بلاول کے ہاتھوں جیالا کلچر کی بحالی
Oct 18, 2016

پیپلز پارٹی میں بلاول کے متحرک ہونے اور ’’بھٹو لیگیسی‘‘ کا دامن تھامنے سے مجھے اس لئے خوشی ہوئی ہے کہ صرف یہی ایک پارٹی ہے جو اپنی تشکیل سے اب تک فوجی آمریتوں کی مزاحمت کرتی رہی ہے اور انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے ذریعے جمہوریت کی روح رواں جمہور کی نمائندگی کی کوشش کرتی رہی ہے۔ بلاول کی کراچی ریلی کا انعقاد اگرچہ 18اکتوبر 2007ء کے سانحہ کارساز کراچی کے حوالے سے اس سانحہ میں شہید ہونے والے پیپلز پارٹی کے 170جیالے کارکنوں کی روحوں کو ایصال ثواب پہنچانے کے لئے کیا گیا تاہم بلاول نے اس موقع پر اپنے نانا مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفۂ سیاست کا دامن تھام کر جس اچھوتے انداز میں نعرے لگوانے کا سلسلہ شروع کیا اور پھر ریلی کے دوران مختلف مقامات پر اپنی تقریر کے ذریعے بھی پیپلز پارٹی کے جیالا کلچر میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کرتے رہے، اس سے اب پیپلز پارٹی کی مستقبل کی سیاست کی صحیح سمت متعین ہوتی نظر آ رہی ہے۔

کراچی کی ریلی برمحل اس لئے بن گئی کہ کراچی کی سیاست پر گزشتہ ربع صدی سے بھی زیادہ عرصے سے قابض ایم کیو ایم اب چار مختلف گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے جس سے آئندہ انتخابات میں ایم کیو ایم کا ووٹ بنک ٹوٹے گا تو بلاول بھٹو ازم والی پیپلز پارٹی کو بازیاب اور متحرک کرکے ’’تختِ لاڑکانہ‘‘ کو مضبوط بنانے کا سنگِ میل عبور کر لیں گے۔ اس حوالے سے بلاول کے مشیروں نے ان کے لئے متحرک سیاست اور مناسب وقت کا انتخاب کرکے سیاست میں صوبائی اور قومی سطح پر موجود خلا کو پر کرنے کی راہ ہموار کر لی ہے۔ اس سیاست میں پیپلز پارٹی کا ’’تختِ لاڑکانہ‘‘ مستحکم ہو گا تو قومی سیاست میں بھی اس پارٹی کا کھویا ہوا تشخص بحال ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

اس وقت جمہوریت کے خلاف جن سازشی تھیوریوں کو آزمایا جا رہا ہے بلاول کا بھٹو ازم کے ساتھ وابستہ ہونا ان سازشی تھیوریوں کا بھی توڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے حکمران مسلم لیگ (ن) کو خاطر جمع رکھنی چاہئے کہ عمران خاں کا شورشرابا بھی اب بلاول بھٹو کی جانب سے بھٹو ازم کے بجائے جانے والے ڈھول کے سرسنگیت میں دب جائے گا جو حکمران مسلم لیگ (ن) کے لئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی حکومت کی خواہش اور ضرورت ہے کہ اسے اپنے اقتدار کی ٹرم پوری کرنے کی مہلت ملتی رہے۔ بلاول نے اپنی سیاست میں عمران خاں کو فوکس کرکے اس معاملہ میں حکمران مسلم لیگ (ن) کی مشکل آسان کر دی ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) کو اپنے اقتدار کے لئے سب سے زیادہ خطرہ عمران خاں سے ہے جو کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت حکمران خاندان کو اگلے انتخابات سے پہلے ہر صورت اقتدار سے باہر نکلوانا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ سیاست میں مذمت سے آگے بڑھ کر مزاحمت اور تشدد کا عنصر شامل کریں گے، جس کا ان کے لہجے اور پروگرام سے عندیہ بھی مل رہا ہے تو اس افراتفری کی فضا میں اقتدار کی بوٹی ہی عمرانی سیاست کے پیچھے بیٹھے ڈوریاں ہلاتے کارفرمائوں کے ہاتھ نہیں آئے گی، ان کا جمہوریت کی بساط پھر سے الٹانے کا منصوبہ بھی کامیاب ہو جائے گا۔ اس لئے مجھے بلاول کے تحرک سے اس حوالے سے ہی اطمینان حاصل ہوا ہے کہ اس سے عمران خاں کو اپنے مقاصد کے لئے مہرہ بنا کر استعمال کرنے والوں کو انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے ذریعے کسی نے پھر سے چیلنج تو کیا ہے۔ یقیناً اب اسٹیبلشمنٹ کے لئے ماضی کی طرح ’’واک اوور‘‘ ملنے کی راہیں کافی مشکل ہو گئی ہیں اور اسے ہماری سیاست میں سے بمشکل ایک آدھ سیاسی مہرہ ہی استعمال کرنے کو مل پاتا ہے ورنہ تو ضیاء الحق کا یہ دعویٰ ہی برحق ثابت ہوتا رہا ہے کہ ’’میں جس کی جانب بھی اشارہ کروں گا، وہ دم ہلاتا ہوا میری طرف دوڑا چلا آئے گا‘‘۔ آج سیاست میں عمران خاں اور طاہرالقادری کے سوا کسی اور مہرے میں اسٹیبلشمنٹ کے لئے ایسا ’’اخلاص‘‘ وافر مقدار میں ہرگز دستیاب نہیں ہو سکتا اور ماورائے آئین اقدامات کی راہ ہموار کرنے والی سازشی تھیوریوں کو چیلنج کرنے والوں کی تعداد ہماری سیاست میں بڑھ رہی ہے۔ اگر منتخب سول حکمران اپنے اقتدار کو جمہور کے لئے گالی نہ بنائیں اور شہنشاہ معظم بننے کی کوشش نہ کریں تو اپنے مسائل میں گھرے عوام کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا اسٹیبلشمنٹ کو موقع نہ ملے۔

اسٹیبلشمنٹ کے عزائم اور منصوبوں کا توڑ ایک دوسرے کی متحارب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتوں نے ہی مشرف آمریت کے دوران میثاقِ جمہوریت پر دستخط ثبت کرکے کیا تھا۔ بے شک آصف علی زرداری نے اس مفاہمتی معاہدے کی بنیاد پر ہی اپنے اقتدار کی آئینی ٹرم پوری کی جس کے لئے میاں نواز شریف نے بطور اپوزیشن انہیں سہارا دئیے رکھا ورنہ محاذ آرائی والی سیاست برقرار رکھی جاتی تو مشرف کو وردی سمیت اگلی دس ٹرموں کے لئے منتخب کرانے کے چودھری برادران کے نعرے کی ہی آج عملداری نظر آتی۔

یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست میں آج عمران خاں مکمل تنہا نظر آ رہے ہیں جو سیاست میں انٹی اسٹیبلشمنٹ سوچ کے مستحکم ہونے کی دلیل ہے اور اس سیاست میں حکمران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادتیں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑی ہیں چنانچہ بلاول نے بھٹو ازم کا دامن تھامتے ہوئے آج پیپلز پارٹی کو قومی سیاست میں متحرک کیا ہے تو اس سے جمہوریت ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ اس میں بے شک بلاول کی قیادت میں اگلی باری پیپلز پارٹی کے ہاتھ آ جائے مگر اس سے ماورائے آئین اقدام کے لئے مہرے استعمال کرنے والوں کا مزہ تو کرکرا ہو جائے گا۔ یہی بلاول کی سیاست کا خوشگوار پہلو ہے جو مجھے اس ناطے سے بھی اچھا لگا ہے کہ بلاول نے پیپلز پارٹی کے اس جیالا کلچر کو بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے راندۂ درگاہ عوام کو ماضی میں کچھ ملا یا نہیں، مگر انہیں اقتدار میں اپنی شمولیت کا تفاخر تو حاصل ہوتا رہا ہے۔ میں نے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو سے محترمہ بینظیر بھٹو کے ادوار تک پیپلز پارٹی کی سیاست میں جیالا کلچر اور اس کی افادیت کا خاصہ مشاہدہ کیا ہوا ہے۔ آصف زرداری صاحب نے پیپلز پارٹی کے اس سیاسی کلچر کے ساتھ بے وفائی کی تو عوام نے گزشتہ انتخابات میں انہیں اس کا مزہ چکھا دیا اس لئے بلاول کو پیپلز پارٹی کے بزرجمہروں کی جانب سے جیالا کلچر کے مردہ جسم میں نئی روح پھونکنے کی راہ پر لگایا گیا ہے تو آج کی صورتحال میں یہی بہترین حکمت عملی والی سیاست ہے۔ بلاول اسی طرح عوام کی صفوں میں اچھوتے نعروں کے ذریعے ان کے دل گرماتے رہیں تو تختِ لاڑکانہ سے تختِ رائے ونڈ تک مرحوم بھٹو کی عوامی پذیرائی ان کے شامل حال رہے گی اور ’’اسٹیبلشمنٹ کے یاروں کو ایک دھکا اور دو‘‘ کی بنیاد پر جمہوریت کی گاڑی بھی رواں دواں رہے گی۔ بلاول کو انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کا ڈھنگ کیسے آیا، کس نے سکھایا۔ ہمارے دوست فرخ مرغوب نے ایک فقرے میں یہ گتھی بھی سلجھا دی ہے کہ بلاول کی تربیت آصف زرداری کی گیارہ سالہ قید کے دوران اس کی والدہ بینظیر بھٹو نے کی تھی جنہیں انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست اپنے والد بھٹو مرحوم سے ورثے میں ملی تھی۔ اس تربیت کا رنگ تبھی جمے گا جب پارٹی کی سیاست میں آصف زرداری کے بجائے صرف بلاول کا عمل دخل ہو گا۔ بلاول کی کل کی ریلی میں جیالا کلچر بحال ہوا ہے تو جیالوں کو آج قمرالزمان کائرہ کی شکل میں پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت کا تحفہ بھی مل گیا ہے اس لئے رنگ تو اب جمے گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com