”تیرا مکہ رہے آباد مولا“
Mar 29, 2016

دو روز قبل تنظیم وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل مولانا حنیف جالندھری میرے پاس آفس تشریف لائے۔ وہ لاہور میں رکھے گئے وفاق المدارس کے ملک گیر اجتماع کی مناسب کوریج کی درخواست لے کر آئے تھے۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ہم نے یہ ملک گیر کنونشن اگلے اتوار کے روز یعنی 3اپریل کو علامہ اقبال ٹاﺅن کے پارک گلشن اقبال میں رکھا ہے۔ ان کی یہ بات سن کر ایک لمحے کو میرا دماغ ماﺅف ہو گیا۔ یا خدا۔ اب یہ پارک بھی سیاسی اور دینی اجتماعات کے لئے استعمال ہو گا؟ میری اس پارک کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے کیونکہ 80ءکی دہائی کا کچھ عرصہ میں نے علامہ اقبال ٹاﺅن میں گزارا ہے۔ اس وقت میرے بچے کم سنی میں تھے اور انہیں سیر و تفریح کے لئے میں اور اہلیہ اکثر گلشن پارک ہی لے جایا کرتے تھے، اسی طرح ہم دونوں کا روزانہ گلشن پارک میں ہی صبح کی واک کا معمول بن گیا تھا۔ علامہ اقبال ٹاﺅن اور نواحی رہائشی آبادیوں کے مکینوں کے لئے گلشن پارک سیر و تفریح کا واحد مقام ہے جہاں ان شہری آبادیوں ہی نہیں، ملک بھر سے آئے مختلف تعلیمی اداروں کے تفریحی ٹرپس کے باعث بھی لوگوں کا ہمہ وقت ہجوم رہتا ہے اور اس میں بالخصوص بچوں اور خواتین کے لئے تفریح طبع کی فراہم کردہ سہولتوں کے باعث یہ شہر کا بارونق ترین پارک بن چکا ہے جن میں بے شک داخلہ فیس بھی مقرر ہے جسے شہری اپنی جیب پر بوجھ سمجھتے ہوئے بھی اپنے بچوں کی سیر و تفریح کے لئے اسی پارک کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں اب تک امن و سکون کی فضا مثالی رہی ہے۔ چند سال قبل علامہ اقبال ٹاﺅن کی مون مارکیٹ میں خودکش حملے کی گھناﺅنی واردات ہوئی جس میں 80ءکے قریب مرد و خواتین اور بچے دہشت گردوں کے ننگ انسانیت عزائم کی بھینٹ چڑھے۔ وہ بھی دل ہلا دینے والا سانحہ تھا جس کی ٹیسیں اس علاقہ کے مکین آج بھی اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں اور جو اس گھناﺅنی واردات سے خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے تھے ان کی آنکھوں کے آنسو آج بھی تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ اس سانحہ کے وقت بھی گلشن اقبال کے مون مارکیٹ کے قریب واقع ہونے کے باعث لمحہ بھر کو دھڑکا لگا تھا کہ ملک میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا ایجنڈہ رکھنے والے بدبخت اس پارک کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں مگر خوف و ہراس کے ماحول میں بھی اس پارک کی رونقیں برقرار رہیں۔

دہشت گرد اب تک سکیورٹی اہلکاروں اور سکیورٹی اداروں کے حساس علاقوں کے علاوہ تعلیمی اداروں،مساجد، درگاہوں مارکیٹوں اور دوسرے پبلک مقامات کو نشانہ بنا رہے تھے اور یہ تصور بھی بعید از قیاس تھا کہ وہ پبلک پارکوں جیسے بچوں کے کھیلنے کودنے کے مقامات کو بھی اپنے سفلی عزائم کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں۔ اسی تصور کے ماتحت مجھے دو روز قبل سخت جھٹکا لگا جب مولانا حنیف جالندھری نے مجھے یہ بتا کر حیرت میں مبتلا کیا کہ ہم نے اپنے ملک گیر کنونشن کے لئے گلشن اقبال پارک اہتمام کیا ہے۔ میں اسی وقت وسوسے کا شکار ہوا اور دل سے دعائیں نکلنے لگیں کہ ذاتِ باری تعالیٰ بچوں کی اس تفریح کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور یہ سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ رہے۔ اتوار کی شام ورلڈ ٹی 20ویمن کرکٹ میں پاکستان کی ویمن ٹیم کا میچ دیکھنے کے لئے ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے کہ یہ میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹی وی چینلز پر گلشن پارک بم دھماکہ کے ٹکرز چلنا شروع ہو گئے۔ گزشتہ روز سے دل وسوسوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ جانکاہ خبر سن کر تو دل کے پھٹنے کی نوبت آ پہنچی۔ ہمارے دوست شاعر شعیب بن عزیز سوشل میڈیا پر اپنے فی البدیہہ قطعہ کے ساتھ سراپا دعا تھے

کہاں لے جاﺅں یہ فریاد مولا
میرا بصرہ، میرا بغداد مولا
میرے لاہور پر بھی اک نظر کر
تیرا مکہ رہے آباد مولا

ٹی وی چینلز پر چلتی خبروں میں شہداءاور زخمیوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ ہمارے دوست علی شان نے کچھ عرصہ قبل دہشت گردی کے پھیلتے ناسور کی اپنے اس فی البدیہہ پنجابی شعر کے ذریعہ عکاسی کی تھی کہ

اجے اگلے اَتھرو سُکّے نیئں
لو ہور جنازے آ گئے نیں

ارے توبہ۔ دس بارہ سال میں دہشت گردی کی اس لعنت کو بھگتتے ہوئے ہم اس وطن عزیز میں اپنے ایک لاکھ کے قریب پیاروں کی قیمتی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں جن میں اس مادر وطن کے محافظ دس ہزار کے قریب جوان اور افسران بھی شامل ہیں۔ اپنے پیاروں، دلاروں کی نعشیں اٹھاتے اس وطن عزیز ملک خداداد کے بے بس مکین نڈھال ہو چکے ہیں۔ تھک چکے ہیں۔ کرچی کرچی ہو چکے ہیں۔ ایسے سانحات میں زخمی ہو کر اپاہج بننے والے اپنے لاکھوں پیاروں کا بوجھ بھی اٹھاتے پھر رہے ہیں مگر انہیں مستقل امن و آشتی کی کوئی جھلک نظر آنے کے بجائے دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد اپنے سول اور عسکری قائدین کے اس عزم کا اظہار ہی سننے کو ملتا ہے کہ ہم ملک اور قوم کو نقصان پہنچانے والی دہشت گردوں کی سازشیں ناکام بنا دیں گے۔ ہم نے ان کی کمر توڑ دی ہے اور ہم آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک جنگ جاری رکھیں گے۔ ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے مگر یہاں دہشت گردی کے ستائے عوام میں خوف کی یہ کیفیت بن چکی ہے کہ

خوف کے یوں بیج ہم بونے لگے
کوئی دستک دے تو گھر رونے لگے

چنانچہ دہشت گردی کی ہر واردات پر دل کو دھڑکا لگ جاتا ہے کہ

اور کسی کا گھر لگتا ہے
اپنے گھر میں ڈر لگتا ہے
بچا ہوا جو سر ہے اپنا
وہ بھی نشانے پر لگتا ہے

ارے بھلے لوگو۔ دہشت گرد تو ہماری جان کا آزار بن گئے ہیں۔ آپ آخری جنگ جاری رکھنے تک ان کے خلاف جنگ کے لئے پرعزم ہیں اور وہ ہمارے آخری فرد تک کی جان لینے کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ پھر خرابی کہاں ہے۔ اصل مرض کیا ہے اور اس مرض کا شافی علاج کس کے پاس ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے، بہت لادوا نہ تھے

اس دکھی، تھکی ہاری، کرچی کرچی ہوئی قوم کو اب خالی خولی عزم صمیم کی نہیں، دہشت گردی کے ناسور سے فی الواقع خلاصی کی ضرورت ہے۔ آپ چھان پھٹک کر لیجئے، کہیں آپ کی ”بُکل““ میں ہی تو چور موجود نہیں۔ آپ ڈھنڈورا نگر نگر پیٹ رہے ہیں۔ اپنی چھتری کے نیچے موجود کوتاہیوں، کمزوریوں، بے وفائیوں لاچاریوں کی جانب آپ کی نگاہ ہی نہیں اٹھتی۔ ارے اب تو سنبھل جاﺅ، آپ دشمن کو تو یہ اطلاع فراہم کرنے میں بہت مستعد اور مشاق ہیں کہ آپ کی دھرتی میں فلاں فلاں دس دہشت گرد سرحد عبور کرکے گھس آئے ہیں، ان سے بچ جائیے مگر اس دشمن نے اپنے جن سفاک دہشت گردوں اور جاسوسوں کو سرحد عبور کرا کے سالہا سال سے ہماری سرزمین پر کھل کھیلنے کے لئے بھجوا رکھا ہے وہ آپ کی نگاہِ دوربیں سے اوجھل اور محفوظ ہی رہتے ہیں۔ وہ بلوچستان، کراچی، کوئٹہ، لاہور الغرض جہاں بھی چاہتے ہیں انسانی خون کی ندیاں بہا دیتے ہیں مگر آپ کو ان وارداتوں میں دشمن کی گھناﺅنی سازشوں کا عمل دخل نظر ہی نہیں آتا۔ حضور اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی سرکا کر دیکھئے، بھارتی جاسوس کل بھوشن کی تھوڑی سی مزید چھان پھٹک کیجئے، وہ گلشن پارک کی دہشت گردی تک ”را“ کی سازشوں کا سارا کچا چٹھہ کھول کر دکھا دے گا۔ آپ نے اس سانحہ کے معاملہ میں دشمن کی جانب ہلکی سی انگلی اٹھانا بھی گوارا نہیں کیا۔ پھر آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک دہشت گردی کی جنگ جاری رکھنے کا عزم چہ معنی دارد۔ ہم نے اپنے تحفظ و بچاﺅ کی خود ہی کوئی تدبیر نہیں کرنی تو مولا کریم تو زمان و مکان کا مالک ہے

عزتوں کا رکھوالا مولا
سب کی سننے والا مولا
دل کی اندھیری نگری میں
کر دے سحر اجالا مولا

آپ جائیے صاحب۔ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com