عطائے گولڈ میڈل میں ادائے بے نیازی
Mar 25, 2016

بے شک میرے لئے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ میں نے اپنے والد مرحوم میاں محمد اکرم کی تحریک پاکستان میں خدمات پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی جانب سے انہیں دیا جانے والا گولڈ میڈل اپنے گلے میں ڈالا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف عطائے گولڈ میڈل کی اس تقریب میں مہمان خصوصی تھے تو میرے دل میں یہ خیال مچلتا رہا کہ تقسیم ہند کے مراحل میں بائونڈری کمشن کے رکن سید محمد شاہ کی معیت میں میرے والد مرحوم نے متحدہ ہندوستان میں سے پاکستان کے لئے جس سرحد کے تعین میں معاونت کی تھی آج مادر وطن کی وارث مسلم لیگ کے قائد کی حیثیت سے میاں نواز شریف بھی اور ان کے برادر خورد میاں شہباز شریف بھی اس سرحد کو مٹانے کے خواب دیکھنے والوں کو دوٹوک جواب دیں گے اور برصغیر کے مسلمانوں کے خون سے سینچی گئی اس سرحد کے انمٹ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کریں گے اور امرتا پریتم کی اس نظم کو بھی زمینی حقائق دکھا کر جھٹلائیں گے کہ

ٹوٹے ہوندا نہ پنجاب، کدی واہگے والی پیندی نہ لکیر

مگر عطائے گولڈ میڈل کی تقریب کے حاضرین میاں شہباز شریف کی زبان سے ایسے جلالی ارشادات سننے سے محروم ہی رہے جن کے ذریعے وہ "Devide end"جیسے سازشی منصوبے سوچنے اور بنانے والے ہمارے مکار دشمن بھارت اور اس کے ساتھ دوستی اور تجارت کے ازخود غم میں مبتلا ہمارے ’’یاران وطن‘‘ کو ڈنکے کی چوٹ پر باور کراتے کہ یہ لکیر مٹانے کے لئے نہیں کھینچی گئی، اس کے تحفظ کے لئے آج بھی ملک کا بچہ بچہ کٹ مرنے کو تیار ہے۔ اے کاش ان کی زبان سے مادر وطن کے تحفظ پر مبنی چند الفاظ بھی نکل پاتے مگر محترم مجیب الرحمان شامی نے ان کے صادق اور دیانتدار ہونے کی گواہی دے دی تھی اس لئے وہ انگریزی اور اردو زبان میں کی گئی اپنی پوری تقریر کے دوران اس گواہی کو ہی تھامے کھڑے رہے اور مکار دشمن کے جنونی عزائم پر اسے چیلنج کرنے والا ایک لفظ بھی ان کی زبان سے ادا نہ ہو پایا۔

بھارت کی مودی سرکار پاکستان دشمنی پر مبنی اپنی پارٹی کے منشور سے بھی بڑھ کر جس جارحانہ انداز میں پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کر رہی ہے۔ اس کے وزیر دفاع اور آرمی چیف جس کوڑھ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئے روز ہمیں تکلیف سے دوچار کرنے کی بڑھک لگاتے ہیں، انہیں مسکت جواب دینے کا یوم پاکستان والا ہی تو بہترین موقع تھا۔ مگر ان کی زہر افشانیوں، سنگ باریوں اور رعونت بھری بڑھکوں کا ہماری جانب سے تو مسلسل ملائمت کے ساتھ کورنش بجا لاتے ہوئے جواب دیا جا رہا ہے۔ ہمیں خراب کرنے کی گیدڑ سنگھی پٹھانکوٹ حملے کی صورت میں جنونی ہندو قیادت کے ہاتھ آ گئی ہے سو اسے رگڑ رگڑ کر ہم پر ہر ملبہ ڈالنے اور مقبوضہ کشمیر کی جانب آنکھیں میٹ کر آزاد کشمیر پر ہمارے غاصب ہونے کا ڈھٹائی کے ساتھ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کے دروازے وہ بند کئے بیٹھا ہے اور ہذیانی کیفیت میں ہمارے خلاف امریکہ جیسا محاذ کھولنے کی دھمکیاں دے رہا ہے جو ظاہر ہے اس شیطانی ذہن کے "Devide end" والے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا عندیہ ہے مگر پاکستان کی خالق جماعت کے حکمران قائدین تو اس کے لئے ہمہ وقت دیدہ دل فرش راہ کئے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ پٹھانکوٹ حملے کے بارے میں مودی سرکار کی جانب سے جو بھی الزامات دھرے گئے ہیں اس پر ہماری سرکار نے اپنی جبینوں پر بل ڈالنے کے بجائے خندہ پیشانی سے ہر معاونت کی برخوردارانہ یقین دہانی کرا دی ہے۔ صرف یقین دہانی ہی نہیں کرائی، مودی سرکار کے نشان زدہ ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا اور ان کی گرفتاری کا تقاضہ بھی پورا کر لیا مگر بدمست ہاتھی کی اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی اور وہ ہمیں خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے ہم پر جھپٹا مارنے کی پوری منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے۔

اس صورتحال میں تو 23مارچ کا دن ہماری جانب سے اس جنونی دشمن کو دوٹوک جواب دینے کا یادگار دن بن جانا چاہئے تھا اور 76سال قبل 23مارچ ہی کے دن منظور کی گئی جس قرارداد پاکستان کی بنیاد پر ملک خداداد کی تشکیل عمل میں آ کر رہی تھی اس دن کو تو اب استحکام پاکستان کی بھی ضمانت بنایا جانا چاہئے تھا جس کے لئے کارکنان تحریک پاکستان کو عطائے گولڈ میڈل کی تقریب ظالم دشمن کو اس کے جنونی عزائم پر ٹھوس جواب دینے کا بہترین پلیٹ فارم تھی مگر اس تقریب کے چاروں اطراف عملاً کرفیو لگا کر دہشت گردی والی دشمن کی سازشوں پر ہمارے عملاً خوفزدہ ہونے کا تاثر دیا گیا۔
تحریک پاکستان میں اپنی خدمات پر گولڈ میڈل وصول کرنے کے لئے آنے والی جن بزرگ اور ضعیف العمر شخصیات کو اس کرفیو کے باعث ایوان اقبال کے متعلقہ ہال تک تقریباً دو ہزار گز کا فاصلہ لاٹھی ٹیک کر، واکر کے سہارے چل کر اور اپنے کسی نوجوان عزیز کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پیدل طے کرنا پڑا اور اس اذیت ناک عمل کے دوران بعض بزرگوں کی سانسیں بھی اکھڑتی نظر آئیں، اگر انہیں ہال میں بیٹھے پاکستان کی خالق جماعت کے حکمران قائد کی زبان سے ملک کے ظالم دشمن کو گھن گرج والی للکار سنائی دے جاتی تو وہ پیدل سفر کے دوران اٹھائی گئی اپنی اذیت کو بھی بھول جاتے مگر وہاں تو باب پاکستان کی خستہ ہالی کے رونے کے جواب میں باب پاکستان کے تصور کو حقیقت کے قالب میں ڈھالنے کا منصوبہ پیش کرنے اور ایوان کارکنان تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی شکل میں ملک کی نظریاتی بنیادوں کیلئے ڈھال فراہم کرنے والے مرد حق مجید نظامی کا تذکرہ بھی کہیں سننے کو نہ ملا۔ اور تو اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین جسٹس (ر) میاں محبوب احمد اس تقریب کیلئے اپنا خطبہ استقبالیہ لئے بیٹھے رہ گئے جنہیں نہ جانے کس مصلحت کے باعث اس کا موقع فراہم نہ کیا گیا اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین سابق صدر مملکت محمد رفیق تارڑ بھی شاید بمشکل ہی سٹیج پر برداشت ہو پائے۔ تقریب میں تحریک پاکستان کے ان اکابرین کی خدمات اور تقریب میں ان کے عمل دخل کا کہیں کوئی شائبہ تک نہیں پڑنے دیا گیا۔ کرفیو والی سکیورٹی میں اس تقریب کا انعقاد جو عملاً استحکام پاکستان اور بقائے پاکستان کیلئے قوم میں جوش و جذبہ ابھارنے کا باعث بن سکتا تھا، وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنی دیانت اور صداقت کا سرٹیفیکیٹ دئیے جانے کا باعث ضرور بن گیا جس کا مشاہدہ تقریب میں موجود ہمارے اقتصادی راہداری والے چینی بھائیوں اور دوسرے غیر ملکی مندوبین نے بھی کر لیا تو یہی بہت ہے بھائی۔ آج کے اس دورِ ناپرساں کے نقار خانے میں طوطی کی آواز سننے کا آج کوئی رواج نہیں، مگر ہمارا دشمن ہمیں للکارے مارتا رہے اور ہم مودب بنے بیٹھے اس کی ہر للکار سنتے رہیں۔ نہیں جناب یہ رواج یہاں قائم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جو اس کے متمنی ہیں وہ خاطر جمع رکھیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com