پانی کی کہانی
Jun 07, 2016

اسلام آباد میں ڈان ٹی وی کے مصطفیٰ بیگ کے گھر بیٹھے موسمیاتی تبدیلیوں کے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے مضر اثرات پر بات ہو رہی تھی۔ پروفیسر نعیم قاسم نے ثقیل تجزیہ پیش کرتے ہوئے دو روز قبل کے مری کے موسم کے بارے میں بھی آگاہ کیا کہ وہاں اب اس موسم میں اچانک بادلوں کے آنے، برسنے اور پھر ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے جسم میں کپکپی کی کیفیت پیدا ہونے کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے۔ مصطفیٰ بیگ نے موسمی تبدیلیوں سے متعلق کسی غیر ملکی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے یہ انکشاف کرکے علمی بحث کو تقویت پہنچائی کہ ہر سال گرمی کے ایک دن کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ نہ جانے کب سے ہو رہا ہے مگر آگے کی صورتحال کا جائزہ لیں تو متعلقہ رپورٹ کی روشنی میں 30برس بعد موسم گرما کے دورانیہ میں ایک مہینے کا اضافہ ہو چکا ہو گا۔

یہ تو قدرت کے مظاہر ہیں۔ نظام کائنات اور اس میں انسانوں اور دوسری ذی روح مخلوقات کی بقا و فنا کا سارا معاملہ ربِ کائنات کے ہاتھوں میں ہے اور جس تیز رفتاری کے ساتھ موسمی تغیر و تبدل رونما ہو رہا ہے مجھے تو یہ سب قربِ قیامت کی نشانیاں نظر آتی ہیں اور موسمی تبدیلیوں میں انسانی ذہنِ رسا اور بے تدبیریوں کا بھی عمل دخل ہے تو؎ ’’میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘‘ کے مصداق انسانی ہاتھوں سے قدرت کسی حکمت کے تحت ہی خرابیوں کا اہتمام کرا رہی ہے۔ مگر اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم ہر صورت خرابیوں میں ہی اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔ ربِ کائنات نے انسانی ذہن رسا سے تعمیر و بقا کے اسباب بھی نکلوانے ہوتے ہیں اور اسی تناظر میں ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ موسمی تغیر و تبدل کے عمل میں ہم اپنی بے تدبیریوں سے گرمی کی حدت بڑھانے کے راستے کیوں نکال رہے ہیں جبکہ یہ راستے نکلنے سے انسانی بقا کو لاحق خطرات کے آگے بھی بند باندھنا ممکن نہیں رہے گا۔

گزشتہ روز ماحولیات کا عالمی دن بھی منایا گیا ہے جو ہم سے موسمی تغیر و تبدل کے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کا جائزہ لینے اور اس کی بنیاد پر انسانی بقا کے راستے نکالنے کا متقاضی تھا مگر ہمارا طرز عمل اور چال چلن تو اب بھی ویسے کا ویسا ہے۔ ہم نے واٹر مینجمنٹ کا کبھی سوچا ہے نہ اس دھرتی پر درختوں کی اہمیت سے آگاہ ہونے کی کبھی زحمت گوارا کی ہے۔ نتیجتاً ہم بہت تیز رفتاری کے ساتھ انسانی بقا کے آگے گڑھے کھودتے چلے جا رہے ہیں۔ میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں بھی ایک رپورٹ کے حوالے سے اہل اختیار و اقتدار کو جھنجوڑنے کی کوشش کی تھی کہ لاہور کے زیر زمین پانی کی سطح بہت سرعت کے ساتھ نیچے جا رہی ہے اور اس وقت چار سو فٹ کی کھدائی پر بھی پانی نہیں نکلتا اور پانی کی جگہ زہریلی دھاتیں اور گیسز نکل رہی ہیں جن کے جسم میں داخل ہوتے ہی انسانی زندگی کا دورانیہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اب واسا کے حکام نے اپنی سرجوڑ نشستوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ زیر زمین پانی کی تلاش میں شائد ہمیں اپنے ٹیوب ویلوں کے لئے ایک ہزار فٹ تک کی کھدائی کرنا پڑے۔ مگر آبی ماہرین کی مرتب کردہ اس رپورٹ کی روشنی میں کہ 2020ء تک لاہور میں زیر زمین پانی ناپید ہو جائے گا، کیا ایک ہزار فٹ کی کھدائی پر بھی پانی دستیاب ہو پائے گا۔
قدرت کی اس نعمت پر ہی تو انسانی بقا کا دارومدار ہے۔ اگر ہم اس نعمت سے محروم ہو گئے تو پھر ذرا چشم تصور سے جائزہ لے لیجئے کہ انسانی بقا کے خاتمہ کی منزل کتنی تیز رفتاری کے ساتھ قریب آ رہی ہے۔ ابھی کراچی میں پانی کی قلت کے خلاف شہریوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ممکن ہے ان مظاہروں کے پیچھے ایم کیو ایم متحدہ کی سیاست کا بھی عمل دخل ہو مگر آبی ماہرین کی رپورٹیں تو زیر زمین پانی کے ناپید ہونے کی ہی اطلاع دے رہی ہیں۔ پھر ہم نے پانی کو ذخیرہ کرنے اور اسے خشک ہونے سے بچانے کی بھلا کوئی منصوبہ بندی کی ہے۔ اس وقت تو ہمارے معاشرے کو واٹر مینجمنٹ کی سخت ضرورت ہے تاکہ بے جا استعمال سے پانی کا ضیاع روک کر اسے مستقبل کے لئے بچایا جا سکے مگر ہمیں تو سیاست سے ہی فرصت نہیں، اس اہم ترین انسانی مسئلے کی جانب کیسے توجہ دی جائے گی۔ عوام تو عوام‘ ہمارے منصوبہ سازوں اور حکمرانوں کی بھی اس جانب توجہ نہیں جا رہی کہ درختوں کو مسلسل کاٹنے اور نئے درخت نہ لگانے سے موسمی تغیر و تبدل میں گرمی کا دورانیہ بڑھ رہا ہے۔ چنانچہ گرمی کی حدت میں اضافہ ہو گا اور اس کا دورانیہ بڑھے گا تو فطری طور پر زمین کی سطح پر موجود پانی خشک ہونا شروع ہو جائے گا اور اس طرح زیر زمین پانی بھی نایاب ہو جائے گا۔ اس کے بعد انسانی تباہی کو بھلا کوئی انسانی دماغ اور ہاتھ روک سکتا ہے۔ ہم ایک جانب تو جنگلات ختم کرتے چلے جا رہے ہیں اور دوسری جانب دستیاب پانی کو محفوظ کرنے کی کوئی حکمت عملی بھی ہمارے کرتا دھرتائوں کو نہیں سوجھ رہی۔

اس وقت انسانی آبادی میں جس تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور انسانوں کے رہن سہن میں جس طرح ڈسپلن اور سوچ بچار کا فقدان ہو رہا ہے اس سے بھی پانی کے نایاب ہونے کا ہم خود ہی اہتمام کر رہے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ ایک اوسط گھر میں بھی تین چار واش روم ہوتے ہیں جہاں 24 گھنٹے پانی کا جائز ناجائز استعمال جاری رہتا ہے۔ بنگلوں اور محلات میں تو درجنوں بیڈ رومز کے ساتھ اتنے ہی واش روم ہوتے ہیں جہاں بے فکری کے ساتھ پانی کا استعمال جاری رہتا ہے۔ اور تو اور بدلے ہوئے انسانی رہن سہن میں ہر گھرکے آنگن میں ایک دو گاڑیاں بھی کھڑی نظرآتی ہیں جن کی صفائی دھلائی پر بے دریغ پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لئے پانی کا یہ اصراف بالآخر پانی کے ناپید ہونے کی ہی نوبت لائے گا۔ مگر ہمارے حکمرانوں کو مستقبل قریب میں لاحق ہونے والے اس گھمبیر مسئلے کی جانب توجہ دینے کے بجائے میٹرو بسوں اور اورنج لائنوں کی سوجھ رہی ہے۔ آپ جن انسانوں کی سہولت کے لئے یہ منصوبے بنا رہے ہیں۔ اگر پانی ناپید ہونے سے وہ انسان ہی اس روئے زمین پر نہ رہے تو آپ کے یہ منصوبے کس کے کام آئیں گے۔ اور غضب خدا کا!! ہمارے خود غرض سیاستدان پانی پر بھی سیاست کر رہے ہیں اور جن ڈیمز کی بدولت ہم پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں اور بارشوں، سیلابوں کا پانی بھی ضائع ہونے سے روک سکتے ہیں‘ ہمارے مفاد پرست سیاستدان لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ان کی تعمیر کی نوبت نہیں آنے دے رہے۔ چیئرمین واپڈا ظفر محمود نے پانی کے تحفظ کی مثبت سوچ کے تحت ہی کالاباغ ڈیم کی افادیت سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے قومی اخبارات میں اپنے مضامین کی سیریل شروع کی ہے تو کالا باغ ڈیم کے بلاوجہ کے ناقد سیاستدان ان پر بھی تنقید کے نشتر برساتے نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران سب سے زیادہ یہی بات میرے مشاہدے میں آئی کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی معیت میں کالاباغ ڈیم کے مخالفین چیئرمین واپڈا کے مضامین پر چائے کے کپ میں طوفان اٹھانے کی منصوبہ بندی کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہمارا یہی طرزعمل برقرار رہتا ہے تو 2020 تک زیر زمین پانی کے نایاب ہونے کا خدشہ حقیقت کے قالب میں ڈھل کر رہے گا۔ پھر ماہی بے آب کی طرح ہم انسان سسکتے تڑپتے اس جہان فانی سے گزر جائیں گے۔ پھر آپ اپنی مفاد پرستانہ سیاستوں کو کہاں سنبھال کر رکھیں گے۔ سو آج ہی بیدار ہو جائیے اور پانی کی بقاء کے لئے کچھ کر جایئے ورنہ بھائی صاحب! ’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی، داستانوں میں‘‘۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com