بم کو لات مارتے مارتے
Jun 07, 2017

ویسے تو میاں نواز شریف کا تیسرا دورِ اقتدار اپنے آغاز سے ہی ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ کی کیفیت میں رہا ہے مگر اب ان کے اقتدار کے چار سال پورے ہونے پر سیاسی ماحول کچھ ایسا بنا ہوا نظر آتا ہے کہ اس دورِ اقتدار کا آخری سال شائد گھسیٹ گھسیٹ کر بھی تکمیل کے مراحل تک نہ پہنچایا جا سکے۔ حکمران پارٹی کی طرف سے نوبت بم کو لات مارنے والی بنا دی گئی ہے اور یہ صورتحال ایسی ہے کہ خدا نہ کرے، اس گھسیٹا گھسیٹی میں کہیں پورے سسٹم کی درگت نہ بن جائے۔

میاں نواز شریف کے اقتدار کے پہلے دو سال عمران خاں اور علامہ طاہرالقادری کی جانب سے حکمرانوں کی گھسیٹا گھسیٹی میں گزر گئے اور انہوں نے ببلیاں مارتے اور ’’امپائر‘‘ کی انگلی اٹھوانے کی انگیخت کرتے ہوئے ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کے لئے سازگار ماحول بنائے رکھا مگر یہ ’’برکھا‘‘ برسے بغیر ہی گزر گئی۔ البتہ برکھا کی گرج چمک نے اقتدار کے ایوانوں میں خوف و دہشت کی فضا ضرور طاری کئے رکھی مگر پھر 126دن کا دھرنا دھرے کا دھرا رہ گیا۔ القادری اپنے دیس کینیڈا واپس پلٹ گئے اور عمران بدستور ٹرک کی بتی کے پیچھے ہذیانی کیفیت میں بھاگتے نظر آئے جو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا پا کر روز کسی نئے ایشو پر چائے کے کپ میں طوفان اٹھانے کا اہتمام کرتے رہے۔ چنانچہ ان کی زبان سے حکمران خاندان ہی نہیں، الیکشن کمشن اور عدلیہ کی معزز شخصیات کی بھد بھی اڑتی رہی۔ القادری کا انقلاب تو ’’نقد پھڑائو‘‘ کا تقاضہ پورا ہوتے ہی شام کی طرح ڈھل گیا اور حکمرانوں کے لئے ٹھنڈا ٹھار ہو گیا مگر نواز شریف کے اقتدار کے تیسرے سال پانامہ لیکس عمران خاں کے ہتھے چڑھ گئی جو ان کے لئے ’’انھے ہتھ بٹیرا‘‘ ثابت ہوئی۔ چنانچہ پانامہ لیکس کی باگیں ڈال کر عمران خان نے حکمران خاندان کو ’’مدھولنا‘‘ شروع کیا اور ساتھ ہی اداروں کے ٹکرائو کی فضا بھی سازگار بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اسی مدھولا مدھولی میں انہوں نے اسلام آباد کے ’’لاک ڈائون‘‘ والی رنگ بازی سے بھی میاں نواز شریف کے اقتدار کے لئے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والی کیفیت بنائے رکھی مگر گرجنے والے پھر برکھا برسائے بغیر گزر گئے۔

اس اقتداری چھینا جھپٹی میں ملک کی کیا حالت ہوئی اور عوام کی کیا درگت بنی، باہمی زور آزمائی اور سر پھٹول میں تھوڑی سی بریک لگائی جاتی تو ہر سہ فریقین میں سے کسی کو اس کا احساس ہوتا جبکہ عوام کے لئے اس دلفریب نعرے میں بھی تذبذب کی کیفیت پیدا ہو گئی کہ ’’مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟‘‘۔ یکایک منظر عام پر آئی ایک ’’موو ان پاکستان‘‘ نامی تحریک نے راتوں رات پورے ملک میں ’’آ جا تینوں اکھیاں اڈیکدیاں‘‘ والے قد آدم پوسٹر اور بھڑکیلے بینر لگوا کر ترغیب تو بہت دی مگر ان تِلوں میں تیل ہی نہیں تھا سو گھن گرج کے مظاہر نظر آنے کے باوجود ریٹائرمنٹ کی نوبت آن پہنچی اور برکھا نہ برس سکی۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ…

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

عمرانی گھسیٹا گھسیٹی سے اللہ کے نوازے ہوئے اقتدار کو گزند تک نہ پہنچی تو عالی جناب نے شائد اس سرخوشی میں اپنے اقتدار کی چُولیں ہلانے والے اسباب خود ہی پیدا کر لئے کہ اب گرج چمک کی دھمک تو کہیں محسوس ہی نہیں ہو رہی سو کیوں نہ ’’اب راج کرے گا خالصہ تے آکی رہے نہ کو‘‘ والی عیاشی کر لی جائے۔ سوئے ہوئے شیر کی کچھار میں ’’نیوز لیکس‘‘ کی شرلی پھینک کر اس کی دھاڑ کو آزمانے کی کوشش کی گئی۔ دھاڑ سنائی نہ دی تو حوصلہ مزید بڑھ گیا۔ پانامہ لیکس کے تین بٹہ دو فیصلے نے بڑھے ہوئے حوصلے کو مزید جلا بخشی اور پھر شیر کی کچھار کے سامنے لڈیاں ڈالنے کا عمل شروع کر دیا گیا کہ اب کیا ہونا ہے۔ کچھار سے نیوز لیکس کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد والے نوٹیفکیشن کے خلاف ایک ٹویٹر پیغام کی صورت میں دھاڑ برآمد ہوئی تو پھر ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والی فضا بن گئی مگر اب گرجنے والے دور کا دور دور تک کوئی شائبہ نہیں اس لئے ’’خوش خیالوں‘‘ کے لئے ’’الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘‘ والی مایوسی کا اہتمام ہو گیا اور باہم شیر و شکر کے استوار ہونے والے منظر نامہ نے میاں صاحب کے ڈانواں ڈول اقتدار کو اپنی مدت کی تکمیل کی یقین دہانی کا تڑکا لگا دیا۔

مگر شائد اس ’’آسودگی‘‘ میں ہی اندازے کی غلطی ہو گئی ہے۔ ارے آپ نے کیسے فرض کر لیا کہ گرجنے والے نہیں برسے تو اب ’’ستّے خیراں‘‘ ہیں۔ یہ تو گرج بھی نہیں رہے۔ شائد اداروں سے چھیڑ چھاڑ کی تاریخ دہرانے کا بھی شوق چرایا ہو گا۔ عالی جناب کے دوسرے دور اقتدار میں سپریم کورٹ میں دراڑیں ڈالنے کی حکمت عملی کامیاب ہو گئی تھی تو سوچا گیا ہو گا کہ پانامہ لیکس کیس کے تین بٹہ دو والے فیصلے کی بنیاد پر ایسی حکمت عملی اب بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔ سو جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور پھر نہال ہاشمی کے ساختہ غبارے میں ہوا بھر کر اسے فضا میں چھوڑ دیا گیا۔ اس غبارے کے اندر سے جو فاسد مادہ برآمد ہوا وہی اب ’’بم کو لات‘‘ مارنے والا منظرنامہ اجاگر کر رہا ہے۔ اب ایک طرف تین بٹہ دو والا اکثریتی فیصلہ بھی اقلیتی دو کی تاثیر بڑھاتا نظر آ رہا ہے تو دوسری جانب مہم جوئی کے شوق نے ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کے لئے بھی فضا سازگار بنا دی ہے۔

اب موجودہ تراشیدہ کشیدہ ماحول میں سنیٹر نہال ہاشمی تو ایک مہرے کے طور پر استعمال ہوئے ہی نظر آتے ہیں ورنہ اس جسدِ خاکی میں بھلا اتنی جرات پیدا ہو سکتی تھی کہ وہ ببلیاں مارتے ہوئے اس مقدس ادارے پر چڑھ دوڑیں جس کے قریب سے بھی بری نیت کے ساتھ گزرنے سے توہین عدالت کا پھندہ گردن کو ناپ لیتا ہے۔ جس اہتمام کے ساتھ ان کی دھاڑ پرمبنی ویڈیو نجی ٹی وی چینلز تک پہنچائی گئی، وہ اس ساختہ کہانی کے سارے کرداروں کو خود ہی اجاگر کر رہی تھی۔ چنانچہ اس کہانی سے فوری لاتعلقی اور نہال ہاشمی کی لگامیں کھینچنے والی لیپا پوتی بھی کارگر نہ ہو سکی۔ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوکر آئیں بائیں شائیں کرتے رہے اور ان کی باڈی لینگوئج ’’میں نہیں بولدی، میرے چہ میرا یار بولدا‘‘ کی عکاسی کرتی رہی اور آج انہوں نے سینٹ کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ واپس لینے کی درخواست دے کر ساری گیم پلان کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ سو جناب! بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔

عالی جناب کے تیسرے اقتدار کے چار سال پورے ہوگئے ہیں، ان کے دور کا آخری بجٹ بھی منتخب ایوان میں پیش کردیا گیا ہے جس کے منظور ہونے کے بعد بغیر گرجے برکھا برسنے کی فضا بالکل سازگار ہے تو اس میں قصور کس کا نکلے گا حضور والا؟ بس پریشانی تو یہی ہے جو اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ ہی کو نہیں، پوری قوم کو لاحق ہے کہ بم کو لات مارنے والی روش سے ملک اور عوام کی خدمت کا کون سا فریضہ نبھایا جا رہا ہے۔ آپ کا تو شیرینی کا ایک سال جائے گا مگر قوم کو اگلی دہائی تک اور اب کی بار شائد اس سے بھی زیادہ ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کو بھگتنا پڑے گا۔ اگر اب بھی آپ کے ذہن میں مہم جوئی سے مراجعت کی تعمیری سوچ کی کوئی رمق موجود ہے تو اس سے استفادہ کر لیجئے ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔ اس رائیگانی کی اب بحالی جمہوریت کے نئے سفر کے ساتھ شروعات ہوا ہی چاہتی ہیں۔ جمہوریت کے علمبرداروں کو رائیگانی کا یہ نیا سفر مبارک ہو۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com