پانامہ سیاست اور انسانی بقاء کو لاحق خطرہ
May 17, 2016

کالم لکھنے میں وقفہ پڑ جاتا ہے تو دوست احباب اور قارئین کے تجسس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے کالم لکھنے پر طبعیت مائل نہیں ہو پا رہی۔ بے نیازی کی چادر میں لپٹے اس معاشرے میں اصلاح احوال کی کوئی تدبیر کارگر ہوتی نظر نہیں آتی تو ’’گزر رہا ہے عجب کشمکش میں دیدہ و دل‘‘ والی کیفیت بن جاتی ہے۔ پانامہ لیکس نے معاشرے کے سدھار کے لئے امید کی جوت جگائی تھی مگر اس پر سیاست کے وہ طومار باندھے گئے کہ سچائی ہاتھ باندھے نادم کھڑی نظر آئی۔ کیا حکومت اور کیا اپوزیشن، سب نے پوائنٹ سکورنگ کی سیاست کے لئے اپنے اپنے اہداف متعین کر لئے اور پھر چل سو چل۔ کسی کا جبہ و دستار سلامت نظر نہیں آتا۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خاں بے اختیار یاد آنے لگے ہیں۔ وہ حالات حاضرہ پر اکثر یہ شعر سنایا کرتے تھے کہ… 

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے
زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

آج بھی حالات حاضرہ پر تبصرہ کیا جائے تو اس شعر میں لپٹی قنوطیت ہی سارے ماحول کو لپیٹ میں لیتی نظر آتی ہے۔ ایک دوسرے کے نامہ اعمال کی خبر لیتے اور بخئیے ادھیڑتے ہمارے سیاسی قائدین جمہوریت کو خراب کرتے بگٹٹ اس راستے پر گامزن ہیں جو زہر کو تریاق دکھا کر سلطانیٔ جمہور کا گلہ گھونٹنے کا ماحول بناتا ہے اور پھر ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے یہی سیاسی قائدین جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتروانے کا اہتمام کر کے بحالی جمہوریت کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اپوزیشن اتحاد کی شکل میں باہم شیر و شکر ہو کر مشترکہ جدوجہد کرتے اور کوڑے، پھانسی، قلعہ بندی کے اذیت ناک مراحل سے گزرتے نظر آتے ہیں تو ایسے ماحول میں لکھنا ’’مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر‘‘ والا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ مگر دل میں ایک کسک تو رہتی ہے کہ اپنے حصے کا فریضہ تو ادا کرتے رہیں۔ یہ سوچ پھر قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے کہ ’’لکھ کہ فیر ایہہ وی نہیں لکھ ہونا‘‘

بھلے لوگو! آپ نے ایک مہینے کی سر پھٹول کے بعد پانامہ لیکس پر پارلیمنٹ میں جانے کا فیصلہ کیا۔ بالآخر آپ کو یہیں آنا تھا۔ پہلے دن ہی اس راستے پر چل پڑتے تو اب تک منزل کے حصول کی لگن پختہ ہو چکی ہوتی مگر آپ نے تو منزل کا سفر کھوٹا کرنے والا راستہ اختیار کئے رکھا ہے …

برسوں آنکھوں میں رہے، آنکھوں سے چل کر دل میں آئے
راہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپ

اب پارلیمنٹ تک آتے آتے بھی اس منتخب فورم کے تقدس کا کتنا خیال رکھا جا رہا ہے۔ اس فورم کے لئے قوم کے منتخب کردہ نمائندگان کے رویوں، طرز عمل اور ’’باڈی لینگوئج ‘‘ سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حکمران پارٹی کے سنیٹر مشاہد اللہ کی تان کہاں پر جا کر ٹوٹی ہے۔ ان کا بیان ملاحظہ فرمائیے۔ ’’کیا وزیراعظم اتنے ہی ویہلے ہیں کہ پارلیمنٹ کے ہر اجلاس میں آتے رہیں۔‘‘ وزیراعظم کی اپنے اقتدار کے تین سالوں کے دوران پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ آج کل سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے کہ انہوں نے اس پورے عرصے میں قوم کے اس نمائندہ فورم پر صرف 40 بار قدم رنجہ فرمایا جبکہ وہ اس عرصے میں 71 بار بیرون ملک کے دوروں پر جا چکے ہیں ان کی اس قدم رنجہ فرمائی کے عرصے کا بھی جائزہ لیں تو اس میں سب سے زیادہ عرصہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی دھرنا تحریک والا نکلے گا جب پارلیمنٹ کو بچانے کے نام پر جناب وزیراعظم مفاداتی شیر خرمے سمیٹنے والے اپوزیشن قائدین کے جلو میں روزانہ قدم رنجہ فرماتے رہے۔ شومئی تقدیر، پارلیمنٹ بچ گئی تو پارلیمنٹ میں قدم رنجہ فرمائی پھر وزیراعظم کی شان میں توہین کے زمرے میں آ گئی۔ اور پھر جو حضرات وزیراعظم کو رگیدتے ہوئے نئے پاکستان کی قوم کو جھلک دکھا رہے ہیں ان کا پارلیمنٹ میں آمد کا ٹریک ریکارڈ تو شرمناک حد تک خراب ہے۔ ان ’’حضرت‘‘ عمران خاں کا پارلیمنٹ کے ذریعے ’’تعمیری‘‘ سیاست کا یہ عالم ہے کہ یہ تین سال کے عرصہ میں صرف 17 بار پارلیمنٹ کے اندرونی درودیوار کو اپنی شکل دکھانے کے روادار ہوئے ہیں۔ قوم نے تو اپنی طرف سے انہیں اور ان کی پارٹی کو متبادل حکومتی قیادت کے طور پر مینڈیٹ دے کر منتخب ایوانوں (پارلیمنٹ) میں بھجوایا تھا مگر انہوں نے دھرنا تحریک کے دوران خود بھی اور اپنی پارٹی کے دوسرے ارکان پارلیمنٹ کو بھی تین ماہ تک پارلیمنٹ کا رخ نہ کرنے دیا اور استعفے بھجوا کر پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے رہے۔ پھر اپنا تھوکا چاٹ بھی لیا اور آئینی طور پر پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم ہونے کے باوجود آج بھی پارلیمنٹیرین کی قلغی سجائے پھر رہے ہیں مگر پھر بھی پارلیمنٹ کے اندر طے ہونے کے متقاضی معاملات کو پارلیمنٹ کے باہر ہی اچھالنا اور اس پر سیاست چمکانا ضروری گردانتے ہیں۔ پانامہ پیپرز پر پارلیمنٹ سے باہر سیاست کرکے حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹیوں نے پارلیمنٹ کی توہین ہی تو کی ہے۔ تو عوام کیا توقع رکھیں کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ان کے نمائندگان اس فورم کو ان کے گوناں گوں مسائل حل کرنے اور ملک کی تقدیر سنوارنے کے لئے کبھی بروئے کار لائیں گے؟ اگر آپ کو اپنے اقتدار کی بقا خطرے میں نظر آتی ہے اور آپ سسٹم کو بچانے کے نام پر پارلیمنٹ کے اندر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے باہم یکجہتی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں تو یہ راندۂ درگاہ عوام کے لئے آپ کا یہی پیغام ہے کہ آپ اپنے مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ کو بروئے کار لانے کا ہم سے ہرگز تقاضہ نہ کیجئے کیونکہ پارلیمنٹ نے تو بس ہماری باندی بن کر رہنا ہے۔ خدا کی پناہ! پارلیمنٹ کو باندی بنا کر رکھنے کی سوچ تو سرکاری اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہر رکن کی ہم آہنگی والی سوچ بن گئی ہے۔ پھر جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کا اور کون ذمہ دار ہو گا؟

مجھے جس گھمبیر عوامی مسئلے نے آج قلم اٹھانے پر مجبور کیا وہ بھی پارلیمنٹ کے فورم پر کسی مشترکہ حکمت عملی کے تحت طے ہونے کا متقاضی ہے مگر پارلیمنٹیرین حضرات تو اپنی ذات سے باہر نکل کر اور کچھ سوچتے، دیکھتے ہی نہیں۔ ان سے کیا توقع کی جائے کہ وہ سطح زمین کے نیچے سے غائب ہوتے پانی کی بحالی کے لئے پارلیمنٹ کے اندر سر جوڑ کر کوئی فہم و تدبر والی پالیسی طے کر پائیں گے۔ ماحولیات اور موسموں کی تبدیلی سے جو مسائل انسانی بقا کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں، کیا پارلیمنٹ کو ترجیح اول کے طور پر ان پر غور نہیں کرنا چاہئے۔ کیا اس وقت فکر لاحق ہو گی جب انسان پانی کی بوند بوند کو ترستا اپنی موت کو لپیٹنے کا طلبگار نظر آئے گا۔ اس وقت لاہور میں زیر زمین پانی کی جو صورتحال ہے وہ آئندہ چند سال تک انسانی اور جنگلی حیات کے ناپید ہونے کا نقارہ بجا رہی ہے۔ لاہور میں آج زیر زمین چار سو فٹ تک بھی پانی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ سارے ٹیوب ویل خشک ہو رہے ہیں اور نیچے سے پانی کے بجائے زہریلی دھاتوں کو کھینچ کر پانی کے پائپوں میں لا رہے ہیں۔ اس حوالے سے لیبارٹریوں کی تصدیق شدہ رپورٹیں حکام بالا کی میزوں پر پڑی ہیں کہ لاہور کا پانی پینے تو کجا، نہانے دھونے کے لئے استعمال کرنے کے بھی قابل نہیں رہا کیونکہ اس میں کینسر کے مرض والے سارے لوازمات موجود ہیں۔ آج 2016ء میں یہ حالت ہے اور 2020ء تک زیر زمین پانی کے مکمل ناپید ہونے کے خطرات کی گھنٹی بھی بجائی جا چکی ہے مگر ہمارے حکمران اور متبادل حکمران ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ کی سیاست سے ہی باہر نہیں نکل رہے۔ حضور کچھ انسانی بقاء کی بھی فکر کر لیجئے، قدرت تو اپنے مظاہر دکھا رہی ہے۔ ہمارے صدر مملکت کو پانامہ لیکس میں بھی قدرت کے مظاہر نظر آئے ہیں۔ بے شک اس کا نتارہ بھی قوم کے منتخب فورم پارلیمنٹ کے ذریعے کیجئے مگر پانی کے ناپید ہونے والے قدرت کے مظاہر آپ سے پارلیمنٹ کے اندر سر جوڑ کر بیٹھنے کے متقاضی ہیں۔ آپ اس جانب توجہ نہیں کریں گے تو آپ کی پانامہ سیاست بھی انسانی بقاء کے لئے کوئی تدبیر نہیں کر پائے گی۔ آج آپ باہم دست و گریباں ہیں تو کل کو اس دھرتی پر کوئی ذی روح اپنے گریبانوں کے ساتھ محفوظ اور زندہ سلامت نظر نہیں آئے گا…

یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com