بے نیاز عہدِ اقتدار میں رائیگانی ہی رائیگانی
Mar 08, 2016

کسی حکومت کی جانب سے ملک کے شہریوں کو کاروبار، روزگار کے مواقع فراہم کر کے، ان کی صحت تعلیم، ٹرانسپورٹ سے متعلق ضروریات پوری کر کے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات اٹھا کر اس کا کریڈٹ لینا بھی مناسب نہیں کہ یہ سارے فرائض حکمرانوں نے اپنی گورننس میں آئین و قانون کے تحت مقررہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ادا کرنا ہوتے ہیں مگر یہاں تو کچھ نہ کرنے اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مشکلات پیدا کرنے کے روایتی کلچر کو بھی کریڈٹ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور پھر شانِ بے نیازی کے تحت حکومتی گورننس کی راسخ ہونے والی ان خرابیوں کو تسلیم بھی نہیں کیا جاتا اور ان خرابیوں کو دور کر کے اپنی گورننس کے معاملات بہتر بنانے کی جانب توجہ بھی نہیں دی جاتی۔ لاہور ایوانِ صنعت و تجارت نے تو شہریوں کے لئے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے راستے میں حائل حکومتی اور ادارہ جاتی خرابیوں کا ایک تحقیقی کتابچے کی شکل میں سارا کچا چٹھہ کھول کر بیان بھی کر دیا ہے اور کاروبار اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور کرپشن کلچر سے خلاصی دلانے کے لئے متعلقہ قوانین میں مطلوبہ مجوزہ ترامیم بھی تجویز کر دی ہوئی ہیں جسے حکمران طبقات تک پہنچایا بھی جا چکا ہے مگر پرنالہ جس جگہ پر ہے وہاں سے سرکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

گزشتہ روز وقت ٹی وی کے پروگرام ’’نیوز لائونج‘‘ میں مجھے لائیو کالرز کی جانب سے حکومتی اور ادارہ جاتی گورننس کے معاملہ میں ایسے ہی تجسّس اور تشویش کے جارحانہ اظہار کا سامنا تھا جو عدالتی نظام میں خرابیوں سے لے کر ترقیاتی کاموں میں حکومتی ترجیحات تک کے معاملات پر خاصے گڑبڑائے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ میں خود بھی حکومتی دعوئوں اور فی الحقیقت ناکردنیوں کے حوالے سے ملک میں کرپشن فری معاشرے کی تشکیل کے لئے کوئی سنجیدہ قدم اب تک نہ اٹھائے جانے پر سخت تشویش کا شکار ہوں جو کبھی کبھار مایوس کن حالات کی منظر کشی بھی کر جاتی ہے اس لئے گزشتہ روز بھی ملک کی اچھی تصویر اور مثبت سوچ کو اجاگر کرنے کی کوششوں کے باوجود مجھے حکومتی گورننس میں سے کوئی مثبت پہلو نکالنے میں سخت دقت محسوس ہوئی اور ’’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر، کیا کیجئے‘‘ کی عملی تصویر بنا رہا۔ دورہ روز پہلے ’’نوائے وقت گروپ‘‘ سے ایک خصوصی نشست کے دوران لاہور ایوان صنعت و تجارت کے سینئر نائب صدر الماس حیدر حکومتی گورننس اور انتظامی معاملات میں حکمرانوں کی بے نیازی کا کچا چٹھہ کھول کر ہمارے 14 طبق روشن کر چکے تھے تو پھر ملکی اقتصادیات و معیشت میں ترقی اور کرپشن کلچر کے پیدا کردہ عوام کے دیرینہ، سنگین اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے حکومتی نیت کے اخلاص اور اس کی ’’بے لوث‘‘ کوششوں پر کیسے یقین کر لیا جائے۔ الماس حیدر کی بریفنگ میں ایک دردمند پاکستانی کا کرب جھلکتا نظر آ رہا تھا جو ہمارے حکمرانوں کی روایتی بے نیازی کی زد میں آنے والے برادر پڑوسی ملک ایران کو بھی لاہور چیمبرز کے ایک وفد کے ہمراہ پاکستان کی خوشگوار، مثبت اور تعمیری تصویر دکھا کر آئے ہیں اور پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے اور یہاں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیبات بھی دے آئے ہیں مگر ’’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے۔‘‘ ہماری بے ڈھنگی چال بھلا درست ہونے والی ہے اور پائوں کے ناخن سے سر کے بالوں تک کرپشن کے گند میں لتھڑے ہوئے ہماری حکومتی، انتظامی مشینری کے کل پُرزے بھلا اپنی پڑی ہوئی یہ لت چھوڑنے کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں؟ سوچنا شروع کریں تو کہیں سے بھی ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا آتا محسوس نہیں ہو گا۔
وزیراعظم میاں نواز شریف، ان کے برادر خورد خادمِ پنجاب میاں شہباز شریف اور دوسرے حکومتی نمایاں عہدیدار چین کی معاونت سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد پر ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، ملازمتوں کے مواقع اور معیشت کی ترقی و استحکام کے ایسے ایسے دل لبھانے والے دعوے کرتے نظر آ رہے ہیں کہ آدمی تصور ہی تصور میں پاکستان کے جنت نظیر ہونے پر یقین کر لیتا ہے مگر الماس حیدر نے کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ملک کی مایوس کن تصویر دکھاتے ہوئے زمینی حقائق کی پردہ کشائی کی تو جناب! ’’اکبر حیا سے غیرت قومی میں گڑ گیا۔‘‘ شاید ان سطور میں الماس حیدر صاحب کے اجاگر کردہ تمام مسائل کا احاطہ نہ کر سکوں مگر کسی کاروبار کے آغاز کے لئے کمپنی کی رجسٹریشن کی راہ میں حائل جن گیارہ مراحل اور قانونی پیچیدگیوں اور پھر ’’ون ونڈو‘‘ کے پیچھے موجود کئی ونڈوز سے باہر نکلے کرپشن میں لتھڑے ہاتھوں کی انہوں نے نشاندہی کی تو یہاں سرمایہ کاری اور ملکی برامدآت کے لئے بیرونی منڈیاں وسیع ہونے کا حکمرانوں کی جانب سے دکھایا جانے والا سہانا خواب کرچی کرچی ہوتا نظر آیا۔ پھر جناب! ’’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر، کیا کیجئے۔‘‘

ذرا موازنہ کیجئے کہ ہمارے ہاں ’’ون ونڈو‘‘ سکیم کے تحت بھی کسی کمپنی کی رجسٹریشن کے مراحل 19 دن میں طے ہوتے ہیں اور اس کے برعکس نیوزی لینڈ میں یہ سارے مراحل طے کرنے میں صرف آدھ دن لگتا ہے۔ پھر یہاں رجسٹریشن کے بعد کسی کمپنی کو مختلف اداروں کے عائد کردہ آٹھ ٹیکسوں کی ادائیگی یقینی بنانا پڑتی ہے جس کے لئے خجل خواری بھی آٹھ مختلف اداروں میں وہاں موجود اصحابِ اختیار کے موڈ کے حساب سے ہوتی ہے جبکہ نیوزی لینڈ میں ٹیکسوں کی ادائیگی کے سارے مراحل ایک ہی وقت میں ایک ہی آفس میں طے ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی پیچیدہ صورتحال یہاں کوئی فیکٹری لگانے کے لئے اراضی کے حصول کے معاملہ میں بھی بنا دی گئی ہے جو یہاں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور اپنے ہی سرمایہ کاروں کو ملک سے باہر سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لئے کافی ہے۔ لاہور کے نواح میں کسی صنعت کے قیام کے لئے اراضی کے حصول کے مراحل کرپشن کے کئی پہاڑوں سے گزر کر ہی طے ہو پاتے ہیں جہاں ایل ڈی اے اور ٹی ایم ایز کے اپنے اپنے قواعد و ضوابط زہریلی زبان سے کاٹنے کے لئے منہ کھولے بیٹھے اژدھے کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کے بعد کسی صنعتی بلڈنگ کی تعمیر کا پرمٹ حاصل کرنے کے لئے تقریباً پون سال (250.4) دن کا عرصہ لگ جاتا ہے جبکہ سنگاپور میں یہ سارے مراحل صرف 26 دن میں طے ہو جاتے ہیں اور پھر یہاں ٹیڑھی ہونے والی محکمانہ ’’کِلیں‘‘ درست کرنے کے لئے پیش کی جانے والی تجاویز کو درخور اعتناء بھی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر ایسے حالات، ماحول اور معاشرے میں گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری کے ثمرات سمیٹ کر بھلا ملک کی معیشت مستحکم کرنے اور عوام کو خوشحال بنانے کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے؟ سلیم بخاری صاحب کا تجسّس تھا کہ اگر صنعتکاروں اور تاجروں کی حکومت کے دوران بھی ان طبقات کے لئے ملک میں سرمایہ کاری کے انتہائی حوصلہ شکن حالات نظر آ رہے ہیں تو پھر ہماری دگرگوں معیشت کو سنبھالا دینے کی کسی اور سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ میرا بھی یہی تجسّس تھا کہ جب کرپشن فری معاشرے کی تشکیل کے لئے اس کے ذمہ دار ادارے نیب کو حکمران طبقات کی طرف سے ہی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا تو پھر ہمیں کرپشن کلچر سے نجات کیسے مل سکتی ہے۔ ایران کے ساتھ تجارت اور وہاں سے توانائی کے حصول کا معاملہ ایسا ہے کہ اس پر سے عالمی اقتصادی پابندیاں ہٹنے کے باوجود ہم لکیر کے فقیر بنے بیٹھے ہیں۔ دوسرے ممالک تو ایران کے ساتھ اپنے معاملات سیدھے کر رہے ہیں مگر ہمیں معمولی سی امریکی ڈکٹیشن بھی بے دست و پا کر دیتی ہے۔ اگر حکمرانوں نے ہی بے نیازی کی چادر اتار پھینکنے کا چارہ نہیں کرنا تو ملک کی مثبت اور اچھی تصویر دکھانے کی تڑپ کتنے دلوں میں زندہ رہ پائے گی؟ آپ کو خود احساس نہیں تو اپنے صنعتکار تاجر طبقے سے ہی تھوڑا سا ادھار لے لیں ورنہ قوم کے لئے تو رائیگانی ہی رائیگانی ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com