عوام کی خدمت کا موجزن جذبہ
Nov 07, 2015

عوام کی خدمت کے کیسے کیسے ڈھنگ نکالے ہوئے ہیں ہمارے ”خادم“ حکمرانوں نے۔ اوکاڑہ کے ضمنی انتخاب میں حکمران مسلم لیگ (ن) اور خیبر پی کے کی حکمران تحریک انصاف کے امیدواروں کو چاروں شانے چَت گرا کر آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی ریاض الحق جج نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی مسلم لیگ (ن) میں غیر مشروط شمولیت کا اعلان کیا تو خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کو لوٹا گری کے اس عمل میں بھی عوام کی خدمت کی جھلک نظر آنے لگی۔ اس حلقے میں گریجویشن کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار پانے والے رکن قومی اسمبلی چودھری محمد عارف کے بیٹے کو بھی عوام کی خدمت کے جذبے کے تحت ہی حکمران مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پارٹی ٹکٹ سے سرفراز کیا ہو گا۔ وہ جیت جاتے تو بھی خادم حکمرانوں کے دل میں عوام کی خدمت کا جذبہ موجزن رہتا۔ اب ان سے دوگنا سے بھی زیادہ ووٹ لے کر منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی نے واپس لوٹ کر حکمران پارٹی کا دامن تھام لیا ہے تو اب عوام کی خدمت کے جذبے کو چار چاند لگ جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں حکمران مسلم لیگ (ن) کی جیتی گئی 12سو نشستوں کے مقابل ساڑھے دس سو آزاد امیدوار یونین کونسلوں کے چیئرمین اور نہ جانے کتنے ہزار کونسلر آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں تو یہ سارے آزاد پنچھی بھی حکمران پارٹی کا دامن تھام کر اس کی قیادت کے عوام کی خدمت کے جذبے کو مزید فروغ دیں گے گویا 

دل کو تھاما ان کا دامن تھام کے
نکلے دونوں ہاتھ اپنے کام کے

اگر اپنے مفادات کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ سودے بازی کرنا ہی عوام کی خدمت ہے تو پھر حضور والا! ”جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے“

آج ذرا دکھائیے تو سہی کہ سلطانی ¿ جمہور میں جمہور نام کا عنصر کہاں پایا جاتا ہے جس کی خدمت کا جذبہ آپ کے دل میں موجزن ہے۔ یہ عنصر تو پاﺅں تلے کچلے جانے والے کیڑے مکوڑوں کی طرح عالیجاﺅں، ناخداﺅں، کرم فرماﺅں کے سامنے راندہ¿ درگاہ عوام الناس کی صورت میں ہی موجود ہے جبکہ سلطانی ¿ جمہور کا سلطان شہنشاہ معظم بنا بیٹھا راندہ¿ درگاہ عوام کو باادب، باملاحظہ، ہوشیار کا درس دے رہا ہے اور ان راندہ¿ درگاہ عوام کی خدمت کا جذبہ تو میرٹ کے چکمے دے کر انہیں بے روزگاری کے دلدل کی جانب دھکیلنے، ان کے لئے روٹی روزگار کے سارے دروازے بند کرنے، انہیں مہنگائی کے بے قابو عفریت کے سامنے بے دردی سے پھینکنے، ان کے صحت اور تعلیم کے حق کو چیر پھاڑ کرنے والے درندوں کے سپرد کرنے اور ان کے گلی محلے کے معمولی نوعیت کے مسائل حل کرنے کے معاملہ میں بھی رعونت کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں موجزن ہے۔ حکمرانوں کی آنیوں جانیوں کی میڈیا پر ایسی منظرکشی کی جاتی ہے کہ وہ 24 میں سے 25گھنٹے عوام کی خدمت کے لئے سربستہ و سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔ خادم اعلیٰ کے تو عربی، روسی، جرمن، ترکی زبانوں میں خطاب کے بھی ڈنکے بج رہے ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کی فکرمندیوں کو اجاگر کرنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ایسے جوڑے جاتے ہیں جیسے یہ اقتدار میں نہ ہوں تو خوشحالی جستیں بھر کر اس ملک سے باہر نکل جائے اور فاقہ کشی عوام کا مقدر بن جائے۔ حالانکہ خوشحالی سے محرومی اور فاقہ کشی کی افراط ہی عوام کا مقدّر ہے۔ بے چارے حبیب جالب اسی فکر میں غلطاں رہتے اس جہان سے گزر گئے کہ

کہاں بدلے ہیں دن فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاﺅں ننگے ہیں بے نظیروں کے

اورعوام کے آج کے حالات کی عکاسی کریں تو یہ کہے بنا نہیں رہا جائے گا کہ

اس کی قسمت کا تارہ مدھم ہے
کیونکہ حمزہ کا چاند روشن ہے
تیرا دامن ہے، چھید تو ہوں گے
کوئی مریم کا تھوڑا دامن ہے

عوام کی خدمت کے جذبے نے عالیجاﺅں کے اختیار و کاروبار کو وسیع کر دیا ہو تو سارے فلسفے، ساری دانائیاں، سارے تدبر اور ہر حکمت انہی کو سوجھتی ہے۔ ساحر لدھیانوی ایسے ہی تو یہ آئینہ نہیں دکھا گئے کہ

مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک اطوار کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

اور اب تو سارے آزاد پنچھی اقتداری عالیجاﺅں کے دامن کے ساتھ بندھیں گے تو ان کا عوام کی خدمت کا جذبہ اور بھی نمو پائے گا۔ ان آزاد پنچھیوں نے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق اپنی پارٹی قیادتوں کے شہنشاہانہ فیصلوں کو تسلیم نہ کیا اور اپنی اپنی پارٹی کے ڈسپلن کو ٹھوکر مار کر آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنی پارٹیوں کے نامزد امیدواروں کے مدمقابل آ گئے۔ اب وہ جیت گئے ہیں تو اپنی پارٹی کی قیادتوں کے لئے بھی قابل قبول ہو گئے ہیں اور خود انہیں بھی اپنی پارٹی کی قیادتیں پھر سے بھلی محسوس ہونے لگی ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان سب اقتداری بھائیوالوں میں عوام کی خدمت کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے جو اقتدار میں رہ کر اور حکومتی، ملکی، مملکتی اور سرکاری وسائل اپنی دسترس میں رکھ کر ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اگر پارٹی قیادتوں نے کسی اصول کے تحت ان آزاد پنچھیوں کی جگہ دوسرے امیدواروں کو ٹکٹ دئیے ہوں تو ان کے ہارنے پر بھی اصول تو برقرار رکھا جانا چاہئے اور جو پارٹی ڈسپلن اور اپنی قیادتوں کے فیصلوں کو ٹھوکر مار کر انتخابی سیاست میں اترے ہوں پھر ان کا منتخب ہونا بھی پارٹی قیادتوں کے لئے ان کے معتبر ہونے کی دلیل نہیں بننا چاہئے۔ اسی طرح اگر یہ آزاد پنچھی کسی اصول کے تحت اپنی قیادتوں کے فیصلوں کو ٹھوکر مار کر ان کے نامزد امیدواروں کے مقابلے میں آئے تھے تو اب منتخب ہونے کے بعد تو انہیں اپنے اصولوں کی سرخروئی کا اور بھی ڈنکا بجانا چاہئے، مگر بھائی صاحب! جَل کے بغیر مچھلی زندہ نہیں رہ سکتی تو اقتدار کے بغیر اقتداری بھائیوالوں کا گزارا کیسے ہو سکتا ہے سو آپ اسے عوام کی خدمت کے موجزن جذبے کا نام دے لیں۔ خدمت کے اس جذبے کے نام پر ہی تو سب کچھ ہڑپ، گھﺅ گھپ ہوتا ہے۔ جب پاﺅں تلے کچلا جانا ہی کیڑے مکوڑوں کا مقدر ہے تو یہ کیڑے مکوڑے عوام اس پر ہی قناعت کر لیں گے کہ

مقدرات کی تقسیم جب ہوئی عابد
جو غم دئیے نہ گئے تھے وہ میں نے جا کے لئے

آپ کا عوام کی خدمت کا جذبہ موجزن رہے۔ سلامت رہے۔ تاقیامت رہے

محتسب کی خیر، اونچا ہے اسی کے فیض سے
رند کا، ساقی کا، خُم کا، مَے کا، پیمانے کا نام
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com