آپ ہی قتل کرے، لے وہی ثواب الٹا
Nov 20, 2015

خوفناک تباہی پر منتج ہونے والے بھیانک منصوبے محض کسی غلط فہمی یا ناقص معلومات کی بنیاد پر طے کرنے کا ان منصوبوں کے ذریعے تباہی کی نوبت لانے کے بعد اعتراف کرنا بھی شائد عالمی عالی دماغوں کے کلچر کا حصہ بن گیا ہے۔ ہیلری کلنٹن اوباما کے اقتدار کی پہلی ٹرم کے دوران امریکی وزیر خارجہ (سیکرٹری آف سٹیٹ) تھیں جو اپنے شوہر بل کلنٹن کے اقتدار کی دو ٹرموں میں بھی امریکی پالیسیوں کا حصہ نہیں تو ان سے آگاہ ضرور ہوتی رہی ہونگی۔ انہوں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اعتراف کیا کہ ہم نے 20 سال قبل افغان مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ میں استعمال کرنے کیلئے ان کی تربیت اور فنڈنگ کی، انہیں مجاہدین کا خطاب بھی دیا مگر جب سرد جنگ میں ہمارے مقاصد پورے ہو گئے تو ہم نے بے نیازی کے ساتھ افغان مجاہدین کی سرپرستی چھوڑ دی۔ اس سے نتیجہ انہوں نے یہ اخذ کیا کہ امریکی سرپرستی سے مایوس ہونے کے بعد ہی افغان مجاہدین اسلحے اور دولت کی ریل پیل کی پڑی ہوئی لت برقرار رکھنے کیلئے طالبان اور القاعدہ کے روپ میں سامنے آئے تھے جنہوں نے اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں سے آج علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ ہلیری کے اس انکشاف و اعتراف کے بعد امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی آئی؟ سوائے نفی کے اس کا کوئی جواب نہیں۔ پھر عراق میں مبینہ ایٹمی ہتھیاروں کا کھوج لگانے پر مامور امریکی انٹیلی جنس ادارے کے ایک ڈائریکٹر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد شان بے نیازی سے یہ اعتراف کیا کہ جن معلومات کی بنیاد پر ہم نے عراق پر چڑھائی کی تھی اور صدام کا تختہ الٹایا تھا وہ معلومات سرے سے بے بنیاد تھیں اور ہماری چھان بین کے دوران عراق میں کہیں بھی مطلوبہ ایٹمی ہتھیار موجود نہیں پائے گئے۔ اس اعتراف و انکشاف کے بعد کیا واشنگٹن اور پنٹاگون پر ندامت کے پسینے کی کوئی ایک بوند بھی نظر آئی ہے؟ ندامت تو اپنی جگہ نائین الیون کے بعد طے کی گئی امریکی پالیسیاں تو آج بھی جوں کی توں برقرار اور آپریشنل ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں عراق پر حملے کی امریکی غلطی کی تصدیق کی اور اعترافی کلچر میں مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ گزشتہ ماہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کیا جنہوں نے صدام حسین کو ناجائز تختۂ دار پر لٹکانے کا اعتراف کرتے ہوئے اعتراف در اعتراف یہ کیا کہ صدام کا اقتدار برقرر رہتا تو دہشت گرد تنظیم داعش کبھی جنم نہ لیتی۔ بھئی ایسے اعترافات کے بعد ڈھٹائی پر مبنی امریکی برطانوی پالیسیوں پر کبھی نظرثانی کی ضرورت بھی محسوس کی گئی؟ آج تو یہ سارے انکشافات بھی تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں کہ خلیجی ریاستوں میں عوام کو اپنے مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر لانے اور پھر ’’عوامی بیداری‘‘ کی اس لہر میں مطلق العنان حکمرانوں کو اقتدار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کرنے کیلئے تشدد کا عنصر داخل کرنے کی خاطر امریکی سرپرستی میں ہی عراق کی سرزمین پر داعش کو جنم دیا گیا تھا۔ پیرس حملوں کے بعد آج یہ تنظیم اپنے سرپرستوں کو ہی اپنی جانب سے عالمی اور علاقائی امن تہہ و بالا کرنے کا پیغام دے رہی ہے تو کیا امریکہ نے اس کی سرپرستی چھوڑ دی ہے؟ غضب خدا کا، دہشت و وحشت کے ڈنکے بجانے والی اس تنظیم کو آج بھی امریکہ شام میں بشار الاسد کا تختہ الٹوانے کیلئے استعمال کر رہا ہے اور روس اس دہشت گرد تنظیم کے خاتمہ کی خاطر شام میں اس کے ٹھکانوں پر بمباری کرتا ہے تو امریکہ روس کو سبق سکھانے کا پیغام دیتا نظر آتا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے ابھی دو روز قبل ہی یہ انکشاف کیا ہے کہ داعش کو جی۔ 20 کے ارکان سمیت 40 ممالک کی سرپرستی حاصل ہے، ہم اس تنظیم سے دنیا کو نجات دلانے کیلئے جامع اپریشن تجویز کر رہے ہیں مگر امریکہ اس اپریشن سے ہمیں روک رہا ہے۔

تو پھر آج کیوں نہ سوچ لیا جائے کہ امریکہ کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ وہ انسانی حقوق کا چیمپئن بن کر دنیا میں امن و سلامتی کا خواہاں ہے یا خطے کے کمزور ممالک پر اپنی طاقت و ’’حکمت‘‘ کی دھاک بٹھا کر اپنے سپرپاور ہونے پر چین اور روس سے بھی مہر تصدیق ثبت کرانا چاہتا ہے؟ گویا…

’’آپ ہی قتل کرے، لے وہی ثواب الٹا‘‘… افغان مجاہدین کو اس نے جنم دیا، طالبان کو اس نے پروان چڑھایا، القاعدہ کی اس نے سرپرستی کی اور داعش کا ہوّا اس نے کھڑا کیا اور پھر ’’برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘۔ ارے یہ کیا تماشہ ہے کچھ سوچئے تو سہی، ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ اب بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک ذمہ دار افسر نیرج کمار نے جو نئی دلی کا پولیس کمشنر بھی رہ چکا ہے، 13 سال قبل کے امریکی نائین الیون کی منصوبہ بندی کے حوالے سے اصل حقائق کی نقاب کشائی کر کے امریکہ بھارت سازشی گٹھ جوڑ کو بھی بے نقاب کر دیا ہے، اس انکشاف کے بعد مودی سرکار نیرج کمار کو نہ جانے کس ٹھکانے تک پہنچائے گی مگر ہندوستان ٹائمز نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں نیرج کمار کے انکشافات پر مبنی رپورٹ منظر عام پر لا کر پاکستان اور مسلمان دشمنی پر مبنی امریکی بھارتی سازشی تھیوری کو تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔ نیرج کمار کی اطلاعات پر مبنی اس رپورٹ کے مطابق امریکی نائن الیون کیلئے منصوبہ بندی اور فنڈنگ بھارت میں ہوئی تھی اور اس میں بھارتی جہاز اغوا کرنے والے ہائی جیکر عمر شیخ اور کلکتہ میں امریکی سنٹر پر حملے کے ماسٹر مائنڈ آفتاب انصاری نے مرکزی کردار ادا کیا۔ آفتاب انصاری نے امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹاگون پر حملوں کے لئے دس لاکھ ڈالر عمر شیخ کو فراہم کئے اور عمر شیخ نے نائین الیون کے کردار عطا محمد کو یہ رقم دے کر اسے امریکہ پر حملوں کیلئے استعمال کیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس سازشی منصوبے کی تصدیق امریکی ایف بی آئی کے کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھی کی جا چکی ہے۔ امریکی نائین الیون کے حوالے سے اور بھی کئی سازشی تھیوریاں اس واقعہ کے بعد زبانِ زدعام رہی ہیں جن میں امریکہ کا اپنا کردار بھی موضوع بحث بنتا رہا ہے۔ تو پھر بھائی صاحب!

جو بھی کرو سو آپ کرو ہو
ہم کو عبث بدنام کیا

ذرا اندازہ لگایئے اور جائزہ لیجئے کہ اس خودساختہ نائین الیون کا بدلہ افغان دھرتی کا تورابورا بنا کر اور ہماری آزادی و خودمختاری کو روندتے ہوئے یہاں ڈرون حملوں کی انتہا کر کے لیا گیا۔ ارے ہم تو اس نائین الیون کو بھگت کر امریکی سلامتی کے تحفظ کے شیطانی فلسفہ کی بنیاد پر اس کا فرنٹ لائن اتحادی بنتے ہوئے اب تک اپنا امن و سکون ہی اجاڑتے رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں سفاکانہ دہشت گردی کے ناسور کا مستقل روگ لگا بیٹھے ہیں، پھر کوئی سمجھائے کہ ہم سمجھائیں کیا۔ ہم تو نائین الیون کے ناکردہ گناہوں کی سزا بھی بھگت چکے ہیں اور اب پیرس حملوں پر بھی مشکوک ٹھہرائے جا رہے ہیں مگر ہماری سول اور عسکری قیادتوں کے واشنگٹن کے دوروں کے باوجود امریکہ کو سمجھا نہیں پا رہے کہ ’’تیری بکّل دے وِچ چور‘‘۔ جناب آج ہمت کر لیجئے، بھارتی ذمہ دار پولیس افسر کے انکشاف کو بنیاد بنایئے اور امریکہ سے تقاضہ کیجئے کہ وہ اب دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ اپنے فطری اتحادی بھارت کی سرزمین پر لے جائے کیونکہ نائین الیون والی دہشت گردی کا کھُرا وہیں پر نکل رہا ہے۔ ایسے اعترافات و انکشافات کے بعد بھی ہم ہی مشکوک ٹھہرتے رہیں، دہشت گرد بنائے جاتے رہیں اور اس کی سزا پاتے رہیں، کیوں صاحب؟ قومی غیرت و حمیت نام کی کوئی چیز اس دھرتی سے عنقا ہو گئی ہے؟ پھر آج انگڑائی تو لیجئے، کچھ تو کیجئے اور ’’کچھ تو کہیئے کہ لوگ کہتے ہیں‘‘
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com