’’عطائیہ‘‘ تقریب کا صدقہ
Jan 19, 2016

تقریب تو سجائی گئی تھی عطاء الحق قاسمی کے چیئرمین پی ٹی وی بننے کی خوشی میں اور عطاء صاحب نے حسِّ مزاح کے رنگ بکھیرتے ہوئے اپنی شگفتہ مزاجی کی دھاک بٹھائے رکھنے کی کوشش بھی کی مگر بحث رکتی چلتی پانی کے آنے والے بحران کے سنجیدہ موضوع پر آ کر رُک گئی۔ واپڈا کے بیورو کریٹ چیئرمین ظفر محمود صاحب ان دنوں بجلی کی چوری، لوڈشیڈنگ اور گرانی کے حوالے سے واپڈا پر ہونے والی تنقید کا رُخ موڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ان کے پاس واحد دلیل یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام سے اب واپڈا کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اس لئے بجلی سے متعلق شکایات کا ملبہ واپڈا کیوں اٹھائے پھرے اور رسوائیاں کیوں مول لیتا رہے مگر واپڈا کے دفاع کے لئے ان کی کوششیں کارگر نہیں ہو پا رہیں کیونکہ بجلی کی آنکھ مچولی سے لے کر اس کے بلوں میں اضافے تک لوگوں کی پیشانیوں پر تیوڑیاں پڑتی ہیں تو وہ بس واپڈا کے ساتھ ہی منسوب ہو جاتی ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ بجلی سے متعلق یہ قباحت پہلے واپڈا ہی کے کھاتے میں پڑتی رہی ہے جو واٹر اینڈ پاور دونوں کی مینجمنٹ کا مدارالمہام رہا ہے۔ اب واپڈا کو صرف واٹر مینجمنٹ تک محدود کر دیا گیا ہے تو عام عوام کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہو سکی۔ خواجہ آصف صاحب وزارت پانی و بجلی کے انچارج ہیں تو بجلی کے بحران کے حوالے سے ہر تجسّس کا جواب وہ واپڈا کے نگران وزیر کی حیثیت سے ہی دیتے ہیں کیونکہ جب تک واپڈا کا لفظ موجود رہے گا اس میں واٹر کے ساتھ پاور بھی نتھی رہے گی، اس لئے چیئرمین واپڈا کو بھی بجلی کی بے ضابطگیوں پر موردِ الزام ٹھہرایا ہی جاتا رہے گا چاہے وہ لاکھ پاور سسٹم سے اپنی لاتعلقی والی صفائیاں پیش کرتے رہیں۔ اگر وہ بجلی سے متعلق شکایات کا بوجھ نہیں اٹھائے رکھنا چاہتے تو واپڈا کے نام میں ترمیم کرا لیں۔ اب اس محکمہ کی ذمہ داری صرف واٹر مینجمنٹ کی ہے تو اس میں سے پاور کا ’’پلگ‘‘ اتروا دیں اور عام پبلک کو بھی واٹر مینجمنٹ کے کام اور ذمہ داریوں سے عام فہم زبان میں آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کریں تاکہ اس مینجمنٹ کی افادیت سے بھی لوگوں کو آگاہی ہو سکے اور اس افادیت میں لوڈشیڈنگ جیسے لگنے والے جھٹکوں سے بھی عام عوام آگاہ ہوں تو اپنی تنقید کا رُخ صرف اور صرف واٹر مینجمنٹ کے جھٹکوں تک محدود رکھیں۔ مگر حضور! عوامی تنقید کی زد میں خواجہ آصف آئیں گے تو اس کا بوجھ واپڈا پر پڑتا ہی رہے گا۔ کیونکہ عوام کی لیسکو، فیسکو، ہیسکو، میسکو والے ناموں سے عرفِ عام والی شناسائی ہی نہیں ہے چنانچہ انہیں ابھی تک یہ ادراک بھی نہیں ہو پایا کہ بجلی کے فیڈر بند ہونے سے ٹرپنگ ہوتی ہے، ایک بیوہ کے گھر جلنے والے ایک بلب کا بل پچاس ہزار روپے آ جاتا ہے، بجلی عید کے چاند کی طرح اپنی جھلک دکھاتی ہے یا بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار کرکے آئے روز اضافہ کر دیا جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار واپڈا نہیں بلکہ جن بھوتوں کے ناموں اور کاموں سے مشابہت رکھنے والے لیسکو، فیسکو وغیرہ وغیرہ وغیرہ اس کے ذمہ دار ہیں۔

ظفر محمود صاحب نے اپنے پی آر سیکشن کو اسی حوالے سے خاصہ متحرک کیا ہُوا ہے جہاں عابد اور صدف کی جانب سے میڈیا کے لئے گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں اور وضاحتی مراسلوں کے علاوہ واپڈا کے وضاحتی سیمینار بھی منعقد ہو چکے ہیں مگر بجلی کا ’’داغ مفارقت‘‘ واپڈا کے دامن کے ساتھ ایسا چپکا ہے کہ مانجھ مانجھ کر اتارنے کی کوئی کوشش بھی کامیاب نہیں ہونے دے پا رہا۔ اتوار کی دوپہر کو چیئرمین واپڈا نے ہمارے ہردلعزیز کالم نگار اور دانشور عطاء الحق کی پذیرائی کے لئے مخصوص کیا تو مجھے اپنے دوست ایک فکاہیہ شاعر پھل آگروی شدت کے ساتھ یاد آئے جن کے اعزاز میں 80ء کی دہائی میں چند منچلوں نے جون کی تپتی دوپہر اسمبلی ہال کے سامنے چیئرنگ کراس کے عین بیچ منائی اور ایڑی سے چوٹی تک والے پسینے سے شرابور یہ دوپہر استاد پھل کی سادہ دلی کے طفیل شام کی لو کے تھپیڑے تک جاری رہی۔ اس تقریب میں جم کر بیٹھے رہنا میری مجبوری بھی اس لئے بنا کہ میری استاد پھل کے ساتھ دفتر سے گھر واپسی کی روزانہ کی پیدل ہمسفری ہوتی تھی، سو مختلف پھلوں کے ہاروں سے لدے استاد پھل کو سازو سامان سمیت اس تقریب سے اٹھا کر میں ہی معمول کے پیدل سفر میں انہیں گھر تک پہنچا کر آیا تھا۔ اس ’’دوپہرانے‘‘ میں استاد پھل کی سنائی گئی غزل کے یہ اشعار آج بھی میرے ذہن پر نقش ہیں کہ

نو نقد نہ ادھار، برائے فروخت ہے
یہ میرے دل کی کار برائے فروخت ہے
پھل بِک رہا ہے پھل کی دکاں پر تو کیا ہوا
تھانے میں تھانیدار برائے فروخت ہے

ہمارے استاد فکاہیات عطاء الحق قاسمی کے لئے دوپہرانے کا اہتمام چیئرمین واپڈا نے جنوری کی ابرآلود اور خنکی سے لبریز فضا میں واپڈا ہائوس کی چھت پر کھلے آسمان کے نیچے کیا تو دانت بجنے کا اہتمام کرنے والے جاڑے کے اس ٹھٹھرتے موسم میں یہ تقریب بھی استاد پھل آگروی کے پسینہ چھوڑ دوپہرانے جیسی انفرادیت میں لپٹی نظر آئی۔ مجھے یہ گمان ہرگز نہیں کہ ظفر محمود صاحب کے سینے میں اس وقت بھی کسی شرارتی منچلے نوجوان جیسا بے تاب دل دھڑک رہا ہو گا مگر انہوں نے تقریب کی اس جدت کے ذریعے سینئر ایڈیٹروں، جید کالم نگاروں اور ہر موضوع پر سنجیدہ فلسفہ بگھارنے والے اینکروں کو واہ واہ کرنے پر ضرور مجبور کر دیا۔ واپڈا ہائوس کی چھت سے لاہور شہر کا نظارہ کریں تو امتدادِ زمانہ کی تمام کلفتیں پردہ ذہن سے کافور ہو جائیں۔ سو ایسا ہی ہوا۔ تقریب کے شریک ہر مہمان کی زبان پر یہی لفظ تھا کہ میں نے لاہور کا یہ رنگ تو آج پہلی بار دیکھا ہے۔ عطاء الحق قاسمی نے بھی تان لاہور کے اس منظرنامے پر ہی توڑی اور گھروں کی سانجھی چھتوں والی اپنائیت کا خوشگوار نقشہ بنا کر اپنے ٹی وی ڈرامے خواجہ اینڈ سن کو ’’ری پلے‘‘ کر دیا۔ کھانے کی میز پر مکئی کی روٹی، ساگ، مکھن اور دوسرے لوازمات سے ماحول کی گرمائش کا منظر نکلا تو چیئرمین واپڈا کے اس بیان کے ذریعے خطرے کی گھنٹی بھی بج گئی کہ پانی کو بھی ہَوا کی طرح مفت اور وافر استعمال کرنے کی عادی ہماری قوم کو علم ہی نہیں کہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے باعث ہم پر کیا افتاد ٹوٹنے والی ہے۔ میں نے سوئے اتفاق سے پانی کی اس بڑھتی ہوئی قلت کے حوالے سے کچھ رپورٹس پڑھ رکھی تھیں اس لئے مجھے چیئرمین واپڈا کی زبانی یہ حقائق سُن کر زیادہ تشویش لاحق ہوئی۔ ظفر محمود صاحب بتانے لگے کہ کوئٹہ کے مکینوں نے اپنے اگلے 20 سال کی ضرورت والا سارا پانی صرف ایک سال میں استعمال کر لیا ہے چنانچہ وہاں پانی کا جو بحران پیدا ہونے والا ہے اس کی جھلک دیکھتے ہی ان کی زندگی کی رمق ختم ہو جائے گی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تو لاہور سمیت پاکستان کی اس دھرتی کے نیچے موجود پانی اپنی گہرائی کی انتہا تک پہنچ چکا ہے جو پانی کی سخت قلت کی غمازی کر رہا ہے اس کے باوجود مستقبل کے خطرات سے بے نیاز ہم عوام اس پانی کو ایک گھر کے دس دس واش رومز، حماموں اور گھروں کی صفائی دُھلائی تک میں بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ عوام کو پانی کی فکر میں کیسے مبتلا کیا جائے، عطاء الحق قاسمی کی یہ تجویز چیئرمین واپڈا نے اُچک لی کہ اس موضوع پر عام فہم زبان میں ڈرامے لکھوا کر پی ٹی وی اور دوسرے ٹی وی چینلوں پر چلوائے جائیں۔

سو قاسمی صاحب کے اعزاز میں منعقدہ اس تقریب بہرِ ملاقات کا ایک مقصد بھی نکل آیا۔ اب واپڈا کی بتائی گئی سالانہ 76 ارب روپے کی آمدنی میں سے جھٹکے کھاتا پی ٹی وی بھی خوشحال ہو جائے گا اور اس سے وابستہ قلمکار بھی۔

…؎ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔ یہ اس ’’عطائیہ‘‘ تقریب کا صدقہ سمجھیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com