ٹرمپ کی فتح۔ امریکی سائیکی کی فتح
Nov 10, 2016

ہلیری امریکی عوام سے زیادہ شاید ہماری امیدوار تھیں اس لئے ہماری تمام نیک تمنائیں ہلیری کے ساتھ تھیں اور ہماری تمام نفرتوں کا رخ ٹرمپ کی جانب تھا۔ سوشل میڈیا ہی نہیں، ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی اور رائے عامہ ہموار کرنیوالے گیلپ پول جیسے ادارے بھی اپنی مجموعی خواہشات و توقعات کا سارا وزن ہلیری کے پلڑے میں ڈال رہے تھے۔ اگر اس شورا شوری میں ٹرمپ کی ممکنہ کامیابی کا تذکرہ کہیں پڑھنے، دیکھنے، سننے کو ملتا تو وہ تضحیک آمیز الفاظ اور لہجے میں حیرت کے اظہار کی صورت میں نظر آتا تھا۔ کچھ حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ تبصرے بھی پڑھنے کو ملے کہ اگر ٹرمپ امریکہ میں جیت جائے گا تو پھر پاکستان میں عمران خان بھی جیت سکتا ہے۔ ہمارے خوش طبع دوست بدرمنیر چودھری نے تو گزشتہ روز امریکی انتخابات میں ووٹنگ کے مرحلے کے دوران سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے اپنے ’’بدرنامہ‘‘ میں یہ گرہ بھی لگا دی تھی کہ اب چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا ہے جب ساری دنیا ایک عورت کے اشاروں پر ناچے گی۔ ہماری سرزمین پر کوئی ایک بھی فرد یا حلقہ ایسا نہیں تھا جس نے ٹرمپ کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا ہو۔ اور تو اور امریکہ کی انتخابی فضا کا بھی سوشل میڈیا پر جائزہ لیتے ہوئے ٹرمپ کیلئے کسی ہمدردی کا شائبہ تک نہیں ملتا تھا اور پاکستانی نثراد مسٹر خان نے تو ہلیری کی انتخابی مہم کو خاصہ گرمایا ہوا تھا جو امریکہ کیلئے اپنے بیٹے کی شہادت کا امریکی مسلمان شہریوں کی جانب سے امریکی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے تذکرہ کرتے ہوئے ٹرمپ کو امریکی آئین کے مطالعہ کی تلقین کرتے نظر آتے تھے اور پھر ٹرمپ کے خواتین کیساتھ بداخلاقی اور بدتمیزی کے واقعات کو اچھال کر ٹرمپ کو نفرت اور عبرت کا نشان بنانے کی بھی کوشش کی گئی جس کے باعث ٹرمپ کی پارٹی ری پیپبلکن کی اہم رکن کونڈا لیزا رائس نے بھی ٹرمپ کی مخالفت والے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا اور ری پبلکنز کے اہم سینیٹر جان مکین بھی اپنی پارٹی کے امیدوار ٹرمپ کی مخالفت پر اتر آئے۔ تو ایسی مخالفانہ فضا میں امریکی صدر کیلئے ٹرمپ کی کامیابی کو کیا کسی معجزے سے تعبیر کیا جائے یا اب حقائق کی آنکھیں کھول کر اس سارے معاملہ کا جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے؟

قطع نظر اس بحث کے کہ ہلیری امریکی مفادات کے تناظر میں ہمارے لئے کتنی بہتر ثابت ہو سکتی تھیں اور ٹرمپ اب ہمارے لئے کتنے برے اور خطرناک ثابت ہوں گے۔ ذرا امریکی عوام کی سائیکی کا بھی تو جائزہ لے لیں۔ اگر ہم یہ رائے اخذ کریں کہ امریکی ہاتھی نے امریکی گدھے کو کچل دیا ہے تو یہ کسی فرد واحد کی نہیں بلکہ ایک پارٹی کے مقابل دوسری پارٹی کی فتح نظر آتی ہے اور اب تک کے امریکی انتخابات کے نتائج یہی گواہی دے رہے ہیں کہ امریکی عوام تبدیلی کیلئے زیادہ جوشیلے ہوتے ہیں۔ وہاں دو ہی پارٹیاں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی انتخابی میدان میں اترتی ہیں اور امریکی عوام کو ان دو میں سے ہی کسی ایک کے اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہوتی ہے اس لئے امریکی انتخابات میں ووٹ کسی فرد کا نہیں بلکہ پارٹی کا ہوتا ہے۔ امریکہ کی گزشتہ ربع صدی کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو امریکی عوام ان دونوں پارٹیوں کو دو دو ٹرموں کے اقتدار کا موقع فراہم کرتے رہے ہیں۔ ری پبلکن رونالڈ ریگن کی دو ٹرموں کے بعد ڈیمو کریٹ بل کلنٹن کی دو ٹرمیں جسے کلنٹن کے خلاف مونیکا سکینڈل بھی متاثر نہ کر سکا۔ ان دونوں کے درمیان صرف جارج بش سینئر ایک ٹرم نبھا پائے تھے جو ری پبلکن کا تیسری ٹرم نبھانے کا ریکارڈ بنا مگر کلنٹن کے بعد ری پبلکن کے جارج بش جونیئر نے دو ٹرمیں نبھائیں اور پھر اوبامہ امریکی عوام کیلئے تبدیلی کی علامت بنے جنہوں نے دو ٹرمیں نبھائی ہیں تو فطری طور پر امریکی عوام نے اپنے تبدیلی کے خواستگار مزاج کے تابع ری پبلکن کے حق میں ہی فیصلہ دینا تھا اس لئے انہیں ری پبلکن امیدوار ٹرمپ کا ان کے ذاتی کردار اور مزاج کے باعث قابل نفرین ہونا بھی ری پبلکن پارٹی کو تبدیلی کے تصور کے تحت اقتدار میں لانے سے نہیں روک سکا۔ سو یہ ہاتھی کی گدھے پر جیت ہے جو ہماری کسی خواہش کے تابع نہیں ہو سکتی۔

ٹرمپ کی کامیابی کی جو دوسری بڑی وجہ مجھے نظر آتی ہے وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ایک خاتون کو امیدوار نامزد کرنیوالی غلطی ہے۔ بے شک امریکہ خواتین کے حقوق کا چمپئین ہونے کا داعی ہے اور مغربی معاشرے کو مادر پدر آزادی والے معاشرے سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں خواتین کے حقوق مردوں سے بڑھا چڑھا کر دکھائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس معاشرے میں مرد بھیگی بلی بنے نظر آتے ہیں مگر اس مغربی معاشرے کی نمائندگی کرنے والے امریکہ میں جو دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے زعم میں بھی مبتلا ہے، آج تک کسی خاتون کو حکمرانی کا اہل نہیں گردانا گیا۔ غالباً وہاں یہ تاثر راسخ ہو گیا ہے کہ کسی خاتون کی حکمرانی میں امریکہ کا سپر پاور والا رعب دبدبہ برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس لئے امریکی عوام کی اکثریت کسی خاتون کو صدارت کے منصب تک پہنچانے کیلئے سیڑھی بننے کو تیار نہیں، چنانچہ ہلیری اسی تناظر میں امریکی عوام کی سائیکی کا شکار ہوئی ہیں ورنہ انہیں کم از کم امریکی ریاستوں فلوریڈا اور اوہائیو میں تو کبھی ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو ڈیموکریٹس کی محفوظ ریاستیں ہیں۔ مردانہ غلبے والی امریکی عوام کی سائیکی تو ٹرمپ کے متعدد خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے سیکنڈلز منظر عام پر آنے سے بھی مطمئن ہوئی ہو گی اس لئے ٹرمپ مخالف یہ مہم بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔

اور پھر میرا گمان یہ نتیجہ بھی اخذ کر رہا ہے کہ مسلم کمیونٹی اور پاکستان کی جانب سے ہلیری کی کھلی حمایت بھی امریکی عوام کی اکثریت کو گوارہ نہیں ہوئی جن کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ پاکستان اور مسلم کمیونٹی دہشت گردی کا منبع ہے۔ یہ تاثر واشنگٹن پر براجمان ری پبلکن ہی نہیں ڈیموکریٹس کی جانب سے بھی یکساں طور پر دیا جاتا رہا ہے اس لئے ہلیری کی مسلم کمیونٹی اور پاکستان کی جانب سے حمایت سامنے آئی تو اس تاثر کے اسیر ہوئے امریکی عوام نے ٹرمپ کو ان کی خامیوں سمیت قبول کرنے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگائی، اگر ٹرمپ کو مجموعی 540 میں سے 290 الیکٹورل ووٹ حاصل ہوئے ہیں جو ان کی واضح اکثریت سے کامیابی کا ثبوت ہے تو یہ کوئی معجزہ یا محض اتفاق نہیں بلکہ امریکی عوام کی اجتماعی سوچ کا غماز ہے۔ اب آپ سر پیٹتے رہئیے اور ٹرمپ کے دور اقتدار میں پیش آنیوالی سختیوں کے قیافے لگاتے رہئیے۔ انہونی تو ہو کر رہی ہے۔ اب ٹرمپ، مودی گٹھ جوڑ ’’چوکھا‘‘ رنگ لائے گا اس لئے اب بہرصورت اپنی سلامتی کی زیادہ فکر کیجئے۔ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کی کسی دوسرے کے ساتھ توقعات وابستہ کرنے کا ایسا ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ خدا لگتی کہئیے۔ ٹرمپ کی کامیابی سے کیا ہمارے لئے خود کو امریکی کیمپ سے نکالنا آسان نہیں ہو گیا؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com