ان کی پیشی کے وقت تک برقرار رہتی، میاں صاحب کے متوالے ہزاروں کی تعداد میں جوڈیشل اکیڈمی کے باہر جمع ہو جاتے اور عمران خاں کی کال پر ان کے ٹائیگرز بھی خم ٹھونک کر میدان میں آ پہنچتے تو جوش جذبات میں کیا کچھ نہ ہو جاتا۔ اس کا انجام؟ نوشتۂ دیوار کی اصطلاح ایسے ہی حالات پر صادق آتی ہے۔ میں نے اسی پس منظر میں حالات کی اس خانہ ساز سنگینی پر ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کے لئے فضا ہموار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور اصطلاحاً عوام کی طرف سے ان کے لئے ویلکم کی مجبوری اس شعر کے پیرائے میں ظاہر کی تھی کہ…

کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی

میرے دیرینہ دوست محترم سینئر کالم نگار اسداللہ غالب اگر میرے گزشتہ کالم کے صرف عنوان پر تکیہ نہ کرتے اور اس کے متن کا بھی مطالعہ فرما لیتے تو انہیں مجھ پر الٹے سیدھے تجزئیے والی کرمفرمائی کی شائد ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ وہ خاطر جمع رکھیں ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کا استقبال کرنے والا میں آخری آدمی ہوں گا اور جہاں تک میرا بس چلے گا میں زہر کو تریاق سمجھ کر پینے سے بھی گریز کروں گا۔ ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کے ہاتھوں وطن عزیز کے 32 سال ضائع ہونے کا جتنا مجھے قلق ہے اتنا میرے بھائی غالب صاحب کے ممدوح کے دل میں بھی نہیں ہو گا کہ ان کی تو نشوونما ہی ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ غالب صاحب کا یہ فلسفہ تو میرے عزیز ہم وطنو کی لوری سنانے والے طالع آزما خود ہی باطل قرار دیتے رہے ہیں کہ فوجی حکمرانوں کے لئے حالات کچھ اور ہوتے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر وہ بندوقیں تانے اقتدار کے ایوانوں میں در آتے ہیں اور منتخب سول حکمرانوں کو نکال باہر پھینکتے ہیں۔ جبکہ آج ان کے لئے حالات قطعاً ’’وہ‘‘ والے نہیں ہیں۔ ایوب اور یحیٰی کی مہم جوئی تو کافی پرانا قصہ ہے۔ ضیاء اور مشرف کی مہم جوئی کے وقت بھی یہی کہا جاتا تھا کہ آج ملک بھلا کسی مارشل لا کا متحمل ہو سکتا ہے؟ مگر وہ در آئے اور ان کے ’’نو دو گیارہ‘‘ ہونے کا کہیں تصور ہی نہ بن پایا بلکہ وہ گیارہ اور 9 سال تک شہنشاہ معظم کہلاتے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے رہے۔

میرا یہی تجزیہ ہے کہ جن کے دل میں مہم جوئی کا شوق پل رہا ہوتا ہے وہ اس مہم جوئی کے لئے حالات سازگار ہونے کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہتے۔ بس آ دھمکتے ہیں اور حالات سازگار بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کے لئے سول اتھارٹی کی جانب سے ہی آ دھمکنے کا ماحول بنایا جا رہا ہو تو پھر انہیں اور کیا چاہئے۔ بھئی حلوہ کھانے کو کس کافر کا دل نہیں چاہے گا۔ یہی تو میرا تجسس رہا ہے کہ آپ اپنی مہم جوئی کے ذریعے ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کو حلوہ بنا کر کیوں پیش کر رہے ہیں۔ تو اس میں جرنیلی مہم جوئوں کے لئے میری جانب سے استقبال کا شائبہ کہاں سے نکل آیا۔ اگر میں نے ایسی مہم جوئی کے خطرات کی نشاندہی کی تو میں درحقیقت ان خطرات کو جیسے تیسے ٹالنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کاہی مشورہ دے رہا تھا۔ بہتر ہوا کہ نواز شریف صاحب نے ایسی ہی حکمت عملی طے کر لی۔ جبکہ جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد اخبار نویسوں کے روبرو انہوں نے اپنا بیان پڑھتے وقت یہ کہہ کر خود ان خطرات کی نشاندہی کی کہ مخصوص ایجنڈے والی فیکٹریاں بند نہ ہوئیں تو جمہوریت ہی نہیں، ملک بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے اشاروں کنایوں میں پردے کے پیچھے اور کٹھ پتلیوں کے کھیل کھیلنے کا زمانہ اب گزر جانے کا تذکرہ جن کرمفرماؤں کے حوالے سے کیا، عمران خاں نے کھل کر ان کا نام بھی لے دیا ہے کہ نواز شریف انہی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ پھر کیا ایسے خطرات کا خوف میرے کسی الٹے سیدھے تجزئیے کی وجہ سے حکمرانوں کو لاحق ہوا ہے؟ اور اگر آج وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اسمبلی کے قبل از وقت تحلیل ہونے کے خوف کا اعلانیہ اظہار کر رہے ہیں تو یہ خوف انہیں کہاں سے لاحق ہو گیا ہے۔ بھائی صاحب! ایسے شواہد نظر آتے ہیں اور بنائے جاتے ہیں تو ہی ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کا خوف دل میں جاگزیں ہوتا ہے۔ اسے لاحق نہ ہونے دینے کا اختیار آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے جو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے مطمئن بیٹھے رہنے کے بجائے ہمہ وقت چوکس رہنے سے ہی ممکن ہے۔ مہم جوئوں کو آپ اپنی مہم جوئی کے ’’جھاکے‘‘ دو گے تو وہ آپ کے اس ’’جھاکے‘‘ کو بھی کیش کرا لیں گے۔ پھر جناب! بہتر یہی ہے کہ آپ چوکس ہو کر پانامہ کیس کو صبر و استقامت کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچنے دیں۔ آپ گرد اچھال کر اس سے بچ نکلنے کی کوشش کریں گے تو فی الواقع مارے جائیں گے۔ ’’ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں‘‘
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com