ناانصافیوں کا ازالہ کیسے ہو؟
Nov 24, 2015

میری دانست میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ناانصافی ہے۔ یہ ناانصافی صرف نظام عدل میں موجود خامیوں اور خرابیوں کی وجہ سے ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ حکومتی گورننس اور حکومتی اداروں میں بھی ناانصافی کا کلچر پروان چڑھ کر ایک بے انصاف معاشرے کی بنیادیں مستحکم بنا رہا ہے۔ اور پھر ہم سب بھی اپنی گھریلو، معاشرتی اور کاروباری ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کہیں نہ کہیں ناانصافی مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ ناانصافی ہی غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل جنم دے کر انہیں گھمبیر بناتی ہے اور انسانی معاشرے میں طبقاتی تفاوت پیدا کرتی ہے۔ اس لئے اگر ہم نے معاشرے کا توازن قائم کرنا اور برقرار رکھنا ہے تو ہمیں اپنے اندر جھانک کر اپنے رویوں کے ذریعے معاشرے میں پرورش پانے والے ناانصافی کے کلچر کا گلا گھونٹنا ہو گا اور شرف انسانیت کو ہر صورت مقدم رکھنا ہو گا اور اسی طرح میرٹ کا گلہ گھونٹنے والے ہاتھوں کو کاٹنا ہو گا ورنہ ناانصافی کی بنیادوں پر استوار معاشرے کا استحکام تو کجا، اس کی بقاءکی بھی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی۔

ہمارے معاشرے میں مصیبت یہ ہوئی کہ ناانصافی کو صرف نظام عدل میں موجود خامیوں کے ساتھ منسوب کر دیا گیا ہے۔ یقیناً مفصّل سے اعلیٰ سطح تک کی عدلیہ میں ہزار رنگ کی خامیاں موجود ہیں جو حصول انصاف کی راہیں مسدود کرکے ناانصافیوں کا تصور پختہ کرتی اور عام آدمی کا نظام عدل پر اعتماد ڈگمگاتی ہیں۔ میں خود بھی انصاف کی عملداری کے لئے عدلیہ میں سے ناانصافیوں اور کرپشن کلچر کے خاتمہ کا متمنی و داعی ہوں مگر ہم ناانصافیوں پر صرف ایک ادارے کو مطعون ٹھہرانا شروع کر دیں گے تو کرپشن کلچر میں کوئی دراڑ پیدا نہیں کر پائیں گے۔ ”وقت ٹی وی“ کے صبح کے پروگرام میں شریک ہوتے ہوئے مجھے بہت زیادہ ان محترم کالرز کے تجسس و تفکر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اپنے ذاتی مقدمات کے حوالے سے ناانصافی کے معاملہ میں عدلیہ کو رگیدنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ان میں سے ایک کالر تو تقریباً ہر پروگرام میں فون کرکے اپنا دکھڑا روتے اور انصاف کے ایوانوں کو ناانصافی کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ وہ اپنے ذاتی مسئلہ کی بنیاد پر اس میں حق بجانب بھی ہوں گے چنانچہ گزشتہ روز بھی وقت ٹی وی کے ”نیوز لاﺅنج“ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کے بلوچستان بار کونسل میں خطاب پر مبنی خبر پر تبصرے دوران مجھے ان صاحب کی تلخ و ترش کال بھگتنا پڑی۔ انہیں اپنے خلاف مبینہ طور پر ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف کسی بھی فورم پر آواز اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے بلکہ میں نے پروگرام میں بھی یہی عرض کیا کہ معاشرے کے کسی بھی فرد کو اپنے ساتھ کسی بھی سطح پر ہونے والی ناانصافی پر خاموش نہیں بیٹھ جانا چاہئے بلکہ جس فورم پر بھی وہ آواز اٹھا سکتا ہو، اسے ضرور چیخ و پکار کرنی چاہئے۔ اگر معاشرے کا ہر فرد یہ عمل شروع کر دے تو عوام کو انصاف کی فراہمی اور ان کی دادرسی کے ذمہ دار اداروں اور ان سے وابستہ اعلیٰ مناصب والے افراد و اصحاب کے کانوں پر لپیٹے گئے بے اعتنائی کے پردے اتر سکتے ہیں اور دادرسی و سلجھاﺅ کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ چلیں اس کا آغاز نظام عدل میں موجود خامیوں اور عدلیہ میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے ہی کر لیں مگر ان ناانصافیوں کا باعث بننے والے محرکات پر بھی توجہ دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہم ہر ناانصافی کا مدعا عدلیہ پر ڈال کر تسکین طبع کا اہتمام تو کر لیتے ہیں مگر ناانصافیوں کے روٹ کاز کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں یا دانستاً اس کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ اب ”جوڈیشل ایکٹوازم“ میں عدلیہ میں بھی یہ تصور ضرور پروان چڑھ رہا ہے کہ اگر کسی مظلوم کی قانون کے تقاضوں سے ہٹ کر بھی دادرسی ممکن ہے تو اس سے گریز نہ کیا جائے۔ اس کی حالیہ مثال سابق وفاقی وزیر صدیق کانجو کے خودسر بیٹے مصطفیٰ کانجو کے ہاتھوں ایک بے بس خاندان کے واحد چشم و چراغ زین کے قتل کی ہے جس میں مقدمہ کے مدعی اور گواہان تک کو بااثر کانجو خاندان نے خوفزدہ کیا اور پھر خرید لیا چنانچہ عدالت کے روبرو مقدمہ کے مدعی اور گواہان سب کے سب منحرف ہو گئے جس کے بعد ٹرائل کورٹ کے پاس گھناﺅنے جرم میں ملوث بااثر ملزم کو باعزت آزاد کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا چنانچہ عدالت نے قانون کے تقاضے کے مطابق ایسا ہی کیا۔ اب عدالت کی اس کارروائی کو ہم انصاف کے تقاضوں کے منافی تو ہرگز قرار نہیں دے سکتے پھر بھی ناانصافیوں کا ملبہ عدلیہ پر ہی گرتا نظر آیا تو چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جوڈیشل ایکٹوازم میں اپنے ازخود اختیارات کو بروئے کار لا کر اس مقدمہ کا ریکارڈ مدعیوں اور گواہوں سمیت طلب کر لیا۔ ازخود سماعت والے اس کیس میں مقتول زین کی والدہ نے عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش ہو کر جن الفاظ کے ساتھ ناانصافیوں پر مبنی ہمارے معاشرے کو جھنجھوڑا، اگر کسی کو اس معاشرے کا سدھار مقصود ہو تو پھر اس کیس کو ہی ٹیسٹ کیس بنا کر اصلاح احوال کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کے کیس میں مدعی اس خاتون کا یہ بیان ہمارے بے انصاف و سفاک معاشرے کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید ہونے کے مترادف ہے کہ میں اپنی دو جوان بیٹیوں کے ساتھ گھمنڈی زور آوروں کا کیسے مقابلہ کر سکتی ہوں۔ یہی وہ سماجی اور معاشرتی تفاوت ہے جو میری دانست میں بے انصاف معاشرے کی بنیاد ہے۔ ایک خاتون انصاف کے اعلیٰ ترین ادارے کے سامنے موجود ہے۔ اسے منصف اعلیٰ تحفظ اور فراہمی انصاف کا یقین بھی دلا رہے ہیں مگر وہ اس کے باوجود اپنے پاﺅں پر کھڑی نہیں ہو پا رہی کیونکہ اس کے دل میں یہ خوف جاگزیں ہو چکا ہے کہ اس کے لئے عدالت کا تحفظ تو بس ایک دن کا ہے جس کے بعد اس نے پھر اس معاشرے میں انہی زور آور طبقات کا سامنا کرنا ہے جو اس کی دانست میں اس کی زندگی اجیرن کئے رکھیں گے۔ منصفِ اعلیٰ کا بھی خاتون کو تحفظ کا یقین دلانا اپنی جگہ مگر کیا انتظامی اتھارٹی و حکومت اور حکومتی اداروں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر شہری کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اس کے ساتھ کسی بھی جانب سے کسی بھی قسم کی ناانصافی نہ ہونے دے۔ عمران خاں کو تو بس انتخابی دھاندلیوں کا رونق میلہ لگائے رکھنے کا چسکا پڑا ہوا ہے۔ اگر ان کی اور اپوزیشن کی کسی بھی دوسری جماعت کی جانب سے بے وسیلہ عوام کے ساتھ روٹی، روزگار کے حصول کے معاملہ میں اور معاشرے میں روا رکھی جانے والی دوسری زیادتیوں کے خلاف منتخب ایوانوں میں کوئی آواز اٹھانے، کوئی قرارداد لانے یا کوئی قانون منظور کرانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی تو پھر انہیں عدلیہ اور عدل گستری کے حوالے ناانصافیوں کا واویلا کرنے کا بھی کیا حق حاصل ہے۔ اگر وہ اس معاملہ میں حکومتی لچھنوں اور اقربا پروریوں پر طائرانہ نظر ہی ڈال لیں تو انہیں جاری ناانصافیوں کے مظاہر نظر آ جائیں گے، حال ہی میں ریڈیو اور پی ٹی وی میں ہونے والی تقرریوں کا معاملہ میرے نوٹس میں آیا ہے جس میں حکمران طبقات نے ناانصافیوں کی انتہا کی ہے۔ ڈھنڈورا ان تقرریوں کے لئے میرٹ کا پیٹا گیا اور پھر میرٹ بھی اپنا بنا لیا اور ایسے لڑکوں کا بھی تقرر کر دیا جو ان اسامیوں کے لئے این ٹی ایس کے ذریعے لئے گئے تحریری امتحان میں سرے سے شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔ اس امتحان میں سو میں سے 70 سے زائد نمبر لینے والے امیدوار تو انٹرویو والی میرٹ لسٹ میں بھی شامل نہ ہو سکے مگر جو امتحان سے دور رہے وہ اقربا پروری کی نوازشات میں فیض پا گئے، یہی ناانصافیاں آپ کو ہر حکومتی ادارے میں بکثرت نظر آئیں گی مگر ہم تو ناانصافیوں کا سارا ملبہ عدلیہ پر ڈالنے کے کلچر ہی کو اوڑھے ہوئے ہیں۔ تو جناب! اب معاشرے کے ہر فرد کو اپنے یا اپنے اردگرد کسی کے بھی ساتھ ہونے والی ناانصافی پر چیخ و پکار کرنا ہو گی ورنہ ”سٹیٹس کو“ توڑنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com