قدرت کے مظاہر اور کٹ حُجتی
Jul 05, 2016

ابھی مون سون کا آغاز نہیں ہوا مگر طوفانی بارشوں کا سلسلہ ملک بھر میں شروع ہو چکا ہے اور خیبر پی کے سب سے پہلے سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں آیا ہے۔ گزشتہ روز چترال میں سیلاب نے قیامت صغریٰ کے مناظر بنا دئیے جہاں اب تک پچاس کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ آٹھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 41 افراد لاپتہ ہیں۔ درجنوں مکان تباہ ہو چکے ہیں اور کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہے۔ ابھی دریائے سندھ، کابل اور سوات میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ خداخیر کرے…؎ کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد

رمضان المبارک کے دوزخ کی آگ سے نجات والے آخری عشرے میں اور عیدالفطر سے دو تین روز قبل چترال کے مکینوں پر غم و اندوہ کے جو پہاڑ ٹوٹے، اس کا درد تو یقینا انہی کو محسوس ہو رہا ہو گا۔ باقی ہمدردیوں کے تو سب ڈھکوسلے ہیں مگر سوچئے تو سہی کہ ایسی تباہیوں اور انسانی المیوں کا اہتمام بھی اپنے ہاتھوں سے ہی ہم خود تو نہیں کر رہے۔ قدرتی آفات یقینا نظام کائنات کا حصہ ہیں اور ان میں بھی ذاتِ باری تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ اس سے سرکش انسانوں کو جھنجھوڑنا، آزمانا اور سنبھل جانے کی تلقین کرنا بھی مقصود ہو سکتا ہے اور اس وقت جس تیز رفتاری کے ساتھ موسموں اور ماحول میں تغیر و تبدل ہو رہا ہے، وہ قدرت کی ایسی ہی حکمت کی طرف واضح اشارہ ہے۔

اگر قدرت کی طرف سے ہمیں سنبھلنے کا اشارہ مل رہا ہے تو کیا ہم سنبھلنے کا کوئی تردد بھی کر رہے ہیں یا پھسلے ہی چلے جا رہے ہیں؟ قدرت نے اگر آفاتِ ارضی و سماوی کا اپنی مخلوق کو جھٹکا لگانا ضروری سمجھا ہے تو ان آفات کی تباہ کاریاں کم کرنے کے اسباب بھی انسانی ذہن رسا کو سجھا دئیے ہوئے ہیں اور یہی انسان کی آزمائش ہے کہ وہ قدرتی آفات سے کیسے عہدہ برآ ہوتا ہے۔ ہم اس حوالے سے اپنے معاملات کا جائزہ لیں تو یہاں تو سب بے تدبیری ہی بے تدبیری ہے۔ کج فہمی ہی کج فہمی ہے اور پھر بدنیتی اور بدطینتی کا تو کوئی شمار قطار ہی نہیں۔ قدرت ہر سال ہمیں سیلاب کے جھٹکے لگاتی ہے کہ یہ کارخانہ قدرت کا تقاضہ ہے مگر ہم ایسے بے تدبیر اور بدطینت ہیں کہ اس کی تباہ کاریاں روکنے یا کم کرنے کا کبھی سوچتے ہی نہیں۔ ہمارے پاس اسباب اور عوامل موجود ہیں مگر انہیں بروئے کار لانے کی ہمارے متعلقین نیت اور ارادہ ہی نہیں رکھتے۔ اگر ہم خود کو ڈبونے کا خود ہی اہتمام کر رہے ہوں تو ہم قدرت کے پیدا کردہ اسباب کے ہی منکر ہوں گے۔

ذرا جائزہ لیجئے کہ قدرت نے ہمیں کیسے کیسے وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے مگر کیا ہم ان سے استفادہ کر پا رہے ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر اپنی بربادیوں کا الزام اپنے سوا کس پر دھرا جائے۔ پانچ دریائوں کا شاہکار ہماری دھرتی قدرت کی نعمتوں کی گواہی دے رہی ہے مگر ہم خود ہی اس دھرتی پر اپنی تباہی کے اسباب ڈھونڈنے چل نکلتے ہیں۔ قدرت نے وافر پانی تو ہماری سہولت کے لئے دیا ہے جسے ہم نظم و ضبط میں نہیں لائیں گے تو وہ تباہ کاریاں ہی پیدا کرے گا۔ اس وقت ہمارے بیشتر مسائل پانی سے متعلق ہیں اور یہ مسائل زیادہ تر پانی کی قلت سے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس وقت قدرتی طور پر زیر زمین پانی کی سطح بہت تیز رفتاری کے ساتھ نیچے جا رہی ہے نتیجتاً ہم قحط کا شکار ہو سکتے ہیں اور ہر ذی روح پر پانی نہ ملنے کے باعث موت کے سائے گہرے ہو سکتے ہیں۔ اس کے مقابل قدرت نے بارشوں کے ذریعے اور گلیشئر پگھلا کر پانی کی قلت دور کرنے کے اسباب بھی پیدا کر دئیے ہوئے ہیں۔ اگر ہم ان وسائل و اسباب کو بروئے کار نہیں لائیں گے تو پانی کی قلت ہمارے لئے جان لیوا ہی ثابت ہو گی۔ اس میں ہمارے بروئے کار لانے کی تدبیر یہی ہے کہ ہم دریائوں، نہروں، راجباہوں کی شکل میں اپنے دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اپنی ضرورت کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کریں جس سے نہ صرف ہم ان ڈیمز کے پونڈز میں بارشوں اور سیلاب کا پانی ذخیرہ کر سکیں گے بلکہ ڈیمز کے ذریعے حاصل ہونے والی ہائیڈل بجلی ہماری توانائی کی ضرورتیں بھی پوری کرتی رہے گی، مگر ذرا جائزہ لیجئے کیا ہمارے حکمران طبقات کو ان قدرتی وسائل کو ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے بروئے کار لانے کا کبھی احساس ہوا؟ یہاں تو تعمیر کی بجائے تخریب ہی ہمارے ارباب بست و کشاد کی ضد بن گئی ہے جنہوں نے کدالیں لے کر اس ملک خداداد کی جڑیں اکھاڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ ایک کالاباغ ڈیم کا منصوبہ 60ء کی دہائی سے لٹکا پڑا ہے جس پر سیاست چل رہی ہے اور وہ سیاست صرف تخریب کی سیاست ہے جس کے پیچھے ہمارے اس دشمن کا ایجنڈہ کارفرما ہے جو فی الواقع ہمیں ایک آزاد، خود مختار اور خوشحال ملک کی صورت میں قائم و دائم نہیں دیکھنا چاہتا۔ دشمن کے اس ایجنڈے کو ملک کے اندر جن لوگوں نے تھام رکھا ہے وہ بھلا اس وطن عزیز کے ہمدرد کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہم اسی دشمن ملک بھارت کے سیاستدانوں کا اپنے سیاستدانوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیں تو ان میں ملکی و قومی مفادات سے غداری کا کہیں شائبہ تک نظر نہیں آئے گا۔ وہ ایک دوسرے کی نظریاتی اور سیاسی مخالفت ضرور کرتے ہیں مگر ملکی اور قومی مفاد کے کسی منصوبے کو کبھی متنازعہ بناتے ہیں نہ اس پر سیاست کرتے ہیں۔ اگر ہمارے سیاستدان ایسے جذبے سے عاری ہیں تو جن کے ہاتھ میں عنانِ اقتدار ہوتی ہے انہیں تو ایسے سیاستدانوں کے تحفظات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے اور قومی تعمیر و ترقی کے حامل کسی منصوبے کو ہر صورت پایہ تکمیل کو پہنچانا چاہئے۔ اگر اس معاملہ میں حکمران اپنی کسی کمزوری کے باعث ملکی و قومی مفادات کے منافی سوچ والوں کو اپنے لئے ہوّا بنا لیتے ہیں تو درحقیقت وہ ان کے ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل میں ہی معاون بنتے ہیں۔ ہماری اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہر سیلاب کی تباہ کاری کے موقع پر خود حکمرانوں کی جانب سے اعتراف کیا جاتا ہے کہ آج کالا باغ ڈیم موجود ہوتا تو ان تباہ کاریوں کی نوبت نہ آتی مگر اس اعتراف کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لئے سہارا پھر بھی نہیں بنایا جاتا، غضب خدا کا۔

ہم تو کالاباغ ڈیم کی افادیت و مضمرات کا فی الواقع ادراک رکھنے والے سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک اور اب موجودہ چیئرمین ظفر محمود کے صائب مشوروں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور ان کے مقابل اپنی کٹ حجتیاں شروع کر دیتے ہیں۔ ظفر محمود نے نوائے وقت / نیشن سمیت قومی میڈیا پر کالاباغ ڈیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے 26قسطوں پر محیط اپنے طویل تحقیقی مقالہ پر مغز ماری کی مگر پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی یہ کٹ حجتی سامنے آئی کہ سرکاری ملازم کی حیثیت سے چیئرمین واپڈا ہمیں کالاباغ ڈیم پر لیکچر دینے والے کون ہوتے ہیں۔ بھئی ذرا اپنے گریبان میں جھانکئے۔ آپ خیبر پختونخواہ کو افغانستان کا حصہ قرار دینے والے محمود خاں اچکزئی پر تو غداری کا لیبل لگا رہے ہیں، بے شک ان کی سوچ ملک سے غداری والی سوچ ہی ہے مگر کالاباغ ڈیم کی بے تکی مخالفت کرکے کیا آپ بھی محمود خاں اچکزئی جیسی غداری کے مرتکب نہیں ہو رہے۔ آپ 2011ء کی سیلاب کی تباہ کاریوں کے وقت اس وقت کی حکمران پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم کے ریکارڈ پر محفوظ بیانات نکلوا کر دوبارہ پڑھ لیجئے۔ ان کا یہ اعتراف آپ کی شرمساری کے لئے کافی ہونا چاہئے کہ ’’آج کالاباغ ڈیم موجود ہوتا تو خیبر پی کے سیلاب سے ہرگز نہ ڈوبتا۔‘‘ مگر آپ تو آج بھی اپنی کٹ حجتی پر قائم ہیں۔ آج چترال میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہوئی ہیں تو کالاباغ ڈیم نہ بننے دے کر آپ نے ہی ان تباہ کاریوں کا اہتمام کیا ہے۔ حضور والا، اب بھی سنبھل جائیے۔ ورنہ قدرت کے مظاہر آپ کی کٹ حجتیوں سمیت آپ کو تنکے کی طرح بہا کر لے جائیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com