دو نومبر سے پہلے تاریخ کا سبق
Nov 01, 2016

پچھلے ہفتے مجھے دو تقریبات میں شرکت کرنا تھی۔ ایک تقریب ہفتے کے روز الحمرا ہال میں ہمارے محبوب کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی کے اعزاز میں بطور تقریب پذیرائی منعقد ہو رہی تھی جس کا دعوت نامہ برادرم طاہر صاحب ہمارے سبزہ زار ویلفیئر فیڈریشن کے روح رواں سجاد اکبر قاضی کے جلو میں میرے گھر آ کر دے گئے تھے۔ میں اس تقریب میں شرکت کے لئے آفس سے باہر نکلا ہی تھا کہ طاہر صاحب کا فون آ گیا اور انہوں نے رندھے ہوئے لہجے میں بادل نخواستہ یہ اطلاع دی کہ لاہور میں دفعہ 144 نافذ ہو گئی ہے اس لئے ہمیں مجبوراً یہ تقریب ملتوی کرنا پڑی ہے۔ میں آفس واپس لوٹ آیا۔ دوسری تقریب آج پیر کے روز الحمرا کلچرل کمپلیکس قذافی سٹیڈیم لاہور میں امن و محبت کے مبلغ ہمارے صوفی شاعر بابا فرید گنج شکر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بابا فرید انٹرنیشنل کانفرنس کی صورت میں منعقد ہونا تھی جس کے لئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغریٰ صدف نے مجھے اپنائیت بھرے جذبے کے ساتھ شرکت کے لئے مدعو کیا مگر گزشتہ روز اس تقریب کے التوا کی بھی ”پلاک“ کی جانب سے اطلاع موصول ہو گئی، مجبوری وہی بتائی گئی کہ لاہور میں دفعہ 144 نافذ ہو گئی ہے۔ کیا امن کا پیغام دینے والی ایسی بے ضرر تقاریب کو بھی دفعہ 144 کی زد میں میں لا کر ان کا انعقاد ناممکن بنانا کسی دانشمندی کے زمرے میں آتا ہے۔ یقیناً یہ بھیڑ چال پر مبنی حکومتی انتظامی فیصلے کا ہی شاخسانہ ہے کہ الحمرا آرٹس کونسل کی انتظامیہ کو بے ضرر قسم کے علمی اور ادبی اجتماعات کے انعقاد سے بھی روک دیا گیا ہے۔

بھئی لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کی آخر ضرورت ہی کیوں پیش آئی، مجھے عمران کے دھرنے سے ڈرے ہوئے حکمرانوں کی بے بسی پر ترس بھی آ رہا ہے اور عجلت میں حکومتی انتظامی مشینری کی جانب سے دھرنے کی تاریخ سے دس روز پہلے ہی ” ردِّ دھرنا“ کے طور پر اٹھائے جانے والے اقدامات کے ممکنہ نتائج کو بھانپ کر خوف بھی محسوس ہو رہا ہے کہ عمران خان جمہوریت کو بندوق والوں کی جانب سے ایک بار پھر ہانک کر اندھیروں کی جانب دھکیلنے کی راہ ہموار کرنے کے جس ایجنڈے کو شاید اپنے 2 نومبر والے دھرنے کے زور پر بھی پورا نہ کر پاتے، اس کی تکمیل کے لئے حکمرانوں نے خود عجلب میں دھرنا تحریک کو بزور روکنے کے اقدامات اٹھا کر راستہ صاف کر دیا ہے اور اب ”دما دم مست قلندر“ والی لفاظی عملی قالب میں ڈھلتی نظر آ رہی ہے۔ دفعہ 144 اسلام آباد تک ہی محدود نہیں رہی، ملک کے چپے چپے پر جبر کا نشان بنا کر لٹکا دی گئی ہے۔

عمران کو اور کیا چاہئے تھا، سو حکومتی بے تدبیریوں سے ”انّھے ہتّھ بٹیرہ“ آ گیا ہے اور وہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا بھی ”تراہ“ نکال رہے ہیں۔ تو جناب، کچھ تو ہے اس شور و مستی کا سبب۔ اور پھر آپ نے بھی تو کمال کر دیا ہے۔ پروین شاکر کے اس شعر میں کتنی گہرائی ہے

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
میں نے تو صرف بات کی، اس نے کمال کر دیا

ارے ۔ ممکنات میں یہ سوچ بچار تو ہوتی ہے کہ ”کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے“ مگر پروین شاکر کے ممکنہ فیصلے کے اظہار کے بعد دوسرے فریق کی جانب سے کمال کرنے یعنی امکان کو حقیقت بنانے پر انہیں جس تاسف کا اظہار کرنا پڑا، ویسا ہی کمال حکمرانوں نے اپنے جبری اقدامات کے ذریعے عمران کی دھرنا تحریک کے پس پردہ مقاصد کی تکمیل کی فضا بنا کر دکھا دیا ہے۔ اس کمال پر تاسف کا اظہار تو پھر اپنے آشیانے والی شاخ اپنے ہاتھوں کاٹ کر دھرنا حامی اور دھرنا مخالف ہمارے سارے محترم سیاسی قائدین بحالی¿ جمہوریت کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر یہ راگ الاپتے ہوئے ہی کریں گے کہ

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار تو میں بولوں ہائے دل

اس تاسف والی منزل کے لئے آج کیسے جستیں بھری جا رہی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکار کو کسی حکمت کے تحت ہدایت کی کہ اسلام آبادآنے والے راستے کنٹینر لگا کر بند کریں نہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائیں اور اس کے دھرنے کے لئے پریڈ گراﺅنڈ کی جگہ مختص کر دیں۔ آپ عدالت کے اس فیصلہ کو اس کی روح کے مطابق عملی جامہ پہنا دیتے۔ پی ٹی آئی والوں کے اسلام آباد آنے والے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالتے اور وہ اسلام آباد آنے کے بعد پریڈ گراﺅنڈ کی بجائے پارلیمنٹ ہاﺅس اور عدلیہ کے راستوں میں غدر مچاتے تو پھر عدالتی فیصلہ کی روشنی میں اس غدر کو ریاستی طاقت سے روکنے کا آپ کے پاس جواز موجود ہوتا مگر آپ نے تو ایک ہفتہ پہلے خود ہی غدر مچا دیا۔ اس لئے آج عملاً ”انّھے ہتّھ بٹیرہ“آ گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرنا کیس میں عمران خان کو آج 31 اکتوبر کو طلب کیا تھا۔ آپ نے بنی گالہ کے ارد گرد رکاوٹیں پیدا کر کے وہاں سے بے دریغ گرفتاریاں عمل میں لا کر عمران کو عدالت میں پیش نہ ہونے کا جواز فراہم کر دیا حالانکہ وہ خود بھی عدالت میں پیشی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے اور آزادانہ ماحول میں وہ دانستہ عدالت میں پیش نہ ہوتے تو اس سے ان کا تشخص خراب ہوتا۔ اب انہوں نے دانستہ عدالت میں پیش نہ ہونے کے اپنے ممکنہ فیصلے کو آپ کے فراہم کردہ جواز کے تحت عملی جامہ پہنا کر بھی اپنی سیاست کو چمکا لیا ہے۔ پھر یہی جواز اس کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان کے وکلاءڈاکٹر بابر اعوان اور نعیم بخاری کے ہاتھ آیا جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت کے لئے توہین آمیز کلمات ادا کرنے والے عمران خان کی تقاریر کے ویڈیو چلوا کر انہیں دس منٹ کے اندر اندر عدالت کے روبرو حاضر ہونے کا حکم صادر کیا اور باور کرایا کہ کیا عمران کے سوا اور کسی کی عزت نہیں ہے تو عمران کے وکلاءنے بھی یہی عذر پیش کیا کہ عمران کو کورٹ میں لانے کے لئے ہمارا بنی گالہ تک پہنچنا ہی دشوار بنا دیا گیا ہے اس لئے دس منٹ کے اندر اندر انہیں کیسے عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس وقت باہر کی فضا دفعہ 144 والے جبر سے آزاد ہوتی اور عمران خان کے وکلاءکے پاس عمران تک نہ پہنچ پانے کا عذر موجود نہ ہوتا تو عدالتی احکام کی عدم تعمیل خود عمران خان اور ان کے وکلاءکے گلے پڑ جاتی مگر حکومتی پُھرتیوں نے عمران کی سیاست کے لئے مزید رونق میلے کی فضا بنا دی۔ اب وزیر اعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک لاﺅ لشکر کے ساتھ اسلام آباد چڑھائی کا اعلان کر چکے ہیں۔ یہ سطور شائع ہونے تک وہ اپنے اس اعلان پر سماں باندھ بھی چکے ہوں گے۔ آپ دفعہ 144 کی تلوار لٹکا کر ان کا راستہ بھی رو کیں گے تو پھر جناب غدر ہی غدر ہے۔ آپ ”اس کے بعد آئے جو عذاب آئے“ کے فلسفہ کے تحت خود کو سیاسی شہادت کے درجہ پر سرفراز کرانے کی حکمت عملی رکھتے ہوں گے مگر راستہ آپ عمران کی سیاسی شہادت کا ہموار کر رہے ہیں۔ آپ کو کم از کم فضا تو ایسی استوار کرنی چاہئے تھی کہ آپ کی سیاسی شہادت پر عوام کا جم غفیر آپ کو کندھا دینے کے لئے میدان کار زار میں ڈٹا ہوا نظر آتا ہے۔ معاف کیجئے۔ آپ کے ہاتھوں استوار کی گئی فضا سے آج آپ کا اپنا بیان کردہ پہلے والا ماحول ہی غالب ہوتا نظر آ رہا ہے کہ جو مجھے قدم بڑھاﺅ نواز شریف کے فلک شگاف نعرے لگا کر حوصلہ دیا تھے۔ میں نے قدم بڑھانے کے بعد پیچھے مُڑ کر دیکھا تو ان میں کوئی ایک بھی موجود نہیں تھا۔ ارے صاحب! آپ کم از کم اپنے اس ایک تجربے سے ہی سبق سیکھ لیتے مگر تاریخ کا یہی سبق ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ سو بھگتئے، 2 نومبر بھلا کس نے دیکھنا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com