”لے آف“ سید سجاد علی شاہ
Mar 09, 2017

دو روز قبل نجی ٹی وی چینلز پر سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے انتقال کی خبر چلناشروع ہوئی تو اس کے ساتھ ہی ذہن کے پردے پر ہماری عدلیہ کی 90ءکی دہائی والی تاریخ سے وابستہ تلخ یادوں کی فلم بھی چلنا شروع ہو گئی۔ یہ خبر چلنے کے کچھ ہی دیر بعد سجاد علی شاہ کے صاحبزادے نے ان کے زندہ سلامت ہونے کی خبر پہنچا دی۔ ذہن کو پہلا جھٹکا سید سجاد علی شاہ کی جانب سے عدلیہ کی فعالیت کیلئے کی گئی ”اوور ایکٹنگ“ کی یادیں تازہ ہونے سے لگا تھا جبکہ دوسرا جھٹکا ہمارے میڈیا کی ”فعالیت“ میں زندوں کو مردہ قرار دیئے جانے کے حوالے سے لگا مگر اگلے روز سید سجاد علی شاہ کے فی الواقع اس جہان فانی سے کوچ کر جانے کی خبر آ گئی۔ بے شک جس کا جو وقت متعین ہے۔ اس کے پورا ہوتے ہی اس کے جسد خاکی نے بس مٹی کا ڈھیر بن جانا ہے اور پھر پیچھے بس اس سے وابستہ یادیں ہی رہ جاتی ہیں۔ خوشگوار یادیں، تلخ یادیں، چشم کشا یادیں اور سبق آموز یادیں۔ سید سجاد علی شاہ سے منسوب عدالتی تاریخ تو کئی حوالے سے سبق آموز بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ اور قصہ¿ پارینہ ہوئی ان کی یادوں کے ساتھ ایک واقعہ میرے حوالے سے بھی وابستہ ہے اس لئے آج وہ یاد آئے تو بے شمار یاد آئے۔

عدلیہ کی تاریخ میں نظریہ ضرورت کے تحت جرنیلی اور سول آمروں کے ماورائے آئین اقدامات کو آئینی تحفظ دینے والے ججوں میں سید سجاد علی شاہ بھی شامل تھے۔ انہوں نے غلام اسحاق خاں کی جانب سے بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت اور اسمبلی توڑنے کے اقدام کے خلاف محترمہ کی دائر کردہ آئینی درخواست پر سپریم کورٹ کے متعلقہ بنچ کے رکن کی حیثیت سے بنچ کے دیگر فاضل ججوں ہی کی طرح غلام اسحاق خاں کے آمرانہ اقدام کی توثیق کی تھی تاہم انہوں نے غلام اسحاق خاں ہی کے ہاتھوں میاں نواز شریف کی برطرفی کے خلاف دائر آئینی درخواست پر سندھی اور پنجابی وزیراعظم کے حوالے سے اختلافی نوٹ تحریر کیا جو اس بنچ کا واحد اختلافی نوٹ تھا جبکہ سید نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں قائم اس بنچ کے باقی تمام فاضل ججوں نے میاں نواز شریف کی حکومت بحال کر دی تھی۔ سید سجاد علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں یہ نکتہ اٹھایا کہ اگر پنجابی وزیر اعظم کو بحال کیا جا سکتا ہے تو سندھی وزیراعظم کے ساتھ اس معاملہ میں امتیازی سلوک کیوں؟ حالانکہ سندھی وزیراعظم (بے نظیر بھٹو) کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والوں میں وہ خود بھی شامل تھے۔ سندھ سے تعلق ہونے کے ناطے ان کے اس اختلافی نوٹ کے پیپلز پارٹی کی جانب سے بہت ڈنکے بجائے گئے جبکہ پنجابی وزیر اعظم (میاں نواز شریف) نے اپنی بحالی سے متعلق ڈاکٹر نسیم حسن شاہ والے بنچ کا فیصلہ پارلیمنٹ ہاﺅس میں سنہرے الفاظ کے ساتھ کندہ کرا دیا۔

سید سجاد علی شاہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے منصب پر فائز ہوئے تو اپنی ذات کو اجاگر کرنے کیلئے کچھ کر گزرنے کے فلسفہ کے تحت انہوں نے آئین کی دفعہ 184 والے اپنے صوابدیدی اختیارات کو جوڈیشل ایکٹو ازم کیلئے خوب استعمال کیا ۔ عدالت عظمیٰ میں ہر دوسرے کیس میں میاں نواز شریف کی حکومت کے انتظامی اقدامات چیلنج ہوتے نظر آئے جس سے ان کے بارے میں میاں نواز شریف کے دل میں گرہ پڑی۔ میاں نواز شریف نے اپنی ایگزیکٹو اتھارٹی کی دھاک بٹھانے کیلئے فیصل آباد میں ایک پبلک جلسے کے دوران ایک دو اعلیٰ افسران کی مبینہ بے ضابطگیوں پر انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا تو سید سجاد علی شاہ نے ان کی ضمانت منظور کرنے کے احکام صادر کر دیئے۔ اس صورت حال میں میاں نواز شریف کو ان کے مشیروں نے سید سجاد علی شاہ کو قابو کرنے کیلئے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھائی ہوں گی۔ میرا گمان یہی ہے کہ مروجہ عدالتی نظام کی موجودگی میں خصوصی عدالتوں کی تشکیل جسے سید سجاد علی شاہ متوازی عدالتی نظام سے تعبیر کر رہے تھے، انہیں قابو کرنے کی کسی ”پٹی“ کا ہی شاخسانہ تھا جس پر وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ کے مابین ایک طرح کی محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس دوران محترم مجید نظامی نے وسیع تر قومی مفاد میں چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے مابین مفاہمت کی کوششوں کا آغاز کیا اور لاہور میں وزیراعظم سے سید سجاد علی شاہ کی ملاقات کا بھی اہتمام کر دیا جس میں وہ خود بھی شریک ہوئے۔ اس ملاقات میں بظاہر افہام و تفہیم ہی کا عندیہ ملا مگر میاں نواز شریف کے دل میں سید سجاد علی شاہ کے حوالے سے جو گرہ پڑی تھی وہ برقرار ہی رہی جس کا اظہار ان کی سرد مہری سے گا ہے بگا ہے ہوتا رہا۔ اسی طرح عدلیہ کی فعالیت سے متعلق سید سجاد علی شاہ کا جذبہ بھی ان کے دل میں موجزن رہا۔ اس دوران مرحوم حمید نظامی کی برسی کے موقع پر حمید نظامی میموریل سوسائٹی کی جانب سے الحمراءہال میں سالانہ تقریب کا اہتمام ہوا تو اس میں سید سجاد علی شاہ کو بطور مہمان خصوصی مدعو کر لیا گیا۔ اس تقریب کیلئے سید سجاد علی شاہ کی تقریر لکھنے کی ذمہ داری مجھے تفویض ہوئی جس میں میں نے ایگزیکٹو اتھارٹی کے مقابل عدلیہ کی آزادی کو فوکس کیا اور خصوصی عدالتوں کی تشکیل سے متعلق وزیراعظم کے فیصلے کے مضمرات بھی سید سجاد علی شاہ کی سوچ کی مناسبت سے اجاگر کئے۔ میرا گمان تھا کہ اس تلخ تقریر سے وزیراعظم اور چیف جسٹس سپریم کورٹ میں مزید کشیدگی پیدا ہو گی اس لئے چیف جسٹس اس تقریر سے گریز کریں گے مگر سید سجاد علی شاہ نے اس تقریر کو ہی بہتر گردانا اور پھر یوم حمید نظامی کی تقریب میں کی گئی ان کی یہی تقریر ”ٹاک آف دی ٹاﺅن“ بن گئی۔ حکومت نے اس تقریر سے اپنی سبکی محسوس کی اور فوری طور پر ”متبادل انتظام“ کے تحت خصوصی عدالتوں کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ سید سجاد علی شاہ بھی کہاں نچلے بیٹھنے والے تھے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے سپریم کورٹ کیلئے چار مزید جج مانگ لئے جس کا مقصد حکومت کو یہ پیغام دینا تھا کہ عدلیہ میں ججوں کی تعداد پوری کر دی جائے تو خصوصی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ حکومت بھی انہیں نیچا دکھانے پر تلی بیٹھی تھی چنانچہ وفاقی وزارت قانون نے چیف جسٹس کے متذکرہ عدالتی احکام کو عملی جامہ پہنانے کے بجائے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد مزید کم کر دی۔ یہی وہ اس انتہائی کشیدگی کا نکتہ¿ آغاز تھا جو مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی جانب سے سپریم کورٹ پر حملے پر منتج ہوئی۔ سید سجاد علی شاہ نے بطور چیف جسٹس اپنے صادر کئے گئے احکام پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف وزیراعظم نواز شریف کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے جس پر وزیراعظم نے عدالت کے روبروپیش ہونے کا فیصلہ کیا مگر اس دوران ہی پی ٹی وی کے اس وقت کے چیئرمین پرویز رشید نے سید علی شاہ کے خلاف پی ٹی وی پر خوفناک اشتہاری مہم شروع کرا دی جس کے باعث وزیراعظم کے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے وقت تک سیاسی اور عدالتی فضاءانتہائی تلخ ہو چکی تھی۔ چنانچہ ادھر وزیراعظم سپریم کورٹ میں داخل ہوئے اور اُدھر سپریم کورٹ کے احاطہ میں موجود مسلم لیگی ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے چیف جسٹس کے کورٹ روم پر حملہ کر دیا۔ اس میں ہمارے دوست بیرسٹر محمد اکرم شیخ بھی زخمی ہوئے۔ کشیدگی کی اس فضاءمیں ہی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کے اندر بغاوت ہوئی اور چیف جسٹس کے بنچ کے مقابل جسٹس سعید الزماں صدیق کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا متوازی بنچ تشکیل پا گیا جس نے وزیراعظم کے خلاف چیف کے بنچ کی توہین عدالت کی کارروائی غیر قانونی قرار دے دی۔ اس سے سید سجاد علی شاہ عملاً اپنے کورٹ روم میں محصور ہو گئے جہاں سے انہوں نے اس وقت کے صدر فاروق لغاری اور آرمی چیف پرویز مشرف کو مراسلہ بھجوایا جس کے تحت انہوں نے سپریم کورٹ کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا مگر ان کے اس مراسلہ کو درخور اعتنانہ سمجھا گیا۔ اس پر سید سجاد علی شاہ نے متوازی بنچ کے فاضل ججوں کے کوئٹہ سرکٹ بنچ میں تبادلے کے احکام جاری کر دیئے۔ جہاں عملاً پلک جھپکتے میں الجہاد ٹرسٹ کے حبیب الوہاب الخیری کی جانب سے سید سجاد علی شاہ کے صادر کئے گئے ججز تقرر کیس کے فیصلہ کی روشنی میں ایک آئینی درخواست دائر ہوئی جس میں سید سجاد علی شاہ کو ”سینئر موسٹ“ جج نہ ہونے کے باعث چیف جسٹس کے منصب سے ہٹانے کی استدعا کی گئی۔ اس کی سماعت کیلئے جسٹس خلیل الرحمان اور جسٹس ارشاد حسن خاں پر مشتمل ”کوئٹہ بنچ“ تشکیل پایا جس نے جھٹ پٹ اس درخواست کی سماعت کر کے سید سجاد علی شاہ کو بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ ”لے آف“ کر دیا بالکل ایسے ہی جیسے سید سجاد علی شاہ نے ججز تقرر کیس میں ججوں اور چیف جسٹس کے تقرر کے پیرامیٹرز وضع کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کے 20 کے قریب ججوں کو ”لے آف“ کیا تھا۔ سید سجاد علی شاہ اس وقت بیرون ملک دورے پر تھے اس لئے فوری طور پر سپریم کورٹ کے سینئر موسٹ جج محمد اجمل میاں کو ایکٹنگ چیف جسٹس بنا دیا گیا۔ اگلے روز جب سید سجاد علی شاہ ملک واپس آئے تو انہوں نے میڈیا کے روبرو یہ فقرہ چست کیا کہ آج اجمل میاں کی ”ایکٹنگ“ ختم ہو گئی ہے مگر درحقیقت ایکٹنگ ان کی اپنی ختم ہو چکی تھی کہ اپنی ریٹائرمنٹ تک باقی ماندہ عرصہ انہوں نے ”لے آف“ ہو کر سپریم کورٹ کے محض ایک جج کی حیثیت سے گزارا چنانچہ ریٹائرمنٹ پر انہیں چیف جسٹس والی مراعات بھی نہ مل سکیں۔
آج عدلیہ کی اس تاریخ کے دوسرے اہم کردار سعید الزمان صدیقی بھی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مشرف کے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا کر یقیناً بہت نیک نامی کمائی مگر سپریم کورٹ میں متوازی عدلیہ کی تشکیل کے حوالے سے ان کی ذات ہمیشہ متنازعہ بنی رہے گی۔ خدا ان دونوں مرحوم شخصیات کی بشری کمزوریوں اور خطاﺅں کو معاف فرمائے۔ نظام قدرت میں ہر ذی روح نے اپنے متعینہ وقت پر ”لے آف“ ہونا ہے۔ کاش خدا کی انسانی مخلوق کا ہر فرد اس حقیقت سے آشنا رہے کہ....

جائے گا جب یہاں سے کچھ بھی نہ پاس ہو گا
دو گز کفن کا کپڑا، تیرا لباس ہو گ
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com