آپ کس سوچ میں ہیں؟
Nov 13, 2015

خود کو لبرل کہلانے کا شوق میاں نواز شریف کا آج کا نہیں، کافی دیرینہ شوق ہے۔ اس شوق کو پالتے ہوئے انہوں نے معلوم نہیں خود کو مسلم لیگ میں کیسے سمو لیا۔ ان کی مادر جماعت تحریک استقلال کا منشور تو ان کی سوچ کے عین مطابق تھا مگر جس وقت انہوں نے تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی، مجھے ہرگز یقین نہیں کہ انہوں نے تحریک استقلال کا منشور پڑھ کر اور اس کے سربراہ ائرمارشل اصغر خاں کی سیاسی سوچ سے متفق ہو کر اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہو گی۔ بیگم ماہ ناز رفیع نے اپنی کتاب ’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں‘‘ کا ایک باب میاں نواز شریف کی تحریک استقلال میں شمولیت کا پس منظر بیان کرنے کیلئے مختص کیا ہے جس میں میاں نواز شریف کے ذہن رسا کی ایسی ہرگز عکاسی نہیں ہوتی کہ انہوں نے تحریک استقلال کے منشور، نظریئے اور ائرمارشل کے سیاسی فلسفے سے متاثر ہو کر اس پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا بلکہ ان کا سیاسی وابستگی کے معاملہ میں کسی نظریاتی سوچ سے کبھی کوئی علاقہ نہیں رہا۔ میاں نواز شریف کے ابتدائی دنوں کے ٹیوٹر ہمارے صحافی دوست محمود زمان کی زبانی بھی میاں نواز شریف کے سیاسی شعور سے آگاہی ہوتی رہی ہے جس کے مطابق ان کے سیاست میں آنے کا مقصد کسی نظریئے اور اصول کو پروان چڑھانا نہیں بلکہ سیاست کو سیڑھی بنا کر اقتدار تک رسائی حاصل کرنا رہا ہے اسی لئے انہیں تحریک استقلال کو خیرباد کہنے میں بھی کسی ذہنی کوفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور جرنیلی آمر ضیاء الحق کے ہاتھ بیعت کرنے میں بھی کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ اس جرنیلی آمر کے ساتھ سیاست کا سفر شروع کرنے کے باعث ہی مسلم لیگ میں شمولیت ان کی مجبوری بنی تھی کیونکہ ضیاء الحق نے اپنے پیشرو جرنیلی آمر ایوب خاں کی طرح اپنی سیاسی ’’فُٹنگ‘‘ کیلئے مسلم لیگ کا پلیٹ فارم استعمال کیا تھا اس لئے کہ اس پارٹی میں اپنے نام کے گروپ تشکیل دینا آسان ہوتا ہے۔ اگر میاں نواز شریف نے مسلم لیگی سوچ کے تحت اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہوتی تو وہ اس پارٹی میں جونیجو کی قیادت سے کبھی بغاوت نہ کرتے۔ اس وقت بھی وہ خود کو کٹڑ مسلم لیگی کہلانے میں فخر محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے حلقہ احباب میں بیٹھ کر اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ مسلم لیگ درحقیقت ہمارا چند دوستوں کا پلیٹ فارم ہے جہاں ہم اپنی دوستی نبھا رہے ہیں۔ ماشاء اللہ آج میاں نواز شریف اپنے نام والی مسلم لیگ کے مسلمہ لیڈر ہیں جنہیں اپنی پارٹی کے اندر تو کیا، پارٹی کے باہر بھی کوئی چیلنج درپیش نہیں۔ انہوں نے اپنی لیڈرشپ کے دوران مسلم لیگ کے منشور کا بھی مطالعہ کر لیا ہو گا، اس کے بانیان کے بارے میں چھان پھٹک کر کے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے مقاصد بھی جان لئے ہونگے اور پھر قائد و اقبال کی لیڈرشپ میں تحریک قیام پاکستان کے مقاصد سے بھی آگاہی حاصل کر لی ہو گی اور پھر جس آئین پاکستان کے ماتحت وہ دو بار وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز رہے اور اب وزیراعظم کی تیسری ٹرم نبھا رہے ہیں اس آئین میں موجود قرارداد مقاصد کا مطالعہ بھی انہوں نے فرما لیا ہو گا جس کی بنیاد پر پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے خاندان کی دین کے ساتھ رغبت والی نیک نامی بھی حاصل ہے تو ان کے حوالے سے بھلا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انہیں شعائر اسلامی کی کوئی شدبد نہیں ہو گی۔ اپنے مذہب کی پیروی اور احترام کے کیا تقاضے ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری کی امامت میں ادا کی گئی نمازوں اور عمرے کی ادائیگی کے دوران انہوں نے کچھ نہ کچھ سوجھ بوجھ تو حاصل کر ہی لی ہو گی جبکہ شعائر اسلامی پر کاربند رہنا ان کے خاندان کا طرۂ امتیاز بھی ہے۔ پھر ان کی زبان سے سکھوں کے اجتماع میں یہ فقرہ ادا ہو جانا کہ ہمارا کلچر اور ثقافت ایک ہے اور ہم ایک ہی خدا کو ماننے والے ہیں اور اب ہندوئوں کے مذہبی تہوار سے متعلق تقریب میں وہ ہولی کے رنگ کو محبت کی علامت قرار دیکر ہندوئوں سے اس خواہش کا اظہار کرتے نظر آئیں کہ میں چاہتا ہوں آپ مجھے ہولی پر بلائیں اور مجھ پر رنگ بھی پھینکیں تو کیا کسی ضعیف الاعتقاد مسلمان کے بارے میں بھی یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہندوئوں کے پوجا پاٹ والے مذہبی تہوار میں شریک ہو کر ان کی مذہبی رسومات اور عبادات کا بھی خود کو حصہ بنا لے۔ اگر انہوں نے مذہبی حدود و قیود کو سمجھے بغیر خود کو محض لبرل ظاہر کرنے کے شوق میں ایسی خواہش کا اظہار کیا ہے تو انہیں فوری طور پر اپنی اصلاح کرکے سوچے سمجھے بغیر اختیار کی گئی اپنی لبرل سوچ سے رجوع کر لینا چاہئے اور اگر ان کی اس خواہش میں "I mean it" کا عمل دخل ہے تو پھر انہیں سورۂ الکافرون پارہ 30کی آیات ’’لااعبدو ما تعبدون‘‘ اور ’’لَکُم دینکُم وَلیَ دین‘‘ کا مفہوم کسی بھی مستند تفسیر قرآن پاک میں پڑھ اور سمجھ لینا چاہئے۔ ان آیات کریمہ میں ذاتِ باری تعالیٰ نے سرور کائنات حضرت محمدؐ کو ارشاد فرمایا ہے کہ آپ ان کافروں کو کہہ دو کہ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو، ہم ان کی پرستش نہیں کرتے اور یہ کہ ’’تمہارا دین تمہارے لئے، ہمارا دین ہمارے لئے‘‘ اسی طرح ’’سنن ابی دائود‘‘ میں موجود حدیث مبارکہ نمبر 3512 کے مطابق حضرت نبی کریمؐ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اسی میں سے ہے۔ یہ مستند حدیث مبارکہ عن ابن عمر سے منسوب ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں وزیراعظم صاحب سکھوں کے اجتماع میں ادا کئے گئے اپنے الفاظ اور ہندوئوں کے اجتماع میں اظہار کی گئی اپنی خواہش کا جائزہ لیں اور سورۂ الکافرون میں موجود ارشاد باری تعالیٰ کو پیش نظر رکھ لیں۔ میں اس پر خود کوئی تبصرہ نہیں کرتا، وہ خود ہی جان لیں اور اس کے مطابق پنی سوچ سے رجوع کر لیں۔ مزید تسلی کے لئے وہ کسی مستند دینی سکالر سے رجوع کر سکتے ہیں مگر محض لبرل (آزاد خیال) طبقات کو خوش کرنے کے لئے اپنا ایمان خراب نہ کریں۔ آپ ہندو انتہا پسند مودی کو اپنی آزاد خیالی کے ذریعے مات دینے کی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کی یہ خواہش شائد ہی پوری ہو پائے گی کیونکہ وہ تو خود ہی اپنے سیکولر فلسفے کو ڈسٹ بِن میں ڈال چکے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ آپ اپنے ایمان اور عقیدے پر کوئی حرف نہ آنے دیں۔ آپ بے شک عاصمہ جہانگیر اور بلاول زرداری کی طرح اپنے ماتھے پر تلک لگوا لیں، کسی مندر میں گھنٹیاں بجا کر، پرنام کرتے ہوئے بھجن وردِ زبان کر لیں۔ رامائن اور گیتا کو ازبر کر لیں اور گائو ماتا سے لے کر شیولنگ تک کی پوجاپاٹھ کے مراحل سے گزر جائیں، وہ آپ کے مسلمان ہونے کے ناطے آپ کے ساتھ تعصب کی انتہا میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ اور سکھوں کا مذہب تو ویسا ہی انگریزوں کا ایجاد کردہ ہے جیسے انہوں نے قادیانیت کا فتنہ کھڑا کیا تھا۔ کھتری اور برہمن ہندوئوں کے باہمی تضاد سے جنم لینے والے سکھ ازم کا مقصد بھی ذات باری تعالیٰ کے فلسفۂ ختم نبوت کو چیلنج کرنا تھا۔ آپ انہیں ایک ہی خدا کی پوجا کرنے والوں کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ آپ کس سوچ میں ہیں، کس گمان میں ہیں؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com