پولیس گردی، وکلاء گردی اور دہشت گردی میں پھنسی عدل گستری
Feb 20, 2016

عدل گستری درحقیقت، عدلیہ، پولیس اور ان سے وابستہ اداروں پر مشتمل ہے۔ چنانچہ بلا متیاز ہر شہری کے لئے فراہمی انصاف کو یقینی بنانا عدل گستری سے وابستہ تمام اداروں کی یکساں ذمہ داری ہے۔ اگر یہ ادارے ہی ایک دوسرے کے مدمقابل آ جائیں اور ایک دوسرے کو مطعون کرتے ہوئے گند اُچھالنے کا سلسلہ شروع کر دیں تو معاشرے میں انصاف کا حصول خواب بن کر رہ جائے گا۔ عدل گستری میں عدلیہ کو قدرے امتیازی پوزیشن حاصل ہوتی ہے کہ یہ براہ راست حکومت کے تابع اور انتظامی مشینری کا حصہ ہونے کے بجائے ایک خود مختار ادارہ ہے اور اپنے معاملات پر کسی دوسرے حکومتی ادارے کو جوابدہ نہیں، مگر پولیس کا شعبہ ایسا ہے کہ جس کے بغیر انصاف کی عملداری کا پہلا قدم ہی نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اگر یہ شعبہ درست ہے اور معاشرے کے بدقماش عناصر کی دیانتداری کے ساتھ گرفت اور ان کے ستائے ہوئے مظلومین کی ذمہ داری کے ساتھ دادرسی کر رہا ہے تو یہ چرچل کے بقول ایسے نظام عدل کی بنیاد پختہ کر سکتا ہے جس کی موجودگی میں معاشرے کو کسی بھی جانب سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا۔ اگر عدل گستری کے یہ دونوں پہیئے ایک دوسرے کی مخالف سمت اپنا زور لگانا شروع کر دیں تو عدل گستری کی گاڑی سبک خرامی سے اپنی منزل کی جانب بڑھنے کی بجائے رسہ کشی کا کھیل بن کر ایک ہی جگہ پر جامد و ساکت کھڑی رہ جائے گی اور رسہ کشی جاری رہنے کی صورت میں ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔ میں نے گزشتہ شب آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا کے عشائیہ میں عدل گستری کا ایسا ہی نقشہ بنتا ہوا دیکھا کہ وہ محکمہ پولیس پنجاب کی سالانہ پراگریس رپورٹ پیش کرتے ہوئے مظلومین کی حصول انصاف میں ناکامیوں کی ساری ذمہ داری عدلیہ پر ڈالتے ہوئے نظر آئے۔ مجھے نظام عدل میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ کرپشن اور اقربا پروری کے عفریتوں نے ہر ملکی اور قومی ادارے میں سرائت کر کے بے انصاف معاشرے کی بنیاد مستحکم کی ہوئی ہے۔ اگر کرپشن کلچر میں عدل گستری سے وابستہ ادارے ایک دوسرے کی ہی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہو جائیں تو کرپشن کے عفریت کو نکیل ڈالنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ان دنوں اعلیٰ پولیس حکام اپنے محکمہ میں روائتی پولیس کلچر کو عوام دوست کلچر میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مگن نظر آتے ہیں اور اپنے تئیں کوشش کر رہے ہیں کہ اس محکمہ کی پیشانی پر بے انصافیوں کے مرکز والا لگا ہُوا بدنما دھبہ دُھل جائے۔ اس کے لئے سی سی پی او لاہور کیپٹن امین وینس کے پولیس تھانوں میں ایڈمن افسروں والے روشناس کرائے گئے سسٹم سے پولیس تھانوں میں سائلین کے ساتھ رعونت اور بدتمیزی کے مظاہروں میں نمایاں کمی کی میرے کئی احباب گواہی دے چکے ہیں جنہوں نے لاہور کے بعض پولیس تھانوں میں اس نئے پولیس کلچر کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے جبکہ گزشتہ روز آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا نے اپنے محکمہ کی پراگریس رپورٹ میں پولیس اصلاحات کی جو جھلک دکھائی وہ عوام دوست پولیس کلچر کی جانب ایک بڑی پیش رفت نظر آتی ہے۔ ان کے محکمہ پولیس میں روشناس کرائے آٹو میشن سسٹم کی بنیاد پر تو اب روائتی پولیس کلچر کے باعث دادرسی کے لئے پولیس تھانوں میں جانے سے خوف کھانے کی ساری وجوہات ہی ناپید ہو جائیں گی اور پولیس تھانوں میں قائم کئے جانے والے رسپشن ڈیسک، 8787 ہیلپ لائین سروس اور مربوط پولیس کمپلینٹ سنٹر کے ذریعے شہریوں کو ایف آئی آر کے انداج میں بھی کسی دقت کا سامنا نہیں کرنے پڑے گا اور پولیس گردی سے متعلق کسی شکایت کا بھی فوری ازالہ ہو جائے گا جبکہ کسی مقدمے کی تفتیش کے مراحل میں متعلقہ تفتیشی کا سفر و خوراک اور دوسرے لوازمات کا خرچہ بھی مدعی کو نہیں اٹھانا پڑے گا، اس نئے پولیس کلچر کے نتیجہ میں آئی جی پولیس کے دعویٰ کے مطابق پنجاب میں ہر نوعیت کے جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے جس کی تفصیلات پنجاب پولیس کی سالانہ پراگریس رپورٹ میں درج ہیں تاہم مجھے آئی جی صاحب کے اس مؤقف پر ہرگز خوشی نہیں ہوئی کہ انصاف کی عملداری کے لئے محکمہ پولیس کی یہ ساری کاوشیں عدلیہ کے حضور پیش ہوتے ہی بے کار چلی جاتی ہیں۔ وکلاء گردی کے حوالے سے ان کے مؤقف سے تو مجھے سو فیصد اتفاق ہے اور میں خود بھی عدل گستری کو وکلاء گردی سے بچانے کی انہی سطور میں کئی بار استدعا کر چکا ہوں جسے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے دوران سول سوسائٹی اور وکلاء کی عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے نتیجہ میں زیادہ تقویت حاصل ہوئی کیونکہ وکلاء حضرات نے اس تحریک کے ثمرات ججوں سے اپنے ہر مقدمہ میں ریلیف لینے کی صورت میں سمیٹنے کی بزور کوششیں شروع کر دی جس کے دوران بالخصوص ماتحت عدلیہ کے ججوں کے کورٹ رومز کو تالے لگانے اور ججوں کو مطعون و زد و کوب کرنے تک کی نوبت وکلاء گردی کا شاہکار ہی نظر آتی ہے جبکہ پولیس گردی بھی اس وکلاء گردی کے آگے شرما رہی ہے۔ میں نے وکلاء گردی پر پولیس گردی کی چیخ پولیس کے سربراہ کی زبانی سُنی تو مکافاتِ عمل کے کئی پہلو نظر آئے۔ اگر آئی جی صاحب، وکلاء گردی کو بھی عدل گستری کی کمزوری ظاہر کر رہے ہیں جس میں پولیس گردی کی بھی درگت بن رہی ہے تو عدلیہ پر اس کا ملبہ ڈالنے کے بجائے وکلاء گردی، پولیس گردی اور دہشت گردی سمیت ہر تجاوز اور ہر خرابی کا کسی اجتماعی حکمتِ عملی کے تحت مداوا کریں۔

آئی جی صاحب کو اصل تشویش عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے فرانزک اور واقعاتی شہادتوں کو یکسر نظر انداز کرنے اور صرف متعلقہ ایف آئی آر پر تکیہ کر کے مقدمات چلانے کے حوالے سے لاحق نظر آئی جسے وہ عدالتوں کے فراہمیٔ انصاف کے ناقص طریقہ کار سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ان کے بقول عدالتیں صرف ایف آئی آر میں نامزد کسی ملزم یا ملزمان کے خلاف ایف آئی آر میں دئیے گئے کسی وقوعہ کے گواہوں پر ہی تکیہ کر لیتی ہیں حالانکہ ایف آئی آر میں اکثر اوقات کسی وقوعہ کے ملزمان بھی کسی دشمنی کی بنیاد پر ناجائز طور پر نامزد کئے گئے ہوتے ہیں اور وقوعہ کے گواہ بھی مدعی پارٹی کی جانب سے پیسے دے کر بنائے گئے ہوتے ہیں جبکہ کسی وقوعہ کی فرانزک رپورٹ سامنے آنے پر اصل ملزموں کی بھی نشاندہی ہو جاتی ہے اور وقوعہ کے حقیقی گواہ بھی دستیاب ہو جاتے ہیں مگر عدالتیں پولیس کی بعد ازاں پیش کردہ اصل ملزمان اور گواہوں کی فہرست کو درخور اعتناء ہی نہیں سمجھتیں چنانچہ اصل ملزمان صاف بچ نکلتے ہیں اور بے گناہ مارے جاتے ہیں۔

سچی بات ہے، مجھے تو آئی جی صاحب کی اس دلیل میں بھی وزن نظر آتا ہے مگر عدلیہ کے معتبرین تو سرے سے پولیس کے تفتیشی نظام کو ہی ناقص سمجھتے ہیں اور اس بنیاد پر مروجہ پولیس سسٹم کو ناانصافیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے بقول جھوٹے گواہ بنانا اور خود جھوٹی گواہیاں دینا بھی پولیس ہی کا وطیرہ ہے۔ میں نے چونکہ ایک طویل عرصہ اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ میں مختلف مقدمات کی کوریج کر تے ہوئے گزارا ہے اور اس حوالے سے عدل گستری سے وابستہ تمام متعلقین سے میرا رابطہ بھی رہا ہے اور میں خود بھی انصاف کی عملداری سے متعلق کئی معاملات کا شاہد رہا ہوں اس لئے میری دانست میں تو عدل گستری کی خرابیوںمیں اس کے ہرکل پُرزے نے اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا ہوا ہے۔ اگر عدل گستری میں آج بھی یہ تصور پختہ ہے کہ دادے کے دائر کردہ کیس کا اس کے پوتے کی زندگی میں بھی فیصلہ نہیں ہو پاتا تو اس خرابے میں پولیس، پراسیکیوشن اور منصفین سمیت ہر ایک کی خرابی جھلکتی نظر آتی ہے۔ اس لئے اپنی پیدا کردہ خرابیوں کا ایک دوسرے پر ملبہ ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی روش ترک کر کے پہلے ادارہ جاتی باہمی اعتماد سازی کی فضا پیدا کی جائے اور پھر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اپنے اپنے تجربات شیئر کر کے اجتماعی طور پر اصلاح احوال کا کوئی راستہ نکالا جائے ’’ورنہ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘ والے ماٹو کا حشر بھی ’’باکمال لوگ لاجواب پرواز‘‘ والا ہی ہُوا چاہتا ہے۔ جس میں متلاشیان انصاف کیلئے خواری ہی خواری ہے۔ محض ’’آٹو میشن‘‘ والی اصلاح احوال معاشرے کے بدقماشوں کی سرکوبی نہیںکر سکتی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com