عاصمہ جہانگیر کی درد مندانہ صدا
Oct 28, 2016

ہماری پیاری بہن عاصمہ جہانگیر نے تو خلوص دل کے ساتھ ’’عزیز سیاستدانوں‘‘ سے اپیل کی ہے کہ آپ جس شاخ پر بیٹھے ہو، اسے مت کاٹو۔ عاصمہ جہانگیر اس ملک غلام جیلانی کی صاحبزادی ہیں جنہوں نے اپنی اسی صاحبزادی کے عاصمہ جیلانی والے نام پر غاصب یحییٰ خاں کے مارشل لاء کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت عظمیٰ نے یحییٰ خان کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اس کیس کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے انہیں غاصب قرار دیا تھا۔ پھر یہی ملک غلام جیلانی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف بینر اٹھائے تن تنہا مال روڈ پر آ نکلے تھے۔ وہ ضیاء آمریت کو اپنی زندگی میں مسلسل چیلنج کرتے رہے اور اس ناطے سے ان کا گلبرگ والا گھر ضیاء مخالفین کا گڑھ بنا رہا۔ مجھے بھی اسی گھر میں نواب اکبر بگٹی، غوث بخش بزنجو، سردار فاروق لغاری، معراج محمد خاں، خدائے نور، مشیر پیش امام، غلام مصطفیٰ جتوئی، سردار شیرباز خاں مزاری، بیگم نسیم ولی خاں، فتحیاب علی خاں، نفیس صدیقی، احمد میاں سومرو، سلیمان کھوکھر، سید افتخار گیلانی سمیت اس وقت کے ضیاء آمریت کے کٹڑ مخالف ایم آر ڈی کے قائدین سے ملاقات کا موقع ملتا رہا جبکہ لاہور میں مقیم ایم آر ڈی کے قائدین چودھری اعتزاز احسن، احسان وائیں، ملک حامد سرفراز، ملک معراج خالد، جہانگیر بدر، سلمان تاثیر، حبیب جالب، سردار شوکت علی، میاں بشیر ظفر، چودھری صفدر علی بندیشہ، سید منظور علی گیلانی، چودھری لیاقت وڑائچ، رانا شوکت محمود اور ضیاء آمریت کے کٹڑ مخالف لاہور ہائیکورٹ بار کے اس وقت کے صدر سید افضل حیدر اکثر اوقات ملک غلام جیلانی کے گھر سیاسی رونق میلہ لگائے نظر آتے تھے۔ خود عاصمہ جہانگیر ہائیکورٹ بار کے علاوہ ویمن ایکشن فورم (ویف) کے پلیٹ فارم پر بھی اکثر شاہراہ قائداعظم پر ضیاء آمریت کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور دھرنوں کی قیادت کرتی نظر آتی تھیں، اس وقت بیگم طاہرہ مظہر علی خاں اور شیریں مسعود بھی عاصمہ جہانگیر کے ساتھ نعرہ بازی کرتی دکھائی دیا کرتی تھیں اور ایم آر ڈی کے جلوسوں پر ہونے والی آنسو گیس کی بے دریغ شیلنگ کی زد میں آ کر آنسو بہاتی نظر آتی تھیں اس لئے جرنیلی آمریتوں کی سختیوں اور جمہوری اقدار کی اہمیت سے عاصمہ جہانگیر سے زیادہ اور کون واقف ہو سکتا ہے؟ مشرف آمریت کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر کی حیثیت سے وہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی وکالت کرتی رہی ہیں اس لئے آج وہ یہ درد مندانہ اپیل کر رہی ہیں کہ اے پیارے اور عزیز سیاستدانو! جس شاخ پر بیٹھے ہو، اسے مت کاٹو کیونکہ اس کا نقصان سب سے زیادہ آپ کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ تو اس درد کو عاصمہ جہانگیر سے زیادہ اور کوئی محسوس نہیں کر سکتا۔ وہ عمران خان کو باور کرا رہی ہیں کہ اگر ادارے نہیں ہیں تو پھر سیاسی جماعتوں کا بھی کیا کام ہے، اداروں کے ساتھ وہ بھی گھر چلے جائیں گے۔

آج عاصمہ جہانگیر بھی اپنے والدملک غلام جیلانی کی طرح نقار خانے میں طوطی کا کردار ادا کرتے ہوئے تنہا آواز بلند کر رہی ہیں مگر ’’شاخ‘‘ کٹوانے کا اہتمام کرنے والے عمران و قادری کو اگلے 12، 14 سال پر محیط جرنیلی آمریت بھگتنی پڑے گی تو انہیں شاخ کٹنے سے اپنے آشیانے کی ہونے والی تباہی کا احساس ہو گا۔ شاید ہمارے کینیڈین دوست طاہر القادری کو اس مہم جوئی کا زیادہ نقصان نہ ہو کہ انہوں نے پاکستان سے باہر کافی کچھ بنا سنوار لیا ہے مگر عمران خاں تو پاکستان کی سیاست اور اس کی بہتری کے داعی ہیں، وہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مار کر اپنی باقی ماندہ عمر میں لنگڑاتے اور لاٹھی ٹیک کر ہی چلتے رہیں گے۔ اگر عاصمہ جہانگیر کی درد مندانہ اپیل نے ان کے عزائم کا کچھ نہیں بگاڑا اور وہ آج 28 اکتوبر سے اپنے پارٹی کارکنوں کو جرنیلی آمریت کیلئے دہکائی گئی بھٹی کا ایندھن بنانے کا آغاز کر رہے ہیں جنہیں اپنے جہازوں کے مزے لوٹنے اور یخ بستہ ائرکنڈیشنروں میں استراحت فرمانے والے اپنے نازک مزاج لیڈروں کے بغیر ہی آج لاہور سے اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ کرنے کی ہدایات ملی ہوئی ہیں تو ان کا ایجنڈہ جمہوری انداز کو ملیا میٹ کرنے والا ہی نظر آتا ہے۔ ارے! یہ تو سیدھی سادی اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی سیاست ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی ہی درخواست پر پانامہ لیکس کے معاملہ کی چھان بین کیلئے یکم نومبر کو کیس کی سماعت کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے اور وہ اس درخواست کی سماعت کی بھی نوبت نہ آنے دینے کیلئے اسلام آباد کو بند کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی عمران خان کے دھرنا تحریک کے حوالے سے اب تک کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں کنٹینروں اور دوسری رکاوٹوں کے ذریعے اسلام آباد بند کرنے کا کوئی بھی قدم اٹھانے سے روک دیا ہے مگر وہ اس عدالتی حکم کو بھی تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد کی جانب بگٹٹ دوڑے چلے جانے کا حکم دے رہے ہیں اور خود شہباز شریف کو بھی اپنی سیاسی ہوس کاری کا نشانہ بنانے کی راہ اختیار کر چکے ہیں جس کے جواب میں میاں شہباز شریف نے بھی ان کے خلاف ساڑھے 26 ارب روپے کا ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کر کے ’’ایسے کو تیسا‘‘ والی سیاسی محاذ آرائی کی راہ نکال لی ہے۔ اس گرما گرم ماحول میں ہمارے سیاسی قائدین ایک دوسرے کے گریبان کی خبر لیتے، باہم سر پھٹول کرتے نظر آئیں گے اور اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی دانستہ نوبت لائی جائے گی تو بھائی صاحب! پھر وہ لمحہ کتنا دور رہ جائے گا جب اپنے اپنے گندے کپڑے بیچ چوراہے پر لٹکاتے ان سیاستدانوں کی ’’محنت ِ شاقہ‘‘ سے ’’راج کرے گا خالصہ‘‘ کی سرخروئی والی ’’مجبوری‘‘ کو عملی جامہ پہنانا ضروری ٹھہرے گا۔ اگر یہ سارا کھیل تماشہ اسی خطرے کی راہیں سازگار و ہموار کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے جس کی جانب عاصمہ جہانگیر دردمندی کے ساتھ متوجہ کر رہی ہیں تو پھر مردِ ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر ہی ثابت ہو گا۔ بھائی صاحب! یہ سیاست آپ کے دامن میں بھی کچھ نہیں ڈالے گی اور پھر آپ کو زچ ہو کر جمہوریت کی بحالی کے لئے اپنے آج کے مخالفین کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کا سوچنا پڑے گا تو آپ کے لئے ’’سالم چھوڑ کر آدھی کو جائے، آدھی بھی نہ پائے‘‘ کی نوبت ہی آئے گی۔ پھر خجل خواری والے ان عزائم سے ابھی سے رجوع کر لیں۔ کل کے پچھتانے سے کیا آج عقل کو چٹکی کاٹ کر جگا لینا بہتر نہیں۔ سو ہم بھی آج عاصمہ جہانگیر کی آواز میں آواز ملا کر نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں ’’پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔‘‘

میں نے گزشتہ کالم میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف بیگم نصرت بھٹو کی اپیل کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بنچ کے ایک فاضل رکن جسٹس وحید الدین احمد کا نام سہواً جسٹس عبدالوحید شیخ لکھ دیا تھا محترم میاں آفتاب فرخ نے میری اس سہو کی نشاندہی کرتے ہوئے جسٹس وحید الدین احمد کے حوالے سے اپنی یادداشتیں بھی کھنگال کر میرے سامنے رکھ دی ہیں۔ جسٹس وحید الدین احمد پی ٹی آئی کے باغی لیڈر جسٹس وجیہہ الدین احمد کے والد تھے۔ میاں آفتاب فرخ کے مطابق جسٹس وحیدالدین احمد کو بیگم بھٹو کے کیس کی سماعت کے دوران جبری رخصت پر نہیں بھجوایا گیا تھا بلکہ وہ شدید علیل ہو کر ہسپتال میں داخل ہو گئے تھے اور کیس کی سماعت کے لئے بنچ کا حصہ بنے رہنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے بنچ کے تمام فاضل ارکان نے چیف جسٹس شیخ انوارالحق کی معیت میں ہسپتال جا کر خود ان کی حالت کا مشاہدہ کیا اور پھر ان کے بغیر ہی کیس کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میں جسٹس میاں آفتاب فرخ کی ان یادداشتوں پر صاد کر لیتا ہُوں کہ تاریخ کا ریکارڈ تو بہر صورت درست رکھنا ہے۔ مجھے اپنی سہو قبول کرنے میں کوئی عار نہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com