یہ سب ڈھکوسلے ہیں
Jul 19, 2016

ترکی میں فوجی انقلاب کی ناکامی کے بعد اردوان کی عوامی مقبولیت اور جمہوریت کی عملداری کا پاکستان کی صورتحال سے موازنہ کیا جا رہا ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں مگر ترکی میں فوجی انقلاب کی ناکامی پر اس خوش فہمی میں مبتلا ہونا یقیناً اچنبھے کی بات ہے کہ پاکستان میں ایسی ممکنہ صورتحال پر یہاں کے عوام بھی ترکی کے عوام جیسے مثالی جذبے کا اظہار کریں گے۔ اس کے لئے تویقیناً ترکی اور پاکستان کے عوام کے حالات زندگی اور پاکستان اور ترکی میں جمہوریت کی حقیقی عملداری کا موازنہ کرنا پڑے گا۔

امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ترکی کے معروف دینی سکالر فتح اللہ گولن کے پیروکاروں، عقیدت مندوں، ارادت مندوں اور ان کے فلسفہ و منشور کی بنیاد پر ترکی میں سسٹم کی اصلاح کی خواہش رکھنے والے ترک عوام کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ گولن پاکستان سمیت دنیا کے مختلف اخبارات و جرائد میں اپنے مضامین کے ذریعے ترکی کے نظام حکومت کے حوالے سے اپنی تنقیدی سوچ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اور مجھے لاہور میں مقیم ترکی کے رومی فورم کے صدر اپنے دوست میسوٹ کسمز کے ذریعے بھی ترکی کے عوام کے حالات کے بارے میں آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ فتح اللہ گولن کے پیروکار ترکی کو کرپشن فری معاشرے کے قالب میں ڈھلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ جن کا ترکی کے موجودہ حکومتی نظام سے یہی بنیادی شکوہ ہے کہ اس سسٹم میں میرٹ کو ملیامیٹ کر دیا گیا ہے اور ہر حکومتی، نجی ادارے کو کرپشن کے دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے چنانچہ ترکی میں کوئی ترقیاتی منصوبہ نذرانے کی رقم مختص کرائے بغیر منظوری کے مراحل طے کرتا ہے نہ کسی کا کوئی جائز کام بھی اعلانیہ رشوت دئیے بغیر نکلوایا جا سکتا ہے۔ اپنے دوست میسوٹ سے میرا یہی تجسس رہتا ہے کہ اس کلچر میں ترکی کی کمپنیوں کے پنجاب حکومت کے ساتھ طے پانے والے ترقیاتی کاموں کے منصوبوں میں بھی اس اعلانیہ کرپشن کی عملداری ہو گی تو وہ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کرتے ہیں کہ ترکی والے تو اپنے کسی کام کے لئے نذرانے کا ایک دھیلہ بھی نہیں چھوڑتے اس لئے آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ترک مخصوص کمپنیوں کے ساتھ آپ کے معاہدے کتنے میں پڑے ہوں گے۔ ارے یہاں تو ترکی کے تعاون سے شروع کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کے میرٹ کے ڈنکے بجائے جاتے ہیں۔ مجھے میسوٹ کی باتوں سے خادم پنجاب کے میرٹ کی دال میں کافی کچھ کالا نظر آنے لگا۔ جبکہ کرپشن کلچر اور ناانصافیوں کی جو منظر کشی ترکی کے حوالے سے ہمارے ترکی کے دوست کرتے ہیں بعینہ پاکستان میں بھی کرپشن کلچر اور ناانصافیوں کا ایسا ہی معاملہ ہے۔ پھر تو اس سسٹم کے خلاف عوامی سطح پر ردعمل بھی ایک جیسا ہی ہونا چاہئے مگر ترکی کے عوام اردوان کی محض ایک ویڈیو کال پر والہانہ انداز میں ان کے اور ان کی حکومت کے دفاع کے لئے سڑکوں پر کیسے آ گئے اور بندوق والوں کے آگے سینہ سپر کیسے ہو گئے۔ ان میں حکومت کے دفاع کا اتنا جذبہ کیسے پیدا ہو گیا کہ انہوں نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اور باغی فوجیوں کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کی جانے والی بے دریغ فائرنگ کو بھی خاطر میں نہ لا کر کرپشن کلچر میں لتھڑے ترکی کے نظام کے خلاف بندوق والوں کی بغاوت ناکام بنائی اور ان کی ایک نہ چلنے دی۔ پھر جناب کچھ تو ہے جس نے ترکی کے عوام کو اردوان کے حکومتی جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ رکھا ہوا ہے اور وہ اس نظام کو آنچ تک بھی آنے دینے کے روادار نہیں۔بے شک کرپشن کلچر میں ترکی کے حکمرانوں، حکومتی اداروں اور ان کے مفاد یافتگان نے اپنے آنگن میں دولت کے انبار لگائے ہوں گے مگر انہوں نے اپنے عوام کو خوشحالی کی منزل سے دور رکھنے کا کبھی اہتمام نہیں کیا۔ اردوان نے عوام کی خدمت کے جس کام کا استنبول کے میئر کی حیثیت سے آغاز کیا تھا وہ زبانی کلامی اور اشتہاری نمود و نمائش والی خدمت ہرگز نہیں تھی بلکہ عملاً انہوں نے گراس روٹ لیول سے عوام کے مسائل کی بیخ کنی کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے عزم کو کامیاب بنا کر عوام کے دلوں میں گھر کیا ہے نتیجتاً عوام نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔ دوبار وزارت عظمیٰ کی مسند تک پہنچایا ہے۔ تیسری بار انہیں صدر مملکت کے منصب کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ ترکی کی اقتصادی سروے رپورٹوں میں آج ترکی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نمایاں کھڑا نظر آتا ہے جس کا گروتھ ریٹ چار گنا بڑھا ہے اور وہاں عوام کو روٹی روزگار کا کوئی مسئلہ درپیش ہے نہ توانائی کے کسی گھمبیر مسئلہ کا انہیں سامنا ہے۔ جبکہ دفاعی طور پر بھی ترکی اتنا مضبوط ہے کہ اپنے مفادات پر کبھی کوئی زد نہیں پڑنے دیتا اور بڑی طاقتوں کی بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات رکھتا ہے۔ ورنہ تو اردوان سے پہلے ترک فوج پورے سسٹم پر حاوی ہو چکی تھی جس نے آئین میں ترمیم کرا کے حکومت میں اپنا باقاعدہ حصہ مخصوص کرا دیا تھا۔ اگر آج ترکی کے عوام فوج کے لائے گئے نظام کو یکسر مسترد کرکے رجب طیب اردوان کے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہیں تو بھائی صاحب، ان کا ہمارے حکمرانوں کے ساتھ کیا موازنہ۔ اگر ہمارے حکمران طبقات یہ توقع کریں کہ ان کے خلاف ترکی جیسی فوجی بغاوت پر یہاں بھی ترکی جیسا ردعمل ہی ہو گا اور عوام باغیوں کی بندوقوں اور ٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں گے تو یہ توقع تبھی پوری ہو گی جب آپ بھی جمہوریت کے ثمرات صحیح معنوں میں براہ راست عوام تک پہنچا رہے ہوں گے۔ اگر یہاں عوام فاقہ کشی سے مر رہے ہوں، خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مجموعی آبادی کا ساٹھ فیصد ہو، تقریباً ہر گھر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈر نوجوان کسی سرکاری یا خودمختار ادارے میں معمولی سی ملازمت کے حصول میں بھی بار بار کسی کوشش کے باوجود کامیاب نہ ہو رہے ہوں اور حکمرانوں کی پالیسیوں کی پیدا کردہ مہنگائی نے عوام کی زندہ رہنے کی سکت بھی چھین لی ہو تو جناب آپ کے لئے عوام کی جانب سے جانیں نچھاور کرنے کا ترکی کے عوام جیسا جذبہ کیسے پیدا ہو پائے گا ؟ اس لئے کسی خوش فہمی کے اظہار سے پہلے اپنی گورننس اور عوامی خدمت کا سنجیدگی سے جائزہ لے لیجئے اور پھر عوام کے بے حس ہونے پر انہیں طعنے مت دیجئے۔ ہم نے فوجی حکمرانوں کے عذاب بھی بھگتے ہوئے ہیں اس لئے بندوق والوں کو دعوت دینے کی قوم خواہش رکھتی ہے نہ اس کی متحمل ہو سکتی ہے مگر آپ قوم کی اس کمزوری کو اپنی طاقت سے ہرگز تعبیر نہ کریں۔ آپ سسٹم کے ثمرات حقیقی معنوں میں قوم تک پہنچائیں گے تو قوم بھی حقیقی معنوں میں سسٹم کی محافظ بنی نظر آئے گی۔ ورنہ آپ کے اپنے حوالے سے ترکی کے عوام کے ساتھ موازنے سب ڈھکوسلے ہیں بھائی صاحب....

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com