’’جب وقت نزع آئے، دیدار عطاء کرنا‘‘
Jun 24, 2016

مختلف ٹی وی چینلزپر امجد صابری کی سفاک دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت پر مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے تاثرات سنتے ہوئے معروف ٹی وی آرٹسٹ عرفان کھوسٹ کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ نے مجھے غم کی گہرائیوں میں ڈبو دیا۔ ان کے الفاظ ابھی تک میرے ذہن میں گونج رہے ہیں۔ ’’جب کسی معاشرے میں ظلم بڑھ جائے اور اچھے انسان بے توقیر لوگوں کے ہاتھوں قتل ہونا شروع ہو جائیں تو ذاتِ باری تعالیٰ نے ایسے حالات میں ہجرت کا حکم دیا ہوا ہے۔ ہم نے تو یہ وطن عزیز کلمے کی بنیاد پر امتِ واحدہ کے امتیاز کے تحت حاصل کیا ہے۔ تو کیا اب مسلمانوں کے مسلمانوں کے ہاتھوں کٹنے پر وطن عزیز کی 20 کروڑ کی آبادی ہجرت کر جائے، بھلا اتنی کثیر تعداد کی ہجرت کا تصور کیا جا سکتا ہے‘‘

یہ بات ان بدبختوں کو کون سمجھائے جو شریعت کے نام پر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں امجد صابری جیسے معصوم، متقی، عاشق رسولؐ اور ہمہ وقت ذکر خدا و رسولؐ میں مگن رہنے والے بے ضرر انسان کا روزے کی حالت میں بھی خون بہانے سے نہیں چوکتے اور اس کے عوض جنت حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں، مگر ان کے بارگاہِ ایزدی میں مردود ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ انہیں جنت کے ٹکٹ والی واردات کے بعد جنازہ بھی نصیب نہیں ہوتا اور کوئی ان کی مغفرت کے لئے ہاتھ اٹھانے والا بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ مگر جس امجدصابری کو قتل کرکے ان سفاکوں نے اپنے لئے جنت کا ٹکٹ کٹوایا اس کے جنازے میں عملاً لاکھوں افراد کی نمناک آنکھوں کے ساتھ شمولیت نے بارگاہِ ایزدی میں اس کے ارفع مقام کی گواہی دے دی ہے۔ امجد صابری کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے والے کون سفاک عناصر ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں مختلف پہلوئوں سے تبصرے جاری ہیں۔ کراچی کے دوبارہ سنگین تر ہونے والے حالات بھی دہشت گردوں کی جانب سے ہماری سکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جاری اپریشن کی کامیابی اور اس اپریشن کے اگلے مرحلہ کے اعلان پر ردعمل کا اظہار ہو سکتے ہیں جس کے لئے امجد صابری جیسے معصوم انسان کو قتل کرنا بھی ان کے سفاکی پر مبنی منصوبوں کا حصہ ہو سکتا ہے مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ ماہ رمضان میں کسی روزہ دار کو جرم کے بغیر قتل کرنے والے بدبخت عناصر مسلمان تو ہرگز نہیں ہو سکتے اور وہ بھلا انسان بھی کہاں ہوں گے کہ ذاتِ باری تعالیٰ نے تو ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کر رکھا ہے۔

امجد صابری کا قتل اس لئے بھی قلق کا باعث بنا ہے کہ آج محافل سماع کے ذریعے محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیؐ کے پیغام انسانیت کو پھیلانے والے مفقود ہوتے جا رہے ہیں اور قوالی کا فن جدید دور کی کمپیوٹر، نیٹ اور سوشل میڈیا کی دھماچوکڑی میں ماند پڑتا جا رہا ہے۔ قوال گھرانوں کی نئی نسلیں اپنی میراث کے ساتھ وابستہ نظر نہیں آتیں۔ اس صورتحال میں امجد صابری کو قتل کرنا قوالی کے فن کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ برصغیر میں قوالی کے ذریعے ابلاغ کا سلسلہ امیر خسرو سے شروع ہوا تھا جو انسانیت کا درس دینے اور شعائر اسلامی کو دلوں میں راسخ کرنے کا مقبول ترین ذریعہ بن گیا۔ یہ فن پہلے بزرگان دین کی درگاہوں تک محدود رہا مگر آہستہ آہستہ خانقاہوں اور درگاہوں سے باہر نکل کر دنیا بھر کے عوامی اجتماعات کی توجہ کا بھی مرکز بن گیا۔ اب یہ فن ہائو ہو والے لوفر قسم کے کنسرٹس کے شور شرابے میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود امجد صابری نے ثابت قدمی کے ساتھ اپنے والد نامور قوال غلام فرید صابری اورچچا مقبول صابری سے حاصل کئے گئے قوالی کے فن کو اپنے خاندان کی میراث کے طور پر عوامی قبولیت سے ہمکنار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس فن کے حوالے سے شہرِ فرید پاکپتن کو خاصی عرفیت حاصل ہے جو میرا آبائی شہر ہے۔ اس ناطے سے درگاہ بابا فرید گنج شکر پر سالانہ محافل سماع میں شرکت کے لئے آنے والی ملک کی نامور قوال پارٹیوں کے ساتھ میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ 60ء کی دہائی میں مقامی سطح پر پاکپتن کے معروف قوال میانداد خاں، حفیظ داد خاں درگاہ بابا فرید پر سالانہ کے علاوہ ہفتہ وار اور ماہانہ محافل سماع بھی سجایا کرتے تھے۔ یہ دونوں بھائی برصغیر کے فن قوالی میں معروف سولو پرفارمر میاں دینا کے بھانجے تھے۔ ان کی گائی قوالی ’’پاکپتن دے پیاریا، عشق تیرے نے موہ لئی میں‘‘ کو میں نے اپنی پنجابی شاعری کی کتاب ’’سوچ سمندر‘‘ کے انتساب کا حصہ بنایا۔ درگاہ بابا فرید پر سالانہ محفل سماع میں میاں داد خاں کے علاوہ غلام فرید، مقبول صابری، نصرت فتح علی خاں، عزیز میاں، سنتو خاں قوال پارٹیاں اپنی اپنی باری پر رات بھر روحانی کیفیت برپا کئے رکھتیں۔ اس دور کی محافل سماع آج بھی میری یادوں میں تروتازہ ہیں۔ ہر ایک کا فن پختگی کی انتہاء کو پہنچا ہوا اور انگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا تھا۔ اس وقت میاں داد خاں کے ساتھ ان کے کمسن صاحبزادے بدر میاں داد، نصرت فتح علی خاں کے ساتھ ان کے کمسن بھانجے راحت فتح علی خاں اور اسی طرح غلام فرید صابری اور عزیز میاں کے کمسن صاحبزادگان بھی اپنے والدین کی انگلیاں پکڑ کر ان کے ساتھ آتے اور قوالی میں تالی بجانے والی پارٹی میں شامل ہوا کرتے تھے۔ امجد صابری تو یقیناً اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے غلام فرید صابری کی انگلی پکڑ کر آنے والے ان کے کمسن صاحبزادے یقیناً امجد صابری کے بڑے بھائی ہوں گے۔ مگر ان کمسن صاحبزادوں نے اپنے اپنے خاندان کی میراث فن قوالی کو بام عروج تک پہنچایا۔ میاں داد خاں کے بیٹے بدر میاں داد اور ان کے چھوٹے بھائی شیر میانداد نے فن قوالی میں عالمی مقبولیت حاصل کی۔ اب بدر میانداد کے صاحبزادے سکندر بدر میاں داد نے اپنے خاندان کی یہ میراث سنبھال رکھی ہے۔ جو میرے بھتیجوں کی طرح ہے۔ اس طرح راحت فتح علی خان نے پوری دنیا کو اپنا گرویدہ کیا۔ جبکہ امجد صابری کا تو فن قوالی میں کوئی ثانی ہی نہیں تھا جو اس جہان فانی سے رخصت ہونے کے چند گھنٹے پہلے تک ایک ٹی وی چینل کے سحری پروگرام میں ’’جب وقت نزع آئے، دیدار عطا کرنا‘‘ کی دعا کو اپنے سُروں میں ڈھال رہے تھے اور اسے اپنی بخشش کا ذریعہ بنا رہے تھے۔ اللہ کے ایسے نیک بندوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسان تو نہیں کہلا سکتے، ننگ انسانیت ضرور ہو سکتے ہیں۔ ان کی شہادت فرقہ واریت کی لعنت کا شاخسانہ ہے تو عرفان کھوسٹ کی یہ فریاد فرقہ واریت کے پرچارک ننگِ انسانیت بدبختوں کے دلوں کو چیرنے کا باعث بن جانی چاہیے کہ کیا ہم اس وطن عزیز کے سارے 20 کروڑ باشندے ہجرت کر جائیں۔ اگر یہ شہادت آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کی نوید سنانے والی سول اور عسکری قیادتوں کو پیغام ہے تو پھر انہیں اپنی اتھارٹی، رٹ، گورننس اور استعداد کو مزید امتحان میں ڈال کر ان سفاکوں کے مکمل صفایا کی صورت میں جوابی پیغام دینا چاہیے اور اگر اس قتل کا سہارا کسی کی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سنبھالنے کیلئے لیا گیا ہے تو پھر مفاد پرستانہ سیاست کی سفاکی پر بھی قوم کو بحیثیت مجموعی فاتحہ پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس سانحہ کا جو بھی پس منظر ہے مگر اس سے ایک نیک اور بارگاہ ایزدی میں قبولیت حاصل کرنے والے معصوم انسان کا خون ناحق تو بہہ گیا ہے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com