ہمارے بادشاہ ’’جے بی‘‘
Nov 15, 2016

آج صبح نیٹ پر اپنی ’’فیس بُک‘‘ کھولی تو سب سے پہلے اپنے دیرینہ دوست افتخار احمد کی پوسٹ پر نظر پڑی ’’ہمارے دوست جے بی رخصت ہوئے‘‘ دل کو جھٹکا سا لگا، ارے کہاں رخصت ہو گئے۔ افتخار بھائی کی تحریر کی اگلی سطور پڑھیں تو پورا بدن جیسے سُن ہو کر رہ گیا۔ اُف خدایا یہ کیا ہو گیا۔ ان کی ایسی علالت کی کبھی اطلاع نہیں ملی تھی کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق نظر آتا ہو اس لئے ان کے جہان سے گزرنے کی افتخار بھائی کی جانب سے دی گئی اطلاع پر دل کو یقین ہی نہ آیا۔ پھر سوچا افتخار بھائی سے تو فی الواقع ان کی بہت دیرینہ رفاقت رہی ہے۔ دونوں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر منعقدہ پیپلز پارٹی کے تاسیسی کنونشن میں شریک تھے اور ایک ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ بیعت ہوئے تھے، اس طرح ان کا پیپلز پارٹی کے بنیادی ارکان میں شمار ہوتا تھا سو افتخار احمد نے ’’جے بی‘‘ کے ہمیشہ کے لئے رخصت ہونے کی اطلاع دی ہے تو یہ درست ہی ہو گی۔ پھر بھی دل کی بے چینی بڑھتی گئی اور فیس بُک پر آنے والے دوسرے ’’پیغامات‘‘ پڑھنا شروع کر دئیے۔ ہمارے دوست جہانگیر بدر کی ابدی رخصت کی اطلاع جا بجا بکھری پڑی نظر آئی۔ چودھری منور انجم، فواد چودھری، منیر احمد خان، چودھری محمد اکرم، چودھری خادم حسین، خاور نعیم ہاشمی، فرخ سہیل گوئیندی، فرخ مرغرب گویا سب نے اپنے تعزیت کے اظہار کے ساتھ جہانگیر بدر کے ناگہانی انتقال کی خبر کو شیئر کیا ہوا تھا۔ میری آنکھوں کے آگے ’’بادشاہ‘‘ (جہانگیر بدر) کا سراپا گھومنے لگا اور پھر ان سے وابستہ یادوں کے ایسے انبار لگے کہ ان میں سے تعزیت کے اظہار کے لئے الفاظ کا چنائو کرنا مشکل ہو گیا۔ وقت ٹی وی کے صبح کے پروگرام ’’نیوز لائونج‘‘ میں شریک ہوا تو عرفانہ سعید نے بھی جہانگیر بدر کا تذکرہ شروع کر دیا۔ ناصر کاظمی کا شعر بے اختیار زبان پر آ گیا

گزر رہا ہے عجب کش مکش میں دیدہ و دل
ملن کی آس تو ہے، زندگی کی آس نہیں
دل و ذہن پر اُداسی گھنگھور گھٹائوں کی طرح چھانے لگی ؎
دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

بدر بھائی کی یادوں کا کہاں سے تذکرہ شروع کروں کچھ سُجھائی نہیں دیتا، ان کے ساتھ 35، 40 سال کی رفاقت، نیاز مندی اور یار زندہ صحبت باقی والی امید۔ جب بھی ملے، جہاں بھی ملے زیادہ اپنائیت کا احساس ہوا۔ ہمارا صحافی اور سیاستدان کا نہیں، ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کرنے والے بھائیوں کا رشتہ تھا۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے آغاز سے ان کی سیاسی گوشہ نشینی تک ان کے بارے میں جو محسوسات دل میں جاگزیں ہوئیں وہ ان کی زندگی کے سانس پورے ہونے کی اطلاع ملنے تک برقرار ہیں اور آج یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نظریاتی سیاست میں سے اقدار بھی جہانگیر بدر کے ساتھ رخصت ہو گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالا کلچر کا جہانگیر بدر غالباً موجد تھا کیونکہ 1968ء میں پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد بھٹو مرحوم کے لئے اقتدار کی منزل کسی لمبی چوڑی اور مشقتوں والی جدوجہد کے بغیر ہی ہموار ہو گئی تھی۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد 71ء کے عام انتخابات میں مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو حاصل ہونے والے غیر یقینی مینڈیٹ کی بنیاد پر ہی یحییٰ خان نے انہیں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے شریک اقتدار کر لیا اور یحییٰ خان کی رخصت کے ساتھ ہی وہ پہلے سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی بن گئے اور ان کے بنیادی کارکنوں کا ’’بھٹو جیوے، صدر تھیوے‘‘ والا نعرہ بھی حقیقت بن گیا جس کے بعد 13 سالہ طویل فوجی حکمرانی کی کوکھ میں سے پارلیمانی جمہوری نظام نے جنم لیا تو باقیماندہ پاکستان میں وزارت عظمیٰ کا تاج بھی بھٹو کے سر پر سج گیا۔ سو اقتدار کی منزل کے یہ سارے مراحل اتنی تیزی سے طے ہوئے کہ بھٹو کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان کی حقیقی معنوں میں سیاسی تربیت نہ ہو سکی جس کے ناطے وہ بدتمیزی کے عنصر والے جیالے کہلائے۔ ان جیالوں کی سیاسی تربیت اور آزمائش کا آغاز تو جنرل ضیاء کے مارشل لا کے ذریعے پیپلز پارٹی کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد ہوا تھا۔ اس آزمائش کے آغاز ہی میں بلاشبہ جہانگیر بدر بھی سرخرو ہوئے تھے جنہیں فوجی عدالت کے فیصلہ کے تحت ٹکٹکی سے باندھ کر دس کوڑوں کا زیور پہنایا گیا۔ اس سے پہلے وہ سٹوڈنٹ لیڈر کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے اور لاہور ہیلے کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے تاہم پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں اس مادر علمی میں مستحکم ہونے والی اینٹی بھٹو سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی میں خالصتاً ایک کارکن کی حیثیت سے سیاست کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جنرل ضیاء کی فوجی آمریت کی مزاحمت کی علامت بن گئے۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں پہلے سیکرٹری ریکارڈ اینڈ ایونٹس مقرر ہوئے، پھر فنانس سیکرٹری، پھر جنرل سیکرٹری اور پھر پنجاب کے صدر۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کا ہر منصب پارٹی قیادت کے ساتھ اٹل وفاداری اور اس کی فلاسفی کے ساتھ انمٹ وابستگی کی بنیاد پر پایا۔ 1981ء میں جنرل ضیاء کی مزاحمت کے لئے اپوزیشن اتحاد ایم آر ڈی تشکیل پایا تو جہانگیر بدر لاہور ہائیکورٹ بار کے پلیٹ فارم سے شروع ہونے والی ضیاء مخالف تحریک میں پیش پیش نظر آنے لگے۔ وہ ’’گراس روٹ لیول‘‘ سے جستیں بھرتے ہوئے اوپر کے مناصب تک آئے تھے اس لئے پارٹی صفوں میں ’’بزعم خویش‘‘ لیڈران کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار فطری امر تھا۔ چنانچہ وہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر بنے تو ان کے خلاف پارٹی میں ’’چار کا ٹولہ‘‘ ایجاد ہو گیا جس کے سرخیل ملک معراج خالد اور ڈھول بجانے والوں میں افضل سندھو، رائو رشید، پیر سید ناظم شاہ شامل تھے۔ ایک سٹیج پر ’’بھٹو دے نعرے وجن گے‘‘ والے پیپلز پارٹی کے عوامی شاعر معظم علی معظم بھی چار کے ٹولے کے سحر میں مبتلا ہو گئے اور جہانگیر بدر کے آبائی علاقے احاطہ پانی والا تالاب میں پیر ناظم حسین شاہ کے جلوس اور جلسے کی زینت بن گئے۔ پھر میاں احسان الحق بھی اسی چار کے ٹولے کا حصہ بنے نظر آئے مگر پیپلز پارٹی کے اندر یہ تنظیمی اختلافات تادیر قائم نہ رہ سکے اور پیپلز پارٹی کے سیاسی بزر جمہروں کو بھی بالآخر جہانگیر بدر کی قیادت کو تسلیم کرنا پڑا۔ 10 اپریل 1986ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی ترک کر کے ملک واپس آئیں تو اس وقت جہانگیر بدر ہی پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر تھے جنہوں نے ائر پورٹ سے مینارِ پاکستان تک ان کے جلوس اور جلسے کے ایسے انتظامات کئے کہ ان کے ’’وفاداری بشرط استواری‘‘ والے جیالا پن کی ساری گرہیں کھل گئیں اور پھر محترمہ کے اعزاز میں منعقدہ ہر تقریب میں وہ کٹڑ لاہوری پنجابی لہجے میں رونق محفل بنے نظر آئے۔ اکثر اوقات سینٹر گلزار احمد خان کے گھر رونق میلہ لگتا یا پھر کبھی کبھار مخدوم فیصل صالح حیات، سردار فاروق لغاری اور رانا شوکت محمود کے گھر ایم آر ڈی کے جلوے محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلو میں نظر آتے جبکہ ہر جگہ جہانگیر بدر پارٹی کے صوبائی صدر کے علاوہ محترمہ کے محافظ کا کردار بھی ادا کرتے نظر آتے۔ ایک بار سینٹر گلزار احمد خان کے گھر ایسی ہی کش مکش میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں ان کی سلمان تاثیر کے ساتھ مڈبھیڑ ہو گئی اور نوبت گھونسہ بازی تک آ پہنچی تو محترمہ بے نظیر بھٹو جہانگیر بدر کے منہ سے کٹڑ پنجابی زبان میں نکلنے والے ’’شگوفوں‘‘ سے خوب محظوظ ہوئیں۔ انہوں نے مرکزی سیکرٹری جنرل تک پارٹی کے اعلیٰ تنطیمی عہدوں کا ہی پھل نہیں پایا، محترمہ بے نظیر بھٹو کے دونوں ادوار حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہے۔ پھر عام انتخابات میں ناکام ہونے کے بعد سینیٹر کے منصب کی صورت میں بھی اپنے جیالا پن کا سرٹیفکیٹ لیتے رہے۔ ہماری اکثر نشستیں ان کے گھر کریم بلاک میں ان کے ہاتھوں کی بنائی ’’توا مچھلی‘‘ کی اشتہاء کے ساتھ ہوا کرتی تھیں اور ہمارے دوست چودھری خادم حسین ان نشستوں کے اہتمام میں پیش پیش ہوتے تھے۔ زرداری صاحب کے دور میں انہیں غالباً محترمہ کی قربت والے جیالے ہونے کی سزا ملی۔ سیکرٹری جنرل کے منصب سے ہٹے تو عملاً سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ اس کا فائدہ انہیں یہ ہوا کہ انہوں نے پولیٹیکل ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لی اور سیاسیات پر ایک وزنی کتاب بھی لکھ ڈالی۔ کافی عرصے سے ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔ میری کالموں کی کتاب ’’ کب راج کرے گی خلق خدا‘‘ کی رونمائی کی تقریب ہوئی تو جہانگیر بدر دبئی میں تھے۔ وہیں سے انہوں نے تقریب کے دوران فون کر کے مجھے کہا کہ آپ مجھے اس تقریب میں شامل سمجھیں۔ کچھ دنوں سے سوچ رہا تھا کہ بدر صاحب کے ساتھ ’’توا مچھلی‘‘ والی نشست بحال کی جائے مگر آج ان کے ناگہانی انتقال کی خبر نے سوچوں کے سارے تانے بانے اُلٹا دئیے ہیں۔ ’’مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اُداس ہے۔‘‘ آہ بادشاہ، یہ تم نے کیا کیا

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب، قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com