جسٹس افتخار چودھری پر ظالم سیاست کا چڑھتا رنگ
May 31, 2016

واقعی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سیاست میں آئے ہیں تو ان کے سینے میں موجود دل کی دھڑکنیں بھی انسانی جذبے کے حوالے سے اپنے نہ ہونے کی گواہی دینے لگی ہیں۔ کسی کی سیاست پر اختلاف رائے کا اظہار کرنا اور کسی حکمران کی ذات سے متعلق بے ضابطگیوں اور اخلاقیات کے حوالے سے اس کے کردار کا جائزہ لینا اصلاحی نکتہ نظر سے یقیناً جائز قرار پاتا ہے مگر کسی سیاستدان یا حکمران کی شدید علالت کے دوران انہیں تنقیدی نشتروں کی زد میں رکھنا اخلاقیات کے کسی پیمانے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ 2013ء کے انتخابات کی مہم کے دوران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خاں لاہور کے ایک جلسہ میں منتظمین کی بدنظمی کے باعث سٹیج پر جاتے ہوئے لفٹر سے نیچے گر کر شدید زخمی ہوئے تو اسی وقت میاں نواز شریف نے اپنے باقیماندہ سارے انتخابی پروگرام اور جلسے منسوخ کر دئیے تھے۔ ایسے ہی انسانی جذبے کا مظاہرہ اب وزیراعظم میاں نواز شریف کے دل کے بائی پاس کے مراحل کے دوران ان کے مخالف سیاستدانوں کی جانب سے بھی ہو جائے تو اس سے کم از کم سیاست کے سینے میں دل نہ ہونے کا تاثر تو زائل ہو جائے مگر یار لوگ تو اس موقع پر بھی ظالم سیاست کی جلوہ گری وزیراعظم کے استعفے کے تقاضوں کی صورت میں دکھا رہے ہیں۔ بس سیاست ہے اور یہی سیاست ہے ورنہ پاکستان کے چیف جسٹس کی حیثیت سے آئین کے شارح ہونے کے باوجود جسٹس افتخار چودھری سیاستدان بن کر ہی ایسا بیان داغ سکتے ہیں کہ عارضہ قلب کے باعث وزیراعظم نواز شریف کی ملک میں عدم موجودگی سے امور حکومت کی انجام دہی کے معاملہ میں آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے اس لئے امور حکومت چلانے کی خاطر ہائوس میں نیا وزیراعظم منتخب کر لیا جائے۔

مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ جرنیلی آمر مشرف کے ہاتھوں معطل ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی عوامی دبائو کے تحت بحالی میں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف کے لانگ مارچ کا کوئی کردار بنتا ہے یا نہیں اور اس پر افتخار چودھری کو ان کا ممنونِ احسان رہنا چاہئے یا نہیں مگر مجھے جسٹس افتخار چودھری کی جانب سے آئین کی غلط تشریح و توضیح سے ضرور سروکار ہے کیونکہ سیاست میں آئے تو انہیں جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے منصب تک انہوں نے عدل و انصاف کے ایوانوں میں عمر گزاری ہے سو…؎ عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں‘‘ کے مصداق انہیں تو آئین و قانون کی تشریح و توضیح میں اتھارٹی ہونا چاہئے۔ پھر انہوں نے وزیراعظم کے استعفے یا ان کے خلاف عدم اعتماد کی کسی تحریک کی منظوری کے بغیر ہی ہائوس میں نیا وزیراعظم منتخب کرنے کا تقاضا کیسے کر دیا۔ مجھے ہرگز یہ گمان نہیں کہ جسٹس افتخار چودھری کو آئین پاکستان ازبر نہیں ہو گا، اسی لئے تو میں نے ان سطور کے آغاز ہی میں عرض کر دیا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، سو جسٹس افتخار چودھری نے نئے وزیراعظم کے انتخاب سے متعلق بیان سابق منصف اعلیٰ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے داغا ہے۔ ورنہ تو آئین پاکستان کی دفعہ 90 اور اس کی ذیلی دفعات ایک اور دو وزیراعظم کی علالت یا ان کی عدم موجودگی کی صورت میں امور حکومت میں کسی قسم کا تعطل پیدا ہونے کی ہرگز نشاندہی نہیں کرتیں۔ کیا جسٹس افتخار چودھری کو اب میرے جیسے قانون کے ادنیٰ طالب علم یہ سمجھائیں گے کہ آئین کی دفعہ 90 اور اس کی ذیلی دفعہ ایک کے تحت امور حکومت ملک کے آئینی سربراہ صدر مملکت کے نام سے چلائے جاتے ہیں اور وفاقی کابینہ بھی، جو وزیراعظم اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہوتی ہے صدر مملکت کی ہدائت کے مطابق ہی اپنے فرائض سرانجام دیتی ہے جبکہ آئین کی دفعہ 90 کی ذیلی دفعہ 2 وزیراعظم کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنے منصب کے اختیارات براہ راست خود یا کسی وفاقی وزیر یا وزراء کے ذریعے بروئے کار لائیں گے۔ میں ہرگز ایسا تصور نہیں کر سکتا کہ سابق منصف اعلیٰ کی حیثیت سے جسٹس افتخار چودھری کو اس بات کا علم نہیں ہو گا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کا اجلاس بھی صدر مملکت کے دستخطوں کے ساتھ طلب کیا جاتا ہے اور ان میں منظور کئے گئے مسودات قانون اور آئینی ترامیم بھی قانون اور آئین کا درجہ صدر مملکت کے دستخطوں کے ساتھ ہی حاصل کرتی ہیں سو قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بھی صدر کے دستخطوں کے ساتھ طلب ہوتا ہے اور اس میں منظور کیا گیا فنانس بل (بجٹ) بھی صدر کے دستخطوں کے ساتھ ہی لاگو ہوتا ہے اور جب صدر مملکت ملک میں موجود نہ ہوں تو ان کی عدم موجودگی میں چیئرمین سینٹ یا سپیکر قومی اسمبلی، قائم مقام صدر مملکت کے فرائض ادا کرتے ہیں تو وزیراعظم کی علالت یا ان کی ملک میں عدم موجودگی سے امور حکومت کی انجام دہی میں آئینی خلا کیسے پیدا ہو جائے گا؟ اسی فلسفہ کے تحت آئین میں قائم مقام وزیراعظم یا ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ نہیں رکھا گیا کہ وزیراعظم آئین کی دفعہ 90(2) کے تحت اپنے اختیارات کسی وزیر کو تفویض کرنے کے مجاز بنائے گئے ہیں اس بنیاد پر وفاقی کابینہ کے تمام ارکان درحقیقت وزیراعظم کے اختیارات ہی استعمال کرتے ہیں۔ وزیراعظم کے علاوہ وزراء اعلیٰ کی بھی یہی آئینی پوزیشن ہے ان کی عدم موجودگی سے بھی امور حکومت کی انجام دہی میں کوئی تعطل یا خلا پیدا نہیں ہوتا چنانچہ آئین میں قائم مقام وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ کا منصب بھی نہیں رکھا گیا کیونکہ صوبوں کے امور حکومت آئین کی دفعات 129تا132 کی روشنی میں گورنر کے نام پر چلائے جاتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہی گورنر کے منصب پر بھی کوئی خلا پیدا نہیں ہونے دیا گیا اور گورنر کی عدم موجودگی میں قائم مقام گورنر کا تقرر لازمی آئینی تقاضہ بنایا گیا ہے۔ یہی صورتحال سپریم کورٹ اور ہائیکورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان کی ہے جن کی موجودگی کے ساتھ ہی ان عدالتی اداروں کا وجود قائم رہتا ہے چنانچہ متذکرہ اعلیٰ عدالتوں کے چیف جسٹس حضرات کی عدم موجودگی میں لازمی آئینی تقاضے کے تحت ہی ،جو چیف جسٹس سپریم کورٹ کے معاملہ میں آئین کی دفعہ 180اور ہائیکورٹوں کے چیف جسٹس حضرات کے معاملہ میں آئین کی دفعہ 196کے تحت بروئے کار لایا جاتا ہے، قائم مقام چیف جسٹس حضرات کا تقرر کیا جاتا ہے۔

اگر جسٹس افتخار چودھری صاحب کی اس منطق کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ وزیراعظم کی عدم موجودگی میں امور حکومت کی انجام دہی میں تعطل پیدا ہو چکا ہے اور اس بنیاد پر قومی اسمبلی میں مجوزہ بجٹ بھی پیش نہیں کیا جا سکتا تو کیا یہ آئین کو ناقص ثابت کرنے کی منطق نہیں ہو گی۔ اور پھر آج کے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے دور میں عدالتی کارروائی ملزمان اور گواہان کے بیانات سمیت ویڈیو لنک کے ذریعے چل سکتی ہے جسے عدالتی کارروائی کا حصہ بھی بنایا جاتا ہے تو پھر ملک سے باہر موجود وزیراعظم بھی ویڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت اور اس کے فیصلوں کی توثیق کر سکتے ہیں۔ اس میں نہ کوئی آئینی ابہام ہے اور نہ ہی وزیراعظم کی عدم موجودگی سے کسی قسم کا آئینی بحران پیدا ہوتا ہے۔ سیاست اپنی جگہ اور جسٹس افتخار چودھری نے یہ ثابت بھی کر دیا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، مگر سیاست کی بنیاد آئینی تقاضوں کی غلط تشریح و توجیح پر نہیں رکھی جانی چاہئے۔ جسٹس افتخار چودھری صاحب کو دنیا کی بڑی جمہوریت والے پڑوسی ملک بھارت کی یہ مثال بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ کانگرس آئی کے سابق دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ علیل ہوئے اور انہیں دل کا بائی پاس کرانا پڑا تھا تو ان کی عدم موجودگی میں ان کے وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے وزیراعظم کے اختیارات استعمال کئے تھے۔ بھارت کے ساتھ دشمنی کی حد تک ہمارے اختلافات ہیں مگر اس کے اور ہمارے وفاقی پارلیمانی آئین میں کوئی اختلاف اور کوئی تضاد موجود نہیں۔ محترم افتخار چودھری صاحب سے یہی عرض کروں گا کہ وہ سیاستدان بننے کے بعد آئین کی من مرضی والی تشریحات پیش کرکے اپنا تشخص خراب نہ کریں۔ آج وزیراعظم کے دل کا بائی پاس ہو رہا ہے اس لئے قوم کے فرد کی حیثیت سے وہ بھی وزیراعظم کی جلد صحت یابی کی دعا کریں اور اس بارے میں متفکر نہ ہوں کہ وزیراعظم کی عدم موجودگی میں امورِ حکومت کون چلائے گا۔ آئین میں اس ’’مرض‘‘ کا شافی علاج موجود ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com