بھارتی فوجوں کو زچ کرنے والے کشمیری نوجوانوں پر برہم ہمارے دانشور
Jul 23, 2016

کامریڈ معراج محمد خاں کے انتقال کی خبر پڑھ کر ان سے منسوب چار دہائیاں قبل کے کٹھنائیوں سے لبریز واقعات ذہن کے پردے پر گردش کرنے لگے۔ ان واقعات کا اپنے اگلے کالم میں تذکرہ کروں گا۔ فی الوقت مجھے معروف بھارتی صحافی اور دانشور ارون دھتی رائے کی کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے گزشتہ روز کی رائے کا تذکرہ کرنا ہے جس کے لئے مجھے بھارتی کانگرس کے رکن پارلیمنٹ جبوتی رادتیہ سندھیا کے آج اخبارات میں شائع ہونے والے موقف نے بھی تقویت پہنچائی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کرانے کا تقاضہ وہاں بھارتی فوج کے جاری مظالم کی بنیاد پر کیا ہے اور وہ اس بات پر شاکی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو ہفتے سے کرفیو نافذ ہے۔ وہاں جمہوریت کے چوتھے ستون میڈیا کا گلا گھونٹا جا رہا ہے مگر وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بھارتی حکمران بی جے پی کے کسی نمائندے نے جانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ ارون دھتی رائے بھی اس حوالے سے ایک روز قبل اپنے خصوصی مضمون میں یہ کہہ کر کشمیری عوام پر جاری بھارتی افواج کے نئے مظالم کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرا چکی ہیں کہ ’’ہم بھارتی فوج کی فائرنگ سے غیر مسلح کشمیریوں کی شہادت، ایمبولنسوں اور ہسپتالوں پر پولیس والوں کے حملے اور پیلٹ بندوقوں سے نوجوانوں اور بچوں کی بینائی ضائع ہونے کی مذمت کرتے ہیں جو ہمیں یقیناً کرنی چاہئے مگر ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ حقیقی بحث وادی کشمیر میں بھارتی مسلح افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی تک محدود نہیں۔ انسانی حقوق کی یہ بدترین خلاف ورزیاں صرف اور صرف کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو فوجی طاقت سے کچلنے کا نتیجہ ہیں۔ کشمیری عوام قانون کی بالادستی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکنے کے لئے جدوجہد نہیں کر رہے بلکہ وہ تو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کے لئے وہ گولی کا مقابلہ پتھر سے کرنے کو تیار ہیں، اس کی خاطر وہ جوق در جوق اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔‘‘ ارون دھتی رائے نے اپنے مضمون میں نتیجہ یہ اخذ کیا ہے کہ اگر ہم مقبوضہ کشمیر میں مرنے مارنے کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو روکنا چاہتے ہیں اور واقعی اس بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم ایمانداری کا مظاہرہ کریں اور ایمانداری کے ساتھ مکالمے کا آغاز کریں۔ ہمارے خیالات کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں مگر مکالمے کا موضوع بحث آزادی ہونا چاہئے کہ آخر کشمیریوں کے لئے آزادی کیا معنی رکھتی ہے۔ ظاہر ہے ارون دھتی رائے کا یہ مشورہ اس بھارتی حکومت کے لئے ہے جس کے ایما پر بھارتی افواج نے بالخصوص کشمیری نوجوانوں پر مظالم کا جدید طریقے کے ساتھ نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ جدید طریقہ نہتے ہونے کے باوجود بھارتی افواج کی مزاحمت کرنے والے کشمیری نوجوانوں کے چہروں پر فائر کرکے انہیں مستقل نابینا بنانے کا ہے اور مظالم کے اس مکروہ طریقے نے اس وقت پوری دنیا میں کھلبلی کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے اور بھارتی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملہ میں عالمی تنقید کے تیر و نشتر چل رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے معاملہ میں جتنی دبائو میں ہے شائد ہی پہلے اسے ایسے کسی عالمی دبائو کا سامنا کرنا پڑا ہو جبکہ بھارتی افواج کی یہ سفاکانہ کارروائیاں مودی سرکار کو خود بھارت کے اندر سے سخت تنقید کی زد میں لا رہی ہیں جس کی دو مثالیں میں نے بھارتی دانشور ارون دھتی رائے اور بھارتی رکن پارلیمنٹ جبوتی رادتیہ کے حالیہ بیانات کے حوالے سے دی۔

مودی سرکار اس دبائو پر یقینا گھبراہٹ کا شکار ہے اور اس پر یہ دبائو مزید کچھ عرصہ تک برقرار رہتا ہے تو وہ بالاخر اپنے ’’اٹوٹ انگ‘‘ کشمیر کے حل کا کوئی نہ کوئی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس کے لئے یہ گھبراہٹ یقیناً معمولی نوعیت کی نہیں ہے کیونکہ اس کا اٹوٹ انگ اب اس کے ہاتھ سے نکلتا نظر آ رہا ہے چنانچہ مودی سرکار کے عالی دماغوں نے یہ گھبراہٹ پاکستان کی جانب منتقل کرنے کی بھونڈی حکمت عملی طے کی ہے جس کے تحت پاکستان پر یہ الزام دھرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری باشندوں کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لئے اکسا رہا ہے۔ اسی الزام کی بنیاد پر یقیناً مودی سرکار کے ایما پر ایک بھارتی شہری کی جانب سے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی گئی ہے جو انبالہ کی ایک عدالت نے سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو نوٹس بھی جاری کر دئیے ہیں۔ یہی وہ بھارتی بوکھلاہٹ ہے جو ارون دھتی رائے کے بقول بھارت کے لئے ایمانداری کے ساتھ مکالمے کا آغاز کرنے کی ضرورت نکال رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ مکالمہ اس نے پاکستان کے ساتھ کرنا ہے جس سے وہ اب تک منکر اور گریز پا چلا آ رہا ہے۔ اس مکالمے کا آغاز ہو گا تو یقینا سات دہائیوں سے لاینحل مسئلہ کشمیر کے کسی قابل عمل حل کا بھی کوئی راستہ نکل آئے گا۔ اس لئے بھارتی افواج کی مزاحمت جاری رکھ کر بھارت سرکار پر دبائو بڑھانا انتہائی ضروری ہے اور یہی کام آج کشمیریوں کی نوجوان نسل نہتے ہونے کے باوجود بھارتی افواج کے آگے سینہ سپر ہو کر سرانجام دے رہی ہے۔ ان کشمیری نوجوانوں نے اپنے بزرگوں کی شروع کی گئی تحریک آزادی کو سنبھال کر اور اس میں نیا جذبہ پیدا کرکے پوری دنیا کو کم از کم یہ تو باور کرا دیا ہے کہ بھارت کا کوئی ظلم و جبر کشمیریوں کے آزادی کے سفر کو روک نہیں سکتا۔ پھر ہمیں بالخصوص کشمیری نوجوان کے اس جذبے کو تقویت پہنچانی چاہئے یا ان کی جدوجہد کو لاحاصل قرار دے کر اور ان کا تصور ’’مظلوم‘‘ بھارتی فوجوں پر خودکش حملہ آور کا بنا کر ان کی حوصلہ شکنی کا اہتمام کرنا چاہئے؟

حقائق کا ادراک رکھنے والے بھارتی دانشوروں کے مقابل ہمارے بصیرت اور بصارت سے محروم کچھ دانشور بے شک میرے اس تاثر کو حقائق کے برعکس بھی قرار دے دیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پڑنے والا عالمی دبائو پاکستان کی جانب منتقل کرنے کی بھارتی سازشی منصوبہ بندی کا حصہ بن کر کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے آج کے کشمیری ’’دہشت گرد‘‘ نوجوانوں کے مقابل بھارتی فوجوں کے مظلوم اور بے بس ہونے کا پراپیگنڈہ کر رہے ہیں، تو بھی ان کی ایسی ذہنی پسماندگی کو دوراندیشی پر مبنی کسی بصیرت کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے؟ یہ حضرت پہلے اس کا جواب تو دیں کہ یہ ’’مظلوم و بے بس‘‘ بھارتی افواج گزشتہ 68سال سے مقبوضہ کشمیر میں کیا کر رہی ہیں اور ان 68 سال کے دوران مقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق کمشن کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجوں اور پیرا ملٹری فورسز کے ظلم و جبر سے اپنے سینے چھلنی کرا کے اب تک پانچ لاکھ کشمیری باشندے جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، اس کے باوجود اب کشمیریوں کی تیسری نسل نے بھی اپنے آزادی کے سفر میں تھکان یا پزمردگی کا احساس پیدا نہیں ہونے دیا تو کیا ان نوجوانوں کو اپنے لیڈران کے بھی قابو میں نہ آنے والے شتر بے مہارے قرار دے کر بھارتی فوجوں کو تھکا دینے والی ان کی نرالی اور اچھوتی جدوجہد پر بھارتی سوچ کے مطابق دہشت گردی کا لیبل لگا دیا جائے اور ان نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ذمہ داری اٹھالی جائے کہ بھارتی فوج کو زچ کرنے والی ان کی حکمت عملی جنوبی ایشیاء کو بالکل ویسی ہی افراتفری کا شکار کر سکتی ہے جو ان دنوں عراق، لیبیا، شام اور افغانستان جیسے ملکوں اور ان کے ہمسائے میں نظر آ رہی ہے۔ اگر بھارتی فوجوں کے 68 سال کے مظالم کشمیری عوام کی سوچ نہیں بدل سکے اور آج یہ سوچ ان کی نوجوان نسل میں بھی منتقل ہو چکی ہے جس نے ان کی آزادی کی منزل اور بھی یقینی بنا دی ہے تو کیا خیال ہے! عالمی دبائو پاکستان کی جانب منتقل کرنے کی بھارتی حکمت عملی کی ترجمانی کرنے والے ہمارے بے بصیرت دانشور نوجوان کشمیریوں پر خودکش حملہ آور کا لیبل لگا کر ان کی جدوجہد سے بھارت پر پڑنے والا عالمی دبائو پاکستان کی جانب منتقل کرانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟ ایسے دانشوروں کو تو بس آئینے میں اپنی شکل ہی دیکھنی چاہیے۔ اگر ضمیر نام کی کوئی چیز ان میں ہے تو وہ انہیں ضرور ملامت کرے گا۔ یہ حضرات کشمیری نوجوانوں کی اس بے پایاں جدوجہد پر اپنی تشویش کے اظہار کیلئے جن نامعلوم کشمیری لیڈران کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہے ہیں وہ ذرا ہمت کرکے ان کشمیری لیڈران کے نام بھی بتا دیں۔ اس کے بعد کشمیری عوام خود فیصلہ کر لیں گے کہ ان کے بچوں کی اچھوتی جدوجہد کی ستائش کے بجائے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی منصوبہ بندی کرنے والے یہ نامعلوم حضرات ان کے لیڈر ہیں یا غدار؟ منموہن دور حکومت کے ایک بھارتی آرمی چیف اپنی حکومت کو یہ مشورہ دینے پر مجبور ہو گئے تھے کہ کشمیریوں کی مزاحمت کا مقابلہ کرنا اب ہماری افواج کے بس میں نہیں رہا اس لئے کشمیر کا کوئی سیاسی حل تلاش کر لیا جائے۔ تو کیا خیال ہے ہمارے کج فہم دانشوروں کا؟ کشمیری نوجوانوں کی حالیہ مزاحمت مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے مودی سرکار کو مجبور نہیں کر رہی؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com