بے ثبات زندگی کے مظاہر
Dec 27, 2016

آج کوئی ایک مہینے کے وقفے کے بعد کالم لکھنے بیٹھا ہوں تو اس فانی زندگی میں جدا ہونے والوں کا دکھ غالب آنے لگا ہے۔ ناپائیدار زندگی کی حقیقتیں کھلنے لگی ہیں۔ میں نے اپنے ایک پچھلے کالم میں یہ شعر لکھا تھا تو میرے قلم کے ساتھ میری سوچیں بھی لرزنے لگی تھیں کہ

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج تمہاری کل ہماری باری ہے

تو بھائی، یہ تو اب قطار ہی لگ گئی ہے۔ کیسے کیسے بیدار مغز اس فانی زندگی کا دامن چھوڑتے چلے جارہے ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران تین قیمتی ہیرے زندگی کا دامن جھٹک کر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے تو پھر ”کل ہماری باری ہے“۔ کل لاہور پریس کلب کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے گیا تو اپنے دیرینہ رفیق برادر بزرگ سید انور قدوائی کے سوئم کی دعا پڑھ کر آیا تھا۔ ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے نواب جاوید یوسف سے ملاقات ہو گئی جو ایک دہائی سے پریس کلب کی الیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے کلب الیکشن کے جگراتے والے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ ان سے معانقہ ہوا اور ساتھ ہی سید انور قدوائی کی یادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جاوید یوسف کا یہ فقرہ دل میں کُھب کر رہ گیا کہ لگتا ہے، پریس کلب کے لائف ممبرز کی لسٹ اللہ میاں کے پاس پہنچ گئی ہے۔ ارے زندگی تو بے ثبات ہے یارو، کلُ نفسً ذائقہ الموت۔ ذاتِ باری تعالیٰ کے اس اٹل پیغام کے بعد بھلا زندگی کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ بس پانی کا بلبلہ، ریت کی دیوار۔ اپنی ہی غزل کے کچھ اشعار نگاہوں کے سامنے گھومنے لگے

بے سواد زندگی، بے ترنگ زندگی
بُھکھ بُھکھ زندگی، ننگ ننگ زندگی
چُپ دے میدان وچہ کھلبلی مچاﺅندی
خوف خوف زندگی، جنگ جنگ زندگی
ہیر دی حیاتڑی اَجہ ایہہ سناﺅندی
زہر زہر زندگی، ڈنگ ڈنگ زندگی
زندگی لنگھا دیئے جے موت دی اڈیک تے
دس تُوں حقیقتاں، کہیہ ملنگ زندگی

مجھے فلسفہ¿ حیات و ممات نے ہمیشہ الجھائے رکھا ہے اور عقدہ کھلا ہے تو بس یہی کہ

آسی راز حیاتی والا
جینا، جی جی کے مر جانا

آدمی اس دھرتی پر کیا کچھ کر گزرنے کے عزم باندھتا ہے۔ دنیا زیر کرنے کی ٹھانتا ہے۔ نخوت و تکبر میں اپنے تئیں خدا بن بیٹھتا ہے مگر زیر و زبر کی قدرت رکھنے والے ربِّ کائنات کی رضا کو کبھی نہیں سمجھ پاتا۔ اگر فانی انسان کلُّ نفسً ذائقہ الموت کے فلسفہ¿ خالقِ کائنات کو پلّے باندھ لے تو دنیاوی آلودگیوں کو زندگی کی آسودگی سمجھنے کی لت میں کبھی مبتلا نہ ہو۔ مگر یہ سمجھ تبھی آتی ہے جب انسان اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کی سکت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ بھئی ”کھا لے پی لے موج اُڑا“ ہی زندگی نہیں۔ آپ لہو و لعب میں زندگی گزارنے کا جتنا تردد کریں گے، زندگی اتنا ہی آپ کو ہوس کے سمندر ڈبکیاں لگانے کے لئے دھکیلتی رہے گی اور ”آخر کو مر جانا ہے“ تو حضور والا، اس ”بے سواد زندگی، بے ترنگ زندگی“ سے لو لگانا چہ معنی دارد۔

بات ایک ہفتے میں بچھڑنے والے اپنے احباب کی کر رہا تھا۔ سوچوں نے کہاں دھکیل دیا۔ پھر زندگی کی بے ثباتی کا اس سے بڑا کوئی ثبوت ہے؟ ابھی 9 سال پہلے آج کے دن محترمہ بے نظیر بھٹو زندگی کی بازی ہار گئیں۔ آج پیپلزپارٹی کی قیادت اپنی شہید قائد کے قاتلوں کو کیفر کردار کو پہنچانے کی تجدید عہد کرتی نظر آرہی ہو گی مگر زندگی کی بے ثباتی سے بھی تو کچھ سبق سیکھ لیں اور مٹی کے اوپر محل ماڑیاں اسارتے اسارتے اس مٹی کی قدر کرنا بھی سیکھ لیں۔

فریدا خاک نہ نندیئے، خاکوں جیڈ نہ کوئے
جیوندیاں پیراں تھلے، موئیاں اوپر ہوئے

دو روز قبل سپردخاک ہونے والے ہمارے شفیق و مہربان سید انور قدوائی ہنستے، کھیلتے، چہکتے ہم سے اچانک رخصت ہو گئے۔ زندگی کی بے ثباتی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری سانس تک بھرپور زندگی گزارتے رہے اور زندگی کا آخری دن بھی آفس میں موجود رہے اور ڈیوٹی نبھا کر گھر پہنچے تو مزید زندگی کی ان کے پاس مہلت ہی نہیں رہی تھی۔ دل کا دورہ پڑا اور پلک جھپکتے میں ان کا جسدخاکی بس مٹی کا ڈھیر بن گیا۔ میری ان کے ساتھ رفاقت سالہا سال پر محیط ہے۔ نوائے وقت میں تقریباً 16 برس رپورٹنگ روم میں ان کی رفاقت میسر رہی۔ انتہائی شریف النفس، مرنجاں مرنج، شفیق، بذلہ سنج (یہ سارے الفاظ محض لفاظی نہیں بلکہ ہمارے نواب صاحب سید انور قدوائی کی ذات پر ہی فٹ آتے ہیں) چیف رپورٹر کی حیثیت سے اپنے سارے کولیگز کا خیال رکھنا اور ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا بھی انہوں نے اپنے منصبی فرائض کا حصہ بنایا ہوا تھا۔ 1996ءمیں وہ نوائے وقت سے بادل نخواستہ رخصت ہوئے اور جنگ ایڈیٹوریل کا حصہ بن گئے مگر ان کے ساتھ تعلق داری والے رشتے میں کبھی کمی نہ ہوئی۔ ٹریڈ یونین میں ہمارا صحافیوں کا گروپ بھی مشترکہ تھا چنانچہ اس ناطے سے بھی تعلقات کی گرہیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئیں۔ ان کے خالص پروفیشنل ہونے کا ثبوت یہی کافی ہے کہ اے پی این ایس نے کارکن صحافیوں کے لئے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کی داد کے لئے اے پی این ایس ایوارڈ کا اجراءکیا تو پہلے ایوارڈ کا مستحق سید انور قدوائی کو گردانا گیا۔ میں نے 1981ءمیں نوائے وقت جوائن کیا تو سید انور قدوائی اس وقت بھی چیف رپورٹر تھے۔ خوشی لباسی اور زبان و بیان کی شائستگی میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ کم و بیش تمام قومی سیاسی قائدین کے ساتھ ادب آداب والے قریبی تعلقات بھی ان کی ذات کے ساتھ منسلک ہو چکے تھے۔ نورانی میاں کے ارادت مندوں میں شامل تھے اور پیر صاحب پگارا شریف کے خاص دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے ساتھ ان کے بے تکلفی والے مراسم تھے۔ سچے کھرے پاکستانی اور قومی سیاست کا انسائیکلوپیڈیا۔ مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ گذشتہ ماہ لاہور پریس کلب نے میرے ساتھ ایک شام کا انعقاد کیا تو نواب انور قدوائی صاحب اپنی خرابی¿ صحت کے باوجود اس طویل نشست میں آخر تک رونق افروز رہے حالانکہ ان کے روزانہ کے معمولات میں صبح گیارہ بجے سے شام چار بجے تک آفس میں رہنا اور پھر گھر چلے جانا شامل ہو چکا تھا۔ انہوں نے وضعداری کا دامن نہ چھوڑا اور اپنے معمولات سے ہٹ کر میری پذیرائی کرتے رہے۔ پریس کلب کے انتخابات کا مرحلہ آیا تو اپنے گروپ میں بشمول میرے، تمام ساتھیوں سے مشاورت اور اپنے گھر پر آﺅبھگت کا سلسلہ اپنی زندگی کے آخری دن تک جاری رکھا۔ بے شک موت نے ہم سے ہمارا ایک قیمتی ہیرا چھین لیا ہے مگر یہی زندگی کی بے ثباتی ہے۔

اور پھر آپا رفعت۔ ان کے انتقال کی خبر تو ذہن پر ہتھوڑا بن کر برسی۔ ان سے فون پر جب بھی بات ہوئی وہ اپنی صحت سے زیادہ ہمارے برادر بزرگ اپنے رفیق حیات عبدالقادر حسن کی صحت کے بارے میں متفکر نظر آئیں۔ ان کا یہ فقرہ نوائے وقت کے لئے ان کی اپنائیت کے ڈنکے بجاتا نظر آتا ہے کہ نوائے وقت میرا میکہ بھی ہے اور سسرال بھی۔ ان کا اس فقرے کے پیچھے ان کی زندگی کی یادوں کی بہاریں ٹھاٹھیں مارتی نظر آتی ہیں۔ میں اکثر انہیں اپنی یادیں قلمبند کرنے کی درخواست کرتا تھا اور میرے اصرار پر وہ مرحوم حمید نظامی، یوم قائداعظم، یوم پاکستان اور پھر مرحوم مجید نظامی کے لئے اہتمام کردہ نوائے وقت کی خصوصی اشاعتوں میں اپنا حصہ ڈالتی رہیں۔ اب وہ اچانک ہم سے رخصت ہو گئی ہیں تو میں شش و پنج میں ہوں کہ رفعت آپا کی تحریروں کے لئے اب میں کس کو فون کر کے اصرار کروں گا۔

اور زندہ دل و شگفتہ مزاج مسرور کیفی بھی تو اسی ہفتے بیٹھے بٹھائے ہم سے رخصت ہو کر اَبد کو جا پہنچے ہیں۔ ایچی سن کالج کے دو گوہر ایسے تھے جن کی نوائے وقت سے بھی وابستگی رہی۔ ان میں سید سلطان عارف عرصہ ہوا اگلے جہان جا سدھارے اور اب مسرور کیفی کی رفاقت بھی زندگی کی بے ثباتی کا ثبوت فراہم کر گئی۔ ان سے آخری ملاقات بھی اسداللہ غالب صاحب کی جانب سے میرے ساتھ منعقد کی گئی ایک نشست میں ہوئی اور اب تو بس یادیں ہی یادیں رہ گئی ہیں۔

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com