’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘۔ محترم الطاف حسن قریشی کا شاہکار اور میرا تجسس … (آخری قسط)
Aug 06, 2016

مجھے آج ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی‘ محترم الطاف حسن قریشی اور جناب مجیب الرحمن شامی کے اس جرأتمندانہ مؤقف کو سلام عقیدت بھی پیش کرنا ہے جو انہوں نے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرمملکت کے منصب پر 20 دسمبر 1971ء کو بیک وقت فائر ہونے والے پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو پر تنقیدی مضامین لکھنے اور شائع کرنے کی پاداش میں اپنی 5 اپریل 1972ء کی گرفتاری کے بعد ایک میجر کی سربراہی میں قائم فوجی عدالت کے روبرو پیشی کے موقع پر اختیار کیا۔ اس عدالت میں ان تینوں محترمین کے دستخطوں کے ساتھ تحریری بیانات داخل کرائے گئے تھے جن میں فوجی عدالت کے سربراہ کی جانب سے آئین پاکستان کے تحت اٹھائے گئے حلف کا حوالہ دیکر ان کی فوجی عدالت والی ذمہ داری کو اس حلف کے سراسر منافی قرار دیا گیا اور باور کرایا گیا کہ ہم آپ کو اس امر کے مجاز نہیں سمجھتے کہ آپ جنگل کے قانون کے تحت، جس کو قانون کہنا لفظ قانون کی ہتک ہے‘ ہمارے منصف بن کر بیٹھ جائیں۔ جناب مجیب الرحمن شامی نے بطور خاص اپنے بیان حلفی میں فوجی عدالت کے سربراہ کو باور کرا دیا کہ آپ نے اپنے حلف کا پاس نہ کیا تو آپ پاکستان کے آئین سے بے وفائی کے مجرم ہونگے۔ انہوں نے اپنے حلف میں مارشل لاء مردہ باد‘ پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

آئین کی پاسداری پر یقین رکھنے والے کسی پاکستانی شہری کو آئین سے انحراف کرنے والوں کے ساتھ یقینا ایسا ہی رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ مرحوم مجید نظامی نے جرنیلی آمر یحییٰ خان کو یہی باور کرایا تھا کہ نہ مارشل لاء کوئی لاء ہے اور نہ فوجی عدالت کسی عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ محترم الطاف حسن قریشی نے 1973ء کے آئین کی متفقہ منظوری کیلئے مولانا ظفر احمد انصاری کی معاونت کرتے ہوئے اور مرحوم مصطفی صادق کی معیت میں نمایاں کردار بھی ادا کیا ہوا ہے۔ اس آئین کے تھرڈ شیڈول میں شامل مسلح افواج کے حلف میں آئین پاکستان کے تقدس کی پاسداری کیساتھ ساتھ کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کا عہد بھی شامل ہے۔ میں نے محترم الطاف حسن قریشی کے جنرل ضیاء الحق سے کئے گئے انٹرویو کا اسی تجسس کے تحت باریک بینی سے مطالعہ کیا کہ انہوں نے بھٹو کی فوجی عدالت کے سربراہ کی طرح جنرل ضیاء الحق کو بھی آئین پاکستان کے تحت اٹھایا گیا ان کا حلف ضرور یاد دلایا ہوگا۔ انٹرویو کے ابتدا میں انہوں نے پی آئی اے کے فوکر جہاز کے سفر کی الفاظ کے خوبصورت پیرہن کے ساتھ روئیداد بیان کی تو مجھے بھی فوکر جہاز میں کیا گیا ایک سفر یاد آگیا اور ’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔‘‘ والی کیفیت بن گئی۔ انٹرویو میں جنرل ضیاء الحق کے ’’اپریشن فیئر پلے‘‘ کا تذکرہ انہی کی زبانی رات 2 بجے کے قریب آرمی ہائوس کے ملازم کی خوابیدہ آنکھوں کے ساتھ لائی گئی گرما گرم چائے کی چسکیوں کے ساتھ جس اپنائیت بھرے لہجے میں بیان کیا گیا ہے وہ محترم الطاف حسن قریشی کی ملاقاتی خاکے والی اچھوتی تحریر کا شاہکار ہے۔ اس ملاقاتی خاکے کا اختتام جنرل ضیاء الحق کے 16 اگست 1988ء کو ایئر کریش میں انتقال کی داستان، اس حادثے کے حوالے سے سید فضل کی زائچے کی بنیاد پر کی گئی پیشن گوئی اورجنرل ضیاء کو اس روز سفر پر جانے سے روکنے کیلئے ان سے رابطے کی کوشش میں ناکامی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان الفاظ کے ساتھ ہوا کہ ’’انہوں نے ایک تاریخ رقم کی۔ پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت کا نقش ثبت کیا اور یہی نقش ان کی پہچان بن گیا۔‘‘ میرا تجسس حسرت میں بدل گیا۔ کاش محترم الطاف حسن قریشی نے جنرل ضیاء الحق کو بھی ان کا آئینی حلف یاد دلایا ہوتا۔ میں جنرل ضیاء کو ان کا ممدوح تو بالکل قرار نہیں دے سکتا کہ اسی انٹرویو کی پاداش میں انہیں ضیاء کی جیل بھی بھگتنا پڑی۔ بس ذہن گڑبڑایا ہے تو اس حوالے سے کہ آئین کی پاسداری اور کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کیلئے اٹھائے گئے جنرل ضیاء کے حلف کے بعد ان کے ’’آپریشن فیئر پلے‘‘ کی کس جواز کے تحت تائید کی جا سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ بھٹو کی کاٹی گئی جیل اور سقوط ڈھاکہ میں ان کے کردار کی بنیاد پر محترم الطاف حسن قریشی کو ان کا تختہ الٹانے والا جنرل ضیاء کا اقدام بھلا محسوس ہوا ہو۔ میں جنرل ضیاء کو اس حوالے سے اپنے لئے بھی نجات دہندہ سمجھ سکتا تھا کہ پی این اے کی تحریک کے دوران 23 مارچ 1977ء کو ایئرمارشل اصغر خان کے جلوس کے موقع پر آغا شورش کاشمیری کے گھر کے باہر سے مجھے سخت تشدد کے بعد ادھ موا کرکے گرفتار کیا گیا اور میرے خلاف بلوہ‘ ڈکیتی‘ گھیرائو جلائو کے سنگین الزامات پر مبنی 18 مقدمات درج کئے گئے جبکہ اس سے قبل بھٹو آمریت کے خلاف پاکپتن کے پبلک جلسوں میں سنائی گئی میری نظمیں بھی ایجنسیوں کے ریکارڈ میں آ چکی تھیں۔ اگر بھٹو کا اقتدار برقرار رہتا تو 18 مقدمات چلنے سے میری زندگی کا وجود ہی کہیں نظر نہ آتا۔ ان مقدمات میں جماعت اسلامی کی لیگل ٹیم نے میری ضمانت کرائی۔ پھر ان مقدمات کا کیا ہوا‘ مجھے آج تک اس کا علم نہیں ہو سکا۔ میری اس خوش قسمتی کی نوبت یقیناً جنرل ضیاء الحق کے آپریشن فیئر پلے کی بدولت ہی آئی تھی مگر جناب! اس کے عوض آئین کی عملداری کو روندنے کی تائید تو نہیں کی جا سکتی۔ ضیاء الحق کے ائر کریشن سے چند روز قبل محترم مجید نظامی اپنی ٹیم کے ہمراہ ان سے انٹرویو کرنے ایوان صدر گئے تھے۔ ضیاء کے اس اصرار پر کہ آپ بھی تو کوئی سوال پوچھیں۔ جناب مجید نظامی نے پنجابی میں ان سے استفسار کیا کہ ’’ساڈی جان کدوں چھڈو گے،، اس سے یقیناً یہ پیغام دینا ہی مقصود تھا کہ آپ زبردستی اس منصب پر براجمان ہیں۔ ایسا ہی معاملہ جنرل مشرف سے مدیران اخبارات کی ملاقات کے وقت درپیش ہوا جب مشرف نے مجید نظامی صاحب کے ایک سخت سوال پر ان سے استفسار کیا کہ آپ ان حالات میں میری جگہ پر ہوتے تو کیا کرتے؟ جس پر محترم مجید نظامی نے بلاتوقف جواب دیا کہ ’’میں آپ کی جگہ پر ہوتا ہی کیوں اور آپ بھی اس جگہ پر کیوں ہیں۔ اصل خرابی ہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی کے ذہن میں اپنی ذمہ داریوں سے ہٹ کر دوسروں کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا سودا سما جاتا ہے‘‘۔

میرا آج کی اس باوقار نشست میں بھی یہی تجسس ہے کہ سلطانیٔ جمہور کے خلاف کسی ماورائے آئین جرنیلی اقدام کی توقع میں آج بھی مٹھائیاں بانٹنے اور ایسے اقدام والوں کے گلے میں ہار ڈالنے کی صدائے بازگشت بڑے بلند و آہنگ کے ساتھ سنائی دے رہی ہے۔ کیا آج بھی ایسے کسی آئین سے متجاوز اقدام کی اس بنیاد پر تائید اور ستائش کی جائے کہ جمہوریت ڈیلیور نہیں کر رہی اور اس سے وابستہ حکمرانوں کی گورننس سے عوام مطمئن نہیں۔ ہم نے آئین کی عملداری کو مقدم رکھنا ہے تو پھر آئین سے متجاوز کسی بھی اقدام کی ہمیں گرفت کرنا ہو گی چاہے وہ اقدام ہمارے اطمینان کا باعث ہی کیوں نہ بن رہا ہو۔ میں شکر گزار ہوں کہ میرے استاد محترم جناب الطاف حسن قریشی اور تقریب میں شریک دیگر معزز و معتبر شخصیات نے میری معروضات کو صبر و تحمل سے سنا۔ خدا ہمارا حامی و ناصر ہو۔ (ختم شد)
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com