اقتداری شگوفوں کی بہاریں
Feb 23, 2016

سابق دور کے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی شانِ بے نیازی کے مظاہر ان کے دور حکمرانی میں جابجا نظر آتے تھے اور پھر ان کی زبان سے پھوٹنے والے شگوفے تو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے۔ پتہ نہیں انہیں خود بھی اپنی ظریفانہ ستم ظریفی کا احساس تھا یا نہیں مگر وہ اپنی باتوں میں اچھے خاصے کامیڈی شو کا منظر بنا جاتے تھے۔ ان کا ادا شدہ لفظ ”ڈگری ڈگری ہوتی ہے، جعلی ہو یا اصلی“ فی الواقع ضرب المثل بن چکا ہے جس کی کئی ٹی وی چینلز پر پیروڈی بھی ہو چکی ہے مگر ہمارے آج کے دور کے وفاقی اور صوبائی وزراءسمیت حکمران طبقات کی زبانوں سے چھوڑی جانے والی پھلجھڑیاں یکجا کی جائیں تو کتابی شکل میں لطائف و ظرافت کا ایک ضخیم مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ کوئی ناشر اس جانب توجہ دے تو اس کا کاروبار بھی چمک اٹھے گا۔ یہ پھلجھڑیاں درحقیقت ان حکمران اشرافیہ طبقات کی عام آدمی کی روزمرہ زندگیوں میں موجود کٹھنائیوں سے ان کی لاعلمی کی عکاس ہیں کہ انہیں ایسی کٹھنائیوں کا کبھی احساس، ادراک اور سامنا نہیں ہوتا۔ پرانے وقتوں کے ایک بادشاہ سے یہ بات منسوب تھی کہ اس نے اپنی رعایا کو احتجاج کرتے دیکھ کر اپنے وزیر سے پوچھا کہ یہ کیوں رو پیٹ رہے ہیں تو وزیر نے بتایا کہ عالم پناہ یہ بھوکے ہیں، انہیں روٹی نہیں مل رہی، آٹا مہنگا ہو گیا ہے۔ بادشاہ سلامت نے شانِ بے نیازی سے جواب دیا کہ انہیں روٹی نہیں مل رہی تو کیک کھا لیں۔ تو جناب! ذرا اندازہ لگا لیجئے کہ ہمارے دور کے شہنشاہان معظم بھی ایسی شان بے نیازی سے کتنے معمور ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے کا ایک شگوفہ عوام، خلق خدا، جمہور کے غم خوار ہمارے وزیراعظم محترم میاں نواز شریف کی زبان سے پھوٹا جب اسلام آباد کے کسی ماڈل بازار کے ”اچانک“ دورے کے دوران اپنی مثالی گورننس کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے مہنگائی اور بھوک کی ماری اپنی رعایا کو یہ خوشخبری سنائی کہ اب تو آلو بھی پانچ روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ جس ”سبزی فروش“ سے انہوں نے آلو کی قیمت دریافت کرکے عوام کو یہ خوشخبری سنائی تھی وہ اس دن سے اپنا کاروبار ہی لپیٹ کر کہیں رفوچکر ہو چکا ہے۔ اسی طرح پچھلے دنوں محترم وزیراعظم اسلام آباد کے کسی تعلیمی ادارے میں اچانک تشریف لے گئے تو سکول ٹیچر بن کر بچوں کا آئی کیو ٹیسٹ لینا شروع کر دیا۔ میڈیا کی لائیو کوریج کی بدولت پوری قوم نے بچوں سے کئے جانے والے ان کے سوالات سنے۔ وہ بچوں سے اردو اور حساب کے ابتدائی سوالات پوچھتے پوچھتے اپنی حکومت کے کارناموں تک آ گئے اور ایک معصوم سے یہ ثقیل سوال پوچھ ڈالا کہ آج بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہو گئی ہے ناں۔ بچے نے اثبات میں جواب دیا تو وزیراعظم کا تمتماتا چہرہ خوشی سے مزید تمتماتا ہی نہیں، پھولا ہوا بھی نظر آیا۔ میرے برادر بزرگ اثر چوہان صاحب اپنے ایک گزشتہ کالم میں سوال جواب کے اس سیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعظم صاحب سے استفسار کر چکے ہیں کہ انہوں نے بچوں کا امتحان لیتے وقت ان سے بانیان پاکستان علامہ اقبال، قائداعظم، قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری اور دوسرے قومی مشاہیر اور اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا؟ چلیں اب کسی دوسرے سکول میں بچوں کے ساتھ سوال جواب کا کوئی دوسرا سیشن ہو گا تو وزیراعظم ہمارے محترم کالم نگار کا یہ تجسّس بھی ختم کر دیں گے۔ مجھے تو فی الحال ان کی کابینہ کے باخبر معزز ارکان کی گزشتہ دو ہفتے کے دوران چھوڑی گئی پھلجھڑیاں تفریح طبع کا سماں باندھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ایک خاتون وزیر مملکت جان بچانے والی ادویات کی گرانی پر احتجاج کرنے والے ناہنجار عوام کو قیمتی مشورہ دے رہی تھیں کہ آپ ان مہنگی ادویات کا بائیکاٹ کر دیں آپ کا مسئلہ از خود ختم ہو جائے گا۔ یہ مہنگائی پر قابو پانے کا نادر نسخہ کسی نادر شاہی دور کی یاد تازہ کر گیا۔ آپ مہنگی دوائی نہ خریدیں اور جان کنی کی حالت میں پڑے اپنے پیاروں کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے دیں۔ ہینگ لگی نہ پھٹکڑی مرض کا علاج ہو گیا، بس خلّاص۔ اپنے پہلو میں موجود ناجائز منافع خور ڈرگ مافیا کو راہ راست پرلانے کے لئے کسی لمبی چوڑی انتظامی مشینری کو حرکت میں لانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی اور گورننس کی دھاک بھی بیٹھ جائے گی۔ پھر ایک وزیر صاحب کا یہ شگوفہ تو ہمارے حکمرانوں کے حقائق سے ادراک کا شاہکار نظر آتا ہے کہ ملک کے چھ سات کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں اور ہر ایک کو روزگار نہیں مل سکتا۔ پتہ نہیں کس کمبخت نے آئین میں شامل بنیادی انسانی حقوق کی شقوں میں یہ شق بھی ڈال دی تھی کہ ہر شہری کی جان مال کے تحفظ اور ان کی تعلیم، صحت، روزگار کی ذمہ دار ریاست ہے، اگر ہمارے حکمران اس ریاست کو نہیں چلا رہے ہیں تو وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان جو اپنے والدین پر بوجھ ڈال کر ان کی اور اپنی آنکھوں میں سہانے مستقبل کے سپنے سجائے روزگار کے متلاشی ہیں اور نامُراد پھر رہے ہیں وہ حکمرانوں سے روزگار کا قطعاً تقاضہ نہ کریں کیونکہ وہ اس سے بری الذمہ ہیں۔ وہ تو ریاست کے بجائے محض اپنی مفاداتی سیاست اور مفاداتی طبقات کے ایک دوسرے کے آنگنوں سے جُڑے ہوئے گھر بار چلا رہے ہیں، راندہ¿ درگاہ عوام جائیں بھاڑ میں یا ”پھٹاں“ کھائیں۔ کسی اضطراب کا مظاہرہ کر کے ”بابر با عیش کوش“ حکمرانوں کے آرام میں خلل تو نہ ڈالیں۔

آپ کس وزیر باتدبیر کے کون سے شگوفے کا تذکرہ کریں گے یہاں تو باوا آدم ہی نرالا نظر آتا ہے جس میں سنجیدگی و متانت کا سرٹیفکیٹ پانے والے وزیر محترم چودھری نثار علی خان بھی شگوفے چھوڑتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ روز وہ اپنی پریس کانفرنس میں پورے وثوق کے ساتھ یہ دعویٰ فرما رہے تھے کہ حکومت نیب کے پَر کاٹنے کی کوئی تیاری نہیں کر رہی۔ اگر ایسا ہی ہے تو حکومتی صفوں میں اوپر سے نیچے تک ”پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے۔“ وزیراعظم کی نیب کو جھاڑ جھپاڑ کے بعد پنچاب کے معتبر وزیر قانون رانا ثناءاللہ ایسے ہی لٹھ لے کر نیب پر چڑھ دوڑے تھے جس کے بعد نیب کے اوپر احتساب کمشن کی تشکیل کی خبریں زبانِ زدعام ہو گئیں اور پھر شگوفہ چھوڑ ماحول میں ہمارے وفاقی اطلاعاتی وزیرِ مکرم جو پہلے ہی شگوفہ سازی میں لاثانی قرار پا چکے ہیں، دور کی کوڑی اٹھا لائے ”ہم نے کسی ادارے کے پَر نہیں کاٹنے، بس کسی کے ناخن بڑھے ہوئے نظر آ رہے ہوں تو کاٹنا ہی پڑتے ہیں۔“ حضور آپ ناخن کاٹنے کا بے تدبیر عمل شروع کریںگے تو بے چارے کے ہاتھ بھی کٹ جائیں گے مگر آپ ہماہمی کے اس سارے ماحول میں چودھری نثار علی خاں کے اس بیان پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے مطمئن ہو جائیے کہ حکومت کی جانب سے نیب کے پَر کاٹنے کی ہرگز تیاری نہیں ہو رہی۔ ارے، آپ نیب کے پَر نہیں کاٹیں گے تو من مانیوں، آنیوں جانیوں اور کرپشن کہانیوں والی حکمرانی کیسے کر پائیں گے۔ آپ شگوفے چھوڑتے جائیے، ہم اعتبار کر لیتے ہیں مگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے آئی کو کیسے ٹالیں۔ سو لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com