’’سانوں گھُٹ گھُٹ زہر پلاویں‘‘
Feb 06, 2016

یہ کوئی بجھارت نہیں کہ اس کا جواب دینے کے لئے مراقبہ میں جا کر لمبی سوچ بچار کرنی پڑے۔ سو اگر کوئی یہ پوچھ لے کہ پی آئی اے کے پیدا شدہ بحران میں فائدہ کس کا ہوا ہے تو ہمارے وفاقی وزیر پٹرولیم کے سوا بھلا کوئی اور نام زبان پر آ سکتا ہے۔ وہ ایک نجی ائر لائن کے مالک ہیں چنانچہ پی آئی اے کی نجکاری کے فیصلہ کے خلاف ادھر پی آئی اے کے ملازمین سراپا احتجاج بنے اور فلائٹ اپریشن بند کرنے کی نوبت لائے تو اس کے ساتھ ہی عوام کی خدمت کی داعی حکومت کے ایک وفاقی کل پُرزے نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے قارون کے خزانے کو مزید بھرنے کا شدومد کے ساتھ اہتمام کر لیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کے ہاتھوں فلائٹ اپریشن بند ہونے کے پہلے روز نجی ائر لائنز نے اپنے کرایوں میں دو سو فیصد تک اضافہ کیا کہ مسافروں کے پاس اور کوئی چوائس ہی نہیں تھی جبکہ پی آئی اے کی جانب سے بھی کنفرم ٹکٹوں والے مسافروں کو ملک میں موجود نجی ائر لائنز کی جانب ہی بھیجا جا رہا ہے۔

پی آئی اے تو ٹائیٹانک بن چکی ہے جس میں ہر عہد حکمرانی میں سیاسی بنیادوں پر لاکھوں کے مشاہروں اور دوسری مراعات کے ساتھ بھرتی ہونے والے اس کے ’’جگے‘‘ ملازمین کا بنیادی کردار ہے مگر ’’باکمال لوگ لاجواب سروس‘‘ کے حسین تخیل کے ساتھ اڑان بھرنے والے اس ادارے کی موجودہ تباہی کے دوسرے عوامل کا بھی جائزہ لے لیا جائے تو منتخب ایوانوں میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے کئی پردھانوں کے سفید کالروں کے نیچے بہت سا گند نظر آ جائے گا۔ ’’دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا‘‘ کے بینر کے نیچے استراحت فرما ان پردھانوں کے اعمال ناموں میں بے حد و حساب منافع خوری کی بلبل ہزار داستان چہکتی ہوئی نظر آئے گی۔ پچھلے ادوار میں پیدا کئے گئے چینی کے بحرانوں پر اچٹتی سی نظر ڈالیں کہ کس نے چینی کے نرخوں کو آسمان کی جانب جست لگوائی۔ یہ تو ’’چوپڑیاں اور وہ بھی دو دو‘‘ سے بھی آگے کا معاملہ ہے۔ کرشنگ سیزن میں شوگر ملوں کو گنا بھجوانے والے کسان اپنی جنس کی قیمت کی قسطوں میں وصولی کے لئے بھی شوگر مل اونرز کے آگے ایڑیاں رگڑتے نظر آتے ہیں مگر انہیں ناک رگڑنے پر مجبور کرکے قطرے قطرے کے حساب سے ان کی محنت کا معاوضہ ملتا ہے۔ اس کے برعکس چینی کے نرخ مقرر کرنے، بڑھانے اور چینی کی قلت پیدا کرنے کا پورا اختیار شوگر مافیا کو حاصل ہوتا ہے جو منتخب فورموں پر خود بھی اور اپنے نمائندگان کے ذریعے بھی بیک آواز نظر آتے ہیں۔ ان کی ہم خرماں ہم ثواب کی یہ کیفیت ہے کہ پہلے چینی برآمد کرکے منافع کماتے ہیں اور پھر خود ہی چینی کی قلت کا بحران پیدا کرکے اپنی ہی برآمد کی گئی چینی مہنگے داموں درآمد کرنے کا بھی ٹھیکہ لے لیتے ہیں۔ بھئی ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ چٹکی بجائو اور اپنے قارون کے خزانوں کو بھرنا شروع کر دو۔ کوئی روک ٹوک والا فورم ہے تو وہاں بھی ان کی ہی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے۔

ایسے ہی آپ سابق دور کے گیس کے بحران کا جائزہ لے لیجئے کہ ڈاکٹر عاصم حسین نے اپنے ہی پیدا کئے گئے اس مصنوعی بحران میں خود کتنے کمشن بنائے اور کھائے اور منتخب ایوانوں میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے اور کتنوں کے منہ ہیرے جواہرات سے بھرے۔ سی این جی پر کس کی اجارہ داری ہے اور لیکویڈ پٹرولیم کمپنیاں کس کس کی تحویل میں ہیں، منتخب ایوانوں میں جھانک کر دیکھیں تو سارے حصہ بقدرِ جثّہ والے اشرافیے آپ کو وہیں براجمان نظر آئیں گے۔ ایسے ہی جان بچانے والی ادویات کی مصنوعی قلت بھی انہی ایوانوں میں بیٹھے بزر جمہروں کی ناجائز منافع خوری کی حرص کا ہی شاخسانہ نظر آئے گی۔

ائر لائینز پر تو خیر سے زیادہ تر انہی طبقات کے لوگ سفر کرتے ہیں، عوام کی خواری تو صرف حج عمرہ کے لئے ائر لائنز کے ذریعے سفر کی مجبوری کے باعث ہوتی ہے یا اوورسیز پاکستانیوں کا یہ مسئلہ ہے مگر ناجائز منافع خوری کی لت کسی کی بھی جیب میں ہاتھ ڈالنے کے مقامات سود و زیاں بغیر کسی شرم و حیا کے احساس کے طے کرا لیتی ہے۔ چنانچہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں گزشتہ روز پٹرولیم نرخوں میں صرف پانچ روپے کمی پر وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کمیٹی کے ارکان کی تنقید کی زد میں تھے تو ایم کیو ایم کے ایک رکن نے ان کی اس دُکھتی آگ پر بھی ہاتھ رکھ دیا کہ آپ نے تو پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال سے فائدہ اُٹھا کر اپنی ائر لائین کے کرائے بھی بڑھا دئیے ہیں، وزیر موصوف اس پر بدک اٹھے۔ فرمانے لگے کہ آپ نے ذاتیات پر حملہ کیا ہے اور مجھے بھی جواب دینا آتا ہے۔ موصوف کی اس تاویل پر آپ بھی صدقے واری جائے کہ ان کی ائر لائین اب ان کی نہیں بلکہ پبلک لمیٹڈ کمپنی کی ہے اس لئے وہ اس کے معاملات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ارے صاحب ذرا دل بڑا کر کے قوم کو یہ بھی بتا دیجئے کہ اس پبلک لمیٹڈ کمپنی میں آپ کے خاندان سے باہر کا بھی کوئی شامل ہے؟ یہ ویسی ہی تاویل ہے جیسے جنرل کیانی کے بھائیوں کی جانب سے ایک ہائوسنگ سوسائٹی کی بے ضابطگیوں کے معاملات میں یہ صفائی دی جا رہی ہے کہ جنرل (ر) کیانی کا ان کے ذاتی کاروبار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اس لئے مبینہ بے ضابطگیوں میں انہیں ملوث نہ کیا جائے۔ اگر کوئی یہ پوچھ بیٹھے کہ آپ کو اس کاروبار کی سہولت جنرل کیانی کے اختیارات والے عہد میں کیسے مل گئی تو آپ کی جبین نیاز شکن آلود ہونا چہ معنی دارد؟ یہ ساری طاقت اختیار کی ہی تو ساری کرشمہ سازیاں ہیں کہ ایک ہی خاندان سے خاندان در خاندان دیپ سے دیپ جلتے چلے جاتے ہیں۔ ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی تاثیر کیسے کیسے اشرافیائوں کو جنم دے چکی ہے جو طاقت و اختیارات کے ہر مرکز کو اپنی دسترس اور دست قدرت میں رکھ کر کسی شیرینی کا کوئی ایک قطرہ بھی اپنے آنگنوں سے باہر نہیں لڑھکنے دیتے۔ سو ان اشرافیائوں کی نمائندہ سلطانیٔ جمہور میں سلطان کے ہی وارے نیارے ہونے ہیں اور جمہور کا کام سلطانیٔ جمہور کو شاد و آباد رکھنے والی فیکٹری میں محض ایندھن کے طور پر استعمال ہونے کا ہے۔ آپ ایندھن بن کر خود کو سلگاتے اور جلاتے رہئے اور سلطانیٔ جمہور کی فیکٹری میں سلطانوں کی شاد کامی کا اہتمام کرتے رہئے۔ یہی راندۂ درگاہ عوام کا مقدرہے۔ پھر یہ گلہ کیسا کہ

آپ تے پیویں بُکّاں شربت
سانوں گُھٹ گُھٹ زہر پلاویں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com