’’آئی کے، پلوشہ اور ارضِ وطن‘‘
Jun 17, 2016

اسحاق ڈار صاحب کو قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے اپنے مجوزہ بجٹ پر بحث کے اختتامی مراحل میں شائد اس بجٹ کی بنیاد پر ’’غیب‘‘ سے یہ خوشخبری موصول ہوئی ہے کہ پاکستان دوبارہ امرجنگ مارکیٹ انڈکس میں شامل ہو گیا ہے اور اب معاشی استحکام کی طرف گامزن ہے، خدا کرے کہ ایسا ہی ہو مگر دل ناہنجار تو سو وسوسوں سے بھرا ہوا ہے۔ کہیں سے وطنِ عزیز کے لئے کوئی اچھی خبر ملتی ہے تو دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے۔ مگر زمینی حقائق پر نظر پڑتی ہے تو دل میں ’’کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے‘‘ کے وسوسے امڈنے لگتے ہیں۔ زیادہ پیچھے نہ جائیے، موجودہ دو اڑھائی ماہ کے ملکی حالات کا ہی جائزہ لے لیجئے ۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر افتاد ہمارے وطن عزیز کو ہی نشانے پر رکھ چکی ہے۔ ہر کوئی لٹھ لے کر ہماری جانب دوڑتا نظر آ رہا ہے۔ ہر ایک نے شائد اس لمحۂ موجود کو ہی ہماری سلامتی کے خلاف اپنے جنونی عزائم پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لئے غنیمت جان لیا ہے۔ ہمارے معاملہ میں تو اب دوست دشمن کی تمیز ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ کیا تماشہ ہے کہ برادر سعودی عرب نے یمن کی جنگ میں ہمارے محتاط طرزِ عمل پر ہمیں سبق سکھانا ہو تو وہ ہماری سلامتی کے دشمن مودی کو اپنے پاس مدعو کرکے اسے ہائی پروفائل پروٹوکول اور اعلیٰ ترین سعودی اعزاز سے نواز کر ہمیں سبق سکھاتا ہے اور برادر ایران کو بھارتی جاسوس کلبھوشن کے اعترافی بیان کی بنیاد پر ہم پر غصہ آئے تو وہ بھی مودی کو اپنے پاس مدعو کرکے اور اسے چاہ بہار پورٹ میں شراکت دار بنا کر ہمارے معاملہ میں اپنا غصہ نکالتا ہے۔ ارے یہ مودی کو کون سی مٹھاس چپک گئی ہے کہ امریکہ بہادر کا دل بھی اس کے لئے للچانے لگا ہے۔ اوبامہ نے اس مودی کو جسے وہ اپنے گزشتہ دورہ دہلی کے دوران ہندو انتہا پسندی کے آگے بند باندھنے کی ہدائت کرکے گئے تھے، وائٹ ہائوس میں اتنا شاندار پروٹوکول دیا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ پھر اس پر ہی بس نہیں کیا، لگے ہاتھوں انہوں نے امریکہ اور بھارت کو فطری فوجی اتحادی بھی قرار دے دیا اور یہ معاملہ زبانی جمع خرچ تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ مودی کے ساتھ سول ایٹمی ٹیکنالوجی اور ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کی افواج کو بھی ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ کے لئے مشترکہ طور پر بروئے کار لانے کا بھارت کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ اگر اب بھارت اور امریکہ باہم مل کر اپنی افواج کو ہماری سلامتی کے خلاف بروئے کار لاتے ہیں جس کا امریکہ اور بھارت دونوں کی جانب سے واضح عندیہ بھی دیا جا رہا ہے اور بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے کے ذریعے ہماری آزادی اور خود مختاری کو دوٹوک الفاظ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے تو ہمیں ایٹمی توانائی اور ٹیکنالوجی سے لیس ان دونوں ممالک سے بیک وقت نبرد آزما ہونے کا کوئی موقع بھی مل پائے گا، یا نہیں؟ یہ زمینی حقائق سوائے مایوسی کے ہمارے لئے کوئی فصل کاشت کرتے نظر نہیں آتے۔ اور تو اور یہ افغانستان کو کس نے شہہ دے دی کہ وہ بھی بھاگم بھاگ ہمیں کاٹنے والے باڈی لینگوئج کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔

یہ تو ملک سے باہر کی سرحدوں کا معاملہ ہے جو بیٹھے بٹھائے ہم پر تنگ ہو رہی ہیں اور دم گھٹ جانے والی فضا کے باعث ہم اجتماعی موت کا سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں مگر ملک کے اندر کے حالات تو کروٹ بدلتے ہماری سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرتے نظر آتے ہیں۔ ارے توبہ۔ ادھر ملک کی سلامتی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور ادھر ہمارے قومی سیاسی قائدین ایک دوسرے پر اب بھی پوائنٹ سکورنگ والی اپنی سیاسی دھماچوکڑی میں ہی مگن نظر آتے ہیں۔ اور اب تو ’’گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘‘ والے حالات کو بھانپ کر ڈاکٹر طاہرالقادری بھی شور و غوغا کرتے اس سرزمین پر آ دھمکے ہیں جسے وہ اس قابل بھی نہیں سمجھتے کہ اس کی خاطر وہ اپنی کینیڈا کی شہریت کی قربانی دینا گوارا کر لیں۔ اگر اسحاق ڈار کے بقول ہمارا وطن عزیز امرجنگ مارکیٹ انڈکس میں دوبارہ شامل ہو گیا ہے تو اس میں یہ کمزوری کہاں سے در آئی ہے کہ سارے ہاتھ اسے نوچنے کے لئے لپکتے نظر آتے ہیں۔

ہمارے معاملہ کی کچھ ایسی ہی تصویر گزشتہ روز بی بی سی اردو سروس نے اپنی رپورٹ میں دکھائی ہے جس کے بقول نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت کے لئے امریکہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے جبکہ اس گروپ کی رکنیت کا دوسرا امیدوار پاکستان اس وقت دنیا میں تنہائی کا شکار نظر آتا ہے جس کے خطہ میں افغانستان، ایران اور بھارت سے بھی اچھے تعلقات نہیں اور چین بھی اس سے ناراض ہے۔ یا خدا، کہیں سے خیر کی کوئی خبر کانوں میں پڑتی نظر ہی نہیں آ رہی۔ آپا دھاپی ہے، کھینچا تانی ہے۔ اور اس فضا میں وطن عزیز کی ویرانی ہے، بے سروسامانی ہے۔ بھئی جائیں تو جائیں کہاں…

قافلہ ہٹنے لگا ہے اپنی منزل سے پرے
بے خبر ہے قافلہ سالار، الٰہی خیر ہو
ہماری قیادتوں کو کون بتائے، کون سمجھائے کہ
’’سسئیے بے خبرے، تیرا لٹیا شہر بھنبھور‘‘

آج تو کفیں چڑھاتا، آنکھیں دکھاتا، للکارے مارتا افغانستان بھی ہمارے قابو نہیں آ رہا۔ ہمارے بدخواہوں نے ایسی گیم کھیلی ہے کہ ہمارے لئے ’’متحد ہیں فقیہان شہر میرے خلاف‘‘ والی کیفیت بن گئی ہے۔ ظہور حسن ظہور بے اختیار یاد آ گئے ’’جے بولے تے مار دین گے، نہ بولے تے مر جاواں گے‘‘۔ ارے بھئی کچھ اپنے ہونے کی سبیل نکال لو۔ اس وطن عزیز کو سنبھال لو۔ یہ ارضِ وطن ہے تو آپ کی باہم دوستیاں، دشمنیاں، لڑائیاں، جدائیاں، دار، اقتدار اور اقتدار کی کشمکش سمیت سب کچھ ہے۔ یہ ارضِ وطن ہے تو آپ آرمی چیف کے لئے ہانک لگائیں گے اور یہ ارضِ وطن ہے تو آپ اقتدار کی غلام گردشوں میں اپنا اپنا طنبورا بجائیں گے، رونق میلہ لگائیں گے۔ اگر خدانخواستہ ننگے اغیار اور دوست نما دشمنوں کی سازشوں نے اس ارض وطن کو ہی ہم سے دور کر دیا تو آپ کو ان ساری دھماچوکڑیوں کا کس سرزمین پر موقع ملے گا۔ اس لئے آج یکسو ہو جائیے، یک جہت نظر آئیے اور ارض وطن کی حفاظت کیلئے عملاً سیسہ پلائی دیوار بن جائیے ورنہ بھائی صاحب! ’’تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پر۔‘‘ ایک دوسرے کے ساتھ پانامہ پانامہ کھیلنا ہے تو اس کیلئے اپنی ارض وطن کو تو محفوظ رکھئیے۔ یہ نہیں رہے گی تو پھر آپ سب کی اوقات ہی کیا ہے۔ ایک ایک کرکے، چن چن کر قہر مزلت کی جانب دھکیل دئیے جائو گے۔ حکمرانوں کی بے ضابطگیوں، بے تدبیریوں اور کرپشنوں پر ان کے گریبان ضرور پکڑئیے مگر پہلے ان گریبانوں کے موجود رہنے کا اہتمام تو کر لیجئے۔

اور کیا کیوں، ’’آئی کے‘‘ سیاست کا پول تو ’’کے پی کے‘‘ سے ان کی ایک پرستار ہی کھول رہی ہیں۔ یہ ہیں کے پی کے کی معروف گلوکارہ اور سماجی کارکن پلوشہ خان، پچھلے دنوں خیبر پی کے کی گورننس پر ان سے بات چیت ہو رہی تھی تو ذاتی طور پر عمران خان کی فین یہ خاتون پھٹ پڑیں۔ ’’میں نے عمران خان کو ووٹ دیا، مگر سخت غلطی کی، آئندہ میں ہی نہیں، خیبر پی کے میں عمران کو ووٹ دینے والوں کی اکثریت اس غلطی کا اعادہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے لگے ہاتھوں یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ آئندہ انتخابات میں ’’آئی کے پارٹی‘‘ اپنی آدھی سے زیادہ نشستوں سے محروم ہو جائے گی۔ میں نے ان کا یہ دعویٰ اس کالم میں ریکارڈ کر دیا ہے۔ اب وہ جانیں اور ان کا ممدوح ’’آئی کے‘‘ جانے۔ حیرت ہے کہ انہیں گورننس کے معاملہ میں ’’مولویوں‘‘ کی سابقہ حکومت بھی آئی کے پارٹی سے بہتر نظر آ رہی ہے، اور تجسس ان کا یہ ہے کہ خیبر پی کے حکومت گورننس کیلئے اس پولیس پر تکیہ کر رہی ہیں جس کا بال بال کرپشن میں لتھڑا ہے اور جو عام انسانوں کے ساتھ ’’کھلی دہشت گردی‘‘ کر رہی ہے۔ وللہ علم باثواب۔ یہ آئی کے کی ایک فین کے جذبات ہیں۔ شائد اپنے ذاتی تجربات کے باعث انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہو مگر اپنی سیاست کیلئے ’’پی پی بلاول‘‘ اور مہمان اداکار طاہر القادری پر تکیہ کرنے والے عمران خان کیلئے بہرصورت لمحہ فکریہ تو ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com