لاشیں گرانے والواب باز آئو، ہماری لاشیں اٹھانے والا نہیں رہا
Jul 12, 2016

آج مجھے فی الواقع اپنی کم مائیگی کا احساس ہو رہا ہے۔ میں ان کج فہموں، بے بصیرتوں اور دین اسلام کا اپنا تصور پیش کرنے والے کٹ حجتوں کے لئے کیا الفاظ استعمال کروں جو شرف انسانیت کے پیکر ایدھی کی دکھی انسانیت کے لئے بے لوث خدمات بھی ہضم نہیں کر پا رہے اور سوشل میڈیا پر ان کی ذات، کام اور کردار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مجھے ان لوگوں کے لئے بھی الفاظ کے چنائو میں دقت محسوس ہو رہی ہے جو اپنے اختیار و اقتدار اور اپنی متمول حیثیت میں لوبھ، لالچ اور اغراض و طمع سے لبریز زندگی گزارنے کا چلن برقرار رکھتے ہوئے ایدھی کے نقش قدم پر چلنے کے عزم کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی کی زندگی اور موت نے جس جس کو جو سبق دئیے ہیں وہ اسے ہی پلے باندھ لیں تو اپنی عاقبت کی بہتری کے کچھ نہ کچھ اسباب پیدا کر سکتے ہیں مگر یہاں تو کسی کی نیکی پر بھی اپنے تعصبات اور خبثِ باطن کا اظہار کرنا اپنی بے باکیوں کی سند بنا لیا گیا ہے۔

غضب خدا کا! دکھی انسانیت کی خدمت کی روشن اور انوکھی مثالیں قائم کرنے اور اس مشن پر اپنی ذات کی نفی کرنے والے ایدھی پر فتوے لگائے جا رہے ہیں کہ جس نے کافروں، مشرکوں، ڈاکوئوں، چوروں اور ’’بدمذہبوں‘‘ کی لاشیں اٹھانے اور ان کی تدفین کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا وہ اسلام کا سچا پیروکار کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے فتوے صادر کرتے ہوئے ذرا اپنے اعمال کا ہی جائزہ لے لیا کریں اور پھر ایدھی کے ساتھ اپنا موازنہ کر لیا کریں کہ جس کی موت پر دنیا کے کونے کونے سے انسانی آہ و بکا ہفت آسمان کے کنگروں تک جا پہنچی ہے، جس کے لئے ہر آنکھ اشکبار ہوئی ہے اور جس کی میت کو کندھا دینے اور اس کی تدفین کی رسومات میں شرکت کے لئے عملاً لاکھوں بندگانِ خدا بے تاب نظر آئے ہیں، کیا اس کا شمار خدا کے محبوب انسانوں میں ہوتا ہے یا جن کو دہشت گردی اور خودکش حملوں کے بعد چیتھڑے بنے اپنے جسموں کے لئے کفن بھی نصیب نہیں ہوتا۔ قبر کے لئے بھی ان پر زمین تنگ ہو جاتی ہے اور ان کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے بھی کوئی بندہ خدا دستیاب نہیں ہوتا، کیا وہ خدا کے قریب اور جنت کے کسی اعلیٰ مقام کے مستحق ہیں؟

ہمارے دین اسلام کی تو بنیاد ہی شرف انسانیت ہے جن کی تاثیر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ ذات باری تعالیٰ نے خود کائناتِ ارض و سماویٰ پر شرف انسانیت کو مقدم رکھا ہے…

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہربان ہو گا عرشِ بریں پر

اور اہلِ زمین میں بلاامتیاز رنگ، نسل، مذہب ساری خلق خدا شامل ہے جس کے لئے شرفِ انسانیت کو افضل قرار دیا گیا ہے۔ اگر بارگاہِ ایزدی سے حضرت نبی آخرالزمانؐ کو رحمت اللعالمین بنا کر کائنات ارضی کا اختیار دیا گیا تو یہ رحمت ساری کائنات اور سارے عالم کے لئے ہے ورنہ تو ذاتِ باری تعالیٰ آپؐ کو رحمت اللمسلمین کے درجے تک محدود رکھتی، اس لئے کُل عالم کے ربِ کائنات کے رحمت اللعالمین کے ذریعے ودیعت کئے گئے دین اسلام کا تو سارا فلسفہ ہی شرفِ انسانیت پر مبنی ہے جس میں ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایسے انسانی خونِ ناحق کے لئے کوئی تخصیص تو نہیں کی گئی کہ یہ کسی مسلمان کا خونِ ناحق نہیں تو اسے انسانیت کے قتل سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

ارے بندگانِ خدا! یہ آپ کن فروعات، مکروہات، مسلکات اور تعصبات کے چکروں میں الجھے ہوئے ہو۔ آفاقی دین اسلام کو ایک دائرے میں محدود کرکے اور اس سے باہر ہر ایک کو کافر قرار دے کر تو آپ خود اپنے لئے تکفیری راہوں کا انتخاب کر رہے ہو۔ خدارا کسی کو تو بخش دو، ورنہ ذاتِ باری تعالیٰ نے زمین پر شر اور فتنہ فساد برپا کرنے والوں کو ہی واجب القتل قرار دیا ہے۔ اس لئے ذاتِ باری تعالیٰ کے متعینہ اس پیمانے میں اپنے اعمال و کردار کو پرکھ لو۔

ایدھی نے اپنے ایک انٹرویو میں اس قبیل کے انسانوں کی عبرت کے لئے ہی خود پر بیتا ایک واقعہ سنایا تھا کہ ایک دن وہ ڈاکوئوں کے ہتھے چڑھ گئے جنہوں نے ان کے پاس موجود ہر چیز چھین لی اور انہیں جانے کے لئے کہا تو اس دوران ایک ڈاکو نے انہیں پہچان لیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کا سب کچھ انہیں واپس کر دو۔ انہوں نے حیران ہو کر اپنے ساتھی ڈاکو سے پوچھا کہ یکایک یہ کیا ماجرا ہو گیا ہے۔ آپ ان سے چھینا ہوا سامان واپس کیوں لوٹا رہے ہیں تو اس ڈاکو نے درشت لہجے میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’ارے کم بختو جب آپ لوگ کسی پولیس مقابلے میں مارے جائو گے اور آپ کے گھر والے بھی آپ کی نعش کو ہاتھ نہیں لگائیں گے اور کوئی آپ کی لاش اٹھانے اور دفنانے والا نہیں ہو گا تو یہی بندۂ خدا آپ کی لاش اٹھانے آئے گا۔ یہ عبدالستار ایدھی ہے۔‘‘ تو کیا یہی سبق ایدھی پر کفر کے فتوے لگانے اور مسلکی بنیادوں پر اپنے کلمہ گو بھائیوں کی لاشیں گرانے والوں کو بھی نہیں سیکھنا چاہئے۔ آہ! ’’لاشیں گرانے والو، اب بس کر دو۔ ہماری لاشیں اٹھانے والا آج چل بسا ہے۔‘‘

اور پھر یہ بھی تو اپنے ذہن کی گُدّی کو تھوڑا سا جھنجوڑ کر جان لو کہ آج جن مغربی یورپی معاشروں میں داڑھی کے حوالے سے دین اسلام کے لئے منافرت پیدا کی جا رہی ہے اور پاکستان کو نفرت کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ ان معاشروں میں بھی ایدھی کی پاکستانی کی حیثیت سے داڑھی سمیت پذیرائی ہو رہی ہے اور انہیں فادر ٹریسا کے لقب سے نوازا جا رہا ہے تو کیا وہ انسانیت کی خدمت کے اپنے بے لوث کردار کی بنیاد پر مغربی، یورپی معاشروں میں دین اسلام اور پاکستان کے خراب کئے گئے امیج کو بھی درست کرنے میں بھی معاون نہیں بنے؟ اور کیا ان کی داڑھی ہر داڑھی والے کی تکریم کا باعث نہیں بن گئی۔ ارے کچھ تو خوف خدا کرو بارگاہِ ایزدی میں شرف قبولیت پانے والے اس بندۂ خدا پر اپنی تنقید کے نشتر آزماتے ہوئے۔ یہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے کہ آپ جس کی چاہے پگڑی اچھالتے پھرو۔ خدا کی محبوب ہستیوں کے ساتھ بدنیتی رکھو گے تو بارگاہِ ایزدی میں مقہور ٹھہرو گے۔ آپ بے شک اسے میرا فتویٰ ہی سمجھ لو اور یہ جان لو کہ ربِ کائنات نے شرف انسانیت کو ہی اس کائنات کی بنیاد بنایا ہے اور حقوق العباد کو ہی افضل گردانا ہے جس میں انسانوں کی رنگ‘ نسل‘ مذہب کی بنیاد پر کوئی تخصیص نہیں۔ آپ شرف انسانیت کے پیکر کو اپنے تصور والے دین اسلام کے دائرے سے خارج کرکے کیا اس کے ساتھ ربِ کائنات کی محبوبیت والا ناطہ توڑ سکتے ہو۔ آپ تو میاں محمد بخش کے اس فلسفے کے بھی منکر ہوں گے کہ…

ڈھا دے مسجد، ڈھا دے مندر، ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں، رب دلاں وِچہ رہندا
پھر آپ سے بڑا منکر اور کون ہو سکتا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com