’’جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یُوں بھی ہے اور یُوں بھی‘‘
Apr 23, 2017

یں نے چالیس سال قبل 1977ء میں روزنامہ ’’آزاد‘‘ کے لئے کورٹ رپورٹنگ کا آغاز کیا تھا، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی کوریج میری ’’بیٹ‘‘ میں شامل تھی۔ مجھے اس ذمہ داری کا آغاز ہی سابقہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج نواب محمد احمد خاں کے قتل کے مقدمہ کی کوریج سے کرنا پڑا۔ یہ کیس بھٹو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ہی درج ہوا تھا جو ان کے اقتدار تک سربمہر رہا اور جنرل ضیاء الحق نے بھٹو مرحوم کو ’’ٹوپل‘‘ کرکے ماورائے آئین اقتدار سنبھالا تو یہ کیس گویا ان کے پاس ’’اندھے کے ہاتھ میں بٹیرہ‘‘ بن کر آ گیا کیونکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ یہ کہہ چکے تھے کہ قبر ایک ہے اور اس میں دفنانے کے متقاضی بندے دو ہیں یعنی ذوالفقار علی بھٹو اور وہ خود۔ اگر بھٹو زندہ رہتے تو ان کے لئے کھدوائی گئی قبر میں خود ضیاء الحق ہی دفن ہوتے اس لئے انہوں نے نواب محمد احمد خاں قتل کیس کے ذریعے بھٹو کو ہی اس قبر میں بھجوانے کا محفوظ بندوبست کر لیا تھا۔ اس کیس کی سماعت کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں عدالت عالیہ کا پانچ رکنی خصوصی بنچ تشکیل پایا تو میرا ذہن گڑبڑانے لگا کہ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں سماعت کے متقاضی ایک کیس کی سماعت ہائیکورٹ میں کیوں ہو رہی ہے اور وہ بھی ہائیکورٹ کے پانچ سینئر ججوں پر مشتمل بنچ کے روبرو۔ میں نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں قانون کی تعلیم کے دوران اپنے اساتذہ عامر رضا اے خان، خلیل رمدے، میاں آفتاب فرخ، حامد خاں، چودھری محمد عارف، ڈاکٹر خالد رانجھا سے سول کورٹ سے سپریم کورٹ تک کی عدل گستری کے اسرار و رموز پڑھے ہوئے تھے۔ ان میں حامد خاں کے سوا دیگر تمام اساتذہ بعدازاں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے جج کے منصب تک فائز رہے اور حامد خاں سمیت ان میں سے اکثر لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر بھی منتخب ہوئے ، اس طرح بار اور بنچ کا امتزاج ان کی ذات کا حصہ بنا رہا۔ میاں آفتاب فرخ جنہوں نے خود بھی مجسٹریٹ کی حیثیت سے اپنے پروفیشن کا آغاز کیا تھا، عدالتوں کی حیثیت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اکثر کچھ اصطلاحیں استعمال کیا کرتے تھے مثلاً سول کورٹ (دیوانی) کو وہ ’’دوانی‘‘ کا جج کہا کرتے۔ یعنی دو آنے (دو ٹکے) کا جج۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ (ہائیکورٹ، سپریم کورٹ) کے دائرہ اختیار کے حوالے سے چودھری محمد عارف جو برٹش لاء پڑھایا کرتے تھے، عدالتی اختیارات کی ’’پروبونو پبلیکو‘‘ (Pro Bono Publico)ٹرم کا حوالہ دیتے کہ مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو کسی بھی بے ضابطگی سے متعلق معاملہ کا نوٹس لینے اور ضروری ہدایات جاری کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

ہمارے آئین میں تو اس ازخود عدالتی اختیار کے حوالے سے ہائیکورٹ کے لئے دفعہ 199اور سپریم کورٹ کے لئے دفعہ 184مختص کی گئی ہے۔ ان آئینی دفعات کو عدلیہ کی فعالیت کے لئے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ مگر میرا ذہن ایک قتل کیس کی ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کے روبرو سماعت پر گڑبڑایا ہی رہا کہ آیا ہائیکورٹ نے یہ اختیار ’’پروبونو پبلیکو‘‘کے فلسفہ کے تحت استعمال کیا ہے یا اس کے پس پردہ معاملہ کوئی اور ہے کیونکہ ہائیکورٹ کا مقام تو ایسے مقدمات کی سماعت کرنے والی ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر ہونے والی اپیلوں کی بطور اپیلٹ کورٹ سماعت کا ہوتا ہے۔ بھٹو قتل کیس میں ہائیکورٹ کو ٹرائل کورٹ میں تبدیل کرکے درحقیقت ان سے اپیل کا ایک حق چھین لیا گیا تھا۔ یہی کیس ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں زیر سماعت آتا تو ممکن ہے انہیں ٹرائل کورٹ سے ہی اتنی سخت سزا نہ ملتی اور اگر مل جاتی تو ان کے پاس ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی شکل میں اپیل کے دو فورم موجود ہوتے چنانچہ اس کیس کے وہاں تک پہنچتے پہنچتے نہ جانے حالات کیا رخ اختیار کر چکے ہوتے۔ اسی بنیاد پر میں لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت آنے والے بھٹو قتل کیس کو انصاف کے نہیں، ذاتی انتقام کے کیس سے تعبیر کرتا ہوں جس میں ضیاء الحق ،مولوی مشتاق حسین اور اس کیس کے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر ایم انور بار ایٹ لاء نے بھٹو مرحوم سے اپنے اپنے تعصبات کے تحت ذاتی انتقام لیا تھا۔ اس کیس میں بھٹو کی سزائے موت کے خلاف بیگم نصرت بھٹو کی دائرہ کردہ اپیل شائد اسی پس منظر میں تین کے مقابلہ چار فاضل ججوں کے اکثریتی فیصلہ کے تحت مسترد ہوئی تھی اور اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلہ کی یہ صورتحال ہے کہ آج تک اس فیصلہ کو کسی بھی دوسرے کیس میں بطور ’’نظیر‘‘ کوٹ نہیں کیا گیا۔

مجھے اس کیس کی کارروائی دو روز قبل پانامہ کیس میں صدیوں تک یاد رکھے جانے والے سپریم کورٹ کے دو کے مقابلہ میں تین فاضل ججوں کے اکثریتی فیصلہ کے صادر ہونے سے یاد آئی اور ساتھ ہی عدالتی تاریخ کی کئی دوسری گرہیں بھی کھلنے لگیں۔ بے شک عدلیہ کے دائرہ کار کے آئین و قانون کے تحت پیرامیٹرز متعین ہوتے ہیں مگر کئی مقدمات میں ’’پروبونو پبلیکو‘‘ کے فلسفہ کے تحت ہماری فاضل عدالتیں کئی اختیارات خود ہی اپنے دائرہ کار میں شامل کر لیتی ہیں اور کئی مقدمات میں خود کو اپنے آئینی و قانونی دائرہ کار سے باہر نہ نکلنے کا خود کو پابند قرار دیتی ہیں تو عدل گستری کے معاملات پر میرا ذہن گڑبڑایا ہی رہتا ہے کہ…

جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یُوں بھی ہے اور یُوں بھی

جسٹس منیر سے جسٹس ارشاد حسن خان تک جرنیلی آمروں کے ماورائے آئین اقدامات کے تحت مسلط کئے گئے مارشل لائوں اور فوجی آمریتوں کو آئینی تحفظ دیتے وقت فاضل ججوں نے یقینا ’’پروبونو پبلیکو‘‘کے فلسفہ کو ہی پیش نظر رکھا ہو گا اور جسٹس ارشاد حسن خان نے ’’مور اوور‘‘ کے طور پر جنرل مشرف کو آئین میں ترمیم کا جو اختیار مانگا بھی نہیں گیا تھا وہ بھی ’’دان‘‘ کر دیا کہ سخاوت ہو تو ایسی ہو۔ اگر جوڈیشل ایکٹوازم کے معاملہ میں آئین کی دفعہ 184کو بروئے کار لائے جانے کا جائزہ لیا جائے تو اس میں دو فاضل چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ اور افتخار محمد چودھری جستیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے بینظیر بھٹو کی برطرفی کے صدارتی صوابدیدی اقدام کی متفقہ طور پر توثیق کرنے والے عدالت عظمیٰ کے بنچ کا حصہ بنے رہنے کے بعد میاں نواز شریف کی صدارتی صوابدیدی اقدام کے تحت ہی برطرفی کو کالعدم قرار دینے والے عدالت عظمیٰ کے بنچ کے فیصلہ کے ساتھ اپنا اختلافی نوٹ تحریر کیا جس میں انہوں نے سندھ اور پنجاب کے وزیراعظم کی اصطلاح ایجاد کی۔ شائد اسی تعصب کے باعث انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی حیثیت سے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ عدلیہ کے ٹکرائو کی فضا بنائی اور اس ٹکرائو میں اپنے برادر ججوں کے ہاتھوں خود ہی پاش پاش ہو گئے۔ دوسرے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے چونکہ جوڈیشل ایکٹو ازم کے تحت اپنے دور کے جرنیلی آمر مشرف کو چیلنج کیا اس لئے وہ جرنیلی آمر کے ہاتھوں معطل ہونے کے بعد عوامی ہیرو کے طور پر ابھر کر سامنے آ گئے۔ عدلیہ کی اس فعالیت میں جسٹس افتخار چودھری کو بحال کرنے والے جسٹس خلیل رمدے کے فل کورٹ بنچ سمیت عدالت عظمیٰ کی جانب سے ایسے ایسے اختیارات اپنے دائرہ کار میں شامل کر لئے گئے جن کا دفعہ 184والے ازخود اختیارات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ آج پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بنچ میں اکثریتی فیصلہ صادر کرنے والے تین فاضل ججوں نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کے کاروبار کے حوالے سے کی گئی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر انہیں ملزمان کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر متفق ہونے کے باوجود آئین کی دفعہ 184(3)کا سہارا لے کر انہیں فوری طور پر نااہل قرار دینے سے اس لئے گریز کیا کہ آئین کی متذکرہ دفعہ کے تحت سٹنگ وزیراعظم کو ڈس کوالیفائی کرنا ان کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں ہے چنانچہ عدالتی اختیارات کے معاملہ میں یہاں ’’پرو بونو پبلیکو‘‘ فلسفہ کو مات ہو گئی۔ اس بنچ کے دو فاضل ججوں کا اختلافی نوٹ تو اپنی جگہ مگر 547صفحات پر مشتمل صادر ہونے والے اکثریتی فیصلہ میں بھی وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کی مبینہ کاروباری بے ضابطگیوں اور چیئرمین نیب اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی جانب سے ان مبینہ بے ضابطگیوں کو تحفظ دینے کے اقدامات پر تبرہ کسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ چنانچہ اس رائے تک پہنچنے کے باوجود آئین کی دفعہ 184(3)کا سہارا لے کر اس کیس میں ’’پروبونو پبلیکو‘‘ کے اصول لاگو کرنے سے گریز کیا جائے گا تو میرے جیسا کند ذہن گڑبڑائے گا تو ضرور ۔بالخصوص یہ جائزہ لیتے ہوئے کہ اسی عدالت عظمیٰ نے آئین کی دفعہ 184(3)کے ہوتے ہوئے بھی سٹنگ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب گردان کر انہیں آئین کی دفعہ 63جی کے تحت نااہل قرار دے کر گھر بھجوا دیا تھا۔ پھر کہیں نہ کہیں اختیارات کے استعمال کے معاملہ میں گڑبڑ تو ہو گئی۔ اپنے اس گڑبڑاتے ہوئے ذہن کے باعث میں مزید سوال اٹھانے سے گریز کرتا ہوں اور آنے والے حالات کے بارے میں یہی سوچ کر پرامید ہو جاتا ہوں کہ…

جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یُوں بھی ہے اور یُوں بھی
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com