بیربل کا شریف تو ادارہ معین الاسلام ہے
Mar 14, 2017

اکبر بادشاہ کے نورتنوں میں بیربل بھی شامل ہے جسے عہدِ اکبری میں بادشاہ کا دل لبھانے کے صلے میں سینکڑوں ایکڑ اراضی سرگودھا کے علاقے شاہ پور میں دان کر دی گئی۔ چنانچہ شاہ پور کے مضافات میں دریائے جہلم کے کنارے آباد یہ دور افتادہ بستی بیربل کے نام سے معروف ہو گئی۔ بیربل کا کسی جید دینی، فقہی گھرانے سے ہرگز تعلق نہیں تھا۔ پھر ان سے منسوب بستی بیربل شریف کے نام سے کیسے معروف ہو گئی؟۔ میں گزشتہ روز تیسری بار اس دور افتادہ پسماندہ علاقے میں علم و نور کی کرنیں بکھیرنے والے ادارے معین الاسلام کی سالانہ تقریب میں شرکت کے لئے سبزہ زار سکیم کے محمد اکرم چشتی صاحب، ان کے صاحبزادے اور ان کے ایک دوسرے عزیز کے ساتھ موٹر وے پر بھیرہ کی جانب گامزن تھا تو راستے بھر یہی سوچ دماغ پر حاوی رہی کہ کیا ”بیربل شریف“ کوئی پہنچے ہوئے بزرگ تھے جن سے اکتساب فیض حاصل کرنے والوں نے آج خانقاہ مرتضوی بیربل شریف کی گدی سنبھالی ہوئی ہے اور ادارہ معین الاسلام کی شکل میں تشنگانِ علم و آگہی کے لئے چشمہ فیض جاری کیا ہوا ہے۔ ”نہیں جناب! بیربل کا علم و آگہی سے بھلا کیا علاقہ ہو سکتا ہے۔ وہ تو بس زبانی کلامی الفاظ کی جادوگری سے شہنشاہ معظم کے چہرے پر عود کر آنے والی کلفتیں مٹانے کے فن میں طاق تھا اور اس ناطے سے اس کا شہنشاہ معظم کے نورتنوں میں شمار ہوتا تھا۔ بیربل شریف کا علاقہ محض اس کے نام سے منسوب ہے جہاں چشمہ فیض تو اس علاقے کے معروف اعوان خاندان کے سپوت حافظ محمد اسلم کی نگاہ دوربیں کے طفیل جاری ہوا ہے۔“ اس خانوادے کے عقیدت مند محمد اکرم چشتی یہ ساری حکائت مجھے گزشتہ سال سفر کے دوران سنا چکے تھے مگر میرے ذہن سے محو ہو گئی، اب ان کی معیت میں خاموشی سے گزارے گزشتہ روز کے سفر کے دوران بیربل شریف کا سارا پس منظر نگاہوں کے سامنے فلم کی طرح چلتا رہا۔

ادارہ معین الاسلام کے منتظم اعلیٰ اور خانقاہ مرتضوی بیربل شریف کے سجادہ نشین پروفیسر محبوب حسین کی سحر انگیز شخصیت نے مجھے اس ادارے کی سالانہ تقریب میں پہلی بار شرکت کے وقت ہی گرویدہ بنا لیا تھا۔ پھر پروفیسر نصراللہ معینی کے گھر محفل میلاد میں ان سے ملاقات ہوئی اور ادارہ معین الاسلام کی سالانہ تقریب میں اگلے سال بھی شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ پروفیسر صاحب کی نسبت میرے شہر پاکپتن شریف والے حضرت بابا فرید گنج شکر کے سلسلہ چشت سے ہونے کے ناطے ان کے ساتھ مزید اپنائیت محسوس ہوئی اور دل سے دل ملنے کا یہ سلسلہ مزید گہرا ہو گیا۔ گزشتہ سال کے گزرتے لمحات میں پروفیسر نصراللہ معینی کی صاحبزادی اور ہماری کالم نگار قرة العین کی شادی کی تقریب میں پروفیسر محبوب حسین کے قرب میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا تو دوران گفتگو انہوں نے ادارہ معین الاسلام کی سالانہ تقریب میں شرکت کی بھی دعوت دے دی جو ایک طرح سے پیشگی دعوت تھی کیونکہ اس وقت تقریب کے اہتمام میں تین ماہ پڑے تھے۔ گزشتہ ہفتے عبدالرﺅف معینی صاحب تقریب کے دعوت نامے کے ساتھ میرے پاس تشریف لے آئے تو بھلا انکار کی مجال ہو سکتی تھی۔ سو ”سفر پہ میں بھی روانہ ہوا کے بعد ہوا“ کے مصداق بیربل شریف سے آنے والے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مجھے بھی اپنے ساتھ بہا لے گئے۔

ادارہ معین الاسلام کے چشمہ فیض میں کتنی تاثیر ہے، اس کا اندازہ اس کی سالانہ تقریب میں ملک بھر سے کھنچی چلی آئی علمی ادبی معروف شخصیات، نامور مفکرین، جید علمائ، ملک کی اعلیٰ معروف درسگاہوں کے سقہ بند پروفیسر حضرات اور منتخب عوامی نمائندگان کی پرجوش شرکت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس بار کی سالانہ تقریب کی صدارت انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق صدر اور معروف دینی سکالر صاحبزادہ ڈاکٹر محمد ساجدالرحمان کے لئے مخصوص تھی جنہوں نے خانقاہی نظام کی گرہیں کھولتے کھولتے پروفیسر محبوب حسین کے وجیہہ اور صالح شباب کے بہاولپور یونیورسٹی والے دنوں کے پرکیف قصے سنا کر سماں باندھ دیا۔ ایسے ہی صالح شباب کی پروفیسر نصراللہ معینی کے ساتھ وابستہ یادیں بھی ان کے ذہن میں محفوظ ہیں چنانچہ صدارتی خطبے کے دوران وہ ان یادوں کے تڑکے بھی لگاتے رہے۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ فارسی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی نے بھی پروفیسر محبوب حسین اور پروفیسر نصراللہ معینی کے عہد شباب کی یادیں کچھ ایسے تازہ کیں کہ ذہن میں نوابزادہ نصراللہ خاں کی جانب سے اکثر سنایا جانے والا یہ شعر بھی اٹکھیلیاں کرتا نظر آیا کہ....

ان کے عہد شباب میں جینا
جینے والو تمہیں ہوا کیا ہے

تقریب میں اقبال اکادمی اور ایوان اقبال لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر حمید تنولی، جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل بھی....

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

والا ماحول بناتے نظر آئے۔ میرا معاملہ تو اس تقریب میں ”من آنم و من دانم“ والا تھا مگر تقریب کے اختتام پر ادارہ معین الاسلام کے اعلیٰ تعلیمی اعزاز حاصل کرنے والے طلبہ میرے ساتھ سیلفیاں بنانے کے لئے امڈے چلے آئے تو مجھے بھی اپنے ”کچھ ہونے“ کا احساس ہوا۔ میرا یہ اعزاز درحقیقت ادارہ معین الاسلام کے منتظم اعلیٰ پروفیسر محبوب حسین کے حسن¿ کرشمہ ساز کا مرہون منت ہے۔

میں پچھلے تین سال سے اس ادارے کے پی ایچ ڈی، ایم فل، ماسٹر، گریجویشن، انٹر اور میٹرک کے طلبہ کے سرگودھا بورڈ اور یونیورسٹی اور ملک کے دوسرے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ اعزازات اور شاندار نتائج کا جائزہ لے رہا ہوں اور اس بنیاد پر ہی میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ گواہی دینے کی پوزیشن میں ہوں کہ ملک کے بڑے شہروں میں موجود نامی گرامی انگلش میڈیم تعلیمی ادارے بھی ملک کی یونیورسٹیوں سے ایسے اعلیٰ اعزازات اتنی کثیر تعداد میں حاصل نہیں کر پاتے جو ضلع سرگودھا سے 35 کلومیٹر دور ایک انتہائی پسماندہ اور دور افتادہ علاقے بیربل شریف میں قائم پروفیسر محبوب حسین کے دینی و عصری علوم کے حامل معتبر ادارے معین الاسلام کے ہونہار طلبہ ہر سال حاصل کر رہے ہیں۔ اس ادارے کا یہ اعزاز تو منفرد ہے کہ یہاں مقامی آبادی کے علاوہ ملک بھر سے زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کے لئے آنے والے ایک ہزار کے قریب طلبہ کو درسی کتابوں اور یونیفارم سمیت صرف تعلیم ہی بلامعاوضہ فراہم نہیں کی جا رہی بلکہ انہیں اس ادارے کے زیرانتظام رہائش اور کھانے کی بھی بلامعاوضہ سہولت حاصل ہے۔ حکومت تو ”تعلیم سب کے لئے“ کے محض نعرے ہی بلند کرتی ہے جبکہ کمرشل تعلیمی اداروں کی لاکھوں روپے سالانہ کے اخراجات پر مبنی تعلیم صرف مراعات یافتہ مخصوص طبقات کے لئے ہی مخصوص ہو کر رہ گئی ہے۔ ان اداروں کے نتائج کا ادارہ معین الاسلام کے نتائج کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو شائد مقامِ شرم کو بھی کسی مقام پر شرم آ جائے جبکہ ”تعلیم سب کے لئے“ کا حکومتی ماٹو فی الحقیقت ادارہ معین الاسلام پورا کر رہا ہے جو کسی حکومتی گرانٹ اور مخیر حضرات کی کسی مالی امداد کا بھی مرہون منت نہیں۔ اس معتبر ادارے کی شاندار کارکردگی کی ساری تفصیل اس کالم میں سمونا مشکل ہے۔ صرف چند جھلکیاں ملاحظہ فرما لیں۔

گزشتہ سال کے ایم فل فارسی کے امتحان میں شریک ہونے والے تمام 21 طلبہ نے اعلیٰ ترین نمبروں کے ساتھ فرسٹ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی جن میں محمد عمران کی سرگودھا یونیورسٹی میں اول پوزیشن ہے جبکہ اس ادارے کے ایم فل اسلامیات، ایم فل عربی اور ایم اے عربی، فارسی، اردو، اسلامیات کے طلبہ بھی سرگودھا یونیورسٹی کے اعلیٰ اعزازات میں جستیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ادارہ درس نظامی، فاضل عربی، عالم عربی، ادیب عربی، سبعہ¿ قرات اور امتحان قاری میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا چنانچہ اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ اچھے انسان، اچھے شہری اور اچھے مسلمان کی حیثیت سے ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ اب علاقے کے تشنگان علم و آگہی کی معاونت سے ادارہ معین الاسلام کے دو مزید کیمپس مرتضیٰ آباد کیمپس اور معین کیمپس بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ مرتضیٰ آباد کیمپس کے لئے علاقے کے میکن خاندان کے نوجوان زمیندار سردار اختر حیات خاں میکن اور ان کے بھائیوں، سردار خالق نواز میکن اور سردار امتیاز خاں میکن نے 76کنال قطعہ اراضی ادارہ معین الاسلام کے نام وقف کر دیا ہے۔ جبکہ معین آباد کیمپس کے لئے بھی اسی خاندان کے سردار اصغر حیات میکن نے 38 کنال قطعہ اراضی اس ادارے کو عطیہ کیا ہے۔ ہمیں ان دونوں مقامات پر زیر تعمیر عمارتوں سے علم و نور کے چشمے پھوٹتے ہوئے نظر آئے۔ پروفیسر محبوب حسین خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان کے صاحبزادے بھی نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے ڈاکٹریٹ تک کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ اگر خانقاہی نظام میں علم و عرفان کے گہوارے ایسے خانوادوں کے ذریعے دینی اور عصری تعلیم کے چشمے پھوٹ رہے ہیں تو شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے مقابل ایسے خانقاہی نظام کی سرپرستی کرنا کیا حکمران طبقات کی ذمہ داری نہیں۔ آپ تھوڑی زحمت کرکے ادارہ معین الاسلام کے طرز تعلیم اور معیار تعلیم کا وہاں جا کر مشاہدہ تو کر لیں۔ یہ ادارہ حکومتی سرپرستی قبول بھی کرتا ہے یا نہیں، یہ تو بعد کی بات ہے۔ بیربل کا شریف تو بلاشبہ ادارہ معین الاسلام ہے تو کیوں نہ اس علاقے کو بیربل شریف کی بجائے ”معین آباد“ کے نام سے جانا اور پہچانا جائے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com